شجرِ سادات

 نصیر وارثی

حسین آباد کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں وقت نے اپنی رفتار دھیرے دھیرے مدھم کر رکھی تھی۔ یہاں کے لوگ سادہ تھے، قدیم روایات کے دلدادہ، اور اپنے خاندانی پس منظر پر فخر کرنے والے۔ اسی گاؤں میں سید زادوں کا ایک قدیمی خاندان آباد تھا، جس کی سربراہی سید زاہد علی شاہ کے ہاتھ میں تھی۔ زاہد علی کی شخصیت کا رعب و دبدبہ پورے گاؤں میں تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ حسینی سادات کی نسل سے ہیں، اور اس بنا پر وہ گاؤں میں عزت و احترام کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔

ان کے بیٹے سید عمار علی، جنہیں گاؤں والے “نواب صاحب” کے نام سے جانتے تھے، نوجوانی کی دہلیز پر تھے۔ عمار کو بچپن سے ہی یہ باور کرایا گیا تھا کہ وہ سید ہیں، اور ان کی پہچان ان کے خاندانی نسب سے ہوتی ہے۔ بچپن میں جب کوئی اسے چھیڑتا یا کسی بات پر اختلاف کرتا، تو اس کے والدین کا ایک ہی جواب ہوتا: “تم سید ہو، اپنی عزت کا خیال رکھو۔” یہ جملہ اس کے کانوں میں گونجتا رہتا، مگر وہ اس کی حقیقی معنویت کو کبھی نہیں سمجھ سکا تھا۔

عمار ایک دلکش نوجوان تھا۔ پڑھا لکھا تو زیادہ نہ تھا، لیکن اپنی خوبصورتی اور شخصیت کی بدولت گاؤں کی لڑکیاں اس کی طرف کشش محسوس کرتی تھیں۔ عمار کو اپنے خاندان کی پہچان اور سید ہونے پر بے حد ناز تھا، مگر یہ ناز اس کے عمل اور کردار میں کم ہی نظر آتا تھا۔ اس کا ہر دن گاؤں کے بزرگوں کی محفلوں میں بیٹھ کر اپنے سید ہونے پر فخر کرنے میں گزر جاتا۔ اُس نے کبھی گہرائی سے سوچا ہی نہ تھا کہ سید ہونے کا اصل مفہوم کیا ہے۔

گاؤں میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جہاں سید زاہد علی نماز پڑھاتے تھے اور دینی باتیں لوگوں کو سمجھاتے تھے۔ جمعے کے دن خاص طور پر لوگوں کا ہجوم ہوتا۔ عمار بھی اپنے والد کے ساتھ وہاں جاتا، مگر مسجد میں بیٹھے بیٹھے اس کی توجہ اکثر ادھر اُدھر بھٹکنے لگتی۔ نماز کے بعد جب لوگ سوالات پوچھتے، تو زاہد علی اپنے سید ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے جوابات دیتے اور اکثر بات ختم کرتے ہوئے کہتے: “ہم حسینی ہیں، اور ہمیں اپنے کردار سے اس کا ثبوت دینا چاہیے۔”

ایک دن گاؤں میں ایک نئی مسافر لڑکی، زینب، اپنے خاندان کے ساتھ آئی۔ زینب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، باکردار اور باحیا لڑکی تھی۔ اس کا خاندان گاؤں کے مضافات میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے آیا تھا۔ وہ سید تو نہیں تھی، مگر اس کا کردار اور برتاؤ ایسا تھا کہ گاؤں کی عورتیں اور مرد دونوں اس سے متاثر ہونے لگے۔ جب عمار کی نظر زینب پر پڑی، تو وہ اس کی طرف راغب ہونے لگا۔ اس کا حسن اور باوقار رویہ عمار کو بھانے لگا۔

عمار نے زینب سے دوستی کرنے کی کوشش کی، مگر زینب کا جواب ہمیشہ خاموشی ہوتا۔ وہ عمار کو نظر انداز کرتی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ گاؤں کے معزز سید خاندان کا فرد ہے۔ عمار کی انا کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ ایک عام لڑکی اسے نظرانداز کرے۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ زینب اس سے دور کیوں رہتی ہے۔

