یار میرا مرنے تک
افسانہ نصیر وارثی
آج صبح سے ہی سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی—- اس وقت آسمان کو کالے بادلوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا—- ہلکی پھلکی سی پھوار جاری تھی- —یہ پت جھڑ کا موسم تھا—– نومبر اپنے آخری ہفتے میں داخل ہو چکا تھا—– گھڑی دوپہر كے ڈیڑھ بجا رہی تھی—- اتنا دلکش موسم ہونے كے باوجود بھی سڑک پر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی—– ایسا محسوس ہوتا تھا گویا پورا شہر موسم سے محظوظ ہونے سڑکوں پر امڈ آیا ہو- —–چونکہ یہ اسکول كے بچوں کی چھٹی کا وقت بھی تھا اِس لیے ہجوم میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا—— اپنے بچوں كے انتظار میں کھڑے والدین آدھی سے زیادہ سڑک پر قابص تھے—— یوں ہی گاڑیوں كے ہجوم میں گھرا وہ ایک اسکول كے نزدیک آ کر بری طرح ٹریفک جام میں پھنس گیا تھا—– ایسی صورت حال میں آس پاس كے ماحول پر نظر رکھنے کی بجائے اِس كے پاس کوئی اور چارا نہ تھا—– اِس نے دیکھا كہ اسکول کا دروازہ کھلا اور بچے یکے بعد دیگرے قطار در قطار باہر آنے لگے—– حسین موسم بچوں كے مزاج میں بھی عجیب سی شوخی لے آیا تھا—– کئی بچے قطار توڑ کر آگے جانے کی کوشش کر رہے تھے—- اِس سے پہلے كہ ان کی شرارتوں كے نتیجے میں کسی بچے کو کوئی چوٹ لگ جاتی، استانیوں نے محاذ سنبھال لیا اور آگے بڑھ کر بچوں کی قطار درست کروانے لگیں- ان ہی استانیوں میں موجود ایک استانی وہ بھی تھی- ہاں یہ وہی تھی “صنم”! یہ اس کی صنم تھی- وہی صنم جسے کبھی وہ اپنا مانا کرتا تھا- وہی جس کی محبت كے سحر نے اسے کبھی کسی اور کا ہونے نہیں دیا تھا- سات سال گزر گئے تھے مگر اس کی خوبصورتی میں آج بھی اسے کوئی تبدیلی محسوس نہ ہوئی تھی- اس كے لیے تو گویا وقت تھم سا گیا تھا- بدلا تھا تو صرف اس کی چھتری کا رنگ، جو پہلے گلابی ہوا کرتا تھا اور آج سفید- اس نے دیکھا كے وہ ہاتھ میں چھتری تھامے بچوں کی قطار درست کروانے اسکول كے مرکزی دروازے پر کھڑی تھی- اتنے میں ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا جس سے اس کے لمبے سیاہ بالوں کی ایک لٹ اس كے بائیں گال پر اڑ کر اس كے چہرے کو یوں چھپانے لگی جیسے اس لمحے آسمان پر موجود بادلوں نے سورج کو چھپا رکھا تھا- یہ منظر دیکھ کر اس كے چہرے پر مسکان دوڑ گئی مگر اِس سے پہلے كہ وہ ان لمحوں کو اپنی آنکھوں میں قید کر پاتا، اسے صنم سے اپنی آخری ملاقات یاد آ گئی-
وہ جامعہ کی الوداعی تقریب تھی- نفیس سفید لباس میں ملبوس وہ جنت کی کوئی حور لگ رہی تھی- ہونٹوں پر سجائی ہوئی وہ لال سرخی غضب ڈھا رہی تھی- اس پر دائیں ہونٹ كے اوپر موجود وہ کالا تل حسن كے کسی پہرے دار کی طرح اس کی زینت میں مزید اضافہ کر رہا تھا- اس کی لمبی سیاہ زلفیں اڑ اڑ کر جب اس كے چہرے سے ٹکراتیں تو وہ سانس لینا بھول جاتا-
یوں ہی کونے میں کھڑے کھڑے میڈم کو تاکتے رہو گے یا جا کر اپنے جذبات کا اظہار بھی کرو گے؟ یاسر نے اسے یوں بت بنا کھڑا دیکھا تو کہے بنا نہ رہ سکا-
سوچا تو میں نے بھی یہی ہے كے آج اسے کہہ ہی دوں- اگر اس نے ہاں کہہ دی تو میں کل ہی اس كے گھر رشتہ بھجوا دوں گا- یاسر كے ٹوکنے پر وہ فوراً اپنی کیفیت سے باہر آیا اور اسے اپنی حکمت عملی بتانے لگا-
ارے واہ یار! تو نے تو سب کچھ سوچ رکھا ہے- یاسر نے اس كے کاندھے پر ہاتھ مار کر کہا تو وہ منہ نیچے کر كے شرمانے لگا-
اب لڑکیوں کی طرح شرما کیا رہا ہے- جا اور اپنے دل کی بات جا کر کہہ دے اسے- یہ آج آخری موقع ہے تیرے پاس- یاسر نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا-
