دہلوی اُردو

دہلوی اردو سے مراد وہ اردو زبان ہے جو دہلی اور اس کے گرد و نواح میں بولی اور لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ زبان تاریخی طور پر قدیم اردو یا “ریختہ” کی ایک اہم شکل تھی اور دہلی کے ادبی اور ثقافتی مراکز میں فروغ پائی۔ دہلوی اردو کا ایک نمایاں پہلو اس کی سادگی، برجستگی اور فارسی و عربی کے اثرات سے معمور اسلوب ہے۔

دہلوی اردو کی خصوصیات:

    قدیم طرزِ بیان: دہلوی اردو میں سادہ مگر اثر انگیز زبان استعمال ہوتی تھی، جو بعد میں دبستانِ دہلی کی پہچان بنی۔

    فارسی اثرات: دہلی چونکہ فارسی تہذیب کا مرکز تھا، اس لیے یہاں کی اردو پر فارسی کے گہرے اثرات تھے، خاص طور پر الفاظ، تراکیب اور اسلوب میں۔

    صوفیانہ رنگ: چونکہ دہلی مختلف صوفی بزرگوں کا مرکز تھا، لہٰذا دہلوی اردو میں صوفیانہ عناصر نمایاں رہے، جیسے خواجہ میر درد اور آبرو کے کلام میں نظر آتا ہے۔

    قدرتی روانی: دہلی کی زبان میں برجستگی اور قدرتی روانی پائی جاتی تھی، جو اسے دیگر علاقوں سے ممتاز کرتی ہے۔

اہم دہلوی اردو شاعری کے نمائندے:

    ولی دکنی (جنہوں نے دہلی میں اردو کو فروغ دیا)

    میر تقی میر

    خواجہ میر درد

    آبرو

    سودا

دہلوی اردو کا زوال:

انیسویں صدی میں، خاص طور پر 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد، دہلوی اردو پر شدید اثرات مرتب ہوئے۔ دہلی کی تباہی کے بعد لکھنؤ کی زبان کا اثر بڑھ گیا، اور دبستانِ لکھنؤ زیادہ نمایاں ہوا۔ تاہم، دہلوی اردو کا اسلوب بعد میں بھی غالب، حالی، اور شبلی جیسے ادیبوں میں کسی حد تک برقرار رہا۔

دہلوی اردو کا جَاری (یعنی مسلسل) اثر ہندوستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت اور ادب میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی زبان و بیان کی سادگی، جذباتی شدت، اور اسلوبی اختراع نے اس کی خاص شناخت کو باقی رکھا۔ دہلوی اردو کی تاریخ میں کچھ اہم پہلو ہیں جو اس کی پہچان کو مستحکم کرتے ہیں:

دہلوی اردو نے نہ صرف شاعری میں بلکہ نثر میں بھی ایک خاص مقام حاصل کیا۔ دہلی کے کئی ادیبوں اور مفکرین نے اس زبان میں اپنی تحریریں اور خیالات پیش کیے جن میں فلسفہ، تاریخ، مذہب اور ادب شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سرسید احمد خان کا اردو ادب میں انقلابی کردار دہلوی اردو کے اثرات کی ایک مثال ہے، خاص طور پر ان کی نثر نے اُردو کو ایک علمی زبان کا درجہ دیا۔

دہلوی اردو کے شاعری میں خاص طور پر کلاسیکی صنفِ غزل کا غلبہ تھا۔ شاعروں نے اپنی غزلوں میں ذاتی تجربات، درد، محبت اور جمالیاتی اظہار کو نمایاں کیا۔ میر تقی میر، جو دہلی کے ایک معروف شاعر تھے، اپنی غزلوں کے ذریعے دہلوی اردو کی شاعری کو نیا رنگ دے گئے۔ ان کا اسلوب سیدھا اور جذباتی تھا، جو اردو کی کلاسیکی شاعری کی بنیاد بن گیا۔

