حسرت
نصیر وارثی
شام کا وقت تھا، سورج افق پر سرخ ہو چکا تھا اور ہوا میں مٹی کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ جسیم، جس کے بال سفید ہو چکے تھے اور آنکھوں میں برسوں کی اداسی بس چکی تھی، اُس گاؤں میں قدم رکھتا ہے جہاں برسوں پہلے کی کہانیاں دفن تھیں۔ وقت کی لکیریں اس کے چہرے پر ایسی پڑ چکی تھیں کہ جیسے ہر لکیرا ایک کہانی ہو۔
تقسیم ہند کا المیہ اس کے دل میں آج بھی تازہ تھا۔ وہ ہولناک راتیں جب وہ اپنی بیوی سلمٰی اور 3 سالہ بیٹےکے ساتھ اپنے گاؤں سے نکل رہا تھا، وہ خون آلود مناظر، وہ چیخیں، ہر لمحہ آج بھی اس کے ذہن میں چسپاں تھا۔ قتل و غارت کے بیچ سلمٰی اور بیٹا اس کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے ۔ وہ چیختا، پکارتا، پر کچھ نہ کر سکا۔ اس کے بعد برسوں اس نے سلمٰی کو ہر جگہ تلاش کیا مگر ناکام رہا۔
لیکن آج ایک عجیب خبر نے اس کے دل کی مردہ حسرت کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ سلمٰی قیریبی گاؤں میں رہتی ہے، مگر اب وہ سلمٰی نہیں رہی، اب وہ ‘سکھونت کور’ کہلاتی ہے اور ایک سکھ خاندان کے ساتھ بستی ہے۔ یہ سن کر جسیم کی روح کانپ گئی۔ اس کے قدموں میں ایک بے اختیار سی طاقت آ گئی تھی اور وہ اس گاؤں کی طرف کھنچا چلا آیا۔
جب وہ وہاں پہنچا، تو سامنے ایک عورت کھڑی تھی، درمیانی عمر کی، جو اس کے سامنے کھیتوں میں کام کر رہی تھی۔ وہ اس کی طرف دیکھتا رہا، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ سلمٰی ہی تھی، اس کی سلمٰی، مگر آنکھوں میں ایک عجب سی چمک، سکون اور غم کی داستان لئے ہوئے۔
“سلمٰی!” اس نے آہستہ سے پکارا۔ وہ چونک کر مڑی، اُس کی آنکھوں میں حیرت تھی، پھر پہچان اُبھری، اور کچھ لمحے بعد ایک خاموش تسلیم۔
“سلمٰی؟” اس نے دوبارہ پکارا، مگر اس بار اس کی آواز لرز گئی۔
“اب میرا نام سلمٰی نہیں، جسیم… اب میرا نام سکھونت کور ہے۔” اس نے دھیرے سے جواب دیا۔
جسیم کے دل پر جیسے کسی نے چاقو چلایا ہو۔ “سکھونت کور؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تم نے اپنا مذہب… اپنا نام… سب کچھ بدل دیا؟”
سکھونت نے گہری سانس لی۔ “وہ وقت ایسا تھا، جسیم۔ اس رات جب ہم بچھڑ گئے، میں موت کے قریب تھی۔ ہجوم نے مجھے اور میرے بیٹے کو مارنے کی کوشش کی، لیکن ایک سکھ نوجوان، ہرنام سنگھ، نے میری جان بچائی۔ اُس نے مجھے اپنے گھر پناہ دی، میری عزت کی حفاظت کی۔ جب پورا گاؤں میرے پیچھے تھا، اس نے مجھے اپنے نام کا سہارا دیا۔”
جسیم کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ “اور تم نے اس کا سہارا لے لیا؟ سب کچھ چھوڑ دیا؟”
سکھونت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا، جسیم۔ اُس نے مجھے سہارا دیا، پناہ دی اور پھر… وقت کے ساتھ، میں نے اُسے قبول کر لیا۔ زندگی آگے بڑھ چکی تھی۔”
کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ دونوں اپنی اپنی دنیا کی کہانیاں آنکھوں کے راستے بیان کر رہے تھے۔
“کیا تم نے کبھی میرے بارے میں سوچا؟” جسیم نے بے اختیار پوچھا۔
