حاجی صاحب کا راز
حاجی صاحب علاقے کی ایک محترم شخصیت تھے، جن کی دیانتداری اور کردار کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ مگر آج، جب وہ ایک جوان لڑکی مریم کو اپنے گھر لائے ، تو سب حیران رہ گئے۔ ان کا یہ اقدام لوگوں کی نظروں میں عجیب اور مشکوک بن گیا۔
حاجی صاحب کا اصرار تھا کہ مریم ان کے ساتھ کمرے میں رہے گی۔ یہ بات محلے میں چہ میگوئی کا سبب بنی۔ لوگ ایک دوسرے سے سوال پوچھنے لگے کہ آخر حاجی صاحب نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ “کیا انہیں اپنے کردار کا خیال نہیں؟” ایک پڑوسی نے کہا۔ “ایک جوان لڑکی کو اپنے کمرے میں رکھنا تو بالکل غیر مناسب ہے۔”
محلے کے بزرگ، جو حاجی صاحب کے احترام میں کبھی کوئی بات نہیں کرتے تھے، اب ان کی اس حرکت پر ششدر رہ گئے۔ “کیا حاجی صاحب واقعی اتنے بے فکر ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی عزت کو داؤ پر لگا رہے ہیں؟” ایک دوسرے نے بات کی۔
حاجی صاحب نے یہ سب سننے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے دل میں مریم سے محبت کی گہرائی تھی، جو انہیں اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ دکھا رہی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ مریم کے لیے ان کے ساتھ رہنا ہی مناسب ہے۔ حاجی صاحب نے اپنی زندگی کے اس نئے باب میں ایک مضبوطی اور عزم کے ساتھ قدم رکھا۔ وہ اپنے اصولوں اور محبت کی طاقت پر یقین رکھتے تھے، اور اس بات سے بے پرواہ تھے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔
انہوں نے مریم کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔ مریم، جو کہ اپنی زندگی میں اتنے کٹھن حالات سے گزری تھی، حاجی صاحب کی قربت پاکر ایک نئی امید محسوس کرنے لگی۔ یہ فیصلہ نہ صرف حاجی صاحب کی محبت کا عکاس تھا، بلکہ ان کی خواہش بھی تھی کہ وہ مریم کی کی زندگی کی ضرورت بنیں –
جب حاجی صاحب نے مریم کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں رہنے کو ترجیح دی، تو ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔ ان کے اس فیصلے کو سمجھنا سب کے لیے مشکل تھا۔ لوگوں نے سرگوشیاں شروع کر دیں کہ حاجی صاحب نے کیوں ایک جوان لڑکی کو اپنے ساتھ رہنے پر بضد ہیں۔ “کیا انہیں شرم نہیں آتی؟” ایک رشتہ دار نے سوال اٹھایا۔ “کیا یہ درست ہے کہ وہ ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہیں؟” اس نے اپنی آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔
کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے رہے کہ یہ تو غیر اخلاقی بات ہے، اور حاجی صاحب کو اپنے اس فیصلے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ محلے میں لوگوں نے کئی افواہیں پھیلائیں، جن میں یہ کہا جانے لگا کہ حاجی صاحب کو اپنی عمر کا بھی لحاظ نہیں ا نہوں نے اس لڑکی کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس عمر میں بھی اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔
حاجی صاحب کے بیٹوں کے دل میں بھی مایوسی اور غصہ بڑھنے لگا۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے والد نے اس لڑکی کی خاطر اپنی عزت کو کیوں داؤ پر لگایا ہے، خود کو مشکوک بنا دیا ہے۔ وہ اپنے والد کے اس فیصلے پر تنقید کرنے لگے اور ان کے کردار پر سوال اٹھانے لگے۔ “کیا یہ ٹھیک ہے کہ وہ ہمیں چھوڑ کر اس لڑکی کے ساتھ رہیں؟” حاجی صاحب ان سب باتوں کو خاموشی سے سنتے رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی کٹھن فیصلے کیے تھے، مگر یہ فیصلہ ان کے دل کی گہرائیوں سے آیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مریم کی بہتری اور حالات کے حساب سے یہ فیصلہ درست ہے۔