دہلی کے ادبی حلقے اور محافل کی اپنی اہمیت تھی، جہاں شعراء، مفکرین اور فلاسفرز باقاعدگی سے ملاقات کرتے اور ایک دوسرے کی تخلیقات پر تبصرہ کرتے تھے۔ دہلی کی فضائیں اس قدر تحریک دے رہی تھیں کہ اردو کی ادب کے تمام اہم پہلو انھی حلقوں میں پروان چڑھتے تھے۔ ان محافل نے ادب کے معیار کو بلند کیا اور دہلوی اردو کو ایک انفرادیت دی۔

دہلی کے لوگوں کی زبان میں جو چاشنی اور سلیقہ تھا، وہ صرف ادب تک محدود نہ تھا بلکہ یہ روزمرہ کی بات چیت میں بھی جھلکتا تھا۔ دہلوی اردو کا اثر دہلی کی عام بول چال میں بھی واضح تھا، جہاں لوگ صرف ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ فنی و ادبی مقاصد کے لیے بھی یہ زبان استعمال کرتے تھے۔

جب 1857 میں دہلی میں تباہی آئی اور برطانوی حکمرانی کے بعد دہلوی اردو کی عظمت میں کمی آئی، تو دہلی کے ادبی و ثقافتی حلقوں میں ایک طرح کا خلا پیدا ہوا۔ لیکن دہلوی اردو کا اثر کبھی مٹنے نہ پایا۔ اس کے اثرات خاص طور پر لکھنؤ اور بعد میں لاہور، کلکتہ اور دیگر علاقوں کی ادبی محافل میں جاری رہے۔

آج کل دہلوی اردو کے شائقین اور محققین دہلی کی تاریخ اور اس کے ادبی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز میں دہلوی اردو پر تحقیقی کام ہو رہا ہے، اور دہلی کی کلاسیکی شاعری کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

دہلوی اردو نہ صرف ایک زبان تھی، بلکہ یہ ایک ثقافت اور ایک روشنی کا نمائندہ تھی جس نے ہندوستان کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ اس کا اثر آج بھی اردو کے ادب میں نظر آتا ہے، اور اس کی فنی خوبصورتی و شاعرانہ قدرتی روانی کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

دہلوی اردو کا اثر آج بھی ہمارے ادب اور ثقافت میں گہرا ہے، اور اس کے مختلف پہلو جدید اردو ادب میں زندہ ہیں۔ اس زبان کے جَاری اثرات نہ صرف ادب بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی موجود ہیں۔

دہلوی اردو کا اسلوب ایک خاص فن کی حیثیت رکھتا ہے، جو کہ پیچیدگیوں سے بچ کر سادگی اور دلکشی کی طرف مائل ہے۔ اس کی شاعری کی زبان میں نرمی اور روانی تھی، جس نے اسے عوامی سطح پر پذیرائی دلائی۔ مثال کے طور پر، میر تقی میر کی غزلوں میں دکھ، غم، اور دل کی گہرائی کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا۔ یہ خصوصیت دہلوی اردو کو خاص بناتی ہے کیونکہ اس میں سنگینی کے بجائے ایک لطیف اور انسانی احساسات کا ادراک ہوتا ہے۔

دہلی کی ادبی محافل نے اردو ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت کے شعراء اور ادباء اپنی تخلیقات کو محفلوں میں پیش کرتے، جہاں تبادلہ خیال، تنقید اور اسلوب پر گفتگو کی جاتی۔ دہلوی اردو کے ادبی حلقوں میں اس نوعیت کی محافل عام تھیں، جن میں شعراء جیسے کہ سودا، ولی، میرزا غالب، اور دیگر بڑی شخصیات نے اہم کردار ادا کیا۔ ان محافل نے اردو زبان کے ادب کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے ایک علمی حیثیت بھی عطا کی۔