سکھونت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “سوچا؟ ہر رات، ہر دن تمہارا خیال آتا تھا، مگر حالات ایسے تھے کہ کچھ نہیں کر سکی۔ جب میں زندہ تھی، تو جیسے مر چکی تھی، اور جب نئی زندگی ملی، تو اس کا قرض ادا کرنا تھا۔”
جسیم نے اپنے دل کو مضبوط کیا۔ اُس نے اپنے ہاتھوں کو تھام لیا، اور پھر آہستہ سے بولا، “تم نے جو بھی کیا، وہ وقت کا تقاضا تھا۔ تم نے میری سلمٰی کو بچایا، چاہے وہ اب سکھونت کور بن چکی ہو۔ میں اس فیصلے کو سمجھ سکتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اُس نے ایک آخری نظر اس پر ڈالی اور دل میں ایک عجیب سا سکون محسوس کیا۔ شاید آج وہ سلمٰی کو چھوڑ کر نہیں جا رہا تھا، بلکہ اسے آزاد کر رہا تھا۔
شام کی سرخی میں وہ وہاں سے واپس لوٹنے لگا۔ پیچھے سکھونت کور اُسے دیکھتی رہی، شاید وہ بھی دل ہی دل میں اس کے حق میں دعائیں کر رہی تھی۔
اس شام، دونوں نے ایک دوسرے کو آزاد کر دیا تھا۔
جسیم کے قدم آہستہ آہستہ گاؤں کی طرف بڑھنے لگے۔ شام کی سرخ روشنی اب گہرے سائے میں بدل رہی تھی، جیسے اس کی اپنی زندگی کا قصہ بھی سائے میں ڈھلتا جا رہا ہو۔ مگر دل ابھی بھی کچھ کہہ رہا تھا، کچھ کہنا چاہتا تھا، شاید ایک ادھورا سوال یا کوئی بھولی بسری بات۔
اچانک اس نے محسوس کیا کہ سکھونت کور اس کے پیچھے پیچھے آ رہی ہے۔ وہ رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سکھونت کچھ لمحے رک کر اُس کی طرف دیکھتی رہی اور پھر آہستہ سے بولی، “جسیم، میں تم سے ایک آخری بات کہنا چاہتی ہوں۔”
“کیا بات ہے، سلمٰی؟” اُس کے منہ سے بے اختیار اس کا پرانا نام نکل گیا۔
“جب ہرنام نے میری جان بچائی، تو میرے پاس کوئی اور سہارا نہ تھا۔ میں نے اس کی چھت کو اپنے سر پر پناہ کی صورت میں قبول کیا۔ اُس نے مجھ سے کبھی یہ تقاضا نہیں کیا کہ میں اپنی شناخت کھو دوں، لیکن میں خود اپنے وجود سے بیگانہ ہو چکی تھی۔ حالات نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کا ساتھ قبول کروں، مگر دل کے ایک گوشے میں، میں ہمیشہ تمہیں بسائے ہوئے تھی۔”
جسیم خاموشی سے سنتا رہا۔ اُس کے دل میں ایک درد کی لہر اُٹھی، جیسے پرانے زخم پھر سے ہرے ہو گئے ہوں۔
“میں نے اپنا مذہب، اپنی شناخت ضرور بدلی، مگر اپنے ماضی کو کبھی بھول نہ سکی۔ ہرنام نے میرے زخموں کو مرہم دیا اور مجھے زندگی کی ایک نئی راہ پر چلنے کا حوصلہ دیا۔ مگر دل کے ایک کونے میں وہ یادیں آج بھی زندہ ہیں۔”
جسیم نے دھیرے سے اس کی طرف دیکھا۔ “تم نے جو کیا، وہ حالات کا تقاضا تھا۔ میں نے تمہیں کبھی ملامت نہیں کی۔ شاید میری بھی قسمت میں یہی تھا کہ تمہیں ہمیشہ دور سے چاہتا رہوں۔”
سکھونت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “اگر کبھی زندگی نے موقع دیا ہوتا، اگر ہم بچھڑتے نہ، تو شاید ہماری کہانی آج مختلف ہوتی۔ لیکن جسیم، میں نے جو زندگی اختیار کی، اُس نے مجھے سکون دیا، مجھے دوبارہ سے جینے کا حوصلہ دیا۔”
جسیم نے ایک آخری نظر سکھونت کی طرف ڈالی۔ “تم خوش ہو، تو میں بھی خوش ہوں۔ اگر ہرنام نے تمہیں وہ سکون دیا ہے جو میں نہ دے سکا، تو میں اس کا شکر گزار ہوں۔”
سکھونت نے آہستہ سے سر ہلایا، جیسے وہ اپنے دل سے اس آخری بات کو قبول کر رہی ہو۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک نامعلوم سکون تھا، جیسے برسوں کی ادھوری خواہشیں اور حسرتیں آج دم توڑ چکی ہوں۔
