سانولی   گڑیا

نصیر وارثی

تجھے کیا ضرورت تھی مہمانوں كے سامنے آنے کی؟ اس كے باپ نے اسے بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے شدید

غصے کا اظہار کیا-

میں—میں تو بس سب سے ملنے آئی تھی- آمنہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا-

کیوں ملنے آئی تھی؟ تیرے نا ملنے سے کوئی قیامت آ جاتی؟ اتنے لوگوں كے مجمع میں تو بالکل ایک کالی بھکارن لگ

رہی تھی . . . اس كے باپ نے حقارت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی گہری سانولی رنگت پر طنز کیا- وہ ج و

بڑے شوق سے اپنا نیا پیلا جوڑا بڑے پہن کر آئی تھی، چند ہی لمحوں میں اس کی خوشی کافور ہو گئی ۔

اپنے باپ کے الفاظ اس کے کانوں پر دہکتے ہوئے ہتھو ڑے کی مانند لگے تھے۔ اس کی آنكھوں سے زار و قطار آنسو

بہنے لگے- ایک 9 سال کی بچی جورنگ روپ، خوب صورتی یا بد صورتی كے تصور سے نا آشْنا تھی ، اس کا دِل ٹوٹ

کر رہ گیا- اس کو اپنی رنگت سے گھن محسوس ہونے لگی۔ اس کا جی چاہا کہ کاش اس کے پاس کوئی جادو کی چھڑی آ

جائے جس سے وہ اپنی رنگت تبدیل کر سکے- اسے اپنے والد سے ایک مرتبہ پھر نفرت محسوس ہونے لگی- کیونک ہ

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اس کے والد نے اس کو تحقیر کا نشانہ بنایا ہو . گالم گلوچ، مار پیٹ یا پِھر لفظی تنقید کرنا ان

کا شیوہ بن چکا تھا- اِس بات سے قطع نظر کہ ان ساری باتوں کا ایک چھوٹی سی بچی کی ذہنی حالت پر کیا اثر ہو سکتا

ہے ، گاہے بگاہے اِس كے والد کسی نا کسی بات کو لے کر اِس کو اذیت کا نشانہ بناتے رہتے تھے- ان کو بیٹیوں سے

نفرت تھی مگر اِس كے باوجود آمنہ کی تِین بڑی بہنوں كے ساتھ ان کا رویہ اتنا برا نہیں تھا ، جتنا اِس كے ساتھ تھا- اِس

دوہرے منفی رویے کی وجہ آمنہ کی سانولی رنگت تھی جس کو وہ قبول کرنے سے انکاری تھ ے-

بہر حال اپنے ناکردہ گناہوں کے لیے والد سے ڈانٹ پھٹکار وصول کرنے کے بعد وہ انہی سوجی ہوئی آنكھوں اور سہمی

ہوئے دِل كے ساتھ اس کمرے میں چلی گئی جہاں اس کی ماں اور تین بڑی بہنیں بیٹھی تھیں-

تیری آنکھیں سوجی ہوئی کیوں ہیں؟ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر ماں نے استفسار کیا- ابو نے مجھے مہمانوں كے

سامنے بیٹھنے پر بہت بری طرح سے ڈانٹا- آمنہ نے سسکتے ہوئے جواب دیا-

کیا کہہ رہے تھے وہ؟ اس کی ماں نے استفسار کیا-

وہ کہہ رہے تھے کہ میں مہمانوں كے بیچ میں بیٹھی کالی بھکارن لگ رہی تھی- اس نے آنسوؤں سے تر اپنی ننھی ننھی

آنکھوں کو مسلتے ہوئے جواب دیا-

تو کیا ہوا ؟ کوئی بات نہیں، وہ بڑے ہیں، انہوں نے مذاق میں کہا ہو گا- اِس میں برا ماننے والی کوئی بات نہیں ہے- اس

کی ماں نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا-

اِس کی تو عادت ہے چھوٹی چھوٹی بات پر رونے اور منہ بسورنے کی- اس کی منجھلی بہن مریم نے اس

کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا- مریم کی بات سن کر باقی دونوں بہنیں بھی کھلکھلا کر ہنسنے لگیں-

اگرچہ آمنہ کم عمر تھی مگر اِس كے باوجود وہ اپنی بہن كے لہجے میں اپنے لیے موجود ہتک محسوس کر سکتی تھی-