دہلوی اردو کا اثر آج بھی اردو کے جدید شاعروں اور ادیبوں پر نظر آتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اردو زبان میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن دہلوی اردو کا اثر آج کے ادب میں موجود ہے، خاص طور پر جب بات شاعری کی ہو۔ کچھ شاعری کے جدید رجحانات جیسے کہ رومانی اور صوفیانہ اسلوب دہلوی اردو کے اسلوب سے متاثر ہیں۔

دہلوی اردو نے مذہب اور روحانیت کے موضوعات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ دہلی کا صوفیانہ ماحول اور وہاں کی زبان نے ایک الگ ہی انداز میں مذہبی اور روحانی تجربات کو بیان کیا۔ اردو کی شاعری میں اس وقت کے صوفی بزرگوں کے اثرات، جیسے کہ خواجہ میر درد اور دیگر صوفی شاعروں کی تصانیف، بہت زیادہ تھے۔ ان شاعروں نے انسانیت، محبت، اور روحانیت کے پیغامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے پیش کیا۔

دہلوی اردو نے نہ صرف ادبی دنیا میں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ دہلی کے لوگوں کی زبان میں جو شیرینی اور فصاحت تھی، اس نے لوگوں کی بات چیت میں بھی ایک خاص رنگ پیدا کیا۔ اس زبان کا استعمال محافل، جلسوں، اور روزمرہ کی گفتگو میں بھی اتنا ہی اہم تھا جتنا کہ شاعری اور نثر میں۔ دہلوی اردو نے ہندوستان کے ثقافتی اور معاشرتی رنگوں کو اپنے اندر سمو لیا تھا۔

دہلوی اردو کا لسانی ارتقاء وقت کے ساتھ جاری رہا۔ دہلی کی مختلف زبانوں، جیسے کہ فارسی، عربی، ہندی اور ترکی کے امتزاج نے اردو کی ساخت کو ایک نیا انداز دیا۔ اس کا اثر نہ صرف ادب پر پڑا، بلکہ عام لوگوں کی زبان میں بھی یہ باتیں شامل ہو گئیں۔ جیسے جیسے دہلوی اردو نے ترقی کی، اس میں زیادہ لچک آئی اور مختلف لسانی رنگوں کو جذب کیا۔

دہلوی اردو کی شاعری اور نثر نے عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنائی۔ اردو ادب کے ماہرین اور ادیبوں کی تخلیقات عالمی سطح پر ترجمہ ہوئیں اور دہلوی اردو کی تاثیر مختلف ثقافتوں تک پہنچی۔ دہلی کی شاعری کی خوبصورتی اور لطافت نے دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔

دہلوی اردو کا جَاری اثر آج بھی اردو ادب کے اہم حصے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا اسلوب، اس کی شاعری، اور اس کے ادبی عناصر اردو کے مختلف انداز میں جوں کے توں موجود ہیں۔ دہلوی اردو نے جو روایت قائم کی، وہ نہ صرف ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ آج کے اردو ادب میں اس کی جھلکیاں اب بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دہلی کی اردو نے نہ صرف ادب کے میدان میں بلکہ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور ثقافت میں بھی ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔

دہلوی اردو کی جَاری خصوصیات اور اثرات نہ صرف ادب بلکہ معاشرتی اور ثقافتی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ زبان کی لچک، اسلوب کی پیچیدگی، اور اُس دور کے معاشرتی ماحول کے تناظر میں بہت سی اہم باتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ دہلوی اردو کا اثر اور اس کے مختلف پہلو آج بھی اردو ادب میں موجود ہیں، اور اس کا یہ اثر مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔

دہلوی اردو کا ادب، خصوصاً شاعری اور نثر، معاشرتی اصولوں اور اخلاقیات سے جڑا ہوا تھا۔ شعراء اور ادباء نے اپنے کام میں انسانیت، اخلاق، محبت، اور معاشرتی مساوات کی باتیں کیں۔ اس دور میں دہلی میں پروان چڑھنے والے ادب نے سماج میں فرد کے کردار کی اہمیت اور انسان کے اخلاقی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ شاعر جیسے میر تقی میر اور خواجہ میر درد نے اپنے اشعار میں انسانی جذبات، درد، اور محبت کی خوبصورتی کو بیان کیا، جس سے لوگوں کی اخلاقی سوچ پر گہرا اثر پڑا۔

دہلوی اردو میں صوفیانہ اشعار اور حکایات بھی زیادہ تھیں، جو مذہبی برداشت، انسانیت کی خدمت، اور روحانیت کی اہمیت پر زور دیتی تھیں۔ اس کے ذریعے معاشرتی تسلسل اور افراد کے مابین محبت و احترام کا پیغام دیا جاتا تھا۔

دہلوی اردو نے زبان کے اعتبار سے اپنی فنی طاقت کو بھی ثابت کیا۔ اس دور کے اُردو شاعروں نے محض الفاظ کی خوبصورتی پر توجہ نہیں دی بلکہ ان کے اشعار میں معنی اور مواد کی گہرائی بھی تھی۔ اس دور کی شاعری میں افکار کی جدت اور تخیل کی بلند پروازی نے اردو کو ایک خاص شناخت دی۔ دلی کے شعرا نے اس وقت کی زندگی کے مسائل، ثقافتی تضادات اور مذہبی تعلقات پر گہرائی سے روشنی ڈالی۔

دہلوی اردو کی لسانی ترقی نے نہ صرف اس کی آواز اور اسلوب کو شفاف اور دلکش بنایا بلکہ اس کے بولنے اور لکھنے کے طریقے میں بھی تنقیدی اور فنی نقطہ نظر کا اضافہ کیا۔ اس دور میں اردو کی لسانی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور ایک جدید تنقیدی نقطہ نظر نے اردو کے ادب کو عالمی سطح پر معیاری بنانے کی راہ ہموار کی۔

دہلوی اردو کی لسانی ترقی کی ایک بڑی خصوصیت اس کی دھیرے دھیرے مقبول ہوتی ہوئی سادگی تھی، جو اسے عام لوگوں کے لیے بھی قابل رسائی بناتی تھی۔ یہ زبان جتنی فنی طور پر پیچیدہ تھی، اتنی ہی آسان بھی تھی، جس نے اردو کو عوامی سطح پر پھیلنے اور اسے ہر سطح کے لوگوں تک پہنچنے میں مدد دی۔

دہلوی اردو کے نثر نگاروں نے بھی اس زبان کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔ ان میں خصوصاً شاعروں کی نثر، جیسے کہ غالب کی خط و کتابت اور دیگر ادباء کی تصانیف شامل ہیں، جو نہ صرف ادب میں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی استعمال ہوئیں۔ اس وقت کی نثر میں فلسفیانہ خیالات، مذہبی مکالمے، اور سماجی حالات پر گہری نظر تھی۔ دہلوی اردو کے نثر نگاروں نے گہرائی، سلیقہ اور متانت کے ساتھ اپنی تحریروں میں خیالات پیش کیے۔

دہلوی اردو کا اثر دنیا بھر کے مختلف ثقافتوں میں پھیل چکا ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں اردو ادب، خاص طور پر دہلوی اردو کی شاعری کو گہرائی سے سمجھا اور سراہا گیا۔ مترجمین نے اردو ادب کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا، اور دہلوی اردو کی شاعری کا عالمی سطح پر ایک نیا مقام ہوا۔

مغربی دنیا میں غالب، میر، اور دیگر دہلوی شاعروں کی غزلوں کو ادبی حلقوں میں نمایاں جگہ ملی۔ اس کے ساتھ ہی اردو ادب کی مطالعہ اور تفہیم کے لیے مختلف اداروں نے اردو کے کلاسیکی ادب پر تحقیق کی، جس سے دہلوی اردو کی اہمیت اور اس کا عالمی سطح پر اثر مزید مستحکم ہوا۔

