قرضِ مکافات
(قسط دوم)
مناہل ایک خوبصورت اور باکردار خاتون تھی۔ اس کا چہرہ نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر تھا، آنکھیں ہلکی نیلی اور پُر کشش تھیں، آنکھوں کے اوپر ابرو ہلال اوّل کی مثل دو لائنیں تھیںجو اس کی آنکھوں کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگا دیتی تھیں،اس کی پلکیں خمددار اور دلکش تھیں، مناہل کے رخسار چودھویںکے چاند کی طرح چمکدار اور افق کی لالی کی مثل سرخی مائل تھے۔ اس کے بال کسی نے نہیں دیکھے تھےمگر شنید تھا کہ اس کے بال نہایت لمبے ، بل دار و چمکدار تھے۔ یوں مناہل حسن کے حاتم کی طرح تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے اسقدرزیادہ تھےکہ ہر شخص مناہل کی خوبصوتی کا معترف تھااگر اسے کوئی ایک مرتبہ دیکھ لیتا تو اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا۔ مناہل خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت ، باکردار ، نیک اور تہجد گزار بھی تھی۔ان خصلتوں کے علاوہ اس میں متعدد خوبیاں اور بھی تھیں۔جب کوئی فقیر دروازے پر دستک دیتا تو سخاوت کا مظاہرہ کرتی، آس پڑوس میں کسی خاتون کو کوئی چیز درکار ہوتی تو مناہل کے ہاں سے مل جاتی کیوں کہ اسے ناں نہیں کرنا آتا تھا۔پھر چاہے وہ ٹماٹر ہوں یا نمک کبھی اس نے منفی میں جواب نہیں دیا۔ تین سال قبل مناہل کا شادی جس شخص سے ہوئی تھی اس کا نام ولید تھاجو جیولر(سنار)تھا۔ان تین سالوں کے دورانیے میں ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اولاد کی خلش ان دونوں کو اکثر پریشان کیے رکھتی ۔ کافی علاج معالجہ کروایا تھا مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ حالانکہ دونوں جسمانی اور جنسی اعتبار سے تندرست اور توانا تھے۔بس اللہ کی مرضی تھی اور اب وہ دونوں اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ چکے تھے۔مالی حوالے سے بھی دونوں مستحکم تھے۔ مناہل اور ولید اپنی بیس مرلے کی کوٹھی میں رہتے تھے جس میں ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں تھا۔ اس کوٹھی کی باہری دیواروں پر خار دار تاریں لگی ہوئیں تھیںاور ان دیواروں کی اونچائی کوئی 6 سے 8 فٹ تھی۔گھر میں صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں اور بائیں جانب پھول دار کیاریاں تھیںجس میں موسمی پھول لگے رہتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کے لئے ہفتے میں دو دن اور بسا اوقات تین دن ایک مالی آیا کرتا تھا جس کو ولید ماہانہ تین ہزار روپے دیا کرتا تھا۔
وہ منگل کا دن تھاولید نے صبح کا ناشتہ کیا اور مناہل کو تین ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ رمضان (مالی)کو دے دینا۔اور دکان کے لئے روانہ ہو گیا۔وہ سردیوں کے دن تھے اور دھند چھائی ہوئی تھی ۔کوئی گیارہ بجے کے قریب گھر کی بیل بجی ،مناہل دروازے پر گئی اور پوچھا ! کون ہے؟۔۔۔۔۔۔(جواب آیا )رمضان۔۔۔۔۔ مناہل نے دروازہ کھول دیارمضان(مالی)گھر کے اندر داخل ہوا اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔اتنے میں مناہل اندر چلی گئی ۔مالی نے مشین سے گھاس کی کٹائی کی اور قینچی سے فائکس اور دوسرے پودوں کی تراش خراش کر کے ان کی خوبصورتی بڑھانے لگا۔اس کے بعد مالی نے پھولوں کی کیاریوں کی کوڈی کی اور انہیں پانی سے سیراب کیا۔لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے میں وہ فارغ ہواتو اس نے مناہل کو آواز دی۔۔۔۔۔ بیگم صاحبہ!۔۔۔۔۔۔کام مکمل ہو گیا ہے میں نے دوسری کوٹھی میں جانا ہے آپ دروازہ بند کر لیں۔مالی کی آواز سن کر مناہل تین ہزار روپے کے ہمراہ باہر آئی اور کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے تین ہزار روپے دینے کے لئے رمضان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔مناہل نے جیسے ہی رمضان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو بادلِ نخواستہ کی طرح اس نے مناہل کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا اس نے کبھی نہیں کیا تھا وہ ایک شریف انسان تھا خود بھی بہو بیٹیوں والا تھا۔ مناہل نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر رائگاں۔ رمضان مناہل کا ہاتھ پکڑے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ اور اچانک اس کا ہاتھ چھوڑ کر پیسے لئے بغیر گردن جھکائے گھر سے باہر نکل گیا۔مناہل اس واقع سے سہم گئی ، اس پر سکتہ طاری تھااس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا،چند لمحوں میں اسے کچھ افاقہ ہوا تو اس نے دروازہ بند کر دیااور اندر چلی گئی۔مناہل کو اس کیفیت سے باہر نکلنے میں کوئی پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے لگے اتنے میں ولید کے گھر آنے کا وقت ہو گیا۔ولید جب گھر آیا تو مناہل کے دل میں تھما ہوا طوفان آنکھوں کے ذریعے امڈ آیا اور اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔ولید ا س سے بار بار پوچھتا رہا کہ کیا ہوا ہے؟مگر وہ روتی رہی، جب کچھ افاقہ ہوا تو مناہل نےسارا واقعہ بیان کر دیا۔ولید کا واقعہ سننا تھا کہ وہ خود بھی رونے لگااور روتے روتے اپنی بیوی کو کہنے لگا! مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔مناہل اپنے آنسو صاف کرتی ولید کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی میں سمجھی نہیں؟ اس میں آپ کا بھلا کیا قصور ہے؟ ولید نے جواب دیا!
