سفاک حقیقتیں
“حسن ماموں”، نعیم کی پکار پر میں نے گردن گھما کر اسے دیکھا
“آپ کو ماما بلا رہی ہیں” اتنی اطلاع دے کر وہ جھپاک سے نکل گیا حالانکہ میں اُس سے آپی کے بُلانے کی وجہ دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن اُس نے مجھے کچھ پوچھنے کی مہلت نہ دی مجھے ابھی توہاسپٹل سے آئےبمشکل پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے اور میرا ارادہ ابھی تھکن اُتارنے کا تھا لیکن آپی کا یوں اچانک مجھے بُلانا خاصی حیران کن بات تھی میں نے آرام کا پروگرام ملتوی کیا اور میں شش و پنج میں مبتلا اُن کے کمرے کی جانب بڑھا
آپی اس وقت کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھیں
اسلام علیکم آپی خیریت؟ میں حیرانگی سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے انہوں نے کتاب ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا
میں نہایت غور سے اُن کی بات سننے کے لئے مستعد ہوا انہوں نے اُٹھ کر پہلے کمرہ لاک کیا پھر پردے برابر کیے اور واپس بیڈ پربیٹھ گئیں آپی کی اس قدر احتیاط پر مجھے شبہ سا ہوا کہ یقیناً کوئی خاص بات ہے حسن تم نے حناکے لئے ایک رشتہ بتایا تھا اُس کی بابت پوچھنا تھا
انہوں نے دھیمے لہجے میں پچھلی بات کا حوالہ دیتے ہوئے بات کی شروعات کی
رشتہ میں کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ گیا
اوہ ہاں اچانک یاد آیا پر اس وقت تو آپ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی تھی میری حیرت بجا تھی
“اُس وقت بات اور تھی اب٠٠٠٠”
“اب بات اور ہے” میں نے اُن کا جُملہ بیچ میں ہی اُچک لیا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیں
لیکن اس بات کو تو دو مہینے گزر چُکے ہیں اور اب آپ کو یہ بات یاد آ رہی ہے میں حیرت میں مبتلا سوال پر سوال کیے جا رہا تھا ویسے بھی سوال کرنے میں میں حق بجانب تھا
تو کیا وہ جو رشتہ تم نے بتایا تھا وہ کہیں اور طے پا گیا ہے؟ انہوں نے گھبرا کر پوچھا تو میں نے نفی میں سر ہلا کر اُن کی گھبراہٹ کو کم کیا
نہیں خیر ابھی تک تو بات طے نہیں ہوئی پر وہ لوگ رشتے دیکھ رہے ہیں آج کل
شکر ہے تو پھر حسن تم لڑکے کے گھروالوں کوجمعے کے دن بُلا لو آپی کی جلد بازی پر میرا ماتھا ٹھنکا اور میرا شک یقین میں بدل گیا
آپی آپ پلیز کھل کر مجھے پوری بات بتائیں میں نے استفسار کیا
“حسن بات دراصل یہ ہے کہ٠٠٠” وہ بولتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار تھیں اور میں ان پر نظریں ٹکائے اُن کی بات تفصیل سے سننے کا منتظر تھا مگر آپی کے بات کو طُول دینے پر میں زچ ہو گیا
اوفوہ آپی اگر آپ مجھے پوری بات سے آگاہ نہیں کریں گی تو میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا
ایک طرح سے میں نے دھمکی دی جو کارگر ثابت ہوئی
حسن دراصل حناکسی لڑکے کو پسند کرتی ہے اب کے انہوں نے بغیر کسی تمہید کے پوری بات بیان کی
کیا حنا؟ میں دو فٹ اُچھلا
ہاں انہوں نے تصدیق کی اور میں نہیں چاہتی کہ کل کو وہ اتنی باغی ہو جائے کہ کوئی انتہائی قدم اُٹھائے
آپی کو ماں ہونے کے ناطے مختلف اندیشوں اور فکر نے گھیرا ہوا تھا
پر آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی؟ میں ابھی تک حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا
حنانے کل خود مجھے بتایا ہے وہ مجھے بہت پریشان سی دکھائی دیں
اب میں کیا کروں؟
بس تم لڑکے والوں کو جمعے کے دن مدعو کروتاکہ میں جلد از جلد مہ جبیں کے فرض سے سبکدوش ہو سکوں
