حیات زن”

زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔سورج بادلوں اوٹ سے نکل کر جھانک رہا تھا۔ اسما آنکھیں موندے پارک میں بینچ پہ بیٹھی تھی۔ اور ہر تھوڑی دیر کے بعد پاس سے گزرتے لوگوں کے قدموں کی چاپ اُسکے خیالوں میں خلل ڈال رہی تھی۔ آخر کار وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور پارک میں کسی پُر سکون جگہ کی تلاش میں چل نکلی۔ وہ  ظالم شوہر کی محبت سے خود کو آزاد کر کے گناہ کرنے کا سوچ رہی تھی۔ظلم انسان کو بے ضمیر بنا دیتا ہے۔ ہم سب بھول جاتےہیں۔
ان سارے خیالوں میں ڈوبی پارک کے ایک کونے تک جا پہنچی جہاں دور دور تک کسی ذی روح کا نشان نہیں تھا۔ ایک تلاب کے قریب بینچ پہ بیٹھتے ہوئے اپنا بیگ ایک سائیڈ پہ رکھا اور آہستی سے بینچ پہ بیٹھ گئی اور پھر آنکھیں موند لی جیسے صدیوں کی تھکن سے آنکھوں میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔ آج سورج کو روشنی جسے وہ پچھلے کئی سالوں سے روز صبح ایک نوید کی کرن سمجھتی تھی،اُس سے بھی بے زار تھی۔ بینچ پہ بیٹھے بیٹھے وہ ماضی کے خیالوں میں کھو گئی بند آنکھوں سے بھی آنسووں پلکلیں گیلی کرنے لگے۔ ۔
امی مجھے ابھی مزید پڑھنے دیں میری شادی نہ کریں۔
بس بہت پڑھ کر لیا ہے اب سسرال جاکہ پڑھنا، اور ویسے بھی انھوں نے کونسا تیرے سے نوکری کروانی ہے۔ امیر خاندان ہے بس جا کے ایک زندگی بساو۔
لیکن امی!
میں کچھ نہیں سنوں گی بس شام کو تیار رہو۔ لڑکے والے دیکھنے آئیں گے۔
اسما بے زاری سے ہی سہی لیکن ہلکا پھکا تیار ہو کر مہمانوں کے سامنے جا پہنچی۔۔لڑکے ماں بہن اور ایک پھوپھو نے اسما کو سر سے لے پاوں تک خوب سکین کیا۔ اور یہ سارا ماحول اسما کو بہت تنگ کر رہا تھا لیکن خیر فکر کس کو تھی، امی ابو چاہتے تھے کے اسکو اُسکے گھر کا کریں۔ اور لڑکے والوں کو بہو کی صورت میں جانے کیا چاہے تھا۔
ایک سال کے عرصے میں اسما کے ایسے بہت سے رشتے آئے جو کسی نہ کسی وجہ کی بنا پہ اپنے انجام کو نہ پہنچ پاتے۔
اسما دل ہی دل میں خوش بھی ہوتی لیکن اب اُسکو یہ بات بے چین بھی کرنے لگی کے اسکے ساتھ کی ساری لڑکیوں کی شادیاں ہو گئی ہں اور وہ کنواری ہی بیٹھی ہے۔ اور لوگوں کی باتیں الگ سُنے کو ملتی۔
آخر کار ایک مناسب رشتہ مل گیا جو مالی طور پہ بھی ٹھیک لوگ تھے اور اسما اور اماں ابا کو بھی ہر طرح سے مناسب لگے۔ چھ ماہ کے اندر اندر منگی، شادی سب ہو گیا۔ اسما رخصت ہو کے اپنے گھر آ گئی۔ اب اسے لگنے لگا کے شاید بے چین زندگی میں کچھ ٹھراو آئے کا وہ خود کو ایک مضبوط قلعے کے حصار میں محسوس کرنے لگی۔
زندگی بہت اچھی ہو گئی تھی۔جان عالم اسما پہ جان چھڑکتا تھا۔ اسما کی اکثر ساس سے لڑائی رہنے لگی جان عالم درمیانی راستہ نکال کر صالح کروا دیتا۔ اسما کو اپنے شوہر پہ ایک مان ایک ناز تھا۔ کیوں کہ    وہ ہمیشہ  ڈھال      بن کر کھڑا ہو   جاتا    تھا ، وہ چاہے زمانے کی تلخ باتیں ہوں یا وقت کی سختی جان عالم ہی اسما کا جہان تھا۔ لیکنیہ سب چھ ماہ تک چلا کیونکہ جان عالم تو ویسا نہیں تھا جیسا اسما سمجھ رہی تھی وہ بھی زیادہ دیر اسما سے اپنا مکار چہرہ نہ چھپا سکا۔ وہ عورت کے پیسے پہ عیاشی کرنا چاہتا تھا اور اسکی ماں کبھی اس بات کو غلط نہیں سمجھتی تھی کیونکہ کہ وہ بیٹے کی طرف داری سے زیادہ کسی بات کو اہمیت نہ دیتی تھی۔

