نصیر وارثی

عظیم قوم

ہماری قوم ایک عظیم قوم ہے- یہ تو بد عنوان سیاست دان ہی ہیں جنہوں نے اِس قوم کا بھٹہ بٹھا دیا ہے ورنہ آج

پاکستان ایک عظیم ملک ہوتا- حاجی صاحب نے اپنی دکان كے تھڑے پر بیٹھ کر چائے کی چسکی لیتے ہوئے

تبصرہ کیا-

جی بے شک! حاجی صاحب كی دائیں جانب چائے کی ٹپری پر موجود انہی کے ہم عمر عنایت صاحب نے ان کی

رائے سے اتفاق کرتے ہوئے تائید میں سر ہالیا-

بالکل سہی کہا آپ نے بابو جی- میرے بہنوئی کا بھانجا والیت کا چکر لگا كے آیا ہے- او جی وہ بتاتا ہے كہ کسی

دور میں خود امریکہ کا صدر کہتا تھا كہ اگر مجھے پاکستان کی فوج مل جائے تو میں ساری دنیا فتح کر سکتا

ہوں- چائے کی ٹپری كے سامنے تاال لگی دکان کے آگے قبضہ آور ریڑھی بان نے بھی آنکھیں چوڑی کر كے

گفتگو میں حصہ لیا-

ریڑھی بان کی بات سن کر ارد گرد کے لوگ كن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے- کچھ کی آنكھوں

سے تمسخر نمایاں تھا تو کچھ کی آنکھیں معصومانہ فخر سے لبریز تھیں-

فوج ہو یا سیاست دان ، ہمیں تو سب نے ہی لوٹا ہے- ستتر سال تک سب نے صرف اپنی ہی جیبیں گرم کی ہیں- عام

آدمی كے بارے میں تو کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں- اگر بد عنوانی کے قصے گنوانے پر آ جاؤں تو ابھی فوج کا

کاال چٹھہ بھی کھول کر سامنے رکھ سکتا ہوں- حاجی صاحب کی بائیں جانب موجود حبیب کریانہ اسٹور سے حبیب

صاحب نے بلند آواز میں کہا-

اِس ملک کی عوام تو ہمیشہ سے مظلوم ہی رہی ہے- آج بھی ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان گھاس کا ہو رہا ہے- لیکن

یہ نظام زیادہ دیر تک چلنے واال نہیں- بس اب وقت آ گیا ہے كے یہ مظلوم قوم اپنے حق كے لیے سڑکوں

پر نکلے- انقالب اب نا گزیر ہو چکا ہے ! حبیب صاحب نے جذباتی انداز میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا-

ارے حبیب بھائی! آپ تو ہمیشہ کی طرح جذباتی ہو گئے- انقالب ونقالب سے ہمارا کیا لینا دینا- ہم تو غریب

لوگ ہیں- اپنا کماتے ہیں اپنا کھاتے ہیں- حبیب کریانہ اسٹور كے پاس کھڑے غبارے والے نے حبیب صاحب کی

جذباتی تقریر سن کر قدرے مسکراتے ہوئے کہا- کچھ لوگوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں غبارے والے کی بات سے

اتفاق کیا تو کچھ لوگ محض ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئے-

یہ چھوٹا سا گلی نما بازار اندرون شہر الہور کی ایک تنگ سی گزرگاہ پر آباد تھا- یہی وجہ ہے کہ آمنے سامنے اور

آس پاس كے دکان دار بہت آسانی سے ایک دوسرے سے بات چیت کر لیا کرتے تھے- اِس چھوٹے سے بازار میں

آج کل ویسے بھی مندا ہی چل رہا تھا- دراصل یہ معمولی سا عالقہ سفید پوش طبقے کا مسکن تھا- اشیائے خردو

نوش کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوا تھا- جو پہلے

کبھی معززان عالقہ گردانے جاتے تھے آج مہنگائی کی چکی میں پس کر خاک ہو چکے تھی- بجلی اور سوئی گیس

كے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے عالقہ کی کئی دکانوں کو تاال لگ چکا تھا اور جو دکانیں خوش قسمتی

سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی تھیں ، ان میں سے بیشتر کے مالکان کا وقت مکھیاں مارتے ہوئے گزر جاتا تھا-ایسی

صورت حال میں یہاں كے دکانداروں کی بہترین مصروفیات میں سے ایک ارد گرد كے ماحول پر نظر رکھ کر گپ

شپ لگانہ تھا- باہمی دل جوئی کے لیے کبھی یہ لوگ سیاست پر تبصرہ کر لیتے تو کبھی سماجی برائیوں پر

لب کشائی کر کے اپنا دِل بہال لیا کرتے تھے-

انکل جی! ایک چائے دینا! ایک ،17 18 سال كے نوجوان نے کرسی سرکاتے ہوئے چائے کا آرڈر دیا-