انہوں نے تمام بات مجھے سمجھا کر مجھے پُرامید نظروں سے دیکھا
ٹھیک ہے آپی میں نے کھڑے ہو تے ہوئے انہیں تصلی آمیز لہجے میں کہا میں جمعے کے روز اُن لوگوں کو بُلا لوں گا
میری بات کے جواب میں انہوں نے ایسے سانس بحال کیا جیسے ان کے سینے پر سے کوئی بوجھ ہٹ گیا ہو
میں ان کی پریشانی تو کم کر کے آ گیا تھا پرخود اپنے کمرے میں بند پریشانی سے حناکے بارے میں سوچنے لگا ابھی تک یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی مجھے حناپہ تاؤ آ رہا تھا حنانے ابھی دو سال پہلے ہی ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا
آپی تو کسی طور بھی اُسے ڈاکٹر بنانے کے حق میں نہ تھیں اورچاہتی تھیں کہ حنابس سیدھے سیدھے ایم اے کر لے تاکہ وہ جلد از جلد اس کی شادی کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوں
لیکن حنا کے کہنے پر میں نے آپی پر زور ڈالا اور میرےاور سلمان بھائی کے بار بار اصرار کرنے پر آپی بالآخر راضی ہو گئیں
حنا جس لڑکے کو پسند کرتی ہے وہ یقیناً اس کا کلاس فیلو ہوگا میں نے خود ہی قیاس کیا
مجھے حنا سے اس حماقت کی توقع نہیں تھی اس خبر سے میری نیند اُڑ گئی تھی میں غصے میں تھا
حنا تم بھی اس کھیل میں کود گئیں جو صرف آگ کا کھیل ہے جس میں انسان جل کر خاکستر ہو جاتا ہے جس میں زندگی بھر سُلگنے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ صرف آزمائش کا کھیل ہے جس میں جل کرمیں بھی راکھ ہو گیا ہوں میرا ذہین تیز ی اُس حادثہ کی یادوں کی طرف مائل ہو گیاجس کو بھلا کر بھی نہیں بھول سکا-
حنا، صائمہ یہ دونوں نام میرے ذہن میں تکرار کرنے لگے نوال کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے صائمہ کی یاد تڑپانے لگی وہی بےوفا، بے حس، بے مروت لڑکی جس سے میں نے سچا پیار کیا جو میری پہلی اور آخری محبت تھی مگر اس نے میرے پیار کو کھیل سمجھا جب ہی مجھے بیچ منجدھار چھوڑ کر چلی گئی
میرے احساسات میرے جذبات کا خیال بھی نہیں کیا میرے سینے میں نفرت اور کرب کی لہریں اُٹھنے لگیں یکایک میرا ذہن خود بخود ماضی کی کچھ حسین اور کچھ تلخ یادوں میں الجھنے لگا
امی اور بابا جان کےایک کار حادثے میں انتقال کے بعد آپی اور سلمان بھائی نے میری پرورش کی میں اُس وقت پندرہ سال کا تھا اور آپی کی شادی کو لگ بھگ سات سال ہو چکے تھے آپی کی ایک بیٹی حنا چھ سال کی اور ایک بیٹا سعد چار سال کا تھا اُن کی شادی تایا جان کے اکلوتے بیٹے سلمان بھائی سے ہوئی تھی آپی اُس وقت ایف ایس سی میں تھیں جب اچانک تایا جان کی طبیعت خراب ہو گئی اور ڈاکٹرز کے مطابق تایا جان کینسر کی آخری اسٹیج پر تھے تب انہوں نے بابا سے آپی اور سلمان بھائی کی شادی کی بات کی سلمان بھائی آرکیٹیکچر تھے اور ایک اچھی کنسلٹینسی میں جاب شوع کر چکے تھے امی اور بابا آپی کی اتنی جلدی شادی کے حق میں نہیں تھے لیکن وہ تایا جان کی حالت سے بھی آگاہ تھے سو مان گئے
سلمان بھائی بہت اچھے آدمی تھے انہوں نے مجھے ایسی ہی شفقت دی جیسی وہ حنااور سعد کے لئے رکھتے تھے
ڈاکٹر بننا میرا ہی نہیں میرے بابا کا بھی خواب تھا ایف ایس سی میں اچھے نمبروں کے باعث میڈیکل کالج میں آسانی سے داخلہ مل گیا بچپن ہی سے میں تھوڑا خاموش طبع اور کم گھلنے ملنے والا تھا سو اس عادت کی وجہ سے کسی سے خاص دوستی نہ کر سکا سوائے رمیز کے شاید اس لئے کہ میری اور اس کی عادتیں کافی ملتیں تھیں