پکا ناں؟ اس نے ایک آخری تائید چاہی-
ارے کیا کچا پکا، جا اور کہہ دے- ابھی ویسے بھی وہ اکیلی کھڑی ہے- اِس سے پہلے كہ اس كے پاس اور لوگ آ کر اس کی تعریفیں کرنے لگیں، جا اور کہہ دے اپنے دِل کی بات- یاسر نے اسے صنم کی سمت میں دھکا دیتے ہوا کہا-
اس نے اپنے کوٹ کا کالر درست کیا اور دل میں خدا کا نام لیے صنم كے پاس جا پہنچا-
اسلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟ اس نے بمشکل پوچھا-
وعلیکم اسلام! میں بالکل ٹھیک! آپ سنائیں کیسے ہیں؟ کافی دبلے ہو گئے ہیں، لگتا ہے ہمیشہ کی طرح آپ نے امتحانات کا کافی تناؤ لے لیا ہے- صنم اس کی فربہ جسامت کو دیکھتے ہوئے قدرے طنزیہ لہجے میں بولی-
جی ہاں! اس بار تھوڑا تناؤ تو ہے امتحانات کا- وہ صنم کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا-
ارے! آپ کو کیسا تناؤ؟ آپ کا جی پی اے تو ہمیشہ ساڑھے تِین سے اوپر ہی رہتا ہے- تناؤ تو ہم جیسے نالائق لوگوں کو ہوتا ہے جن کا جی پی اے کبھی ڈھائی سے اوپر نہیں جاتا- صنم حیرانی سے کہنے لگی-
آپ بھی ناں! بہت مذاق کرتی ہیں- وہ ایک مرتبہ پھر سے شرماتے ہوئے بولا تو صنم رخ موڑ کر آگے بڑھنے لگی-
میں آپ سے کچھ کہنے آیا تھا- اس نے صنم کو جاتے ہوئے دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکا-
اوہو! جاتے ہوئے کو روکتے نہیں ہیں، بد شگونی ہوتی ہے- صنم نے خفگی سے کہا-
بس اپنا ایک منٹ دے دیجیئے- وہ التجا آمیز لہجے میں بولا-
ٹھیک ہے، بكو! صنم کے لہجے میں روکھا پن عیاں تھا-
ول یو میری می؟ اس نے گھبراہٹ کے مارے ایک دم بول دیا-
کیا؟ صنم کو اس کی بات سن کر شدید جھٹکا لگا-
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ اس نے نتائج کی پروا کیے بغیر ایک بار پھر بول دیا-
انگریزی سمجھ آتی ہے مجھے! گنوار نہیں ہوں میں! صنم نے غضب ناک لہجے میں کہا-
معاف کیجیے گا- میرا وہ مطلب نہیں تھا- اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا-
دماغ تو ٹھیک ہے ناں تمہارا؟ کہاں تم اور کہاں میں؟ صنم نے اس کی معذرت کو نظر انداز کرتی ہوئے اونچی آواز میں کہا تو سب لوگ ان کی طرف ہی متوجہ ہو گئے- وہ خاموش کھڑا سب دیکھنے لگا-
لیڈیز اینڈ جینٹل مین! یہ دیکھیے مسٹر ساجد عباسی کو- ان کو لگتا ہے کہ میں ان سے شادی کروں گی- “میں! یعنی كہ صنم سبحان”- صنم نے ارد گرد كے لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے با آواز بلند کہا-
صنم! یہ بات آرام سے بھی ہو سکتی ہے- اتنا تماشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- یاسر نے صورت حال کو سمجھتے ہوئے صنم کو چپ کروانا چاہا-
او بھائی! کون ہو تم مجھے حکم دینے والے؟ منسٹر كے بیٹے ہو تو اپنے گھر میں ہوں گے- یہاں اپنا رعب اور دبدبہ جتانے کی کوشش نہ کرو- میری جوتی کو بھی پروا نہیں ہے تمہارے حکم کی! صنم کو یاسر کی مداخلت ایک آنکھ نہ بھائی-
میں حکم نہیں دے رہا بس تم سے التجا کر رہا ہوں- برائے مہربانی یوں اپنا اور ساجد کا تماشہ مت بناؤ- یاسر نے سماجت بھرے انداز میں کہا-
تمہارے دوست کی ہمت کیسے ہوئی مجھے شادی کی پیشکشں کرنے کی؟ ہے کیا یہ؟ اس نے کبھی اپنی شکل دیکھی ہے- شکل چھوڑو وزن دیکھا ہے اِس نے اپنا؟ خود ہاتھی کی طرح دکھتا ہے اور اس کو حور جیسی لڑکی چاہیئے- واہ بھئی واہ! صنم با آواز بلند بولی-
بھائی! تو چل یہاں سے! یاسر ساجد کا بازو پکڑ کر اسے دروازے کی جانب لے جاتے ہوئے بولا-
نہیں! رکو یاسر! ساجد یاسر کا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولا-