تمام صاحبان کی نظر اِسی پر جا گڑی- گہری نیلی ٹی شرٹ اور ہلکی نیلی پتلون میں ملبوس یہ نوجوان کسی اچھے

گھر کا چشم و چراغ لگ رہا تھا- اِس کی سرمئی آنكھوں سے ذہانت ٹپک رہی تھی- سردیوں کی ہلکی ہلکی دھوپ

میں اس کی شفاف رنگت مزید چمک رہی تھی-

جلد ہی نوجوان نے تمام لوگوں کی اپنی جانب مرکوز توجہ محسوس کر لی تھی- وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہچکچانے

لگا- اس نے کاندھوں پرایک سیاہ بستہ پہن رکھا تھا جو خاصا مہنگا معلوم ہو رہا تھا- اس نے بیگ کاندھے سے

تار کر ساتھ والی کرسی پر رکھ

ا دیا- اپنے آپ کو مصروف دکھانے کے لیے اس نے پتلون کی جیب سے موبائل فون ُ

نکال لیا اور سکرولنگ شروع کر دی-

بیٹا! آپ اسی عالقہ سے ہو؟ اپنے بے قابو تجسس کے ہاتھوں شکست کھاتے ہوئے آخر کار ریڑھی بان نے پوچھ ہی

ڈاال-

نہیں ! میں دبئی کا رہائشی ہوں- لڑکا سپاٹ انداز میں بوال-

دبئی کے رہائشی ہو، پھر بھی اتنی صاف اردو؟ حاجی صاحب ٹوکے بغیر نہ رہ سکے-

میرے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے- گھر میں ہمیشہ اردو ہی بولی اور سنی ہے۔ اس لیے مجھے اردو پر عبور

حاصل ہے- نوجوان نے اس بار تحمل سے جواب دیا-

پھر تو خوش آمدید ! ہم سب آپ کا پاک لوگوں کی سرزمین پر استقبال کرتے ہیں- چائے والے نے نوجوان کو گرم

گرم چائے پیش کرتے ہوئے کہا-

پاک لوگ— ! ! ! یہ کہہ کر نوجوان طنزیہ سے لہجے میں مسکرا دیا اور چائے پینے لگا- اس کی یہ مسکراہٹ بہت

غیر معمولی تھی-

کیا ہوا بیٹا ؟ میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا ؟ چائے واال اس کے عجیب سے ردعمل پر پوچھے بغیر نہ رہ سکا-

ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کسی نے اس نوجوان کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا ہو- اس كے چہرے پر دکھ كے آثار

نمایاں ہونے لگے- بظاہر وہ خاموش تھا مگر اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر بول رہی تھیں كہ “پاک لوگ” كے الفاظ

سن کر اس کی روح تک زخمی ہو گئی ہے-

اس کی آنكھوں كے کونوں پر ہلکی سی نمی اتر آئی- دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو

گئیں- وہ بمشکل اپنے آنسو ضبط کر پایا- اچانک اس کے ہاتھ سے چائے کی پیالی چھوٹ گئی- ایسا لگتا تھا گویا وہ

ذہنی طور پر غیر مستحکم ہو-

چائے والے سمیت سب اس کو بغور گھورنے لگے-

کی ہویا پتر ؟ تیری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟ حاجی صاحب اپنی دکان كے ٹھرے سے اٹھ کر نوجوان كے پاس آ کر

بیٹھ گئے- باقی تمام حضرات بھی متوجہ ہو کر سننے لگے-

اتنی ساری نظریں خود پر مرکوز پا کر نوجوان کا جی چاہا کہ وہ جلدی سے یہاں سے بھاگ جائے- وہ بمشکل اپنے

جذبات پر قابو پا کر محض اتنا بوال: ” نہیں! آپ نے کچھ غلط نہیں کہا- میرا استقبال کرنے کا شکریہ!” نوجوان نے

قدرے خوش دلی سے جواب دیا- چائے کے پیسے ادا کیے اور وہاں سے چل دیا- سب لوگ مطمئین ہو کر اپنے اپنے

کاموں میں مصروف ہو گئے-

نوجوان اپنی یادوں میں گم لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا آگے بڑھنا لگا – چند سو میٹر كے فاصلے پر اسے ایک قدرے

سنسان باغ نظر آیا- اس نے چین کی سانس لی اور وہیں ایک بینچ پر براجمان ہو گیا-

اس نے فورا اپنے بستہ سے قلم اور کاغذ نکاال اور اپنے دِل اور جذبات کی تلخی کاغذ پر منتقل کرنا شروع کر دی-

“کیسی پاک زمین اور کیسے پاک لوگ ؟ حقیقت تو یہ ہے کے اِس پاک زمین كے لوگ بے ضمیر ہو چکے ہیں- لوگوں