اسما جو دل و جان سے جان جان عالم کے سپرد کر چکی تھی خود کو اب بلکل ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ وقت بڑا ظالم ہے کچھ بھی مستقل نہیں رہنے دیتا وہ پیسہ ہو محبت یا رشتے یا کسی کا مان سب وقت کے ساتھ ماند پڑھنے لگتا ہے۔
وقت بہت ظالم ہے جب اسکا پہیہ گھومتا ہے تو پھر کون کون زد میں کیسے آتا ہے اسکو پرواہ نہیں۔اسما کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا وہ نہیں جانتی تھی کے زندگی اتنی تلخ بھی ہو سکتی ہے۔شوہر کے تشدد شروع ہو گئے جو زبان سے بڑھتے بڑھتے مار پیٹ کی شکل اختیا کرنے لگے۔ اور ساس بیٹے کو ہمیشہ یہی کہتی یہ بدکرار عورت ہے۔
“کب تک فاحشی پھیلاؤ گی،        روزاتنا تیار ہو کرکس کیلئے جاتی ہو آخر،کون ہے جو تمھارا ہی منتظر ہوتا ہے اور اگر تم اتنا بن سنور کے نہ جاؤ تو گزارا نہیں ہوتااسکا”
یہ تقریباً ہر دوسرے دن کا معمول بن گیا تھا جب وہ اسطرح کے لفاظ سنتی آگے سے زبان درازی کرنے کی وجہ سے ایک آدھ تھپڑ بھی لگتا کیونکہ وہ چپ رہے یا جواب دے حالات ویسے کے ویسے ہی تھے۔ تشدد کے لئیے گھر کے  برتنوں سے لے کر گرم سیگریٹ سب استعمال ہوتا۔
جب تک تمھاری غیرت نہیں جاگ جاتی تب تک چلے گا یہ سب۔۔ اور تمھاری اتنی اوقات ہے کہ مجھ سےکو ی سوال بھی کرو،اتنی غیرت ہے تو یہ کاہلی چھوڑو اور آورہ گردی کے بجاۓکوئڈھنگکینوکریکروتاکہمیںساتپردوںمیںچھپکےبیٹھسکوں۔۔تمجیسےہیمردہوتےہیںجنکےگھرکیعورتیں پیسے کےلئے بازاروں کی زینت ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔و  ہ مسلسل زہر اگل رہی تھی۔۔زور سے دروازہ پٹخا اور گھر سےنکل گئ،   کچھ لفظ جیسے اب بھی اسکے کانوں میں زہر گھول رہے تھے۔”تم فخا  ش عورت ہو”۔۔
ہر روز آفس پہنچ کر وہ گھر کے تلخ ماحول  کو بھلانے کی کوشش کرتے ہوئے کام میں سر گھسا لیتی۔ کیونکہ اب یہ تقریباً روز کا معمول بن گیا تھا۔
آج بھی وہ دنیا سے نظریں چراۓچراۓدلمیںکئیافسوساورخیاللئےآفسپہنچیتوجیسےسارینظریںاسیکیطرفہوں۔۔اسےمعلومتھاوہاپنےحلیےکیوجہسےکسیدلکشڈیکوریشنپیسسےکمنہیںلگرہیتھی۔اپنےڈیکس تک پہنچتے پہنچتے جیسے کئ نظریں اسے کھا گئ ہوں۔۔آنسو صاف کرتے ہوۓجیسےہیکرسیسنبھالی,ڈیکسپہایکلفافہنظرآیا,جوکہباسکیطرفسےغیرمتوقعبونستھا۔
وہ اس مہربانی کی وجہ معلوم کرنے باس کے آفس پہنچی۔دروازہ ہلکا سا کھولا تو جیسے باس بھی اسی انتظار میں تھے۔
جی جی! آئیے مس اسما! بیٹھنے کو کہا,پانی کا گلاس پیش کیا۔خود بھی انتہائی نا معقول انداز میں ضرورت سے زیادہ اسما کے قریب بیٹھ گئے اور نظریں اسکے میک اپ میں لیپے ہوۓچہرےپہگاڑلی۔۔۔
سر اس مہربانی کی وجہ جان سکتی ہوں؟
آہ مس اسما ! باس نے سگار سلگایا اور جسکا دھواں اسما کے منہ پہ چھوڑا۔ ہم آپ پہ مہربانی نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ ہم آپ پہ مہربان ہوتے ہیں آپ ہم پہ مہربانیاں کریں۔قہقہ ہوا میں بلند ہوا,(رتبہ بھی بڑا ملے گا پیسہ بھی )..ایک ہاتھ اسما کے کندھے پہ پہ گاڑ دیا,سوچ لیں۔۔۔
تھکے قدموں  سے اسما واپس اپنے ڈیکس تک با مشکل پہنچی۔”تم فحش ہو” جان عالم ٹھیک ہی تو کہتا ہے…
بیگ اٹھایا، اور آفس سے نکل آئی۔خاموش ویرانے میں بیٹھ کے خوب روئی۔
جان عالم! میں یہ سب نہیں کرنا چاہتی، لیکن پیٹ کی بھوک بڑی ظالم ہے،تمھیں کیسے بتاؤں کے مجھے پیسے اس فخش پن کے ملتےہیں، پیسوں کی خاطر یہ سب کرنا آسان ہیں ہے۔کاش میں تمھیں بتا سکتی۔۔۔میں جانتی ہوں حالات جیسے بھی ہیں میں یہ سب کر کے تمھاری انا کو ٹھیس پہنچا رہی ہوں، اور غلط کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔

کب آئی ہو؟ تھوڑی دیر ہوئی!

 چاۓپیوگے؟ہاںبنادو۔
چاۓبناتےہوتےوہصبحکیساریلڑائبھولگئ۔۔دونوں بہت خوشگوار ماحول میں تھے۔۔تم سے کچھ کہنا ہے,   جان عالم  نے اسکا ہاتھ تھاما تو  اسما کو لگا  کے جیسے کسی مخفوظ ساۓمیںدوبارہآچکیہو۔۔۔مجھےبھیکچھکہناہے,یقینکرتاہوںمانلوگی۔ہاںکہو۔۔اسےیقینتھااتنےپیارسےوہاسےیہنوکریچھوڑنےکاکہےگا..محبتتوہے۔اسکیآنکھوںمیںجیسےچمکاترآئی ہو۔(ایک ساتھ کئی خیالات بن بیٹھی)
پیچھے جو منسڑ صاحب رہتے ہیں نا،تمھاری بہت تعریف کر رہے تھے۔تم انہیں بہت دلکش لگتی ہو، آج رات کیلئے انکی طرف چلی جاؤ۔دیکھو وہ مجھے نوکری بھی اچھی دلوا دیں گے۔اچھا رتبہ بھی مل جاۓگا.۔۔
سمجھ رہی ہو نا۔۔۔سنو سمجھ رہی ہو نا۔۔۔۔
یہ آوازیں جیسے کہیں ہوا میں معلق ہو رہی ہوں۔۔

اب وہ منسٹر صاحب کےبجاۓاپنےباسکےپاسجانےکاسوچرہیتھی۔۔۔….
فاخرہ نواز