مس صنم سبحان! آپ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتیں، ٹھیک ہے- میں آپ كے فیصلے اور پسند کی عزت کرتا ہوں اور آئندہ آپ کبھی مجھے آپ سے محبت کا تقاضہ کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھیں گی- لیکن ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا كہ اپنے حسن پر اتنا تکبر کرنا درست نہیں ہے- یہ حسن تو آنی جانی چیز ہے- آج ہے تو کل نہیں- اور ہاں! جہاں تک بات میرے موٹا یا پتلا ہونے کی ہے تو آپ کا خیر خواه ہونے كے ناطے میں آپ سے محض یہی گزارش کروں گا كہ زندگی میں کبھی بھی کسی کا حسن یا پیسہ دیکھ کر اسے اپنا ساتھی بنانے کا فیصلہ مت کرنا- کیونکہ اگر انسان کا باطن اس كے ظاہر کی طرح خوبصورت اور مالدار نہ ہو تو زندگی گزارنا عذاب بن جاتی ہے اور یقین مانیے! میں کبھی نہیں چاہوں گا كہ آپ کی زندگی میں تھوڑی سی بھی مصیبت آئے- اتنا کہنا تھا كہ وہ ارد گرد موجود لوگوں کی پروا کیے بنا ہی وہاں سے روانہ ہو گیا-
ہمت تو دیکھو اِس چومو کی، اب لنگور کو بھی حور چاہیے- راہ داری سے گزرتے ہوئے صنم کی تمسخرانہ آواز ساجد كے کانوں میں پڑی تو اس کی بائیں آنکھ میں رکا ایک پتلا سا آنسو آخر کار چھلک ہی پڑا- تاہم اس نے پیچھے مڑنے کی زحمت بھی نہ کی-
بھائی صاحب گاڑی نکالیں! آپ کی وجہ سے پیچھے ساری ٹریفک رکی پڑی ہے- وہ ماضی کی یادوں میں گم ہی تھا كہ ایک ٹریفک وارڈن نے اس کی گاڑی پر دستک دی اور اسے آگے بڑھ جانے کا حکم دیا-
معاف کیجیے گا- میں ابھی گاڑی آگے کرتا ہوں- اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو ٹریفک وارڈن نے بھی مزید جرح کرنا مناسب نہ سمجھا اور اسے آگے بڑھ جانے کا اشارہ کیا-
گاڑی چلاتے ہوئے بھی اس کو بار بار صنم ہی کا خیال ستا رہا تھا- اس کو یاد آیا كہ کیسے صنم اپنے مستقبل كے حوالے سے بڑے بڑے خواب دیکھا کرتی تھی- وہ تو ہمیشہ سے ہی ایک خود مختار کاروباری خاتون بننا چاہتی تھی- تو پھر آج وہ ایک معمولی سے اسکول میں ملازمت کیونکر کر رہی تھی؟
گھر پہنچتے ہی وہ بنا کسی سے کچھ بات کیے سیدھا اپنے کمرے میں پہنچ گیا- نجانے کس سوچ كے تحت اس نے الماری سے اپنی پرانی ڈائری نکالی اور اس میں درج تحریر پڑھنے لگا-
8 مارچ 2010:
آج چوتھے سمسٹر کا رزلٹ آ گیا- اللہ كے فضل و کرم سے میں نے ایک بار پھر پورے ڈیپارٹمنٹ میں ٹاپ کیا ہے- یوں تو مجھے خوش ہونا چاہیے مگر نجانے کیوں میرے دِل میں ایک عجیب سی خاموشی ہے- شاید اِس کی وجہ صنم کا میرے ساتھ اکھڑا اکھڑا سا رویہ ہے- پتہ نہیں اسے ایسا کیوں لگتا ہے كہ اساتذہ کرام مجھے بہتر گریڈ دے کر دوسرے طلباء و طالبات كے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں- پتہ نہیں اس كے دل میں یہ بات کہاں سے آئی كہ میں ایک خوش آمدی طالب علم ہوں جس کی وجہ سے تمام اساتذہ کرام مجھے دوسرے طالب علموں پر فوقیت دیتے ہیں- خیر! صنم سے کیسی شکایت؟ میری صنم تو بہت بھولی اور دِل کی صاف ہے- کم جی پی اے آنے كے باوجود بھی آج اس نے پوری کلاس کو اپنی طرف سے پارٹی دی- سبز لباس میں آج وہ بہت حسین لگ رہی تھی- اس کی اجلی اجلی سی رنگت اس كے سراپے کو مزید نکھار رہی تھی- وہ مجھ سے ناراض تھی لیکن اِس ناراضگی میں بھی اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا- پگلی کہنے لگی كہ میرا جی پی اے زیادہ نہیں آیا تو کیا ہوا، میں نے کون سا نوکری کرنی ہے- میں تو اپنا ذاتی کاروبار شروع کروں گی اور دنیا کو دکھا دوں گی كہ جی پی اے وغیرہ میری قابلیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا- آج دن کے اختتام پر میری خدا سے یہی دعا ہے كہ وہ جو چاہے، بس اسے مل جائے- میں اس كے چہرے پر کبھی پریشانی نہیں دیکھ سکتا!