میری زندگی خاموشی سے اپنی ڈگر پر چل رہی تھی جب اچانک میری پُرسکون زندگی میں تلاطم برپا ہو گیا یوں تو میری کلاس میں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکیاں تھیں پر اپنی فطری جھجک کی وجہ سے میں کسی سے بھی بےتکلف ہونا تو دور بات تک سے بھی گریز کرتا تھا لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ ایک پل میں انسان کی دنیا بدل سکتی ہے ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا تھا
صائمہ میری کلاس فیلو تھی خاموش خاموش سی اپنے آپ میں مگن، بناوٹ سے پاک چہرہ، باوقار اور سنجیدہ سی صائمہ مکمل طور پر سادگی کا پیکر تھی مجھے شروع سے ایسی لڑکیاں اپیل کرتی تھیں نٹ کھٹ کھلنڈری سی لڑکیوں کو دیکھ کر میرا پارہ ہائی ہو جاتا تھا
شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں خود بھی انہی خصوصیات کا منہ بولتا ثبوت تھا مجھے لڑکوں کا لڑکیوں سے زیادہ میل جول یا دوستی پسند نہیں تھی لیکن صائمہ سے مراسم بڑھانے کے بعد مجھے یہ بات بُری نہیں لگی شروع شروع میں تو اس سے دوستی کے لیے مجھے کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن بالآخر بیل مُنڈھے چڑھ ہی گئی دھیرے دھیرے وہ میرے مزاج کو سمجھ گئی اور اسے مجھ پر اعتبار آگیا تھا
وقت گزرتا رہا اور ہم تیسرے سال میں آ گئے اب کالج میں زیادہ وقت ہم ساتھ ہی گزارتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ میری دوستی محبت میں تبدیل ہو چکی تھی وہ جس دن کالج نہ آتی میری طبعیت میں اضطرابی کیفیت نمایاں ہوتی اس کے ہونے سے مجھے سکون ملتا تھا میں اس سے شادی کا فیصلہ بھی کر چکا تھا لیکن محبت کا اظہار اس کے سامنے اب تک نہ کر پایا تھا مجھے یہی دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں میری محبت یک طرفہ نہ ہو اسی لئے میں نے ابھی تک صائمہ سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا میں کسی مناسب موقع کے انتظار میں تھا اور آخر وہ موقع مجھے مل ہی گیا اُس کی سالگرہ والے دن اس کو گفٹ اور پھول بھیجے اور سالگرہ کی مبارکباد کے ساتھ میں نے اس کے لئے اپنی فیلنگز کا اظہار بھی کر دیا میں اس کا رسپانس دیکھنا چاہتا تھا مگر مجبوراً مجھے اگلے دن تک انتظار کرنا پڑا
اگلے دن مجھے دیکھتے ہی جو رنگ اس کے چہرے پر آئے ان سے مجھے اس کا جواب مل گیا اب ہماری محبت یکطرفہ نہیں رہی تھی
میڈیکل کالج میں ہماراچوتھا سال ختم ہونے والا تھا اور میں صائمہ کو شادی کے لئے پرپوز بھی کر چکا تھا میں چاہتا تھا کہ صائمہ کو آپی سے ملوا دوں لیکن اس کا کہنا یہی تھا کہ جب تک ہاؤس جاب مکمل کر کے میں کہیں جاب ڈھونڈ نہیں لیتا تب تک اس بات کو نہ چھیڑوں
بات تو اس کی بھی معقول تھی سو میں مان گیا
وقت تیزی سے گزر رہا تھا لیکن ہماری محبت وقت کے ساتھ بڑھ ہی رہی تھی
ہمارے ایگزامز ہو چکے تھے جب موسم نے اچانک رنگ بدلا اور میں بھی موسم کی لپیٹ میں آگیا بخار اور گلا خراب ہونے کی وجہ سے میں ایک ہفتے تک کالج نہیں جا سکا اور ایک ہفتے کے دوران ہر بار فون کی بیل سن کے مجھے لگا کے شاید صائمہ کا فون ہو لیکن فون تو دور اسکا ایک میسج تک نہیں آیا میری حالت تھوڑی سنبھلی تو میں نے خود اسے کال کی لیکن اس کا نمبر مسلسل بند تھا
میں اتنا پریشان ہوا کہ ابھی پوری طرح ٹھیک ہوئے بغیر کالج جانے کا فیصلہ کر لیا آپی اور سلمان بھائی مجھے روکتے رہے لیکن میں ضروری نوٹس لینے کا بہانہ کرکے کالج پہنچ گیا میرے دل میں صائمہ کے لئے فکر کے ساتھ اس کے رویے کی شکا یت بھی تھی لیکن کالج پہنچ کر رمیز سے پتہ چلا کہ پچھلے ایک ہفتے سے وہ بھی کالج نہیں آرہی یہ سن کر میری شکایت خودبخود دم توڑ گئی اور میں مزید فکرمند ہوگیا
