“میں بے قصور ہوں“
گھر کی خاموشی بتا رہی تھی، آج پھر کوئی سانحہ ہوا ہے۔ اس گھر کے سارے سانحے پیسوں سے لے کر پیسوں پہ ہی ختم ہوتے تھے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی واقع پیش آیا ہو گا۔
گھر کی دیوار پھلانگ کر مجیب برآمدے میں داخل ہوتے ہی سمجھ گیا۔ وہ اب روزانہ دیر آنے لگا تھا لیکن امی ضرور جاگ رہی ہوتی تھی آج وہ بھی نہیں تھی تو مجبوراً اسے اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہونا پڑا۔
سکینہ کھڑکی کے قریب اپنے بستر پہ بیٹھی چپکے چپکے آنسو بہا رہی تھی۔ رات کی چاندی میں اسکے گالوں پہ آنسوں چمک رہے تھے، مجیب کی آمد پہ اسے دیکھتے ہی لیٹ گئی جیسے آج وہ اس سے کوئی بات ہی نہ کرنا چاہتی ہو۔ منیر احمد سارا منظر دیکھ رہے تھے لیکن کہا کچھ نہیں، جب دل دکھوں سے بھر جائے تو خاموشی ہونٹوں پہ ٹھہر جاتی ہے۔ ۔
دوسرے کمرے میں مجیب کی چار بہنیں موجود ہیں جو شاید اپنی قسمتوں کو کوس رہی ہوتی ہیں۔
مجیب جانتا ہے سب جاگ رہے ہیں۔(کیوں کے رات کو آٹھ بجے گھر میں اتنا سناٹا نہیں ہو سکتا) لیکن وہ کسی کی دکھ بھری داستان کی خاموشی نہیں سننا چاہتا اس لئیے برآمدے میں ہی رات گزارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اگلی صبح منیر احمد مجیب نیم کھلی آنکھوں سے مجیب صاحب کو دیکھتا ہے جو برآمدے میں ہاتھ دھوتے ہوئی اپنا لنچ باکس اُٹھاتے ہیں اور ایک سرسری نظر مجیب پہ ڈالتے ہوئے عجلت بھرے انداز میں گھر کی دہلیز پار کرنے لگتے ہیں۔ مجیب کے آواز دینے پہ بھی اسے نظر انداز کر گئے۔جیسے کچھ سنا ہی نہ چاہتے ہوں۔
اٹھو ناشتہ کرو اور جاو دیر ہو رہی ہے۔ اماں میں نوکری۔۔۔ارم، شمع ،نازیہ اٹھو دن چڑھے تک سوئی رہتی ہو گھر کے سارے کام پڑھے ہیں ایک تو اس گھر میں سب ہڈ حرام ہیں۔
مجیب گلہ پھاڑ کر رونا چاہتا ہے، چیخنا چاہتا ہے لیکن وہ مرد ہے رو نہیں سکتا۔ سارا گھر جیسے مجیب کو ہی ہر مسلے کی وجہ بھی سمجھتا ہے اور سارے مسلوں کے حل بھی جیسے اسی کے پاس ہوں۔
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامے یہی سوچتا ہے اور کانوں میں اماں کے طنز زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔
وہ تیار ہو کر ناشتہ کئے بغیر کتابیں اٹھائے اُس طرف چل پڑھتا ہے جو اسے اب اسکی منزل نہیں لگتی،
ذرا گھر سے فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے دوست عمر کے انتظار میں روڈ کے کنارے بیٹھ جاتا ہے۔ اور سوچیں پھر اسے اپنے حصار میں لے لیتی ہیں، یہ کتابیں مجھے کچھ نہیں دے سکتی مجھے زندگی میں پیسہ چاہیے اور بہت سارا چاہیے۔ پڑھ لکھ کر کونسی لاکھوں کی نوکری ملے گی جو راتوں رات قسمت بدل دے گی، میرے گھر کے حالات چند ہزا رپیوں سے نہیں بدلنے والے ، جوان بہنوں کی شادی، ابا کی بڑھتی عمر ،اماں کا اُترا چہرہ سب نظروں سامنے گھومنے لگتا ہے۔