یونیورسٹی كے دنوں کی روداد پڑھ کر وہ ایک بار پِھر یونیورسٹی كے زمانے میں ہی پہنچ گیا تھا- اس کا ارتکاز تو موبائل کی گھنٹی سے ٹوٹا- اس نے جیب سے فون نکالا تو دیکھا كہ یاسر کی کال تھی-
یار! کہاں مصروف ہے؟ میں کب سے یہاں کیفے میں بیٹھا تیرا انتظار کر رہا ہوں- تو پہنچا کیوں نہیں ابھی تک؟ اس كے فون اٹھاتے ہی دوسری جانب موجود یاسر نے بلا طعطل بولنا شروع کر دیا-
بھائی! معذرت چاہتا ہوں- میں تجھ سے ملنے ہی آ رہا تھا لیکن راستے میں اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی تو مجھے گھر واپس آنا پڑا- اس نے طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر بات کو ختم کرنا چاہا-
اچھا! اب تیری طبیعت کیسی ہے؟ یاسر قدرے تشویش سے بولا-
ہاں! اب ٹھیک ہے- تو یہ بتا كہ صنم کیسی ہے؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا-
یہ اچانک صنم کہاں سے بیچ میں آ گئی؟ یوں اچانک صنم کا ذکر سن کر یاسر حیران ہو گیا-
تو بتا تو سہی؟ وہ ٹھیک ہے ناں؟ میرا مطلب یہ ہے كہ وہ آج کل کہاں ہوتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ گیا-
اوہو بھائی جان! صبر کیجئے! اتنے سارے سوالات ایک ساتھ؟ سب خیریت تو ہے ناں؟ اس كے اتنے سارے سوالات سن کر یاسر کا ماتھا ٹھنکا-
تو بتائے گا یا میں رابطہ منقطع کر دوں؟ اِس بار وہ قدرے سختی سے بولا-
ارے بھائی! غصہ کیوں کرتا ہے؟ میں کسی طرح سے صنم کی معلومات نکلوانے کی کوشش کرتا ہوں- اگر کچھ پتہ چلا تو میں تجھے بتاتا ہوں- یاسر نے اسے منانے کی کوشش کی-
ٹھیک ہے- تیرے پاس تین دن کا وقت ہے- میں اس كے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتا ہوں- اس نے اپنی بات پر زور دے کر کہا تو یاسر انکار نہ کر سکا-
وہ تین دن ساجد پر بہت بھاری گزرے- اس كے لیے ایک ایک پل گزارنا مشکل ہو رہا تھا- اس کا دل گواہی دے رہا تھا كہ صنم کسی مشکل میں ہے- اگرچہ صنم نے اسے کبھی اپنا خیر خواه نہیں سمجھا تھا مگر اس نے کبھی بھی صنم کو اپنے دل اور دماغ سے جدا نہیں ہونے دیا تھا- پاس نہ ہو کر بھی وہ ہمیشہ اس كے ساتھ تھی- سات سال پہلے وہ پاکستان سے گریجویشن کرنے كے بعد فل برائیٹ اسکالرشپ پر پوسٹ گریجویشن کرنے امریکہ چلا گیا تھا- وہیں پر اس نے امتیازی حیثیت میں اپنی پوسٹ گریجویشن مکمل کی- وہ چاہتا تو وہیں پر رہ کر اپنا کاروبار جما سکتا تھا لیکن اس نے ایک وعدہ اپنی دھرتی ماں سے بھی کیا تھا كہ وہ مشکل وقت میں اپنے وطن كے کام آئے گا- وہ جانتا تھا کہ پاکستان میں اس جیسے ہونہار نوجوانوں کی ضرورت ہے- لہٰذا سات سال امریکہ میں گزارنے كے بعد بھی وہ پاکستان واپس آ گیا تھا- یہاں پر اس نے اپنا زاتی کاروبار شروع کیا تھا جو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا- صنم نے جس بے دردی كے ساتھ اس کی محبت کو رد کیا تھا، اس ساری صورت حال کو اس نے بہت زیادہ متانت اور بردباری سے قبول کیا تھا- مسترد ہو جانے کا دکھ اپنی جگہ قائم تھا مگر وقت كے ساتھ ساتھ ساجد نے اسی حقیقت كے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا- دیگر لڑکوں کی طرح اس نے صنم كے انکار کو اپنی مردانگی اور انا پر کاری ضرب تصور نہیں کیا تھا بلکہ اسے محبوب کی خوشی سمجھ کر اپنے ٹوٹے دل کا مستقل مرہم بنا لیا تھا- زندگی خوشی سے نہ سہی مگر سکون سے ضرور گزر رہی تھی- مگر اتنے سالوں بعد صنم کا چہرہ دیکھ کر اس كے پرانے زخم تازہ ہو گئے تھے- اگر وہ صنم کو اپنے خوابوں کی تعبیر پاتے ہوئے دیکھتا تو یقینا یہ بے چینی اسے تنگ نہ کرتی مگر وہ تو اپنے خوابوں کی تعبیر سے کوسوں دور تھی- صنم کا کسی معمولی اسکول میں یوں ملازمت کرنا ساجد كے دِل کو گہرے غم میں مبتلا کر گیا تھا جس کا مداوا وہ جلد اَز جلد کرنا چاہتا تھا-
