دھوکہ

اس نے بے قراری سے ایک مرتبہ پھر سے موبائل فون اٹھا کر دیکھا۔ وہ آن لائن نہیں تھا۔ اس نے بے زاری سے دانت کچکچائے۔ اس کو واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگائے پورے دس منٹ ہو گئے تھے لیکن جس کی خاطر اس نے وہ اسٹیٹس لگایا تھا، اس نے ابھی تک وہ دیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ جلے پیر کی بلی کی مانند کمرے میں ٹہلنے لگی۔ اچانک اس کو اپنے موبائل کی بیپ سنائی دی۔ اس نے خوشی کے مارے موبائل اچک لیا۔ اسی کا پیغام تھا۔ “تم مجھ سے ملو، میں تمہارا سارا ڈپریشن بھگاتا ہوں”۔ وہ الفاظ اسے اپنے زخموں پر مرہم سے لگے۔ خفگی، اپنائیت، دوستانہ پن ان الفاظ میں سب کچھ تھا۔ وہ ابھی جوابی پیغام ٹائپ کرنے ہی والی تھی کہ یکا یک اس کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس کو اپنے داہنے بازو میں کھچاؤ سا محسوس ہوا۔ محض چند لمحوں میں یہ کھچاؤ اس کے جبڑے تک پہنچ گیا۔ درد کی ایک شدید لہر اس کے دماغ میں اٹھنے لگی۔ اس کے ہاتھ سے موبائل فون چھوٹ گیا اور یکایک اس کا پورا بدن ارتعاش کی شدت سے ہچکولے لینے لگا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور دھڑام سے زمین پر گر کر بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپنے لگی۔ اس کا سر زمین پر بری طرح سے ٹکرا گیا جس سے فضا میں ایک بلند آواز پیدا ہوئی۔ وہ آواز اتنی بلند  تھی کہ نچلی منزل پر موجود اس کا شوہر بھاگتا ہوا اوپر آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی جان سے بھی پیاری بیوی زمین پر بے سدھ پڑی تھی۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ اس نے اس کو ہلایا جلایا مگر بے سود۔ اس کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ اس کی باہنی آنکھ سے آنسوؤں کی دھار بہ رہی تھی جو چیخ چیخ کر موت سے پہلے کی اذیت کا نوحہ سنا رہی تھی۔ یکایک اس کے شوہر کو اس کی پتھر جیسی آنکھوں سے خوف آنے لگا۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی نظریں پھیر لیں۔ اس کی نظر زمین پر گرے موبائل پر پڑی۔ لا شعوری طور پر اس نے وہ موبائل اٹھا لیا۔ موبائل بند تھا۔ اس نے نم آنکھوں سےموبائل آن کیا۔ موبائل آن ہوتے ہی واٹس ایپ پیغامات کی بھرمار ہونے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ پیغامات پڑھ پاتا، موبائل پر ایک کال آنے لگی۔ کال کرنے والے کا نمبر نام سے محفوظ نہیں تھا۔ اس نے کسی میکانکی انداز میں کال اٹھا لی اور موبائل فون کان سے لگا لیا۔
“شمع کیا ہو گیا تھا، میرے پیغامات کا جواب کیوں نہیں دے رہی تھیں؟” سامنے والا اپنی ہی رو میں بولتا چلا گیا۔
“چپ کیوں ہو؟ تمہارا شوہر پاس ہے؟ کیا وہ ابھی بھی یقین نہیں کر رہا کہ ہماری دوستی میں کوئی کھوٹ نہیں؟ کھوٹ اس کی سوچ میں ہے”۔ وہ بولتا چلا گیا۔
“تم ایک اشارہ دو، میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اس ظالم کے پاس سے لے جاؤں گا۔ میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گا، تم سوچ کر مجھے جواب دینا۔ خدا حافظ!”۔ اس نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا۔
اس کا جسم سن ہو گیا۔ وہ حیرانی سے اس لڑکے کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگا۔  “تمہارا شوہر پاس ہے؟ کیا وہ ابھی بھی یقین نہیں کر رہا کہ ہماری دوستی میں کوئی کھوٹ نہیں؟ کھوٹ اس کی سوچ میں ہے”۔ بار بار یہی الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔
یہ لڑکا کون تھا؟ کیا شمع کی دوستی کسی لڑکے سے تھی؟ اس نے خود کلامی کی۔

نہ چاہتے ہوۓ بھی اس نے شمع کا موبائل کھنگالنا شروع کر دیا۔ اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس اجنبی لڑکوں کے پیار بھرے پیغامات سے بھرے پڑے تھے جن کا جواب شمع نے انتہائی محبت بھرے انداز میں دیا ہوا تھا۔ ان کی گفتگو پڑھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا وہ بہت بے تکلف ہوں۔ ایک قدر جو تمام پیغامات میں مشترک تھی، وہ یہ تھی کہ شمع نے ہر ایک لڑکے کو اپنے شوہر کے بارے میں یہ تاثر دے رکھا تھا کہ وہ ایک بے رحم اور شکی مزاج انسان ہے جو اس پر طرح طرح کے ظلم و ستم کرتا ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا، وہ تو آج تک اس بات سے بے خبر رہا تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی ہے۔ اس نے کبھی شمع پر شک نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ عورت پر ظلم کرنے والا مرد تھا۔ ملنے جلنے والے ان دونوں کو ایک مثالی  جوڑا قرار دیتے تھے اور شمع نے بھی کبھی اس کے کسی رویے پر کوئی شکایت یا ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ وہ تو بظاہر ہر لمحہ اس کی بے پناہ محبتوں کی شکر گزار نظر آتی تھی۔ وہ اکثر وارفتگی سے اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر پوچھا کرتی تھی “میں بہت بری ہوں نا؟” ۔ تب وہ ہمیشہ اس کا ہاتھ تھام کر خفگی کا اظہار کرتا تھا اور سوچا کرتا تھا کہ آخر وہ ہر بار یہی بے سروپا سوال کیوں کرتی ہے۔ “شاید وہ احساس جرم سے معمور ہو کر یہ سوال پوچھا کرتی تھی۔” وہ بڑبڑایا اور  تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے آ گیا۔ اس نے میز پر سے اپنا فون اٹھایا، کوئی نمبر ملایا اور کہنے لگا: “مبارک ہو جان من! میرا دیا ہوا زہر کام کر گیا۔ اب تمہاری اور میری شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ میری پیاری بیوی اس جہان فانی سے کوچ کرگئی ہے۔میں تو بے فضول ہی اسےدھوکہ دیتے ہوۓ شرمساری محسوس کر رہا تھا، وہ تو خود ایک احساس جرم کی ماری ہوئی بے وفا عورت تھی۔ تم گھر آؤ، میں تمہیں تفصیل سے سمجھاتا ہوں۔ ” اس نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا۔