عمر کی آمد پہ آج پھر وہ پہلے مجیب کے گھر گھر کے حالات سنتا ہے۔لیکن آج پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ سن کے وہ مجیب کو تسلیاں دینے لگتا ہے۔
مجیب پڑھائی چھوڑ کے کیا کرو گے کونسا بزنس ہے جو چلاو گے تم جانتے ہو زندگی تم پہ آسان نہیں ہے۔ آجکل کے دور میں بزنس شروع کرنے کے لئیے بھی اچھی خاصی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔لیکن عمر فوراً بزنس نہ سہی کوئی نوکری کروں صبح شام۔۔ابا اب کی بار میرے سمسٹر کی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے،اور جو میں ٹیوشن سے پیسے کماتا ہوں اس سے صرف میرے سگریٹ اور روز کا خرچ نکلتا ہے۔ اور میرے گھر کے مسلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
اماں ابا ہمیشہ سے مجھے نکما اور آوارہ سمجھتے ہیں اور اب انکو لگنے لگ گیا ہے میں چوری چکاری میں بھی ملوث ہوں۔ ابا کی ایمانداری نے انکو کلرک سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ کہتے ہیں اولاد کو حرام نہیں کھلا سکتا لیکن وہ اولاد کو بھوکا مار سکتے ہیں۔
رات کو گھر گیا تو سب یہی سمجھ رہے تھے کے میں آوارہ گردیاں کر کے آ رہا ہوں کوئی میری بات ہی نہیں سنتا، کے میں چند رپوں کے لئے کہاں در در کی ٹھوکریں کھا کر آ رہا ہوں۔
یہ سب کہتے ہوئے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلسل محتلف زاویوں میں جنبش دیتے ھوئے دبانے لگا، اسکے ہاتھوں کی انگلیاں ایسے ابھر جاتی ہیں جیسے ان میں خون کی جگہ دکھ بہہ رہا ہو۔
اچھا مجیب توں ہمت نہ ہار، بس پڑھائی نہ چھوڑ۔
چھوڑ ےیار عمر، دفع کر اس پڑھائی کو، چار سال بعد کونسی لاکھوں کی نوکری میرے حالات بدل ڈالے گی میں اتنا انتظار نہیں کر سکتا۔
گہری خاموشی دونوں کے بیچ میں ٹھہر جاتی ہے جیسے دونوں جانتے ہوں کے بات تو سچ ہے مگر قبول کرنا مشکل ہے۔
منیر احمد ہر روز کی طرح آج بھی چھٹی کے بعد اپنے دوست علی اصغر کی طرف جاتے ہیں۔ یہ انکا روز کا معمول ہوتا،
علی اصغر اور منیر احمد کی بہت گہری اور پرانی دوستی تھی۔علی اصغر بزنس کرتے تھے مالی طور پہ مضبوط انسان تھے۔منیر احمد کے حالات سے خوب واقف تھے ہمیشہ انکی مدد کرنا چاہتے لیکن منیر احمد کبھی انکا احسان نہیں لینا چاہتے تھے۔
علی تم مجھ سے کچھ رقم قرض ہی لے کر بڑی بیٹی کو بیاہ دو اسکی عمر ڈھلتی جا رہی ہے۔ جب تمھارے حالات بہتر ہوئے مجھے یہ رقم واپس کر دینا۔