كے دِل اب مردہ ہو چکے ہیں- انسانیت محض ایک فریب بن گئی ہے اور پاکیزگی کا چولہ محض ایک فرار”- نوجوان

کی تحریر میں تجربے کی تلخی اور سچائی واضح تھی-

میرے دادا جان کا گھرانہ ان خاندانوں میں سے ایک تھا جو تقسیم كے وقت اپنا مال اور رشتہ دار امبالہ چھوڑ

آئے تھے- سو میرے والد بھی بچپن سے ہی حب الوطنی کا پرچار کرتے ہوئے جوان ہوئے- وقت گزرتا گیا اور میرے

والد كے دِل میں وطن کی محبت بڑھتی گئی- میرے والد کی شادی ہو گئی- اب ان کی ذمہ داریاں اور خرچے بڑھ گئے

تھے- چونکہ میرے والد کی آمدنی بہت قلیل تھی، کسی عزیز نے میرے والد کو مشورہ دیا كہ وہ

ِ متحدہ عرب امارات منتقل ہو جائیں- ھر خاندان كے روشن مستقبل کی خاطر دبئی

ابّا نے پہلے پہل انکار کیا مگر پ

چلے گئے- انہوں نے کئی عیدیں اور تہوار اپنے پیاروں کے بغیر گزارے- حاالت کچھ بہتر ہوئے تو انہوں نے اپنے

خاندان کو بھی اپنے پاس بال لیا- نوجوان حال میں موجود ہوتے ہوئے بھی دور کئی یادوں كے جھروکوں میں پہنچ

گیا-

میرے والد نے 20 سال دبئی میں مالزمت کی- لیکن ان کے دِل میں ہمیشہ سے پاکستان واپس آ کر بسنے کی خواہش

تھی- پاکستان كے ابتر معاشی اور سماجی حاالت كے پیش نظر سب نے ابّا جان کو تنبیہ کی كہ اتنا بڑا خطرہ مول نہ

لیں مگر ابّا نے کسی کی ایک نہ سنی اور نومبر 2021 میں وہ خاندان سمیت الہور واپس آ گئے- یہاں آ کر انہوں نے

نئی انار کلی میں پرائز بانڈ ڈیلنگ کا کاروبار شروع کر دیا- ابّا جان نے اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی

اِس کاروبار میں جھونک دی تھی- اگر یہ کاروبار نہ چل پاتا تو ہمارا پورا خاندان عمال سڑک پر آ جاتا-

ابّا کو پاکستان سے عشق تھا اور ہمیں ابا سے- سو مرتے کیا نہ کرتے كے مصداق ہم نے بھی ابا کا بھرپور ساتھ دیا-

ابھی تک تو سب اچھا جا رہا تھا لیکن پھر ایک سرد دوپہر جب میں اپنے ابا کی دکان پر کھانا پہنچانے کے لیے گھر

سے نکال تو ہمارا سب کچھ بدل گیا- ابھی میں اردو بازار تک ہی پہنچا تھا کہ عالقہ میں ایک زور دار دھماکے کی

آواز سنائی دی- میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی- فضا میں گہرے سیاح دھنویں كے بادل منڈالنے لگے- ہر

طرف چیخ و پکار مچ گئی- میں بے جان قدموں سے گھسٹتا چال گیا- خدا خدا کر کے میں اس مقام پر پھنچ گیا جہاں

دھماکہ ہوا تھا- ہر طرف انسانی الشوں كے پرخچے بکھرے پڑے تھے- ایسا معلوم ہوتا تھا گویا کسی نے بد بو دار

الل رنگ سے پوری سڑک دھو دی ہو- میں اسی بے کسی کے عالم میں اپنے ابّا کی دکان پر پہنچا- میں نے بہت

ڈھونڈا پر ابّا نہیں ملے- آس پاس کی ساری دوکانوں میں کھوج لیا پر ابّا کا کچھ سراغ نہ مل سکا- جلد ہی میرے کانوں

میں امدادی گاڑیوں کے سائرن کی آواز سنائی دی- وہ آتش زدہ دکانوں کی آگ بجھانے لگے- انسانی الشوں اور ان

كی باقیات کو ایمبولینسوں میں ڈال کر لے جایا جانے لگا- اتنے میں میری نظر اپنے ابّا کی زخمی الش پر پڑی- وہ

شیشے کے ایک ٹوٹے ہوئے کاونٹر کے ملبے تلے دبے پڑے تھے- ان کا وجود سخت زخمی تھا مگر ان کی آنکھیں

کھلی ہوئی تھیں- میں دور سے ہی ان کی آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت محسوس کر سکتا تھا- شاید ان کو سانس لینے

میں دشواری ہو رہی تھی- لکھتے لکھتے نوجوان کا قلم لرزنے لگا-

میں دیوانہ سا ان کی جانب لپکتے ہی واال تھا كہ ایک بے قابو ہجوم مجھے اپنے پیروں تلے روندتا ہوا آگے نکل گیا –