“تم پریشان مت ہو وہ آجائے گی” رمیز نے میرے شانے پر ہاتھ رکھ کر مجھے تسلی دی تو میں مسکرا دیا
میں ٹھیک ہو کر باقاعدہ کالج جوائن کر چکا تھا اس دن موسم کافی خوشگوار تھا یا شاید مجھے محسوس ہو رہا تھا کیونکہ صائمہ پورے دس دن کے بعد کالج آئی تھی میں بہت خوش تھا لیکن ایک بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ صائمہ بہت چپ چپ سی تھی
“صائمہ کیا بات ہے؟” میرے اصرارپر اُس نےمجھے جو بات بتائی اُسے سُن کر میری ساری شوخی ختم ہو گئی بات کیا تھی میرے لئے تو کسی دھماکے سے کم نہ تھی میں سکتے میں رہ گیا
“صائمہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو” مجھے اپنی سماعت پر یقین نہ آیا
“ہاں نعیم ابو نے اچانک میرا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا ہے اور عید کے بعد میری شادی ہے” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
“تو کیا تم نے اپنی امی سے میرے متعلق بات نہیں کی؟” میں غصہ دباتے ہوئے بمشکل بولا
نعیم میں نے کوشش کی تھی لیکن ابو پہلے ہی اپنے دوست کو ہاںکہہ چکے تھے میں یہ بات نہیں جانتی تھی پھر بھی میں نے امی اور دانیا سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی امی نے مجھ سے کہہ دیا کہ وہ اس سلسلے میں میری کوئی مدد کر سکتی ہیں نہ ابو سے بات کیوں کہ ابو پسند کی شادی کے سخت مخالف ہیں”
میں طیش میں آ گیا ” تم اتنی آسانی سے کیسے ہار مان سکتی ہو تم دانیا سے بات کرو وہ تو تم بہت کلوز ہے اور تم نے خود بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی ہر بات بھی منوا لیتی ے ابو سے”
” میں نے یہ کوشش بھی کی تھی نعیم ” وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی” لیکن دانیا کا کہنا ہے کہ اُسے ابو پر پورا یقین ہے اور وہ ابو کے فیصلے سے خوش ہے”
ایسا نہیں ہو سکتا صائمہ میں آج ہی آپی اور سلمان بھائی کو رتمہارے گھر بھیجتا ہوں میرا” میرا غصہ اور جذباتی پن عروج پر تھا
“نعیم پلیز سمجھنے کی کوشش کرو ایسا اب ممکن نہیں میں اپنے والدین کو اپنی وجہ سے شرمندہ ہونے نہیں دے سکتی تم تو کم سے کم سمجھو میں کس تکلیف سے گزر رہی ہوں” صائمہ اب باقاعدہ رونا شروع کر چکی تھی
” واہ صائمہ واہ محبت کرتے وقت تم نے یہ بات نہیں سوچی نہ اُس وقت تمہیں اپنے والدین کا خیال آیا” میرا لہجہ خودبخود طنزیہ ہو گیا
صائمہ کی شادی کا سن کر میں غم و غصے سے پاگل سا ہو گیا تھا اگر اُس وقت میں اپنے ہوش میں ہوتا اور ذرا سی بھی اُس پر نگاہ ڈالتا تو مجھے وہ حقیقتاً مجبور اور بے بس محسوس ہوتی مگر میں کب کچھ اور دیکھنے کی پوزیشن میں تھا مجھے تو بس اپنے ٹوٹ جانے والے خوابوں کی کرچیاں دکھائی دے رہی تھیں
“بات ساری صاف ہے صائمہ تم بےوفا اور خودغرض ہو تم میرے ساتھ صرف ٹائم پاس کر رہی تھی مجھے دھوکہ دے رہی تھی ورنہ اتنا اچانک یہ سب کیسے ہو گیا کیسے ہونے دیا تم نے” میں ایک دم بھڑک کر بولا “میں تم کو اس سب کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گا صائمہ یہ بات یاد رکھنا تم” میں وہاں سے جانے کے لئے اٹھا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا جسے میں ایک جھٹکے سے چھڑا کر کر ترکِ تعلق کی ابتداء خود ہی کر دی
” نعیم” اُس نے رندھی ہوئی آواز میں مجھے پکارا لیکن میں رکا نہیں