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھا كہ اس كے گھر کی گھنٹی بجی- وہ دوڑتا ہوا دروازے کی جانب لپکا- سامنے یاسر کھڑا تھا- یاسر نے اسے گلے لگانا چاہا مگر وہ سلام دعا کیے بغیر ہی اس کا ہاتھ کھینچتا ہوا اپنے کمرے تک لے آیا اور بڑی راز داری سے بولا: “سب باتوں کو چھوڑ اور یہ بتا كہ صنم كے بارے میں تجھے کیا پتہ چلا ہے؟ ” اس کے لہجے میں جلدبازی تھی-
اوہو بھائی! سانس تو لینے دے- یاسر کو اس کی یہ جلدبازی ایک آنکھ نہ بھائی-
اچھا! لے لے سانس اور بتا- اس نے لمحے بھر کا توقف کیا اور ایک بار پھر اصرار کرنے لگا-
تو نہیں مانے گا- میں تجھے بتا ہی دیتا ہوں- یاسر اس کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے تھوڑی مایوسی سے بولا تو ساجد دم بخود ہو کر اسے سننے لگا-
تو میرے ذرائع كے مطابق ہماری گریجویشن مکمل ہونے كے تھوڑے عرصے بعد ہی صنم کی شادی ایک اٹھارویں گریڈ كے سرکاری افسر کاشف كے ساتھ ہو گئی تھی- لڑکا پڑھا لکھا بھی تھا اور اس کی شخصیت بھی کافی متاثر کن تھی- اگر مالی حیثیت کی بات کی جائے تو معاشی طور پر بھی وہ خاصا مستحکم تھا- بس یوں سمجھ لو كہ جتنی اس کی تنخواہ تھی، اس کا معیار زندگی اس سے لاکھ درجہ بہتر تھا- دونوں کی شادی ہو گئی- بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنا اور شاندار پارٹیوں میں جانا ان دونوں میاں بیوی کا معمول تھا- پھر ایک روز کسی پارٹی میں صنم كے شوہر کی کسی بہت طاقتور شخص سے توں تڑاں ہو گئی- اس شخص نے اپنی طاقت کا استعمال کیا اور انتقام کے طور پر صنم كے شوہر کاشف کی بدعنوانی ثابت کر دی- کاشف کے خلاف تادیبی کاروای کی گئی- نتیجتا اس کی نوکری، گھر بار، گاڑی سب کچھ ضبط کر لیا گیا- اب وہ جیل میں زندگی گزار رہا ہے- دوسری طرف صنم انتہائی پسماندہ علاقے میں کرائے كے ایک فلیٹ میں رہ رہی ہے- ایک اسکول میں ملازمت کر كے ہی اس کا گزر بسر ہو رہا ہے- یاسر نے ایک ہی سانس میں ساری داستان ساجد كے گوش گزار کر دی-
ہمیں صنم كے لیے کچھ کرنا چاہیئے! کئی دیر كے سکوت كے بعد ساجد بولا-
آخر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس کا شوہر ایک بدعنوان شخص ہے اور صنم ابھی تک اسی كے نکاح میں ہے- یاسر ذومعنی انداز میں بولا-
بھائی کیا بکواس کر رہا ہے تو؟ میں چاہتا بھی نہیں ہوں كہ اس کی شادی ٹوٹے- اللہ اس کا گھر آباد رکھے- ساجد كے دل سے صنم كے لیے صدق دِل سے دعا نکلی-
تو پھر؟ یاسر نے ناسمجھی کے عالم میں پوچھا-
ہمیں کچھ بھی کر كے اس كے شوہر کو رہا کروانا ہو گا- ساجد نے یاسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-
اور وہ کیسے ہو گا؟ یاسر نے سوالیہ انداز میں ساجد کی جانب دیکھا-
تیرے بابا تو وفاقی وزیر ہیں- ان کی سفارش پر سب کچھ ہو سکتا ہے- ساجد نے اپنے تئیں حل تجویز کیا-
اس كے شوہر كے رہا ہونے سے تجھے کیا فائدہ ہو گا؟ یاسر كے لہجے میں مخلصانہ تشویش تھی-
میں صرف صنم کی خوشی چاہتا ہوں- ساجد نے یاسر كے لہجے میں موجود تشویش کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا-