میں نے کبھی کسی عورت کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا مگر آج ساڑھے بارہ بجے دکان پر ایک عورت آئی جسےسونے کے کنگن لینے تھےوہ عورت نہایت خوبصورت تھی اسے دیکھتے ہی میری ذہین میں گناہ کرنے کا خیال پیدا ہوامجھ پر شیطان کا ایسا غلبہ ہوا کہ میں نے شہوت کی وجہ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر ناکام رہی ۔اسی اثنا میں مجھے آپ کا خیال آیا اور خوفِ خداکی وجہ سے میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ یہاں آپ کے ساتھ بالکل ویسا ہی ہوا اگر میں کچھ کرتا توشاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
—————————
ہمناہل ایک خوبصورت اور باکردار خاتون تھی۔ اس کا چہرہ نہایت خوبصورت اور جاذبِ نظر تھا، آنکھیں ہلکی نیلی اور پُر کشش تھیں، آنکھوں کے اوپر ابرو ہلال اوّل کی مثل دو لائنیں تھیں جو اس کی آنکھوں کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگا دیتی تھیں۔ اس کی پلکیں خمدار اور دلکش تھیں، مناہل کے رخسار چودھویں کے چاند کی طرح چمکدار اور افق کی لالی کی مانند سرخی مائل تھے۔ اس کے بال کسی نے نہیں دیکھے تھے مگر شنید تھی کہ اس کے بال نہایت لمبے، بل دار اور چمکدار تھے۔ یوں مناہل حسن کے حاتم کی طرح تھی۔
مناہل کی خوبصورتی کے چرچے اس قدر زیادہ تھے کہ ہر شخص مناہل کی خوبصورتی کا معترف تھا۔ اس کی وجاہت اور دلکشی نے ہر محفل کو ایک الگ ہی رونق عطا کی۔ جب وہ کسی سماجی تقریب میں شریک ہوتی، تو اس کی موجودگی سے ہر طرف ایک خاص قسم کا جادو سا پھیل جاتا۔ اس کے ساتھ ہر کوئی تصویر کشی کرنے کی خواہش رکھتا اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا۔ اس کی نرم گفتگو اور پُر اثر انداز نے لوگوں کو اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔ مناہل کی خوبصورتی صرف ظاہری نہیں تھی، بلکہ اس کی شخصیت کی گہرائی اور محبت بھری طبیعت نے بھی ہر دل کو فتح کر لیا تھا۔
تھا، اگر اسے کوئی ایک مرتبہ دیکھ لیتا تو اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا۔ مناہل خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت، باکردار، نیک اور تہجد گزار بھی تھی۔ ان خصلتوں کے علاوہ اس میں متعدد خوبیاں اور بھی تھیں۔ جب کوئی فقیر دروازے پر دستک دیتا تو سخاوت کا مظاہرہ کرتی، آس پڑوس میں کسی خاتون کو کوئی چیز درکار ہوتی تو مناہل کے ہاں سے مل جاتی کیوں کہ اسے “نہ” کہنا نہیں آتا تھا۔ پھر چاہے وہ ٹماٹر ہوں یا نمک، کبھی اس نے منفی میں جواب نہیں دیا۔ مناہل کی دل کشی اور اس کے حسن کردار کی بدولت وہ اپنی کمیونٹی میں بڑی عزت کی حامل تھی۔ ہر کوئی اس کی مدد اور خیرات کی تعریف کرتا، اور لوگ اسے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھتے۔
تین سال قبل مناہل کی شادی ولید نامی شخص سے ہوئی تھی، جو ایک مشہور جیولر (سنار) تھا۔ ولید کی نیک نیتی اور محنت نے اسے اپنے شعبے میں ایک نمایاں مقام دلایا تھا، اور اس کے اخلاق بھی اس کی شہرت کا حصہ تھے۔ تاہم، ان تین سالوں کے دوران، ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ اولاد کی خواہش نے ان دونوں کو اکثر پریشان کیے رکھا، اور ان کی زندگی میں ایک خاموش سی اداسی چھا گئی تھی۔ مناہل اور ولید کی یہ دلی خواہش تھی کہ ان کی زندگی میں خوشیوں کا ایک نیا باب کھل سکے، اور ان کی خاندانی زندگی میں ایک نیا رشتہ جڑ سکے۔ لیکن اس خواہش کے پورا نہ ہونے نے ان کے دلوں میں ایک خالی پن چھوڑ دیا تھا، جسے وہ بھرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے تھے۔