میرے حالات کب بہتر ہوں گے معلوم نہیں میں اتنا بڑا قرض نہیں لینا چاہتا۔
منیر اچھی امید رکھو خدا سے، جلد تمھارا بیٹا پڑھائی مکمل کر لے گا اور نوکری کرنے لگے گا جلدتمھارے دن پھر جائیں گے۔
مجیب! وہ میرے سینے پہ پتھر ہے وہ غلط کاموں میں پڑھا ہوا ہے۔ وہ اب راہ راست پہ نہیں آئے گا، مجھے اس سے اب بھلائی کو توقع نہیں ہے۔
اچھا تم دل چھوٹا نہ کرو کچھ بہتر ہوگا۔۔
منیر احمد کے گھر پہنچنے پہ مجیب دروازہ کھولتا ہے، جس کی انکو توقع نہ تھی وہ غصیلے لہجے میں سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہیں۔
سکینہ آج تمھارا لال اتنی جلدی کیسے آ گیا۔ کیا نشے کے پیسے ختم ہو گئے ہیں یا گلی میں آئی پولیس کی گاڑی اسی کے پیچھے ہے۔
ابا آپ کیوں مجھ سے اتنے نالاں رہتے ہیں میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا آپ لوگوں نے مجھے سمجھ رکھا ہے۔ ہاں میں سگریٹ پیتا ہوں اور بس۔۔ابا میں آپکے ساتھ آپکی زمہ داریوں کا بوجھ بانٹنا چاہتا ہوں۔ مجھے بھی چار جوان بہنیں نظر آتی ہیں جنکو بیاہ کر دینا ہے آپکی بڑھتی عمر کا خیال ہے۔اسلئیے میں نے فیصلہ کیا ہے کے پڑھائی چھوڑ کر میں اب دو نوکریاں کروں گا۔
منیر احمد غصے سے ایک تھپڑ مجیب کو رسید کرتے ہیں پڑھائی چھوڑ کے کونسی نوکریاں کرے گا کیا لوٹ مار کر کے کھلائے گا ہمیں۔ توں میرے سینے پہ رکھا ہوا پتھر ہے مر کیوں نہیں جاتا ایک ہی بار رو کے چپ ہو جائیں گے۔
مجیب کی کسی بات کا منیر احمد پہ اثر نہ ہوا ہو جیسے وہ اب بھی اسکو برا ہی سمجھ رہے تھے۔وہ جسکی ایک بات بری لگے اسکا پھر کچھ اچھا نہیں لگتا۔ وہ جو بھی کہے وہ برا ہی ہے مجیب کے ساتھ وہی ہو رہا تھا۔
اسے اثنا دروازے پر دستک ہوتی ہے، ارم دروازہ کھولتےہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ جاتی ہے۔
کون ہے ارم ؟
منیر احمد آگے بڑھتے ہوئے پوچھتے ہیں ۔پولیس گھر میں داخل ہو کر مجیب کو گرفتار کرنے کا حکم دیتی ہے۔ مجیب پہ اُس چوری کا الزام لگتا ہے جو اُس نے کی ہی نہیں ہوتی لیکن بد اچھا بدنام برا کوئی ماننے کو تیار نہیں۔
منیر احمد اپنے دوست علی کے اثر و رسوخ کے استعمال سے مجیب کو دو دن بعد بازیاب کروا کے گھر لے آتا ہے۔
گھر میں ٹوٹی قیامت گہری خاموشی اختیا کر جاتی ہے کوئی کسی سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا جیسے۔ سکینہ اولاد سے نالاں ضرور ہے لیکن ایسے سب کو دیکھ بھی نہیں سکتی۔ رات کے کھانے پہ سب کو جمع کرتی ہے۔ سب ایک مسلسل چپ کے ساتھ کھانا کھانے لگتے ہیں مجیب خاموشی کو توڑتا ہے۔ ۔
ابا میں آپکے دوسے علی اصغر کے ساتھ انکے بزنس میں کام کرنا چاہتا ہوں، آپ ان سے بات کریں گے؟