ایک دن عمار نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر زینب کا مذاق اڑایا اور اسے اپنے سید ہونے کا طعنہ دیا۔ “تمہیں پتہ ہے، میں سید ہوں، اور سیدوں سے دور رہنے والوں کا انجام ہمیشہ بُرا ہوتا ہے۔” یہ جملہ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا، اور دوستوں نے قہقہہ لگایا۔ زینب نے خاموشی سے اسے سنا اور کہا: “اگر تم سید ہو، تو اپنے کردار سے ثابت کرو۔ سید ہونے کا مطلب دوسروں کو حقیر جاننا نہیں، بلکہ دوسروں کی عزت کرنا ہے۔”

عمار کے دل کو زینب کی یہ بات چبھ گئی۔ وہ حیران تھا کہ ایک سید کے مقابلے میں ایک عام لڑکی اسے اخلاقیات سکھا رہی تھی۔ یہ پہلی بار تھا جب کسی نے عمار کے کردار پر سوال اٹھایا تھا، اور وہ خود کو بے چین محسوس کرنے لگا۔

وقت گزرتا گیا، اور عمار زینب کی باتوں کو اپنے دل سے نکال نہ سکا۔ وہ بے سکون ہونے لگا۔ اس نے سوچا کہ وہ ہمیشہ اپنے سید ہونے پر فخر کرتا آیا ہے، مگر کیا واقعی اس نے کبھی اس پہچان کا حق ادا کیا؟ کیا اس کے کردار میں وہ خوبیاں تھیں جو سیدوں کی شناخت ہوتی ہیں؟ یہ سوالات اسے اندر سے جھنجھوڑنے لگے۔

ایک دن جب وہ اپنے والد زاہد علی کے ساتھ بیٹھا تھا، تو اس نے اپنے دل کی بات کی: “ابا جان، آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم سید ہیں، اور ہمیں اپنے کردار سے اس بات کا ثبوت دینا چاہیے۔ مگر کیا سید ہونے کا مطلب صرف ہمارے نسب سے ہوتا ہے، یا ہمارے عمل سے بھی؟”

زاہد علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “بیٹا، سید ہونے کا مطلب صرف خون کی پاکیزگی نہیں، بلکہ عمل کی پاکیزگی بھی ہے۔ سید وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مثال بنے، جس کا ہر قدم حق اور انصاف کے راستے پر ہو۔ اگر ہم صرف اپنے نسب پر فخر کریں اور ہمارے اعمال خراب ہوں، تو ہم سید کہلانے کے لائق نہیں۔”

یہ بات سن کر عمار کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ سید ہونے کا مطلب دوسروں پر فخر جتانا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو اس اعلیٰ نسب کے قابل بنانا ہے۔

اگلے دن عمار نے زینب سے معافی مانگی۔ وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ اس نے اپنی غلطی کا احساس کر لیا ہے اور وہ اب اپنے کردار کو سیدوں کی طرح بہتر بنانا چاہتا ہے۔ زینب نے اسے معاف کر دیا اور کہا: “حقیقی سید وہ ہوتا ہے جو اپنے عمل سے اپنے نسب کی لاج رکھے، اور میں دیکھ سکتی ہوں کہ تم نے اپنے اندر تبدیلی کا عزم کر لیا ہے۔”

عمار نے اپنی زندگی بدلنے کا عزم کر لیا۔ وہ اب نہ صرف سید ہونے پر فخر کرتا تھا، بلکہ اپنے عمل اور کردار سے لوگوں کو یہ ثابت بھی کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ بھی اب اسے ایک نئی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ وہ اب زاہد علی کے ساتھ مسجد میں زیادہ وقت گزارنے لگا اور دینی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔

یوں عمار کی زندگی ایک نئی سمت اختیار کر گئی، اور وہ واقعی اپنے کردار سے اپنے سید ہونے کا ثبوت دینے لگا۔

عمار کو اپی دولت اور گاؤں میں اپنے رتبے اور روعب پر بڑا گھمنڈ تھا اور وہ سوچتا کہ اس کا تعلق سید خاندان سے تو وہ یہ اپنی اس حیثت کی بنا پر سب کھچ حاصل کرسکتا

عمار علی اپنے گاؤں میں ایک بلند مقام رکھتا تھا، اور اسے اس بات پر بے حد فخر تھا کہ وہ نہ صرف ایک سید خاندان کا فرد ہے بلکہ اپنے والد کی دولت اور اثر و رسوخ کی بدولت گاؤں میں ہر کوئی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بچپن سے ہی اسے یہ سکھایا گیا تھا کہ سید ہونا ایک بلند مرتبہ ہے، اور اس کے رعب و دبدبے کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ عمار اپنے نام، خاندان اور دولت کی طاقت کو سب کچھ سمجھتا تھا۔