ایک دن، جب حاجی صاحب مریم کو سینے سے لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ان کے بیٹے گھر میں داخل ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں غصہ اور حیرت کا ملے جلے احساس تھے۔ وہ اپنے والد کی اس صورت حال کو دیکھ کر بھڑک اٹھے۔ “ابا! یہ کیا ہو رہا ہے؟” بڑے بیٹے نے اپنی آواز بلند کی۔ “آپ ایک جوان لڑکی کو اس طرح سینے سے لگا کر بیٹھے ہیں، کیا یہ آپ کی عزت کے لیے مناسب ہے؟ آپ کو شرم نہیں آتی؟” ان کی باتوں میں طنز اور تنقید کی ایک جھلک تھی، جو حاجی صاحب کے دل کو چوٹ پہنچا رہی تھی۔
حاجی صاحب نے مریم کو پیار سے اپنے قریب کیا اور بیٹوں کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھانے کی کوشش کی، اور کہا کہ اس کے ساتھ میرا رشتہ محبت کا ہے۔ مگر ان کے بیٹے اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں تھے۔ “ابا، آپ نے خود کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے کہ لوگ آپ کی عزت کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، لوگ یہ سب نہیں دیکھ رہے؟” چھوٹے بیٹے نے سخت لہجے میں کہا۔
حاجی صاحب کے دل میں ایک کرب کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بیٹے صحیح ہیں، لیکن انہوں نے بیٹوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی، مگر وہ نہیں رکنے والے تھے۔ “آپ کی یہ حرکت ہمارے خاندان کے لیے شرم کا باعث بن رہی ہے!” ایک بیٹے نے غصے میں کہا، “ہمیں آپ کی وجہ سے سب کی نظروں میں نیچا ہونا پڑ رہا ہے۔” ان کی باتوں نے حاجی صاحب کے دل میں ایک کڑواہٹ پیدا کی۔
مریم، جو حاجی صاحب کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی، اس سب کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ وقت کتنا مشکل ہے، اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنی آنکھیں حاجی صاحب کی طرف اٹھائیں، جیسے ان کی مدد کے لیے فریاد کر رہی ہو۔ حاجی صاحب نے مریم کی آنکھوں میں دکھ اور محبت کی جھلک دیکھی، اور ان کے دل میں ایک نیا عزم پیدا ہوا۔ “میں جانتا ہوں کہ یہ سب آپ کے لیے مشکل ہے، لیکن میں تمہارے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنی محبت کی خاطر کسی کی پرواہ نہیں۔”
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس صورت حال کا سامنا کریں گے اور اپنے بیٹوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ مریم ان کو بہت عزیز ہے اور اس کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔ حاجی صاحب نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے کہا، “میں جانتا ہوں کہ تم لوگ میرے فیصلے سے ناخوش ہو، لیکن مریم کو میرے ساتھ رکھنا میری محبت اور ضروت ہے۔”
حاجی صاحب کے الفاظ میں ایک عزم اور طاقت تھی، جو ان کے بیٹوں کے دلوں میں چنگاری ڈالنے لگی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے والد کا محبت بھرا دل اور عزم انہیں بھی سبق سکھانے کے لیے کافی ہے۔ وقت گزرتا گیا، اور مریم کی موجودگی نے حاجی صاحب کے گھر کو ایک نئی روح بخشی۔ لوگوں کی باتیں تھم گئیں، کیونکہ وہ سب جان گئے تھے کہ حاجی صاحب کی یہ کہانی صرف اس عمر میں ٹھرک اور ہوس ہے۔