میں وہیں گر گیا- پہلے پہل مجھے لگا كہ شاید وہ امدادی کاروائی کرنے واال عملہ ہے مگر بعد ازاں مجھے ادراک

ہوا کہ وہ کرگسوں کا ایک ٹولہ ہے- اِس ہجوم نے آس پاس کی دکانوں میں موجود کوئی سالمت شے باقی نہ

چھوڑی- درآمد شدہ ملبوسات، کھانے پینے کا سامان اور خون میں بھیگے پرائز بانڈز سمیت سب لوٹ لیا- میں سڑک

پر اوندھے منہ لیٹا بے بسی سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا- پولیس اور امدادی کاروائیاں کرنے والے اہلکار بھی ان كے

سامنے بے بس نظر آئے- نوجوان کانپتے ہاتھوں سے لکھتا رہا-

انسانیت کا ایسا مكروہ چہرہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا- میرا دماغ سن ہو چکا تھا اور میرے اعصاب جواب

دے چکے تھے-

جب وہ گدھ لوٹا ہوا سامان تھیلوں اور بوریوں میں جمع کر چکے تو ایک مرتبہ پھر گرے ہوئے لوگوں

کو روندتے ہوئے واپس مڑ گئے- میں ہمت کر كے گھسٹتا ہوا ابّا جان تک پہنچا- لوگوں کی ٹھوکروں سے وہ شیشے

کا کاونٹر جس کے نیچے ابا دبے ہوئے تھے، دور کہیں جا گرا تھا- میں نے دیکھا کہ ابا جان کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا-

ان کا منہ کھال ہوا تھا جیسے اپنے ہم وطنوں کے اخالقی دیوالیہ پن کا ننگا منظر دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتال ہو

گئے ہوں- ان کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو چکی تھیں گویا اور کچھ دیکھنے کی متمنی نہ رہی ہوں-

دراصل ابا جان دم توڑ چکے تھے – نوجوان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر کاغذ پر گرنے لگے-

ابّا جان کی الش دیکھ کر اچانک میرے دل میں خیال آیا كہ اگر ابّا زندہ ہوتے تو اپنے ہم وطنوں کی صفائی کن الفاظ

میں پیش کرتے- شاید اس بار وہ ان کا دفاع نہ کر پاتے اور سب سے بحث میں ہار جاتے- اسی لیے میں نے ان کی

آنكھوں پر اپنی ہتھیلی رکھی اور کلمہ شکر ادا کیا كہ ابا جان مر گئے- نوجوان نے آخری فقرہ لکھ کر اپنا قلم توڑ ڈاال

اور صفحہ جال کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا-

بریکنگ نیوز ! آپ کو یہ خبر دیتے چلیں كہ دو روز قبل الہور كے عالقہ مال روڈ پر ہونے والے خود کش

دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سب سے پہلے ہمارے نیوز چینل نے حاصل کر لی ہے- ٹیلی ویژن پر اینکر

پرسن گال پھاڑ پھاڑ کر خبریں سناتے ہوئے بولی تو چار و ناچار سب کی نظریں ٹیلی ویژن پر گڑ گئیں-

خودکش حملہ آور کی عمر 17 سے 18 سال كے درمیان بتائی جا رہی ہے- اینکر بولی-

یہ آج کل كے بچے پتہ نہیں کیوں دہشت گردی کی جانب مائل ہوتے جا رہے ہیں- حاجی صاحب نے دکان كے

تھڑ ے پر بیٹھ کر تبصرہ کیا-

جی ہو گا کوئی دشمن ملک کا ایجنٹ- ریڑھی بان وثوق سے بوال –

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان نے گہری نیلی ٹی شرٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی پتلون

پہنی ہوئی ہے- نوجوان كے کاندھے پر ایک سیاہ بستہ بھی دیکھا جا سکتا ہے- سکیورٹی ذرائع كے مطابق ملزم

کچھ مہینے قبل دبئی سے الہور آیا تھا-

اوہ جی کچھ نہیں ہو سکتا اِس ملک کا- سارے سیاست دان اور جرنیل ہی حرام خور ہیں- حبیب

صاحب غصے سے تنکتے ہوئے بولے-

ہاں جی، بے شک! ہماری قوم ایک عظیم قوم ہے- یہ تو بد عنوان سیاست دان ہی ہیں جنہوں نے اِس قوم کا بھٹہ بٹھا

دیا ہے ورنہ آج پاکستان ایک عظیم ملک ہوتا- حاجی صاحب نےاپنے روایتی انداز میں رٹا رٹایا جملہ ادا کیا اور

سب ہمیشہ کی طرح ان کی ہاں میں ہاں مالنے لگے-