عمار جب بھی گاؤں کی گلیوں سے گزرتا، لوگ اس کی طرف دیکھ کر راستہ چھوڑ دیتے، سلام کرتے اور اس کے والد کے رتبے کی وجہ سے اس کی عزت کرتے۔ وہ یہ سمجھنے لگا تھا کہ صرف سید ہونے کی وجہ سے وہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے، چاہے وہ کچھ بھی کرے۔ اس کا ہر عمل ایک ہی چیز پر مرکوز تھا: “میں سید ہوں، اور اسی لیے مجھے سب کچھ حق سے ملے گا۔”

جب عمار کا دل کسی چیز پر آتا، وہ یہ سوچتا کہ صرف اپنے خاندان کی پہچان اور اپنے رتبے کے زور پر وہ اسے حاصل کر سکتا ہے۔ چاہے وہ کسی کی زمین ہو، کسی کی بات ہو، یا حتیٰ کہ کسی کا دل۔ عمار یہ مان کر چلتا تھا کہ سید ہونے کا مطلب ہر میدان میں فاتح ہونا ہے، اور اس میں اخلاقی اصول یا کردار کی چنداں ضرورت نہیں۔

گاؤں کے لوگ عمار کی اس روش سے واقف تھے، مگر اس کے والد کے خوف اور رعب کے سبب کوئی اس کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ عمار کی زندگی میں یہی چلتا رہا، یہاں تک کہ زینب کا گاؤں میں آنا اس کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔

زینب، جو ایک عام خاندان سے تعلق رکھتی تھی، مگر اپنی تعلیم، تہذیب اور کردار کے لحاظ سے گاؤں میں ممتاز سمجھی جانے لگی۔ عمار کا دل اس پر آ گیا، اور اسے یہ یقین تھا کہ وہ اپنی دولت، حیثیت، اور سید ہونے کے دعوے کی بنا پر زینب کو بھی اپنا بنا لے گا۔ اس نے کئی بار زینب سے بات کرنے کی کوشش کی، اور ہر بار اسے یہ یاد دلایا کہ وہ سید ہے، گاؤں کا معزز فرد ہے، اور کسی کو بھی رد کرنے کا حق صرف اس کے پاس ہے، دوسروں کے پاس نہیں۔

ایک دن عمار نے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کہا: “یہ لڑکی مجھے کیسے نظرانداز کر سکتی ہے؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ میں سید ہوں؟ میرے پاس دولت ہے، اثر و رسوخ ہے، گاؤں کے ہر شخص کو میری بات ماننی پڑتی ہے۔”

دوستوں نے اس کی بات پر سر ہلایا اور اسے مزید شہہ دی۔ عمار کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ وہ صرف اپنے نام اور خاندان کے زور پر زینب کو قائل کر سکتا ہے۔ مگر زینب، جو اندر سے مضبوط اور خوددار تھی، اس کے کسی رتبے یا دولت سے مرعوب نہ ہوئی۔ اس نے عمار کی تمام باتوں کا جواب خاموشی اور وقار سے دیا، اور ایک دن جب عمار نے اس کے سید ہونے کا حوالہ دے کر اسے نیچا دکھانے کی کوشش کی، تو زینب نے صرف ایک جملہ کہا:

“تم سید ہو تو اپنے کردار سے ثابت کرو۔”

یہ جملہ عمار کے لیے بجلی بن کر گرا۔ وہ جس گھمنڈ میں جی رہا تھا، زینب کی ایک بات نے اس کا پردہ چاک کر دیا۔ اس نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ سید ہونے کا مطلب صرف نسب یا دولت نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے، جو کردار اور عمل سے ادا ہوتی ہے۔ زینب نے اس کی دنیا ہلا دی تھی، اور وہ پہلی بار اپنے آپ کو اندر سے کمزور محسوس کرنے لگا۔

یہ لمحہ عمار کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔

زینب کا یہ کہنا کہ خوش اخلاقی،مساوات  حق اور سچ کا ساتھ دینے سے کردار  بیتا ہے چاہے وہ سید ہو یہ غیر سیداس کے لئے چیلنج بن گیا   اس سے آج اس طرح بات نہیں کی تھی

زینب کا یہ کہنا عمار کے لیے زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔ اس نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کوئی اسے سید ہونے کے باوجود اخلاقی اصولوں پر چیلنج کرے گا۔ عمار ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ سید ہونے کا مطلب خودبخود عزت و احترام کا مستحق ہونا ہے، مگر زینب نے پہلی بار اسے اس کے رتبے کے ساتھ ساتھ کردار کی اہمیت پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