دہلوی اردو کی شاعری اور نثر نے نہ صرف ادب بلکہ سنیما اور فنونِ لطیفہ کو بھی متاثر کیا۔ اردو شاعری، خاص طور پر دہلوی اشعار، کو فلموں اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں استعمال کیا گیا، جس نے اس زبان کو ایک نیا حوصلہ دیا۔ دہلوی شاعری کے اشعار اور اشعار کے تراجم نے سنیما کے فن میں ایک خاص ذائقہ پیدا کیا۔

دہلوی اردو کا جَاری اثر آج بھی مختلف میدانوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ ادب سے لے کر سماج، ثقافت، اور فنون تک، دہلوی اردو نے اپنی لچک اور گہرائی کے ساتھ ایک دیرپا اثر چھوڑا ہے۔ اس زبان نے نہ صرف ادبی ترقی کی راہ ہموار کی بلکہ ایک جدید تہذیب کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دہلوی اردو کا ورثہ آج بھی ہمیں اپنی تہذیبی و ثقافتی شناخت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

دہلوی اردو کی جَاری خصوصیات اور اس کے اثرات نہ صرف ادب بلکہ مختلف سماجی، ثقافتی، اور سیاسی پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ دہلوی اردو کی زبان و بیان کا انداز، اس کے اندر موجود روایات اور جدت، اور اس کی ثقافتی اہمیت نے اسے ایک مستقل مقام دیا ہے جو آج بھی اردو ادب کے تنقیدی جائزوں، ادبی تجزیوں، اور تخلیقی عمل میں نمایاں ہے۔

دہلوی اردو نے سیاست اور سماج میں اہم کردار ادا کیا۔ دہلی میں اردو ادب کا اثر سیاست دانوں اور مفکرین تک بھی پہنچا۔ خاص طور پر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد، دہلوی اردو نے ایک نئے دور کی ابتدا کی جہاں اس کا استعمال آزادی، خودمختاری، اور قومی یکجہتی کے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کیا گیا۔ اس دور کے شعراء نے اپنے کلام میں سماجی تبدیلی، لوگوں کے حقوق، اور انسانوں کے ساتھ برابری کا پیغام دیا۔

اس کے علاوہ، دہلوی اردو کے کئی شاعروں اور ادیبوں نے معاشرتی مسائل اور طبقاتی تفریق پر اپنی تخلیقات میں روشنی ڈالی، جس نے سماج میں ایک بیداری کی لہر پیدا کی۔ یہ ادب انسانیت، بھائی چارے، اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کی حمایت کرتا تھا، اور اس نے لوگوں کو حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی تحریک دی۔

دہلوی اردو کا ایک اہم پہلو اس کا مقامی زبانوں اور ثقافتوں پر اثر تھا۔ دہلی کی علاقائی زبانوں، جیسے کہ ہندی، پنجابی، اور دیگر مقامی لہجے نے اردو کے اسلوب کو مزید نکھارا۔ دہلوی اردو کا رنگ و روپ اس کی مقامی ثقافت، روزمرہ کی زندگی، اور لوگوں کی زبان سے جڑا ہوا تھا، جس نے اسے ایک زندہ اور رواں زبان بنایا۔

اس کے علاوہ، دہلوی اردو کا اثر کئی علاقوں میں پھیلنے کے ساتھ ان مقامی زبانوں کے ارتقاء میں بھی مددگار ثابت ہوا۔ دہلوی اردو کی نرمی، سادگی اور اظہار کی خوبصورتی نے اردو کو ایک عالمی زبان کی حیثیت دی۔

