۔۔۔ جوان اولا د ۔۔۔
ابا آپ نے ساری زندگی کیا ہی میرے لئے جو آج حساب مانگ رہے ہیں۔
دوکان کو اپنے بل بوتے پہ میں نے آگے بڑھایا ہے۔ ابا یہ جو کاروبار کے نام پہ مجھے چھوٹی سی
دوکان کھول کر دی ہے نا اسکی بھی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
بیٹا ہم کونسا خانددانی امیر ہیں بس اتنی سی ہی اوقات ہے ہماری اور اپنی اوقات سے بڑھ
کر تمھارے لئے کیا۔
ابا اوقات بڑھانے کیلئے ہی کچھ کر لیتے ساری زندگی لکیر کے فقیر ہی رہے ہیں۔ جب کبھی
آ گے بڑھنے کا موقع ملا بھی تو آپکی امانتداری آڑے آ گئی اور آپ وہیں کے وہیں رہے۔
نا بیٹا ایسا نہ بول عزت بڑی پیاری چیز ہے۔
بس رہنے دو ابا عزت پیسے کی امانتداری کی نہیں۔
بیٹا کیا نہیں ہے تیرے پاس چاردیواری ہے اپنا کاروبار ماں باپ اور سکون۔
ابا بس رہنے دو ان سب کے سہارے میں پوری زندگی نہیں گزار سکتا چیزوں کےلئے نہیں ترس
سکتا۔ مجھے پیسہ چاہئے پیسہ۔ ۔
تو بیٹا محنت کر کے تم حاصل کر سکتے ہو پڑھنے بھیجا تھا وہ بھی تم چھوڑ کر لوٹ آئے۔
محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ہاں بس آپ اب میرے پیچھے پڑھ جائیں اور اپنے احسان گنا شروع کر دیں۔ )احمد جو کب
سے غصے میں باپ پہ چیخ رہا تھا اب انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باپ کے بُڑھاپے پے
غضب ڈھا رہا تھا۔ (
آپ مجھے نہ بتائیں اب !کے مجھے کیا کرنا ہے۔اور ہاں مجھ سے حساب نہ مانگا کریں۔ اب
تو خدارا بخش دیں۔ آپ اور اماں میری فکر نہ کریں بہت کی ہے نہ۔ تبھی آج میں یہاں ہوں
اب میرا پیچھا چھوڑ دیں۔
)اماں کب سے دہلیز پہ کھڑی آنکھوں میں آنسو لئےجوان اولاد کی جوانی کا ولولہ دیکھ رہی
تھی اب احمد کے پاس آ کر کہنے لگی( احمد دیکھ بوڑھے باپ سے اس لہجے میں بات نہیں
کرتے بہت محنت کر کے وہ تجھے یہاں تک لائے ہیں۔ مقام کونسا اماں، جہاں مجھے اپنی
خواہشوں کو پورا کرنے کیلئے مہینوں محنت کرنی پڑتی ہے۔
بیٹا سب خواہشوں کو پورا کرنے کیلئےمحنت کرتے ہیں۔ سونےکا کندن بننے کیلئے جلنا پڑتا ہے۔
مجھے اس جہنم میں نہیں جلنا میں کچھ الگ کروں گا۔ مجھ سے نہیں جی جاتی یہ آپکی
اور ابا کی دی ہوئ تنگ سی زندگی۔۔)احمد دروازہ پٹختا ہوا گھر سے نکل جاتا ہے۔ (
ابا کے گال پہ آنسو کی لڑی بہہ جاتی ہے اور دل میں کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ آج جوان اولاد نے
میری ساری زندگی کا سرمایا چند لفظوں سے ڈبو دیا احمد کی ماں دیکھ میرے یہ ہاتھ
نہیں بتاتے کے میں نے زندگی میں کتنی محنت کی ہے دیکھ میرا مرجھایا ہوا چہرا دیکھ۔
بشیر صاحب آپ ،آپ ایسے روئیں مت )جبکہ اماں بھی زاروقطار رو رہی ہے(
س کےلئے بشیر صاحب اولاد جب قد
ُ
تو پھر احمد کیوں کہہ رہا کے محنت نہیں کی میں نے ا
س
ُ
سے بڑی ہو جائے تو بہت کچھ سُنے کو ملتا ہے ا سے۔ آپ دل بُرا نہ کریں۔ میرا احمد بس
ٹھ
ُ