تو آخر کیوں ایک ایسی لڑکی کی مدد کرنا چاہتا ہے جس نے کبھی تیری تکریم نہیں کی؟ آج اتنے سال گزر گئے ہیں لیکن تیری سوچ اب بھی اسی کے گرد طواف کاٹ رہی ہے- بھول جا اسے میرے دوست! زندگی میں آگے بڑھ جا- صنم ایک خود غرض لڑکی ہے- وہ نہ پہلے تیری خلوص بھری محبت سمجھ سکی تھی اور نہ ہی اب سمجھے گی- یاسر ساجد کو سمجھاتے ہوئے بولا-
میرے دل میں یہ خواہش ہے ہی نہیں كہ وہ میرے خلوص کو سمجھے- میں جو کچھ بھی کر رہا ہوں اِس میں میری ہی خوشی ہے- ساجد كے لہجے میں دنیا بھر کی سچائی امڈ آئی-
اگر میں اس كے شوہر کو رہا کروا دوں تو کیا تو صنم کو بھول کر کسی اور سے شادی کر لے گا؟ یاسر نے شرط رکھنا چاہی-
یاسر میرے بھائی! میں محبت میں شرک کا قائل نہیں ہوں- محبت ایک ہی بار ہوتی ہے جو میں صنم سے کر چکا ہوں- اب کسی اور لڑکی سے شادی کر كے میں اس كے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا- ساجد دو ٹوک لہجے میں بولا-
فرض کرو اگر میں اس كے شوہر کو رہا کروا بھی دوں تو اس فراڈیے کو آخر کون نوکری دے گا؟ کاشف کا کریمینل ریکارڈ بن چکا ہے- ایسی بری شہرت كے ساتھ اس کو نوکری ملنا بہت مشکل ہے- یاسر نے اس سے سوال کیا-
میں دوں گا اسے نوکری- وہ میرا کاروبار سنبھالے گا- ساجد نے کچھ سوچتے ہوئے یاسر کو جواب دیا-
ٹھیک ہے! اب اگر تم نے اپنی زندگی صنم کی خوشیوں كے لیے وقف کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو میں تمہارے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنوں گا- لیکن میں ایک بات ضرور کہوں گا كہ یکطرفہ محبت کی اِس راہ میں اختتام پر تم تہی دامن رہ جاؤ گے- ایک مخلص دوست ہونے كے ناطے یاسر نے قدرے خفگی سے کہا-
اگر وہ خوش رہے گی تو میں تہی دامن رہ کر بھی پر سکون رہوں گا- ساجد نے مسکراتے ہوئے یاسر کو تسلی دی-
اگلے چند دنوں میں ویسا ہی ہوا جیسا ساجد نے چاہا تھا- یاسر نے اپنے والد کی طاقت کا استعمال کر كے صنم كے شوہر کاشف کو قید سے بری کروا لیا تھا- اِس سے پہلے كہ کاشف کو نوکری کی تلاش میں در در گھوم کر جوتیاں چٹخانی پڑتیں، نوکری خود چل کر کاشف کی دہلیز پر آ گئی تھی- ساجد نے بڑے غیر محسوس سے انداز میں کاشف کو دھیرے دھیرے ترقی دینا شروع کر دی تھی- کاشف خود اِس ساری صورت حال سے شدید حیران تھا کہ کیسے چند ہی مہینوں میں اس کی زندگی کی کایا پلٹ گئی تھی- اس کے نزدیک ساجد ایک فرشتہ بن کر اس کی زندگی میں آیا تھا- ایک سال كے اندر اندر کاشف کمپنی میں بہت اونچی پوزیشن پر پہنچ گیا تھا- آفس کی طرف سے اسے ایک گھر اور گاڑی تفویض کر دی گئی تھی- گھر كے بدلتے حالات كے پیش نظر کاشف نے صنم کو بھی اسکول کی نوکری کرنے سے روک دیا تھا- صنم كے اچھے دن واپس آ گئے تھے- اب اسے پیسے کمانے كے لیے کسی کی اونچی نیچی بات برداشت نہیں کرنی پڑتی تھی- نہ ہی پہلے کی طرح مہینے كے آخر میں اسے کھانے كے لالے پڑ جاتے تھے- اپنی من پسند چیز خریدنے سے پہلے اب اسے سو بار سوچنا نہیں پڑتا تھا- جن لوگوں نے اس كے برے وقت میں اس سے منہ پھیر لیا تھا اب وہ دوبارہ اسے اہمیت دینے لگے تھے- وہ سماج میں پھر سے اپنا ایک مقام بنا رہی تھی اور اِس کی وجہ صرف اور صرف ساجد تھا- صنم اِس بات سے بے خبر تھی كہ وہ جس باس کو تخیلاتی فرشتہ سمجھتی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا پرانا ہم جماعت ساجد ہی ہے- وہ اکثر کاشف سے فرمائش کرتی كہ وہ اس فرشتے سے ملنا چاہتی ہے جس نے ان کی جھولی کو یوں خوشیوں سے بھر دیا تھا- کاشف نے بھی کئی بار ساجد سے درخواست کی كہ وہ ان كے گھر کھانے پر تشریف لائے لیکن ساجد ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بات ٹال دیتا تھا-
وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ ساجد كے دِل میں ایک عجیب سی ہلچل جنم لے رہی تھی- جب کبھی وہ کاشف کو دیکھتا تو نجانے کیوں صنم کا خیال اس كے دماغ میں طلاطم مچانے لگتا- اسی کشمکش کی وجہ سے دوسروں کی زندگیوں میں اجالا بھرنے والا ساجد خود اندر سے تاریک ہوتا جا رہا تھا- یہ انسانی فطرت کا تقاضا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا دل بجھتا جا رہا تھا- ایسا لگتا تھا جیسے بہت جلد وہ اندر ہی اندر گھل کر ختم ہو جائے گا- در حقیقت وہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا- اس كے نفسیاتی معالج نے اسے صلاح دی كہ وہ اپنی ذات کو خو اذییی سے باز رکھے اور ایسی چیزوں سے تعلق ختم کر دے جو اس کے لیے مسلسل اذیت کا باعث بنیں-
کچھ دل کی حالت زار تھی تو کچھ وقت کا تقاضا کہ انہی دنوں ساجد كے دِل میں خیال آیا كہ پاکستان والے کاروبار کو امریکہ تک پھیلایا جائے- اسی لیے اس نے فیصلہ کیا كہ وہ كاشف کو موجودہ کمپنی کا کنٹری چیف اور برابر کا حصہ دار بنا دے گا اور خود امریکہ جا کر اسی کمپنی کی نئی شاخ کا آغاز کرے گا-
کاشف نے اپنی ترقی کی خبر صنم کو سنائی تو حسب توقع وہ بہت خوش ہوئی اور کاشف سے اصرار کرنے لگی كہ وہ اپنے باس کو دعوت پر بلائے- کاشف نے جب اِس بات کا تقاضا ساجد سے کیا تو وہ انکار کیے بنا نہ رہ سکا- آخر وہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا تہی دامن ہے-
وہ سنیچر کی شام تھی- بہار کا موسم آنے کو تھا- فضا میں ہلکی ہلکی سی خنکی اب بھی برقرار تھی- صنم کاشف كے باس کی آمد کو لے کر بہت پر جوش تھی- وہ صبح سے ہی خوشی خوشی کام میں جتی ہوئی تھی- تمام كھانا تیار ہو چکا تھا- بس مہمان خانے کو مہکانے كے لیے تازہ پھول درکار تھے- صنم نے جلدی جلدی کاشف کو بازار کی جانب دوڑایا اور خود سلیقے سے قیمتی کراکری میز پر سجانے لگی- ابھی وہ فارغ بھی نہ ہوئی تھی كہ دروازے کی گھنٹی بجی-
اف میرے خدایا! لگتا ہے کاشف کے باس آ گئے- صنم جلد بازی میں اپنا حلیہ درست کرتی ہوئی دروازے تک پہنچی- ابھی اس نے دروازہ کھولا ہی تھا كہ سامنے موجود دو نفوس کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی-
تم—ساجد—-یاسر—-!!! یہ تم دونوں ہی ہو ناں؟ صنم نے چہرہ بسورتے ہوئے ان دونوں كے نام لیے-
جی ہاں! یہ ہم دونوں ہی ہیں- یاسر نے آگے بڑھتے ہوئے گلدستہ صنم کو پکڑانا چاہا-
تم دونوں کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر تک پہنچنے کی؟ میرا پتہ کیسے ملا تم دونوں کو؟ تم لوگ جاسوسی کر رہے تھے میری؟ صنم گل دستے کو نظر انداز کرتی ہوئی ایک ہی پل میں نجانے کتنے مفروضے گڑ گئی-
جی نہیں محترمہ! ہم یہاں بس آپ سے اور آپ كے شوہر سے ملنے آئے تھے- یاسر نے قدرے متانت سے کہا-
تم ہوتے کون ہو میرے شوہر سے ملنے والے؟ چغلی کرنے آئے ہو میری؟ یا پھر میرے شوہر کو مجھ سے متعلق جھوٹی موٹی کہانیاں سنا کر اپنے یکطرفہ عشق کا بدلہ لینا چاہتے ہو؟ صنم ان دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے شدید غصے سے بولی-
