محنت اور سوچ پہ یقین
نیا اور پرانا مواد
n.w

سورج کی اُبھرتی کرنوں کے ساتھ عرفان کا دل ڈوب رہا تھا۔ کل رات صابر کا بدلہ ہوا رویہ اب تک اُسے پریشان کر رہا تھا کیونکہ نیویارک میں خدا کے بعد عرفان کا آخری سہارا صابر ہی تھا۔ وہی اُسے پاکستان سے نیویارک لے کر آیا تھا۔
پاکستان سے آئے اُسے تقریباً دو ماہ ہونے کو تھے، لیکن وہ یہاں کے ماحول میں اب تک ڈھل نہیں پایا تھا اور شاید دو ماہ کا عرصہ کہیں بھی نئی جگہ کو اپنانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ نیویارک آتے ہی صابر نے اُسے ایک بار کے مالک سے منت سماجت کے بعد ایک نوکری دلوا دی، لیکن وہاں کا ماحول عرفان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔
عرفان نے پہلی نوکری جلد ہی چھوڑ دی، اور دوسری نوکری بھی زیادہ دیر نہ چلی۔ پچھلے دو ماہ میں دو نوکریاں چھوڑنے پر صابر کی ناراضگی شدید ہو گئی۔

“یہاں تمہیں کوئی عزت نہیں دے گا جب تک تمہاری جیب میں پیسہ نہیں ہوگا!” صابر نے غصے سے کہا۔ “پاکستان میں تمہاری ماں، بہنیں، اور بیمار ماموں تم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اور یہاں تم نوکریاں چھوڑتے پھر رہے ہو۔”

صابر کی یہ باتیں عرفان کے دل کو چیر رہی تھیں۔ مجبوریاں انسان کو کہاں لے جاتی ہیں، یہ عرفان کو بخوبی معلوم تھا۔ صابر نے آخر کار اپنا فیصلہ سنا دیا، “میں آج شام کی فلائٹ سے تھائی لینڈ جا رہا ہوں، اور واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ تم واپس چلے جاؤ، تمہارا ویزا بھی ختم ہونے والا ہے اور نہ تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں کہ دوبارہ ویزا لگوا سکو۔”

عرفان پہ جیسے آسمان گر گیا ہو۔ جیب میں پیسے نہ تھے، نہ کوئی اور سہارا۔

سامان باندھتے ہوئے اُسے اچانک ایک خیال آیا: وہ اور صابر جس سٹور سے سامان خریدتے تھے، وہاں کے مالک جون سے ان کی اچھی دعا سلام تھی۔ شاید وہ کچھ مدد کر سکے۔

جون نے عرفان کو ملازمت پر رکھ لیا، اور رہنے کی جگہ بھی دی۔ لیکن جلد ہی عرفان کو معلوم ہو گیا کہ جون نے اُسے زیادہ کام اور کم پیسے دینے کے لیے رکھا ہے۔ جون کی غیر قانونی سرگرمیاں بھی دن بدن بڑھتی جا رہی تھیں، جس سے عرفان کو مستقل خوف لاحق رہتا۔

جون کے ساتھ رہتے ہوئے عرفان کو پیٹر، جون کے مالک مکان، کی سخت گیری کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پیٹر کی شکایات اور جون کے ساتھ جھگڑے عرفان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے تھے۔ ایک دن پیٹر نے واقعی پولیس کو بلوا کر جون کو گرفتار کروا دیا، اور عرفان کو بھی اس گھر سے نکلنا پڑا۔
اب عرفان بے یار و مددگار تھا، اور اُس کا ویزا بھی ختم ہو چکا تھا۔ پیٹر نے اُسے دھمکی دی کہ اگر وہ باقی کرایہ ادا نہ کرے تو اُسے بھی پولیس کے حوالے کر دے گا۔
عرفان نے جیب میں موجود جو بھی رقم تھی، لفافے میں ڈال کر پیٹر کے میل باکس میں رکھ دی اور رات کے اندھیرے میں خاموشی سے نکل گیا۔
وہ ایک اسٹیشن کے بینچ پر لیٹ گیا، نہ جانے کب تک وہاں رہنا ہوگا۔ اچانک ایک آواز نے اُسے چونکا دیا۔ ایک بے گھر آدمی، جو اُس بینچ کے قریب ہی لیٹا تھا، عرفان کے پاس آیا اور ایک کپ چائے کی آفر کی۔
“یہ تمہارے لیے، دوست،” اُس آدمی نے کہا۔
عرفان نے حیرت سے اُس آدمی کی طرف دیکھا۔ “تم میرے لیے چائے کیوں لے کر آئے؟”
“کیونکہ میں نے تمہیں یہاں رات کو بھٹکتے دیکھا اور جانتا ہوں کہ تم بھی اُسی درد سے گزر رہے ہو جس سے میں کبھی گزرا تھا۔ یہاں نیویارک میں، ہم سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
یہ بات عرفان کے دل میں اُتر گئی۔ اُس نے چائے قبول کی اور پہلی بار اپنے حالات پر مسکرایا۔
اگلی صبح جب عرفان نیویارک کی سڑکوں پر ایک نئی امید کے ساتھ نکلا، تو اُس نے ایک اخبار کے ٹکڑے پر ایک جملہ پڑھا: “انسان کو زندگی میں کچھ نہیں ہرا سکتا، اگر کچھ ہرا سکتا ہے تو اندر کا ڈر ہے۔”
یہ جملہ عرفان کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز بن گیا۔ اُس دن کے بعد اُس نے چھوٹے موٹے کام کر کے اور ایمانداری سے پیسے جمع کرنے شروع کر دیے، حالانکہ وہ غیر قانونی طور پر نیویارک میں رہ رہا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ، عرفان نے چھوٹی سی بچت سے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ وہ ایک چھوٹے اسٹور کے مالک کے لیے کام کرتا، لیکن وہیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے لگا۔ اس نے دن رات محنت کی اور اپنی ایمانداری سے لوگوں کا دل جیتا۔
ایک دن، جب عرفان اپنے اسٹور پر کام کر رہا تھا، پولیس ایک بار پھر اُسے ڈھونڈتے ہوئے آئی۔ عرفان کا دل دھڑکنے لگا، لیکن اس بار بات کچھ اور تھی۔
“آپ عرفان شیر ہیں؟” ایک پولیس افسر نے پوچھا۔
“جی،” عرفان نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا۔
“پیٹر جیک کا انتقال ہو چکا ہے، اور انہوں نے اپنی آدھی سے زیادہ جائیداد اور نقد رقم آپ کے نام کر دی ہے۔ وہ آپ کی ایمانداری اور محنت کے قائل تھے۔ اُنہوں نے آپ کے نئے ویزے کے لیے بھی اپلائی کیا تھا، اور اب آپ اس قانونی کارروائی کے بعد یہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔”
عرفان کے دل میں خوشی اور حیرانی کے ملے جلے جذبات تھے۔ آنکھوں میں آنسو آگئے کہ اُس کی محنت اور ایمانداری کا صلہ اُسے اس طرح ملے گا، یہ اُس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
آج، بیس سال بعد، عرفان نیویارک میں ایک مشہور اخبار کا مالک ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اشتہارات کی کمپنی بھی چلا رہا ہے۔ اُس کی محنت اور ایمانداری نے اُسے وہ مقام دلایا جس کا وہ حقدار تھا۔

سورج کی اُبھرتی کرنوں کے ساتھ عرفان کا دل ڈوب رہا تھا۔ کل رات صابر کا بدلہ ہوا رویہ اب تک اُسے پریشان کر رہا تھا،کیونکہ عرفان کا نیویارک میں خدا کے بعد اُسکا آخری سہارا صابر ہی تھا۔اور وہی اُسے پاکستان سے نیویارک لے کر آیا تھا۔
پاکستان سے آئے اُسے تقریباً دو ماہ ہونے کو تھے , لیکن وہ یہاں کے ماحول میں اب تک ڈھل نہیں پایا تھا اور شاید دو ماہ بہت کم عرصہ ہوتا ہے کہیں بھی نئی جگہ کو اپنانے کے لئے۔
نیویار ک آتے ہی صابر نے اُسے ایک بار کے مالک سے بہت منت سماجت کے بعد نارمل سی نوکری دلوا تو دی لیکن وہ وہاں کے ماحول میں پوری دل جوئی سے کام نہ کر پایا۔ وہاں کام کرتےوقت بہت سی چیزیں آڑے آتی تھی۔اس لئے جلد ہی اس نے وہ نوکری چھوڑ دی۔
صابر نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا لیکن عرفان کے حالات پہ رحم کھاتےہوئے ایک ہوٹل میں دوسری نوکری دلوائی لیکن صابر نے ہوٹل کے مالک کے برتاو سے تنگ آکر وہ نوکری بھی چھوڑ دی۔
پچھلے دو ماہ میں عرفان دوسری نوکری چھوڑ چکا تھا۔اسلئے کل رات صابر انتہائی برہم تھا اور عرفان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔
تم نے کیا سمجھ لیا ہے یہاں تم کوئی شہزادے ہو جو ہر کوئی عزت اور ادب سے پیش آئے گا اور ذرا ذرا سے باتوں پہ تم نوکریاں چھوڑتے پھرو گے۔یہ نیویارک ہے یہاں دو پیسے کمانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔
عرفان میں محنت سے نہں تنگ ہوتا میں حلال ہی کھانا چاہتا ہوں لیکن وہ مالک مجھے ذلیل کرتا تھا۔
ہنہ! ذلیل کرتا تھا, تیری پہلے بڑی عزت ہے۔۔
دیکھ بھاٸی عزت اُسے کی ہے جسکی جیب میں پیسہ ہے اور اپنے حالات تو جانتا ہے۔پاکستان میں تیری ماں بہنیں اور ایک عدد بیمار ماموں جسکے در پہ تم لوگ اپنے باپ کے مرنے کے بعد سے پڑے ہوئے ہو،وہ اب تجھ سے اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔
یہ ساری باتیں جیسے عرفان کے دل کو چیر رہی تھی۔لیکن وہ مجبور تھا مجبوری انسان کو ایسے ہی دوسروں کی بے رحمی کے آگے پھینک دیتی ہے۔
اور ایک بات کان کھول کے سن لے! اب تو جانے تیرے کام, مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا۔۔میں تجھے یہاں لا کے بھی پچھتا رہا ہوں۔
”تم پاکستانیوں کو نکمے بیٹھ کر کھانے کی عادت ہے۔اسلئے تم لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا“
میری مانو تو واپس چلے جاو۔۔
عرفان جانے کیا کیا بول رہا تھا صابر جیسے سُن ہو گیا ہو اور اُسے یہ ساری آوازیں کہیں دور سے آ رہی تھی۔ڈوبتے دل کو لئے بستر پہ جا گرا,اور صابر اب تک کچھ کہہ رہا تھا، جانے کیا۔۔معلوم نہیں۔۔
پچھلی رات کو صابر کی کہی ہوئی باتوں کے بہت سے مطلب نکل رہے تھے۔
کیا اب مجھے وہ اب اپنے ساتھ نہیں رکھے گا؟
کیا مجھے واپس چلے جانا چاہیے؟
ابھی عرفان انہی سب وسوسوں کو جانچ رہا تھا کے صابر نے آ کر سب اپنا فیصلہ سنایا اور چلتا بنا۔۔
میں آج شام کی فلائیٹ سے تھائی لینڈ جا رہا ہوں, اور واپسی شاید نہ ہو،میرا ارادہ یہی تھا کے تمھیں یہاں نوکری دلوا کر خود تھائی لینڈ چلا جاوں گا لیکن تم اس موڈ میں نہیں لگتے یا تمھاری قسمت خراب ہے۔سو اب بہتر ہے تم واپس چلے جاو جلد تمھارے ویزے کے مدت بھی ختم ہو جاو گی اور نہ تمھارے پاس اتنے پیسے ہیں کے دوبارہ ویزا لگوا سکو۔اور یہ گھر بھی خالی کرنا ہوگا تمھیں۔تمھارے گھر والے الگ آسرا لگائے بیٹھے ہیں تم سے نہ خود کو دھوکا دو نہ گھر والوں کو۔
خدا حافظ!
عرفان کی کوئی بات سنے بغیر وہ چل دیا۔۔
عرفان پہ جسے آسمان گر گیا ہو،نہ کوئی جاننے والا نہ جیب میں پیسہ کہاں جائےگا اور واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ یہاں محنت کر کے پیسہ کمانے آیا تھا۔
عرفان کو سامان باندھتے ہوئے اچانک خیال آیا کے وہ اور صابر جس سٹور سے سامان خریدتے تھے وہاں کے مالک سے انکی اچھی دعا سلام تھی شاید وہ کچھ مدد کر سکے۔
سارے معاملات جانے کے بعد سٹور کے مالک نے عرفان کو ملازمت پہ رکھ لیا۔ اور اپنے ساتھ رہنے کی جگہ بھی دی۔
سٹور کا مالک(جون) ایک سپینش تھا۔دونوں ایک کمرے میں رہتے جسکا مالک پیٹر جیک تھا جو کے ایک بوڑھا, انتہائی سڑیل اور غصیلہ آدمی تھا۔ذرا ذرا سی بات پہ چڑچڑا پن لیکن پیڑ کی ایک بات جو بہت اچھی تھی کے وہ انتہائی امانتدارآدمی تھا۔اس لئےاسکی جون سے نہ بنتی کیونکہ پیٹر کے مطابق جون بدنیت اور مطلب پرست ہے جسکا اندازہ جلد ہے عرفان کو ہو گیا ۔ جب اُسے معلوم ہوا کے جون نے صرف اسلئے اسے اپنے ساتھ رکھا ہے کے وہ اس سے زیادہ کام لے کر کم پیسے دے کیونکہ وہ اسی مجبوری جان چکا تھا۔۔اور کمرے کا کرایہ بھی آدھا آدھا ہو جائے گا۔
آہستہ آہستہ کر کے جون کے راض کھلنے لگے اور عرفان کو سمجھ آنے لگی کے پیٹر کی اس سے کیوں نہیں بنتی۔رقم ہونے کے باوجود وقت پہ کرایہ نہ دینا۔۔اور ساری رقم نشے پہ اُڑانا وغیرہ۔
پیٹر عرفان پہ بھی تھوڑا کم لیکن غصہ ہوتا اُسکے مطابق عرفان بھی جون جیسا ہے۔کیوں کے کرایہ وقت پہ ادا نہ کرتے تھے
دو ماہ کا کرایا نہ دینے کی وجہ سے آج بھی پیٹر بہت برہم تھا اور جون ان سے بدتمیزی کر رہا تھا۔
تم کرایہ تو نہیں دیتے لیکن میں کسی غیر قانونی کام کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں کا۔پیٹر مسلسل چیخ رہا تھا۔۔جسکی وجہ یہ تھی کے جون کل رات کو کچھ غیر قانونی اسلحہ لے کر آیا تھا۔
وقت گزرتا گیا عرفان نے بہت جگہ نوکری تلاش کی لیکن کوئی کام نہیں بن پایا۔عرفان محنت کر کے آگے نکلنا چاہتا تھا اور بدقسمتی ہے وہ جہاں جاتا اُسے دونمبر کام کی آفر ہوتی۔اور ہمیشہ غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جاتا۔
جون کے ساتھ سٹور پہ کال تو کر رہا تھا لیکن اس سے بھی نا خوش تھا۔اجرت بھی کم ملتی جس میں سے اُسے سمجھ نہ آتی کے کیا اپنے خرچ کے لئے رکھے اور کیا گھر والوں کو بھیجے۔جون نے اب اپنی غیر قانونی سرگرمیاں بھی بڑھا دی۔اور اکثر پیٹر اُسے پولیس بلوا کر جیل بھیجنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔
ایک شام پیٹر نے پولیس کو بلوا کر جون کو ثبوت کے ساتھ پولیس کے حوالے کروایا۔
اب عرفان کو بھی یہ گھر چھوڑنا تھا۔پیٹر اب اسے نہیں رکھ سکتا تھا۔عرفان کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی تھی اب وہ غیر قانونی طور پی نیویارک میں رہ رہا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ اب وہ کرائے کی رقم بھی ادا نہیں کر سکتاتھا۔
پیڑکو جب اسکے ویزا ختم ہونے کی خبر ہوئی تو اس نے عرفان کو دھمکی دی کے وہ اسکا بقیہ کرایا اداکرے اور واپس اپنے ملک چلتا بنے ورنہ اسے بھی پولیس کے حوالےکروا دے گا۔۔
اگلی صبح عرفان جیب میں موجود جو بھی رقم تھی لفافے میں ڈال کر اور ساتھ یہ پیغام کے جب میرے پاس اور رقم آئی تو بقیہ پیسے بھی آپکو دے جاوں گا۔ اور لفافہ پیٹر کے میل باکس میں ڈال کے چپکے سے چلا گی
ایک دفع پھر عرفان وہیں کھڑا تھا جہاں ایک سال پہلے صابر اسے چھوڑ کر گیا تھا۔
عرفان ایک اسٹیشن کے بینچ پہ لیٹ گیا۔اور یہ رات کے بارہ بج رہے تھے۔یہ بھی نہیں جانتا تھا کے کل صبح کہاں جائے گا اور کیا کر گا۔
بینچ پہ ایک اخبار کا ٹکڑا پڑا تھا جسے اُٹھا کر عرفان پڑھنے لگا۔ پہلی لائن نے ہی عرفان کے زندگی بدل دی۔۔
”انسان کو زندگی میں کچھ نہیں ہرا سکتا،اگر کچھ ہرا سکتا ہے تو اندر کا ڈر ہے“
عرفان نے اُس دن کے بعد پیچھے مُڑ کے نہیں دیکھا۔دن رات چھوٹے موٹے ہی سہی لیکن ایمانتداری اور محنت سے کام کر کر کے پائی پائی رقم جمع کرنے لگا۔ایک چیز اسے دل میں شرمندہ کرتی تھی کے وہ غیر قانونی طور پہ یہاں رہ رہا ہے۔اسی بات کا دھڑکا لگا رہتا کے پیٹر کہیں پولیس کو نہ بتا دے۔

اب عرفان کے حالات پہلے سے کچھ بہتر ہو رہ تھے لیکن وہ اب بھی رات اسی سٹشن کسی کونے میں گزارتا۔ویزا کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے وہ کہیں کسی جگہ رہ نہیں سکتا تھا۔
ایک دن پولیس اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسٹیشن پہنچ گئی اور بس عرفان کو لگا وہ پھر منہ کے بل گر گیا ہے۔
آپ عرفان شیر ہیں؟
جی!
آپ پیٹر جیک کو جانتے ہیں؟
جی! (عرفان نے جھجکتے ہوئے لہجے میں کہا)
پیٹر جیک کا انتقال ہو چکا ہے اور اپنی آدھی سے زیادہ جائیداد اور نقد رقم آپ کے نام کر گئے ہیں۔
انکی وصیت میں لکھا گیا ہے کہ آپ انتہائی امانتدار ہیں اور وہ آپکے نئے ویزا کے لئےاپلائی کر چکے ہیں۔
اب جو آپ جا کر قانونی کروائی مکمل کر نے کے بعد وصول کر سکیں گے۔
آپ کی امانتداری نے آپکو بچا لیا۔
انکا یہ بھی کہنا تھا آپ محنتی انسان ہیں۔
عرفان کو پولیس والوں کی بات جیسے کچھ کچھ سمجھ آرہی ہو۔
لیکن آنکھوں میں آنسو بھی تھے کے اسکی محنت اور ایمانتداری کا صلحہ شاید ایسے ہی ملنا تھا۔
آج بیس سال بعد عرفان نیویارک میں ایک مشہور اخبار کا مالک ہے۔اور اسکے علاوہ ایک اشتہارات کی کمپنی بھی چلا رہا ہے۔
مسلسل محنت ہی انسان کو ترقی کی منزلیں عبور کرنے میں مدد کرتی ہے۔