پھر خاموشی سے سکھونت نے اپنے قدم واپس اپنے گاؤں کی طرف موڑ لئے، اور جسیم اندھیرے میں کھو گیا، دل میں ایک عجب سا سکون اور بے نام سی اذیت لئے۔
یہ جدائی، یہ ملاقات، شاید ان دونوں کی زندگیوں کا آخری پڑاؤ تھا، مگر دل کے کسی کونے میں یہ یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وقت نے انہیں بچھاڑ دیا تھا، مگر یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں محفوظ ہو چکا تھا۔
اندھیرا بڑھتا گیا، اور جسیم کے قدم آہستہ آہستہ گاؤں کی حدود سے باہر نکلنے لگے، جہاں اس کے انتظار میں صرف تنہائی تھی۔
جب اس نے سکھونت سے ملاقات کی، تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا، امجد، جو بچھڑتے وقت صرف تین سال کا تھا، اب جوان ہو چکا ہے اور سریندر سنگھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سن کر جسیم کے دل پر جیسے کسی نے نشتر چلا دیا۔ اس کے بیٹے کا نام اور شناخت تک بدل چکی تھی، اور وہ اپنے والد کو شاید پہچان بھی نہیں سکتا تھا۔
سکھونت کور نے جسیم کو بتایا کہ امجد، اب سریندر سنگھ، اپنے نئے والد ہرنام سنگھ کی طرح سکھ روایت میں پروان چڑھا ہے۔ اس کے دل میں اب سکھ مت اور اپنے گاؤں کی روایات رچی بسی تھیں۔ اسے اس بات کا علم بھی نہیں کہ اُس کا اصل باپ کون ہے، اور وہ کسی اور مذہب اور شناخت سے تعلق رکھتا ہے۔ سکھونت کی آنکھوں میں پشیمانی کی جھلک تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ وہ سب کچھ اپنے بیٹے کو بچانے اور ایک نئی زندگی دینے کے لیے کر رہی تھی۔
جسیم نے سکھونت سے درخواست کی کہ وہ ایک بار اپنے بیٹے سے ملنا چاہتا ہے، چاہے وہ اُسے اپنے حقیقی والد کی حیثیت سے قبول نہ کرے۔ سکھونت کچھ لمحوں تک خاموش رہی، پھر آہستہ سے سر ہلا دیا اور اگلے دن ملنے کا وعدہ کیا۔
اگلے دن، جب جسیم اپنے بیٹے سے پہلی بار سریندر سنگھ کے روپ میں ملا، تو اُس کے دل میں ایک بے پناہ خوشی اور درد کا امتزاج تھا۔ سریندر نے جسیم کو ایک اجنبی کی طرح دیکھا، احترام سے اُس کی بات سنی، مگر اُس کی آنکھوں میں وہ پہچان نہیں تھی جس کی جسیم کو امید تھی۔
سریندر نے جسیم سے پوچھا، “آپ کون ہیں؟” جسیم کے دل پر جیسے بھاری بوجھ آن پڑا، مگر اُس نے دھیرے سے جواب دیا، “بس ایک مسافر ہوں، جو تم سے ملنے آیا ہے۔”
اُس لمحے جسیم کے دل میں یہ احساس اُبھرا کہ بیٹے کی زندگی اور شناخت اب اُسی زمین اور گھر کی ہو چکی تھی، جہاں وہ پروان چڑھا تھا۔ اُس نے خاموشی سے سریندر کو دعائیں دیں اور وہاں سے واپس چل دیا، دل میں سکون اور ادھوری حسرت کا بوجھ لئے۔
اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا، مگر جسیم کے دل میں ایک نامعلوم روشنی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اُس نے اپنے بیٹے کو کھو دیا، مگر اُسے یہ سکون بھی تھا کہ اُس کی حفاظت کے لیے ایک دوسری شناخت میں بھی سہی، وہ پروان چڑھ چکا ہے۔
جسیم کے دل میں یہ خیال آیا کہ سکھونت کور اور سریندر سنگھ، یعنی اس کی بیوی سلمٰی اور بیٹا امجد، اب ایک محفوظ اور مستحکم زندگی گزار رہے ہیں۔ تقسیم کے ہنگامے میں جسیم نے اپنی بیوی اور بیٹے کو کھو دیا تھا، مگر تقدیر نے انہیں ایک نئی زندگی اور پہچان دے دی تھی۔ ہرنام سنگھ نے سلمٰی اور امجد کو تحفظ دیا اور ان کے لیے وہ سب کچھ کیا جو جسیم نہیں کر سکا۔