آہستہ آہست یہ چہ میگوئیاں محلے میں بھی پھیل گئیں۔ حاجی صاحب کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں، ان کے فیصلے کو مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ لوگوں نے ان کے وقار اور بزرگ شخصیت کو بھلا کر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔
ایک دن حاجی صاحب گھر سے باہر تھے، اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے بڑے بیٹے نے موقع پا کر مریم کے کمرے کا رخ کیا۔ مریم حاجی صاحب کی عدم موجودگی میں بھی اپنے دل میں ان کے تحفظ کے احساس سے مطمئن تھی، مگر اچانک اس کے سامنے ان کا بیٹا کھڑا تھا۔ اس کی نظریں عجیب سی تلخی اور نفرت سے بھری تھیں۔
وہ ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “تم جوان ہو، اور یہاں ہمارے ہوتے ہوئے بھی تم حاجی صاحب کے ساتھ اس کمرے میں کیوں رہتی ہو؟ وہ بوڑھا تمہیں کون سی آسائش دے سکتا ہے؟” اس کے لہجے میں تحقیر اور گھٹیا پن نمایاں تھا۔
مریم کا چہرہ غصے اور خوف سے سرخ ہوگیا، مگر وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی، “تم میرے منہ نہ لگو، اپنے باپ سے بات کرو۔” اس کے لہجے میں مضبوطی تھی، مگر اس کا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔
بیٹے نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “ان سے بات کرنے میں کیا رہ گیا ہے؟ وہ کچھ بھی کہیں، ان کی کون مانے گا؟ کوئی بھی تو تمہاری کہانی سننے کو تیار نہیں ہوگا۔ لوگ تو یہی کہیں گے کہ تمہارے اور حاجی صاحب کے درمیان کچھ اور تعلق ہے۔”
مریم کو ان الفاظ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور اس نے اسے روکنے کی کوششمگر اس بیٹے کی نظریں اور ارادے گھناؤنے تھے۔ جیسے ہی وہ اس کی طرف بڑھا، مریم نے اپنی پوری طاقت سے اسے پیچھے دھکیل دیا اور دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔ شور سن کر محلے کے چند لوگوں کو بھی اس واقعے کا علم ہوا، اور حاجی صاحب کے بیٹے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ حاجی صاحب کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ جب مریم نے حاجی صاحب کو یہ سچائی بتائی تو ان کا دل زخمی ہوگیا۔ وہ جان گئے کہ ان کے بیٹوں کی اخلاقی پستی کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا بڑا بیٹا، جس نے مریم کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، اپنی غلطیوں پر نادم ہوا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ حاجی صاحب کی عزت اور مریم کے وقار کو بحال کرنے کے لیے یہ حقیقت سامنے لانا ضروری تھا۔
اس واقعے نے ان کے بیٹے اور محلے والوں کے لیے ایک سبق چھوڑ دیا کہ کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے، اور خاندان کی عزت و احترام کے لیے بعض اوقات کڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ حاجی صاحب نے اپنے بیٹوں اور محلے والوں کو جمع کیا اور اپنے راز کو افشا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے چہرے پر ایک گہری سنجیدگی اور آنکھوں میں برسوں کی تکلیف عیاں تھی۔ وہ بیٹھی ہوئی بھیڑ کی طرف دیکھ کر بولے، “آج جو میں کہنے جا رہا ہوں، وہ میری زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے۔” حاجی صاحب کا یہ اعلان سن کر سب حیران رہ گئے۔ ان کا دل جیسے کسی وزنی بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔
ان کی عمر اور حالات نے انہیں زندگی کے کڑے امتحانوں سے گزارا تھا، مگر مریم کی حفاظت کے لیے انہوں نے خاموشی سے ہر قربانی دی تھی۔ جب مریم نے ان کے بیٹے کی بدسلوکی کے بارے میں بتایا، تو حاجی صاحب کو احساس ہوا کہ اب مزید خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔ وہ لمحہ جیسے پوری فضا پر بوجھ بن گیا۔ حاجی صاحب نے لرزتے ہوئے لہجے میں اپنے اور مریم کے بارے میں سچائی بیان کی۔
“یہ لڑکی، جسے تم سب شک کی نظروں سے دیکھتے رہے، میری اپنی سگی بیٹی ہے۔” انہوں نے گہرے سانس کے ساتھ کہا، “میری دوسری شادی کا وہ راز جسے میں نے اپنی پہلی بیوی کی خاطر چھپائے رکھا، تاکہ ان کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔” مجھے ہمیشہ سے اپنی اولاد پر فخر رہا ہے۔ میں تین بیٹوں کے باپ ہوں، مگر قسمت نے مجھے بیٹی سے محروم رکھا تھا۔ برسوں بعد، انہوں نے سب سے چھپ کر بیٹی کی خواہش میں دوسری شادی کر لی اور اللہ نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا۔ لیکن قسمت کا کھیل ایسا تھا کہ ان کی دوسری بیوی زندگی کی چند ہی بہاریں دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
حاجی صاحب نے دل پر پتھر رکھ کر اپنی اس چھوٹی سی بیٹی کو دور کے رشتے داروں کے ہاں پرورش کے لیے بھیج دیا تاکہ اس کا مستقبل محفوظ رہے اور وہ اس ماحول سے دور رہے جہاں ان کے بڑے بیٹوں کی رنگین مزاجیاں اور برے رویے روز بروز بڑھتے جا رہے تھے۔ برسوں بیت گئے، اور وقت کے ساتھ حاجی صاحب کے بیٹوں کی عادات مزید بگڑتی گئیں۔ ان کی زندگیاں عیش و عشرت اور لاپرواہی میں گزرتی تھیں، اور حاجی صاحب خاموشی سے یہ سب دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں تاسف کرتے رہے۔
میں نے اپنی بیٹی مریم کو اپنے ساتھ اپنے گھر لانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔ مریم، جو کہ اپنی زندگی میں اتنے کٹھن حالات سے گزری تھی، اپنے باپ کے پاس آ کر ایک نئی امید محسوس کرنے لگے۔ یہ فیصلہ نہ صرف حاجی صاحب کی محبت کا عکاس تھا، بلکہ ان کی خواہش بھی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی میں ایک باپ کی حیثیت سے موجود رہیں۔
یہ لمحات نہ صرف ان کی زندگیوں کے لیے بلکہ پورے خاندان کے لیے ایک نیا آغاز بننے جا رہے تھے، جہاں مریم کی عزت اور مقام کو ایک نئی پہچان ملنے والی تھی۔ حاجی صاحب نے عزم کیا کہ وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے، اور ان کی عزت کو بحال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
حاجی صاحب کا یہ انکشاف سن کر پورے مجمعے میں خاموشی چھا گئی۔ ان کے بڑے بیٹے کا چہرہ شرمندگی سے جھک گیا، جبکہ محلے کے لوگ حیرت میں ڈوب گئے۔ حاجی صاحب کی اس قربانی اور خاموشی کو سب نے محسوس کیا۔ ان کے بیٹے کے چہرے پر ندامت اور پشیمانی نمایاں تھی۔
محلے کے بزرگوں نے حاجی صاحب سے معافی مانگی اور کہا، “ہم نے تمہاری خاموشی کو غلط سمجھا، مگر آج ہم تمہاری قربانی کو سلام کرتے ہیں۔”
حاجی صاحب نے اپنی آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا، “یہ بیٹی میری عزت ہے، میری زندگی کا وہ حصہ ہے جسے میں نے ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ میری زندگی کا مقصد صرف اسے محفوظ اور باعزت مقام دینا تھا۔” ان کی آواز میں ایک ٹھہراؤ تھا، ایک باپ کی محبت اور قربانی کا گہرا احساس۔
اس دن کے بعد حاجی صاحب کی بیٹی مریم کو سب نے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ان کے بیٹے نے بھی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور شرمندگی کے ساتھ اپنے والد کے سامنے معافی مانگی۔ حاجی صاحب کے صبر اور ان کی قربانی نے ان کے خاندان اور محلے والوں کو ایک ایسی مثال دے دی، جسے سب ہمیشہ یاد رکھتے۔