آمنہ نے مڑھ کر ماں کی طرف دیکھا- پہلی مرتبہ اس ننھی سی بچی كے دِل میں شدت سے یہ ارمان پیدا ہوا كہ کاش اس

کی ماں اس كے حق میں بولے- مگر ماں كے چہرے کی مدھم سی مسکراہٹ دیکھ کر اس کا دِل کٹ كے رہ گیا-

اس رات آمنہ بہت روئی اور روتے روتے ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی-

وقت گزرتا گیا مگر آمنہ بہت ہی غیر محسوس طریقہ سے اپنی رنگت اور شخصیت كے حوالہ سے

احساس کمتری کا شکار ہوتی چلی گئی- اسے محسوس ہوتا تھا ک ہ شاید اس کی گہری رنگت ہی اس کی

تمام پریشانیوں کی ذمہ دار ہے- لہذا وہ اپنی رنگت نکھارنے كے لیے نت نئے ٹوٹکے آزمانے لگی- کبھی ہلدی اور

اُبْٹَن کا لیپ لگاتی تو کبھی دہی او ر بیسن گھول کر گھنٹوں منہ پ ر لگائے بیٹھی رہتی- مگر جب اس سے بھی بات نہ بنی

تو محض 13 برس کی عمر میں ٹیلی ویژن كے کسی اشتہار سے متاثر ہو کر اس نے اپنے چہرے پ ر مض ر عناصر سے

تیار کردہ بلیچ کریم تھوپ لی-

” امی میرے چہرے پ ر بہت جلن ہو رہی ہے۔۔۔!” وہ سیاہ چہرے پ ر گہرے لال دھبے لے کر اپنی ماں كے پاس

جا پہنچی-

یہ تیرا چہرہ اتنا لال کیسے ہو گیا ؟ آمنہ کی ماں نے پوچھا-

“وہ میں نے—وہ—اشتہار والی بلیچ کریم لگائی ہے-” اس نے اٹکتے ہوئے جواب دیا۔ اس کی ماں نے آو دیکھا نہ تاو،

جھٹ سے آمنہ کے پہلے سے لال چہرے پر ایک زور دا رتھپڑ جڑ دیا- گہری سیاہ رنگت پر لال بدنما نشان اور اس پر

اس كی آنکھوں سے روانی سے بہتے ہوئے گرم گرم آنسو اس كے چہرے کو مزید بد نما بنا رہے تھے-

بہت زیادہ شوخ تو وہ پہلے بھی نہیں تھی مگر اس کی شخصیت میں ایک قنوطی رجحان اب بہت زیادہ واضح ہوتا جا رہا

تھا- والد کا رویہ اس كے ساتھ ابھی بھی نا خوش گوار ہی تھا- اس کی والدہ ایک سیدھی سادی خاتون تھیں- بچوں كے

ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنا نہ اُنہیں پہلے کبھی آیا تھا اور نا ہی اب آتا تھا-

جب تک آمنہ نے جوانی کی دہلیز پار کی، اسے احساس ہو گیا تھا کہ اپنی قدرتی رنگت سے جان چھڑانا اتنا آسان نہیں

ہے- لہذا اس نے خود کو سنوارنے كے لیے میک اپ کا سہارا لینا شروع کر دیا- یوں تو دنیا میں کروڑوں لڑکیاں

خوبصورت دکھنے كے لیے میک اپ کا سہارا لیا کرتی ہیں اور اس میں کچھ انہونی بات بھی نہیں- لیکن آمنہ

كے معاملہ میں یہ بات کافی الگ تھی- آمنہ میک اپ کو بطور آلہ خود فریبی استعمال کر رہی تھی- وہ اپنے احساس

کمتری کو میک اپ کی م وٹی تہہ كے نیچے چھپانے لگی- اگر کوڑے کو قالین کے نیچے چھپا لیا جائے تو اس کا یہ

مطلب نہیں کہ کوڑے کا وجود باقی نہیں رہا- ایسا ہی کچھ معاملہ آمنہ کے ساتھ تھا- جب بھاری بھرکم میک اپ کر کے

وہ باہ ر نکلتی تو دیکھنے والے اسے دیکھتے رہ جاتے- کوئی اس کی بڑی بڑی آنكھوں کی تعریف کرتا تو کوئی اس