منیر احمد کا منہ طرف جاتا نولہ واپس پلیٹ میں چلا جاتا ہے۔ مطلب اب تم میرے دوست کے ہاں میری ناک کٹواو گے،
ابا ثابت ہو گیا نہ کے جرم میرا نہیں تھا، بدنام تو تم اب بھی ہو بے شک ثابت ہو جائے۔یہ محلہ جہاں میں نے عزت سے ساری زندگی گزاری وہاں پولیس تمھیں لینے آئے یعنی کے منیر احمد کے بیٹے کو۔ ۔
عزت عزت ابا کونسی عزت جو آپکے گھر میں فاقے لا رہی ہے، (غصے میں چیختا ہے) مجیب جیسے آج آپے سے باہر ہو گیا ہو
ابا آپکی اسی نام نہاد عزت کی رٹ نے آج ہمیں یہ دن دیکھائے ہیں۔آپ بات نہیں کریں گے تو کل میں خود جاوں گا انکے پاس۔ مجیب چیختا ہوا دسترخوان سے چلا جاتا ہے۔
اگلے دن مجیب علی اصغر کے دفتر جا کر انہیں ہر ممکن خوشامد کرتے ہوئے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ علی اصغر جو ہمشہ سے اسکے باپ سے اسکی برائیاں سنتا آرہا تھا اسکے لئیے یقین کرنا مشکل تھا لیکن وہ دوست کے برے حالات سے بھی واقف تھا اسلئیے مجیب سے چند شرائط طے کرنے اور منیر احمد سے بات کے بعد راضی ہو جاتا ہے۔
مجیب روزانہ بہت لگاو سے کام کرنے لگتا ہے۔ پہلی تنخواہ جو کہ بہت مناسب ہوتی ہے گھر والوں کے لئے تخفے لے کر جاتا ہے۔ منیر احمد اسکا کام میں لگاو دیکھ کر اب ذرا کم کھنچے رہنے لگے لیکن ایک دم سب بدلنا دیکھ کر اسکے قبول کرنا بھی انکے لئیے آسان نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا، دو ماہ بعد علی اصغر کے دفتر سے ایک بھاری رقم چوری ہو جاتی ہے اور سارا الزام مجیب پہ لگ جاتا ہے۔ علی اصغر کو خود بھی شک کرنے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ وہ مجیب کا ماضی جانتے تھے۔
منیر احمد کو بلایا جاتا ہے، اسکے بوڑھے باپ کے سامنے الزام ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رہتی رہتی ہے مجیب ایک نظر شرمندگی سے زمین میں گڑھے باپ کو دیکھتا ہے۔
مجیب سانپ جھلی بدل لے لیکن وہ رہتا سانپ ہی ہے۔ علی اصغر کا یہ جملہ مجیب کی زندگی کی خستہ دیوار کو آخری دھچکا ثابت ہوتا ہے۔ اور دیوار گر گئی۔ ۔
“مجیب گھر آ کر خود کشی کر لیتا ہے”
کچھ دیر بعد منیر احمد تیزی سے گھر میں داخل وتے ہوئے آوازیں دیتا ہے۔ ۔
سکینہ ! سکینہ مجیب کوبلا، ہمارا بیٹا بے قصور ہے چوری کسی اور نے کی تھی بلا اسے، وہ غلط نہیں ہے دیکھ علی اصغر بھی آئیں ہیں اس اے ہم معافی مانگیں گے بلا اسے،
وہ ہمارا بھلا ہی چاہتا تھا ہم نہ سمجھے۔۔مجیب باہر آو،
سکینہ ننگے پاوں، بازوں پہ چادر پڑھے باہر آتی ہے اور پیچھے کچھ عجیب چیخ و پکار شروع ہوتی ہے۔
سکینہ مسلسل کچھ کہہ رہی ہے، ہمارا بیٹا مر گیا اس نے جان لے لی اپنی منیر احمد اس نےجان لے لی اپنی۔۔۔ہمارا بیٹا مر گیا۔ ۔۔۔