دہلوی اردو کی شاعری میں تصوف اور روحانیت کا خاص اثر تھا۔ دہلی میں کئی معروف صوفی بزرگوں اور مشائخ کا مکتبہ فکر تھا، جنہوں نے اردو شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ ان میں خواجہ معین الدین چشتی، نظام الدین اولیا، اور دیگر صوفیاء کی تعلیمات کا اثر دلی کی اردو شاعری میں واضح تھا۔

شاعر جیسے کہ میرزا غالب، آتش، اور درد نے اپنی غزلوں میں صوفیانہ تصورات اور خیالات کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کی شاعری میں انسان کے روحانی سفر، خدا کی محبت، اور زندگی کے مقصد کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی، جس نے اردو ادب میں ایک نیا روحانی رنگ بھرا۔

دہلوی اردو کی طرزِ تحریر میں جو خاص بات تھی، وہ اس کا سلیقہ، ادب، اور سادگی تھی۔ اس دور میں اُردو کے ادب میں جو تخلیقات سامنے آئیں، ان میں نہ صرف فنی مہارت بلکہ تفصیل سے کام لیا گیا تھا۔ دہلوی اردو کی نثر میں بھی اسی طرح کی گہرائی اور سلیقے کی جھلک تھی، جیسے شاعری میں تھی۔

دہلوی اردو کی نثر میں خاص طور پر ڈرامہ نگاری، سفرنامے، اور تاریخی تصانیف کی تحریریں اہم ہیں۔ ان تحریروں میں مصنفین نے اپنے وقت کے سماجی، سیاسی، اور ثقافتی حالات کو بخوبی بیان کیا، اور ان کی نثر کی سادگی اور بے تکلفی نے اسے عوام میں مقبول بنایا۔

دہلوی اردو کے ادب نے عالمی سطح پر اپنا ایک مقام بنایا۔ عالمی ادبی حلقوں میں اردو ادب کی منفرد شاعری اور نثر کا مطالعہ کیا گیا، اور دہلوی اردو کی تخلیقات کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کر کے ایک عالمی ادبی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ اس کے اثرات خاص طور پر برطانوی اور امریکی ادب میں دیکھے گئے، جہاں اردو کی کلاسیکی شاعری نے جدید شاعری کے تخلیقی عمل کو متاثر کیا۔

دہلوی اردو کی شاعری کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی ہیں، اور اس کے اثرات مغربی ممالک کے ادب میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اردو کے کلاسیکی شاعروں جیسے کہ غالب، میر، اور اقبال کو عالمی سطح پر سراہا گیا، اور ان کے اشعار کو دنیا بھر میں پڑھا اور سمجھا گیا۔

دہلوی اردو کا اثر فنونِ لطیفہ، خاص طور پر موسیقی اور رقص، پر بھی پڑا۔ دہلی کی محافل موسیقی میں اردو شاعری کو سنا اور گایا جاتا تھا، اور اسے فنونِ لطیفہ میں اہم مقام حاصل تھا۔ دہلی کی غالب اور اقبال کی غزلوں کو کلاسیکی موسیقی کی دھنوں میں گایا جاتا تھا، جس نے اردو شاعری کو ایک فنکارانہ سطح تک پہنچایا۔

اسی طرح، اردو شاعری کا اثر رقص پر بھی تھا، خاص طور پر درباروں میں جہاں رقاصائیں شاعری کی لحن کے ساتھ رقص کرتی تھیں، اس میں اردو کی غزلوں کا رنگ ہوتا تھا۔

دہلوی اردو نے ادب، ثقافت، سیاست، اور سماج کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا۔ اس کے اثرات آج بھی اردو ادب میں ایک اہم جگہ رکھتے ہیں، اور اس کا اسلوب، گہرائی، اور سلیقہ ہمیشہ اردو ادب کے دلدادہ افراد کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دہلوی اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات میں جو نقش چھوڑا، وہ ہمیشہ اردو ادب کی بنیادوں کا حصہ رہے گا۔