یہ تھی میری محبت جس میں میں نے ایسی چوٹ کھائی کہ آج بھی کئی سال بعد بھی تکلیف کم نہیں ہو پائی تھی صا ئمہ کو آخری بار میں نے تب دیکھا جب وہ اپنی بہن دانیا کے ساتھ کالج کسی ضروری کام سے آئی تھی اُسے دیکھتے ہی میرے سینے میں دبی غم و غصے کی چنگاریاں پھر دہک اُٹھیں میں نے نفرت کے اظہار کے طور پر منہ پھیر لیا قریباً دو ماہ بعد اس کی دوست سے اس کی شادی کا پتہ چلا
میں نے محبت میں مات کھائی تھی لیکن وقت کا کام گزرنا ہے سو یہ گزرتا رہا ہاؤس جاب مکمل ہوتے ہی میں اسپیشلائزیشن کے لئے امریکہ چلا گیا اور چار سال بعد واپسی پر اپنے ہاسپٹل میں کام کرنے لگا میرے لئے اب صرف میرے مریض اور ہاسپٹل اہم تھا اور کسی چیز کے لیے وقت نہیں تھا
حنا کو جب بھی کسی اسائنمنٹ میں کچھ مدد چاہیے ہوتی یا کوئی ٹاپک سمجھنا ہوتا وہ ہاسپٹل آجاتی کیونکہ اکثر میں دو دو دن گھر نہیں جاتا تھا وہیں اُسے میرے ایک ساتھی ڈاکڑ نے دیکھا اور اُس کو وہ اپنے چھوٹے بھائی عفان کے لئے پسند آگئی اور اُس نے مجھ سے بات کی
میں نے آپی سے ذکر کر دیا لیکن انہوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی اُلٹا میری شادی کا ذکر نکال کے بیٹھ گئیں تو میں وہاں سےفوراً اُٹھ گیا
اور آج تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے صائمہ میں تو شاید اتنی ہمت نہیں تھی کہ میرے بارے میں اپنے گھر والوں سے بات کرتی لیکن حنا کا بھی اتنا صاف اور واضح الفاظ میں بتانے کا کیا فائدہ ہوا آپی نے وہی کیا جو عماماً ماں باپ کرتے ہیں میرا بتایا ہوا رشتہ منظور ہوگیا تھا اور اگلے ہفتے حنا کا نکاح ہے البتہ رخصتی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد طے ہوئی تھی
حنا نے یہ پورا ہفتہ روتے ہوئے گزارا تھا اور اس کے آنسو مجھے دل پہ گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اور میں متزلزل کیفیت کا شکار ہو رہا تھا
“کیا میں نے نوال کے ساتھ انصاف کیا ہے؟” مگر آپی، سلمان بھائی اور سعد کے خوشی سے چمکتے چہرے دیکھ کر میری پشیمانی جاتی رہی نکاح کی رسم بخیر وخوبی انجام پا گئ
رات کی مہیب تنہائی میں آج پھر صائمہ کی یاد ستانے لگی یقیناً صائمہ بھی حنا کی طرح مجبور تھی مگر میں اس کی مجبوری سمجھ نہیں سکا پانچ سال تک میں صائمہ سے متنفر رہا لیکن آج طویل مدت کے بعد میرے دل پہ چھائے نفرت کے بادل چھٹ گئے وقت نے اپنے آپ کو دہرا کر میرے ہر سوال کا جواب مجھے دے دیا تھا اور میں جو اتنے سالوں میں صائمہ کو بےوفا اور دھوکہ باز سمجھتا رہا آج اُس کی پریشانی اور تکلیف کو سمجھ پایا تھا
صائمہ سے میں نے بہت دھڑلے سے یہ سوال کیا تھا “اگر نبھا نہیں سکتی تھیں تو محبت کی ہی کیوں تھی
کتنا نادان تھا میں یی بھی نہیں سمجھ سکا کی محبت سوچ سمجھ کے یا پلان کر کے تو نہیں کی جاتی یہ تو ہو جاتی ہے اور اگر صائمہ مجھ سے اپنی وفا ثابت کرنے کے لیے اپنے ماں باپ کی محبت سے بےوفائی کر بھی لیتی تو کبھی خوش نہیں رہ پاتی سو اس نے مجھ سے بےوفائی کر لی لیکن اس بےوفائی نے اُسے محبت میں امر کر دیا اور اُس کی قدرومنزلت میری نظر میں آج اور بڑھا دی
“آئم سوری صائمہ” میں دل ہی دل میں اُس سے مخاطب ہوا
“تم کبھی بھی بےوفا نہیں تھیں اور مجھے اب تم سے کوئی شکایت نہیں “
اور میں اب صبح آپی کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ دیکھنے کو تیار تھا جب اُنہیں یہ پتہ چلتا کہ مجھے اب شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں