سب رس
“سب رس” ملا وجہی کا ایک معروف شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں ان کی زندگی، محبت، درد، اور تجربات کی گہرائیوں کو شاعری کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ ملا وجہی ایک اہم فارسی اور اردو کے شاعر تھے جنہوں نے اپنے اشعار میں روحانیت، عشق اور فلسفہ کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا۔
“سب رس” میں وہ اپنے گہرے خیالات کو نہ صرف عشقِ الٰہی بلکہ دنیاوی محبت، انسانی تعلقات اور ذات کی کشمکش کی شکل میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں تصوف اور فلسفیانہ گہرائی ہوتی ہے جو قارئین کو تفکر کی دعوت دیتی ہے۔
اسے پہلی بار مولوی عبد الحق نے 1932 میں انجمن ترقی اردو کی طرف سے شائع کیا اور ساتھ میں مقدمہ بھی تحریر کیا۔ عبد الحق نے مقدمے میں یہ دعوی بھی کیا کہ یہ اردو افسانے کی قدیم ترین کتاب ہے۔ مولوی عبد الحق نے محمد حسین آزاد کے دعوے کو بھی رد کیا جس کے مطابق وہ فضلی کی کربل کتھا کو اردو نثر کی پہلی کتاب گردانتے ہیںمولوی عبد الحق نے دستور عشاق اور فتاحی کی حسن و دل کے بہت سے واقعات بیان کیے اور بار بار دہرایا ہے کہ ملا وجہی کی نظر سے مثنوی دستور عشاق نہیں گذری لیکن وہ فتاحی کی حسن و دل اور وجہی کی “سب رس” کا بالکل موازنہ نہیں کرتے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وجہی نے فتاحی کی حسن و دل سے اپنی کتاب تیار کی۔ سب رس بادشاہ عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی گئی کتاب ہے اور اس کا سبب تالیف مولانا نے خود یہ بتایا کہ کتاب کا قصہ حسن و دل کے نام سے فارسی زبان میں بہت مشہور ہے وہاں سے فارسی درسیات کے زیر اثر دکنی زبان میں منتقل ہوا۔ قصہ حسن و ددل کی ابتدا فارسی زبان میں محمد یحییٰ بن سیبک فتاحی نیشاپوری سے سمجھی جاتی ہے، اس سے پیشتر اس کا وجود نہیں ملتا ہے۔ فتاحی نے اس پر ایک مثنوی دستور عشاق لکھی اور مختصر کرکے حسن و دل کے نام سے نثر میں بھی تحریر کیا۔
سب رس کا ماخذ
سب رس سے پہلے جو نثری نمونے ملتے ہیں ان میں “معراج العاشقین” کا نام سرفہرست ہے لیکن اس کے عہد و تالیف کے بارے میں مصنفین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ یہ بھی طے نہیں کہ یہ محمد گیسو دراز بندہ نواز کی تصنیف ہے بھی کہ نہیں۔ سب رس کا ماخذ سنسکرت کا ڈراما “پربودھ چندر اودے” ہے اور مصنف کرشن مشر کو قرار دیا ہے۔
سب رس ایک تمثیل
سب رس کو عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ وجہی کہ اپنی طبع زادنہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ (نثر) کو نثر کے پیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتائوں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے
اسلوب
سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصر وں کی زبان و اسلوب سے علاحدہ ہو گئی۔
پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں:
” جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔“ اسلوب کی خصوصیات 1:قصہ کی دلچسپی 2:جذبات کی فراوانی 3َ:زبان کی دلکشی 4:اسلوب کی ندرت 5:مقفی و مسجع
کردار نگاری
کہانی میں کل 76 کردار ہیں جو غیر مجسم کیفیتِ انسانی ہیں جن کو مجسم کرکے پیش کیا گیاہے۔ یوں یہ کہانی انسانی زندگی کا روزمرہ تماشا ہے اور اسی تماشے کو وجہی نے تمثیل کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کسی دیومالا کا سہارا لیے بغیر اپنی کیفیات کو کردار بنا کر پیش کرنے میں یہ خامی ضرور ہے کہ کردار کو اسم بامسمٰی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے کردار اور سیرت سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور کسی مختلف عمل کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ وجہی نے اس قصے کو جاندار بنانے کی حتی الوسع کوشش کی ہے اور اس میں وہ کہیں کہیں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں کہیں اس نے اپنے کسی کردار کی کردار نگاری کی ہے یا کہیں مکالمہ نگاری کی ہے وہ اس کا اپنا کمال ہے اور اس کا تخلیقی عمل ہے۔ مثلاً حسن کاروپ اس طرح پیش کیا ہے:
”حسن ناز، اوتار، خوش گفتار، خوش رفتار، ویدیاں کا سنگار، دل کا آدھار، پھول ڈالی تے خوب لٹکتی، چلنے میں ہنس کوں ہٹ کئی،روایں تے میٹھی بولی بات، آواز تے قمری کو کر ے مات، کنول پھو ل کے پنکھڑیاں جیسے ہات، چمن میں پھول شرم حضور، لاج تے آسمان پر چڑھے۔۔۔“
”سب رس “ میں جابجا اس زمانے کی معاشرت او ر تہذیبی و تمدنی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس زمانے کے طرز و بود باش، خوراک، لباس، وضع قطع، ظروف، زیورات، حکومت و حکمت ،تجارت و معیشت غرض کہ ہر پہلو سے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے آثار کی تصویر نظر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک زندہ معاشرے کا ایک نکتہ دان ادیب ہے جس نے اپنے عہد کی معاشرتی زندگی کو بڑی گہری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے خدوخال کو بڑی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لایا ہے۔”سب رس“ اگرچہ ایک تمثیل ہے مگر اس کے مطالعے سے اس عہد کی معاشرتی زندگی، افکار اور رجحانات کی ایک مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات، موضوعات، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوؤں کی برائی کی ہے۔
وجہی پہلا انشائیہ نگار
بھارت میں ڈاکٹر جاوید شسٹ نے “ملاوجہی” کو اردو انشائیہ کا باوا آدم قرار دیا ہے اور اسے مونتین کا ہم پلہ ثبات کیا ہے۔ انھوں نے سب رس میں ایسے 21 حصوں کی نشان دہی کی ہے جن کی بنا پر انھوں نے یہ لکھا:
” میں ملا وجہی کو اردو انشائیہ کا موجد اور باوا آدم قرار دیتا ہوں اور اس کے ان اکسٹھ انشائیوں کو اردو کے پہلے انشائیے ۔۔۔ اردو کے یہ پہلے ایسے انشائیے ہیں جو عالمی انشائیہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔“
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ اردو نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو طے کیا ہے۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے۔ اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش ہے مگر بہترین کوشش ہے۔