جب جسیم نے دیکھا کہ سلمٰی اور امجد اب پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، تو اس کے دل کو ایک انوکھا سکون ملا۔ برسوں کے درد اور بچھڑنے کا دکھ اُس کے دل میں تھا، مگر اس نے ان دونوں کو صحیح سلامت دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دی کہ کم از کم اُن کی زندگی سلامت ہے۔
اُس نے سوچا، “میری زندگی نے مجھے ان سے دور کر دیا، مگر اُن کی حفاظت کے لئے ہی شاید یہ سب ہونا تھا۔ اگر اُنہیں ہرنام سنگھ کا سہارا نہ ملا ہوتا، تو شاید آج وہ دونوں زندہ نہ ہوتے۔”
جسیم نے اپنی حسرت اور دکھ کو دل میں دفنا لیا اور خاموشی سے وہاں سے واپس جانے لگا۔ اس کے دل میں سکون کی ایک چھوٹی سی روشنی جاگ چکی تھی کہ اس کا بیٹا اور بیوی سلامت اور خوش ہیں، چاہے وہ کسی اور شناخت اور مذہب کے تحت اپنی زندگی گزار رہے ہوں۔
جسیم کے دل میں برسوں سے یہ خواب تھا کہ وہ اپنے بیٹے، امجد، کو قرآن حفظ کرائے گا، اسے اپنے دین اور روایات سے جوڑے گا، اور اس کی پرورش میں اپنی محبت اور ایمان کا رنگ بھرے گا۔ بچپن میں جسیم امجد کو اپنے سینے سے لگا کر دعائیں دیتا تھا اور اکثر کہتا، “بیٹا، جب تم بڑے ہو گے، میں تمہیں قرآن کی تعلیم دوں گا۔ تمہیں حافظ قرآن بناؤں گا۔”
لیکن وقت اور تقدیر نے اس خواب کو ایسا بکھیر دیا کہ جسیم کو اپنے بیٹے کے مسلمان ہونے کی امید بھی دل میں دفن کرنی پڑی۔ جب اسے پتہ چلا کہ امجد اب سریندر سنگھ کے نام سے جانا جاتا ہے اور سکھ روایت میں پروان چڑھ رہا ہے، تو اس کے دل پر گویا ایک چھری چل گئی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا اب اس کی دعاؤں اور خوابوں سے بہت دور جا چکا ہے۔
پھر بھی، اس نے اپنے دل کو تسلی دی، “میرا بیٹا زندہ ہے، سلامت ہے۔ یہ بھی کم نہیں۔” اس کے دل میں یہ اطمینان پیدا ہونے لگا کہ شاید اُس کی دعائیں کسی اور شکل میں قبول ہو گئی تھیں۔ شاید یہ اللہ کی مرضی تھی کہ اس کا بیٹا ایک اور مذہب اور شناخت میں محفوظ زندگی گزارے، لیکن وہ زندہ رہے اور خوشحال ہو۔
جسیم نے سوچا کہ اللہ کی حکمت وہ کبھی مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتا۔ اُس کا دل بھاری تھا، مگر ساتھ ہی ایک سکون بھی تھا۔ اس نے دل میں دعا کی، “یا اللہ، اگر میرے خواب پورے نہ ہوئے، تو تُو نے مجھے اُن کی زندگی کا سکون دے دیا۔ یہ بھی تیری رحمت ہے۔”
یہ سوچ کر اُس نے خود کو حالات کے سپرد کر دیا اور خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ دل کے کسی کونے میں وہ دعا ہمیشہ زندہ رہے گی، اور شاید کہیں نہ کہیں اس کی دعاؤں کا اثر اس کی آنکھوں سے دور، کسی اور دنیا میں، اس کے بیٹے کی زندگی کو سنوار رہا ہوگا۔گاؤں کی سرحد پر پہنچتے ہوئے اُس نے ایک آخری نظر اس مقام پر ڈالی، جہاں اُس کا ماضی دفن تھا اور اُس کے پیچھے ایک نئی زندگی پروان چڑھ رہی تھی۔ اُس نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پونچھا، ایک گہری سانس لی، اور خاموشی سے واپس چل پڑا۔