کافی علاج معالجہ کروایا تھا مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ حالانکہ دونوں جسمانی اور جنسی اعتبار سے تندرست اور توانا تھے۔ بس اللہ کی مرضی تھی اور اب وہ دونوں اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ چکے تھے۔ مالی حوالے سے بھی دونوں مستحکم تھے، ان کی زندگی میں کوئی مالی پریشانی نہیں تھی۔ مناہل اور ولید اپنی بیس مرلے کی کوٹھی میں رہتے تھے، جس میں ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں تھا۔ یہ کوٹھی ایک خوبصورت اور آرام دہ رہائش گاہ تھی، جو ان کی فلاح و بہبود کی علامت تھی۔
اس کوٹھی کی باہری دیواروں پر خار دار تاریں لگی ہوئی تھیں اور ان دیواروں کی اونچائی کوئی 6 سے 8 فٹ تھی، جو کسی بھی غیر متوقع خطرے سے تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ گھر میں صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں اور بائیں جانب پھول دار کیاریاں تھیں، جن میں موسمی پھول ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ یہ باغیچے کیاریاں ایک خوشگوار اور دلکش منظر پیش کرتی تھیں، جو گھر کے ماحول کو مزید خوبصورت بنا دیتی تھیں۔
ان کی دیکھ بھال کے لئے ہفتے میں دو دن اور بسا اوقات تین دن ایک مالی آتا تھا، جس کو ولید ماہانہ تین ہزار روپے دیا کرتا تھا۔ مالی کی ذمہ داریوں میں پھولوں کی آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی صفائی اور باغیچے کی دیگر دیکھ بھال شامل تھی۔ وہ اپنے کام کو بڑی محنت اور دل سے کرتا تھا، جس کی وجہ سے باغیچے کی حالت ہمیشہ شاندار رہتی تھی۔ مناہل اور ولید اس مالی کی محنت اور دیانت داری کی قدر کرتے تھے اور اس کی خدمت سے مطمئن تھے۔
“میں نے کبھی کسی عورت کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا، مگر آج ساڑھے بارہ بجے دکان پر ایک عورت آئی جسے سونے کے کنگن لینے تھے۔ وہ عورت نہایت خوبصورت تھی، اسے دیکھتے ہی میری ذہن میں گناہ کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ مجھ پر شیطان کا ایسا غلبہ ہوا کہ میں نے شہوت کی وجہ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔ وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی رہی مگر ناکام رہی۔ اسی اثنا میں مجھے آپ کا خیال آیا اور خوفِ خدا کی وجہ سے میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
یہ سب کچھ میری روحانی کمزوری اور شیطان کی چالبازی کا نتیجہ تھا۔ مجھے اس موقع پر اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہوا۔ میں نے اپنی کمزوریوں کو سمجھا اور خود پر قابو پانے کی پوری کوشش کی۔ یہاں آپ کے ساتھ بھی بالکل ویسا ہی ہوا۔ رمضان کے عمل نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان کی کمزوریوں کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنے نفس پر قابو نہ پانا ہے۔ اگر میں کچھ کرتا تو شاید آپ کو بھی وہی اذیت محسوس ہوتی جو اس عورت نے محسوس کی۔ مجھے اپنی غلطی کا شدید احساس ہے اور میں اس کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ کو یہ سب بتانے کا مقصد یہی ہے کہ ہم سب کو اپنی اندرونی کمزوریوں سے لڑنا ہوگا اور اپنے عمل کی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔
میں اپنے عمل پر شرمندہ ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں معاف کرے اور ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی توفیق دے۔ آپ کو بھی یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں اپنی کمزوریوں کو درست کرنے کی پوری کوشش کروں گا، اور اس واقعے کے بعد اپنی زندگی میں نیکی اور تقویٰ کو اپنانے کی کوشش کروں گا۔ آپ سے بھی معذرت چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کریں گی اور میرے ساتھ صبر اور سمجھداری کا برتاؤ کریں گی۔”