جب زینب نے کہا: “خوش اخلاقی، مساوات، حق اور سچ کا ساتھ دینے سے کردار بنتا ہے، چاہے وہ سید ہو یا غیر سید،” تو عمار کے اندر ایک ہلچل مچ گئی۔ یہ جملہ سیدھی اس کی انا پر حملہ تھا، اور یہ وہ الفاظ تھے جو اس کے اندر کی دنیا کو بدلنے لگے تھے۔ اس سے پہلے کبھی کسی نے اس سے یوں بات نہیں کی تھی۔ زینب نے نہ صرف اس کے رتبے کو نظرانداز کیا بلکہ اس کی شخصیت کو بھی ایک نئے پیمانے پر پرکھا، جو اس کے لیے غیر متوقع تھا۔

عمار کو آج تک لوگوں نے اس کی حیثیت اور خاندان کی وجہ سے عزت دی تھی، چاہے اس کا کردار کیسا بھی ہو۔ لیکن زینب کے الفاظ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سید ہونے کے باوجود ان اصولوں پر پورا نہیں اترتا، جنہیں زینب نے بیان کیا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ لڑکی کیسے اتنی مضبوط اور حق پرست ہو سکتی ہے، جبکہ وہ خود کو سید ہونے کی بنا پر ہر لحاظ سے برتر سمجھتا تھا۔

عمار کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ زینب کی بات میں سچائی ہے۔ اس کا سید ہونا کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے وہ دوسروں پر فوقیت دینے کے لیے استعمال کرے۔ بلکہ یہ ایک ذمہ داری تھی جس کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے کردار اور عمل سے ثابت کرے کہ وہ واقعی سید ہے۔

زینب کی اس بات نے عمار کے اندر ایک جنگ شروع کر دی۔ وہ اپنے اندرونی تضاد سے لڑ رہا تھا۔ ایک طرف اس کی انا تھی، جو اسے مسلسل یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ سید ہے اور اسے کسی سے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، جبکہ دوسری طرف زینب کی سچائی تھی، جو اسے مسلسل جھنجھوڑ رہی تھی کہ سید ہونے کا مطلب ذمہ داری اور کردار کی پاکیزگی ہے، نہ کہ صرف خاندانی نسب کا دعویٰ۔

عمار کے لیے یہ چیلنج اب صرف زینب کو متاثر کرنے کا نہیں رہا، بلکہ اپنے اندر کی خامیوں کو سدھارنے کا تھا۔

اُس نے اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا  اور گاؤں کے ایک بزرگ سے اپنی اصلاح پردرس لیا اور تہیہ کرلیا کہ وہ انے آپ کو بہتر بنائے گا تاکہ آئندہ کوئی اس کو سید ہونے کی بجائے اچھا انسان کہنے پر فخر کرے

عمار نے زینب کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے اندرونی تضادات کا سامنا کیا، اور ایک بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا۔ وہ جو ہمیشہ اپنے سید ہونے پر فخر کرتا آیا تھا، اب سمجھ چکا تھا کہ حقیقی عزت کردار میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف خاندانی نسب میں۔ زینب نے اس کے ذہن میں ایک ایسی تبدیلی کا بیج بو دیا تھا جس کا اثر عمار کی پوری زندگی پر پڑنے والا تھا۔

ایک رات جب عمار اپنے کمرے میں بیٹھا سوچ رہا تھا، تو اسے گاؤں کے ایک بزرگ، حاجی سلیمان صاحب، یاد آئے۔ حاجی سلیمان ایک بہت نیک اور باکردار انسان تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی حق، سچ، اور دوسروں کی خدمت میں گزاری تھی۔ گاؤں کے لوگ ان کی باتوں کو سننے اور ان سے رہنمائی لینے آتے تھے۔ حاجی سلیمان ہمیشہ سادگی، خوش اخلاقی، اور دوسروں کے ساتھ مساوات کا درس دیتے تھے۔ وہ اپنے عمل سے دوسروں کو متاثر کرتے تھے، اور عمار کو محسوس ہوا کہ یہی وہ شخص ہیں جو اس کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