صنم کی بے تکی سی بات سن کر یاسر نے کچھ کہنا چاہا مگر ساجد نے اسے آنکھ کے اشارے سے روک دیا-
صنم! تمہیں کافی عرصے کے بعد دیکھا ہے، تم بالکل بھی نہیں بدلیں- ساجد نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا-
دیکھو! ہمارے بہت ہی اہم مہمان آنے والے ہیں- اِس سے پہلے كہ میں پولیس کو بلوا لوں تم دونوں فوراً یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاو- صنم نے ان دونوں کو تقریباً جھڑکتے ہوئے متنبہ کیا اور ان كے منہ پر ہی دروازہ پٹخ دیا-
صنم کے رویے پر ساجد کو رتی بھر بھی حیرانی نہ ہوئی- یاسر کی توقع كے برخلاف وہ مسکراتا ہوا وہاں سے مڑا اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا-
اب کہاں جانا ہے جناب؟ یاسر نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر دانت کچکچاتے ہوئے پوچھا-
ہوائی اڈے ہی چلو- میری فلائٹ کا ٹائم بھی ہونے والا ہے- ساجد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا-
یاسر نے محسوس کیا كہ ساجد كے چہرے پر تمام راستے وہی دھیمی سی مسکراہٹ رہی جو اس کے پرسکون ہونے کی علامت تھی- وہ دونوں ہوائی اڈے پہنچے- اس نے یاسر سے آخری مصافحہ کیا اور خدا حافظ کہہ کر بورڈنگ کاؤنٹر کی طرف چلا گیا-
دوسری جانب کاشف گھر پہنچ کر صنم كے ہمراہ ساجد کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا- جب کافی دیر گزر گئی تو کاشف نے ساجد کو کال ملائی اور اس سے اس کی آمد كے بارے میں پوچھا تو ساجد بولا: “کاشف! میں آپ كے گھر یاسر كے ساتھ آیا تھا- آپ کی زوجہ سے ملاقات بھی ہوئی- وہ نہایت سادہ خاتون ہیں- آپ بہت خوش قسمت ہیں كہ آپ کو ایسی صاف دل جیون ساتھی ملیں”-
لیکن سر! آپ اتنی جلدی کیوں چلے گئے؟ ذرا میرا انتظار تو کیا ہوتا- کاشف كے لہجے میں مایوسی اُتر آئی-
میری فلائٹ کا وقت ہو چکا تھا- اگر میں اس وقت نہ نکلتا تو بہت دیر ہو جاتی- اب تو میں بورڈنگ بھی کروا چکا ہوں- زندگی رہی تو پھر کبھی ملیں گے! ساجد نے اتنا کہہ کر فون رکھ دیا-
سر تو کہہ رہے ہیں كہ وہ اپنے دوست یاسر كے ساتھ یہاں آئے تھے؟ رابطہ منقطع ہوتے ہی کاشف نے مڑ کر صنم کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا-
ساجد عباسی؟ صنم تقریباً سکتے کی حالت میں کچھ سوچتے ہوئے زیر لب بڑبڑائی-
ہاں ساجد عباسی صاحب! وہی تو ہیں وہ مہربان فرشتہ جن کی وجہ سے آج ہم دوبارہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں- وہ انسان گھر کی دہلیز تک آیا اور تم سے اتنا بھی نہیں ہوا كہ اُنہیں ڈھنگ سے بٹھا ہی لو- کاشف صنم پر بھڑکتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا-
دوسری جانب صنم كے ذہن میں گذشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے تمام کرامات یکے بعد دیگرے کسی فلم کی طرح چلنے لگیں- اس کا رنگ یکدم فق ہو گیا- اس كے ذہن میں سوئیاں سی چبھنے لگیں- شرمندگی كے مارے اس سے سانس لینا دشوار ہو گیا- اس کو توازن برقرار رکھنے میں مشکل پیش آنے لگی- اس نے دیوار کا سہارا لے کر بمشکل اپنے آپ کو گرنے سے بچایا- اف میرے خدایا! یہ وہی ساجد تھا—ساجد عباسی—!!! وہ خود تہی دامن رہ کر بھی صنم کا دامن خوشیوں سے بھر گیا تھا- اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا تھا کہ محبت ہو تو محبوب کی خوشی پر سب قربان—