کے ہونٹوں کی بناوٹ کو سراہتا- کسی کو اس كے چہرے کے خدوخال اچھے لگتے تو کوئی اس کی پلکوں کی بھاری

جھالر کو دیکھ ک ر بے قرار ہو جاتا- آمنہ لوگوں کی اِس توجہ سے محظوظ ہونے لگی- لیکن اس کی خوشی کھوکھلی اور

انداز خود فریبی پر مبنی تھا- حقیقتا اب بھی اس كے دِل کے ہر گوشے میں اپنی شکل و صورت کو لے کر احساس

کمتری موجود تھا-

آمنہ چونكہ چاروں بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی لہذا ایک ایک کر كے سب بہنیں آہستہ آہستہ با بُل كے گھر

سے وداع ہوتی گئیں- .پھر ایک روز آمنہ کو بھی ماں باپ کا آنگن چھوڑ ک ر پیا دیس سدھارنا پڑا- وہی آنگن جس سے

اس کی کوئی خاص جذباتی وابستگی نہیں تھی۔۔۔!!! یہ کہہ کر آمنہ نے ایک گہری لمبی سانس لی-

پھ ر—ِپھر کیا ہوا ؟ شائستہ بیگم نے دریافت کیا۔

آمنہ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنے ہی والی تھی کہ اس کی ننھی سی بچی دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئی اور بولی:

ماں ! یہ دیکھیں بابا میرے لیے کتنی خوبصورت گڑیا لائے ہیں- 5 سالہ دعا اپنے ہاتھ میں ایک مٹی کی گڑیا تھامے

آمنہ کی طرف بھاگی چلی آئی-

ماں یہ کتنی خوبصورت ہے ناں؟ یہ تو اس گڑیا سے بھی زیادہ خوبصورت ہے جو بابا لندن سے لائے تھے- اِس کی

آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں- اِس کی رنگت کتنی پیاری ہے- اس نے یہ کہہ کر گڑیا ماں کی طرف بڑھا دی-

آمنہ نے دیکھا وہ ایک معمولی سی مٹی کی گڑیا تھی جو مقامی میلوں سے بہت سستے داموں میں مل جایا کرتی تھی-

اس گڑیا کا رنگ گہرا گندمی تھا- اس کی بھنویں غیر معمولی طور پر گہری اور بے ترتیب تھیں- اس کی آنکھیں

چھوٹی چھوٹی سی تھیں- اس كے ہونٹ انتہائی پتلے تھے- اس کے کان بندر کے کان کی مانند بھدے سے تھے- اس

گڑیا نے پیلے رنگ کی روایتی لہنگا چولی زیب تن کی ہوئی تھی جو اس کی رنگت کو مزید گہرا بنا رہی تھی-

مختصر یہ کہ اس گڑیا میں کوئی بھی ایسی خاص بات نہیں تھی جسے دیکھ کر اس کی تعریفوں كے پل باندھے

جائیں-

آمنہ اِس گڑیا کو دیکھ کر کچھ کہنا ہی چاہتی تھی كے اس کی نظر دعا کی چمکتی ہوئی آنكھوں پر پ ڑی جو خوشی

سے تمتما رہی تھیں- اس لیے اس نے محض مسکرانے پ ر اکتفا کیا-

ماں! بابا کہتے ہیں كہ وہ میرے لیے پیارا سا مٹی کا گھر بھی لا کر دیں گے کیونکہ میں ان کی گڑیا ہوں . . .

میں اپنے بابا کی گڑیا ہوں . . . ! ! ! دعا یہ جملہ دہراتے ہوئے پورے گھر کا چکر لگانے لگی- اس لمحے آمنہ کو

اپنی بیٹی کی قسمت پر رشک محسوس ہوا- اس کی آنکھیں دہکتے ہوئے کوئلوں کی مانند گرم آنسوؤں سے جلنے لگیں

اور اس کا دِل ملے جلے جذبات کے باعث تڑپ اٹھا- ماہر نفسیات شائستہ بیگم اس کے رویے کے بدلتے ہوئے اتار

چڑھاو کا بغور مشاہدہ کر رہی تھیں- آخر کار انہیں وہ سرا مل ہی گیا تھا جس سے وہ آمنہ کی غیر مستحکم جذباتی

کیفیت کو معمول پر لا سکتی تھیں-