اگلے دن، عمار نے حاجی سلیمان کے دروازے پر دستک دی۔ حاجی صاحب نے دروازہ کھولا اور عمار کو دیکھ کر مسکرائے۔ وہ جانتے تھے کہ عمار کے دل میں کچھ اہم باتیں چل رہی ہیں، کیوں کہ اس کے چہرے پر فکر کی لکیریں واضح تھیں۔

عمار نے جھجھکتے ہوئے کہا: “حاجی صاحب، مجھے آپ سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اب تک اپنی زندگی کو سید ہونے کے غرور میں گزارا، لیکن اب میں سمجھ چکا ہوں کہ اصل عزت کردار میں ہے۔ میں آپ سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں تاکہ اپنے آپ کو بہتر انسان بنا سکوں۔”

حاجی سلیمان نے عمار کو اندر بلایا اور بڑے محبت بھرے لہجے میں کہا: “بیٹا، یہ بہت بڑی بات ہے کہ تم نے اپنی غلطیوں کا ادراک کیا۔ سید ہونا ایک نعمت ہے، لیکن اصل سید وہی ہوتا ہے جو اپنے عمل سے دوسروں کو دکھائے کہ اس کے اندر کیا خوبیاں ہیں۔ کردار، سچائی، اور خوش اخلاقی ہی انسان کو بلند کرتی ہیں، اور یہ بات نسب سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔”

عمار نے دل کی گہرائیوں سے حاجی صاحب کی باتیں سنیں اور تہیہ کرلیا کہ وہ اپنے اندر کی خامیوں کو سدھارے گا۔ حاجی سلیمان نے اسے روزانہ کے اعمال میں سادگی اور دوسروں کی خدمت شامل کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے عمار کو یہ سمجھایا کہ لوگوں سے محبت کرنا، ان کے مسائل کو سمجھنا، اور ہر حال میں سچ کا ساتھ دینا ہی انسان کی حقیقی عظمت ہے۔

عمار نے اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیا۔ پہلے اس نے اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کیں۔ وہ پہلے لوگوں سے بات کرتے ہوئے اپنے رتبے کا حوالہ دیتا تھا، لیکن اب وہ اپنے سید ہونے کو پس پشت ڈال کر صرف انسانیت کی بنیاد پر دوسروں سے پیش آنے لگا۔ اس نے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنا شروع کیا، جو کبھی اس سے ڈرتے تھے، اب وہ اس سے محبت کرنے لگے۔ عمار نے عاجزی اور فروتنی کو اپنا شعار بنا لیا۔

ایک دن عمار کو یاد آیا کہ وہ ہمیشہ غریبوں اور محتاجوں کو نظر انداز کرتا تھا۔ وہ گاؤں کے بچوں اور بوڑھوں سے ملا اور ان کی مدد کرنا شروع کی۔ اس نے اپنی دولت کا ایک حصہ گاؤں کے غریب خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ پہلے جو لوگ اسے اس کے غرور کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے، اب وہ اس کی نرمی اور خلوص دل سے متاثر ہونے لگے۔

زینب کو بھی عمار کی یہ تبدیلی نظر آ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ عمار اب پہلے والا مغرور شخص نہیں رہا، بلکہ ایک بااخلاق، خوش مزاج، اور ہمدرد انسان بن چکا ہے۔ گاؤں کے لوگ بھی اب اسے اس کے سید ہونے کی بجائے اس کے اچھے کردار اور انسانیت کی بنیاد پر عزت دینے لگے تھے۔

ایک دن زینب نے عمار سے کہا: “مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنے اندر اتنی بڑی تبدیلی لائی ہے۔ اب میں دیکھ سکتی ہوں کہ تم نہ صرف اپنے نسب کی عزت کر رہے ہو، بلکہ ایک اچھے انسان بننے کا حق بھی ادا کر رہے ہو۔”

عمار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “مجھے اب یہ سمجھ آگیا ہے کہ سید ہونے کا مطلب غرور نہیں، بلکہ عاجزی اور کردار کی پاکیزگی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے سید ہونے کی بجائے ایک اچھے انسان کے طور پر یاد کریں، اور یہی میرے لیے اصل فخر ہے۔”

یوں عمار نے اپنی زندگی میں ایک نئی راہ اپنائی، اور وہ اب اپنے اعمال اور کردار سے ثابت کرنے لگا کہ سید ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ حاجی سلیمان کی رہنمائی اور زینب کی نصیحت نے اسے ایک نیا انسان بنا دیا، اور اب وہ واقعی اپنے کردار سے فخر کرنے کے قابل تھا۔