ذرا جذباتی ہے تو غصہ ہو جاتا ہے۔ آپ دل بُرا نہ کریں۔میں پانی لے کر آتی ہوں۔ )اماں ا
کر جاتی ہیے دل ہی دل میں وہ بھی کہیں مر رہی ہوتی ہے اولاد آزمائش ہے احمد کو اب یہ
زندگی تنگ ہی لگتی ہے جانے کہاں تربیت میں کمی رہ گئ مجھ سے(
احمد تمھیں شروع میں ہمارے چھوٹے موٹے کام کرنے ہونگے کیونکہ تم دھندے میں نئے ہو۔
لیکن آہستہ آہستہ سیکھ جاو گے تو بڑے کام بھی دیں گئے تم کو۔
سیٹھ میں سب کرنے کو تیار ہوں مجھے پیسہ کمانا ہے۔
پیسے کیلئے ہی سب یہاں ہیں سب کو پیٹ کی بھوک لاتی ہے یہاں۔ سب صبح شام زندگیاں
اسی لئے خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ لیکن تم تو بھلے گھر کے لگتے ہو یہاں کیوں آئےہو۔
سیٹھ ہم جیسوں کے باپ امانتداری کے نام پہ زندگی گزار دیتے ہیں اور کرتے کچھ نہیں مجھ
سے یہ تنگ زندگی نہیں گزاری جاتی۔
سوچ لے یہاں بہت خطرہ ہے۔
مجھے ڈر نہیں سیٹھ۔
دل خوش کر دیا تو نے مجھے تیرے جیسے ہی بے خوف لوگ چاہیں اپنے دھندے کیلئے۔ اور
ایک بات سُن غداری ہم برداشت نہیں کرتے غدار کی جگہ صرف سیٹھ کی بندوق کے آگے
ہے۔
جی سیٹھ صاحب مطمین رہیں۔
شبیرے !لے جا اسکو اور سکھا اسے یہاں پیسہ کیسے کماتے ہیں۔اور سکھا کیسے یہاں ضمیر
کو مارتے ہیں۔کیسے بے رحم ہو کر اپنے مفاد کے لئے جانیں لی جاتی ہیں۔
احد کل شام چھ بجے تمھیں کلفٹن میں ایک جگہ مال پہنچانا ہے اور وہاں سے پیسوں والا
بیگ لانا ہے اور یہ تمھارے ساتھ جائے گی، شبیر نے کرسی پر بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کیا
جو ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سگریٹ پھونک رہی تھی لیکن تھی انتہا کی حسین، جسکی گہری
سے
ُ
آنکھوں میں احمد دیکھے ہی کھو گیا۔اوے چل اب جا کل ٹائم پہ آ جانا شبیر نے ا
جھنجوڑتے ہوئے کہا۔
اگلی شام پیسوں اور مال کی منتقلی کا کام بخوبی سر انجام پاتا ہے۔ احمد دھندے میں سیٹھ
کا خاص بندہ بن جاتا ہے پیسوں کی ریل پیل شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن گھر میں اماں ابا
سکی مشکوک حرکتوں کی وجہ سے بس تڑپتے ہی رہ جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ
ُ
ا
س سے بات کرنے کی کوشش کرتے وہ چیخ چلا کر ہمیشہ
ُ
بڑھتی جا رہی ہیں۔ جب بھی ا
ایک ہی طعنہ دیتا کہ آپ نے کچھ کیا ہوتا تو آج میں یہ نہ کر رہا ہوتا! اماں ابا بس وقت
کے ساتھ ساتھ خاموش ہوتے گئے۔ اب احمد مہینوں گھر کر ہی نہ آتا۔
اسکو وہ سب ملنے لگا جو وہ چاہتا تھا۔ لیکن وہ زندگی میں بہت کچھ پیچھے چھوڑ آیا تھا
وہ بھول گیا تھا کے پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا پیسہ زندگی کی حقیقت ہے لیکن اتنی بڑی
نہیں کے ماں باپ جیسی ہستیں کو بھول جائے انسان۔ لکین شاید جب انسان پیسے کا
س کچھ یاد نہیں رہتا۔لیکن یہ حوس لے ڈوبتی ہے انسان
ُ
پجاری بن جائے تو یہی ہوتا ہے۔ ا
کو۔
س لڑکی کی محبت میں بھی
ُ
وقت کا پہیہ گھومتا رہا ایک سال گزر گیا۔ احمد اب تک ا
گ رفتار ہو چکا تھا۔
سیٹھ نے احمد کو بہت نوازنا شروع کر دیا۔احمد کبھی کبھی گھر کا چکر لگا لیتا اور اماں ابا
سے گلے لگا کر کہتی لوٹ آ بیٹا ہمیں یہ پیسہ نہیں توں چاہیے
ُ
کو پیسے دینے آتا اماں ہمیشہ ا
میرے بیٹے۔ لیکن احمد کو پیسہ چاہیے تھا۔ اور ابا تو شادی اب کچھ کہنا ہی نہیں چاہتے
تھے جوان اولاد جب سب جھٹلا دے تو کہنے کو کیا رہ جاتا ہے۔ اماں ہمیشہ اسکے دیئے پیسے
رکھ دیتی اور بس روری رہتی۔
دونوں بس چار دیواری میں اکیلےرہ گئے۔صحن میں رات کو چارپائیوں پر لیٹے دونوں آسماں
کو خالی آنکھوں سے گھور رہے تھے۔احمد کی ماں تجھے کیا لگتا ہے ہمارا احمد لوٹے گا کبھی۔
ہاں بشیر صاحب ضرور آئے گا۔ لیکن مجھے کیوں لگتا ہے کے نہیں آئے گا پیسے کو حوس ہے
اسکو جو بہت بُری ہے کبھی پیٹ نہیں بھرتا کبھی بھی۔۔
اماں کروٹ بدل کر دوسری طرف منہ کر کے رونے لگتی ہے دونوں ایک دوسرے سے بھی
نظریں جانے کیوں نہیں ملا رہے تھے یا شاید وہ لوگ حقیقت ہے واقف تھے۔۔
ایک دن سیٹھ کے اڈے پر چھپا پڑھ گیا۔ پولیس مقابلے میں احمد کے ہاتھوں ایک جان چلی
گئے لیکن سیٹھ احمد سمیت اپنے بندے لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تو گیا لیکن
احمد زندگی میں پہلا قتل کرنے کے بعد بلکل چپ ہوگیا۔ سیٹھ کو معلوم پڑا تو احمد کو
کہنے لگا
اوے یہاں یہ سب عام سی باتیں ہی تجھے پہلے دن ہی کہا گیا تھا۔ جا تجھ جیسے بزدلوں کی
جگہ نہیں ہے سیٹھ کے پاس۔
نہیں نہیں سیٹھ میں ٹھیک ہو جاوں گا۔ مجھے نکال مت۔
اچھا چل تجھ پہ ایک دفع اعتبار کرتا ہوں چل توں ملک سے باہر میرے ایک کام پہ جا تو
یہ کام کر دے مالا مال ہو جائے گا۔
احمد بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔اور یہ بھہ معلوم ہو جاتا ہے کے وہ سیٹھ کا بندہ ہے
س تک پہنچنا چاہتی ہے۔
ُ
جو شہر کا نامی گرامی ڈاکو جانا جاتا ہے پولیس ہر طرح سے ا
لیکن احمد کو امی د ہوتی ہے سیٹھ اسے چھڑوا لے گا۔ لیکن شایدد اسے یہ نہیں بتایا جاتا کے
اس دھندے میں کوئ کسی کا نہیں ہے یہاں آپ تبھی تک کاآمد ہیں جب تک کام کرتے
سے چھڑوانے نہیں آتا۔ وہ اب دن رات اماں ابا کو یاد کر کے روتا ہے لیکن کوئ
ُ
ہیں۔کوئ ا
رابطہ نہیں کر پاتا۔
پولیس احمد سے سیٹھ کا پتہ جاننے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور اس قدر مارتی ہے کے
مار مار کر اسکا بُرا حال کر دیتی ہے۔ جسمانی تشدد کے درمیان سر پہ چوٹ لگنے کی وجہ
سے احمد دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے۔
سکو پاگل خانے بھیج دیا جاتا ہے۔
ُ
عدالت کے فیصلے کے مطابق ا
میں بہت پیسہ کماوں گا، بہت پیسہ ابا توں نے کیا ہی کیا ہے، اماں تجھے پیسے چاہیں ! نہیں
وہ میرے ہیں دوں گا نہیں کبھی نہیں۔
احمد پاگل خانے میں چھ ماہ سے بار بار یہی باتیں دہراتا رہتا ہے۔ اماں ابا آج بھی انتظار میں
نکے بُڑھا
ُ
ہیں کے ا پے کا ساھارا لوٹ آئے گا۔