بہاری اُردو
بہاری اردو ایک مخصوص لسانی اور جغرافیائی لہجہ ہے جو بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہ اردو زبان کی ایک شکل ہے جو بہاری زبانوں (جیسے کہ ماگہی، بھوجپوری، اور میتھلی) کے اثرات سے متاثر ہے۔
خصوصیات:
اس میں بہاری زبانوں کے الفاظ، لہجے اور طرزِ بیان کی جھلک نظر آتی ہے۔
کچھ تلفظ اور گرامر میں مقامی زبانوں کی آمیزش پائی جاتی ہے۔
عام طور پر یہ زیادہ تر غیر رسمی اور عوامی سطح پر استعمال ہوتی ہے، جبکہ رسمی مواقع پر معیاری اردو کا استعمال کیا جاتا ہے۔
بہاری اردو، اپنی مخصوص رنگینی اور مقامی اثرات کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔
تاریخی پس منظر بہاری اُردو
بہاری اردو کا تعلق برصغیر کی ان زبانوں سے ہے جو سماجی، ثقافتی، اور جغرافیائی عوامل کے تحت ترقی پذیر ہوئیں۔ یہ اردو زبان کی ایک مقامی شکل ہے جو بہار، جھارکھنڈ، اور مغربی بنگال کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
قرون وسطیٰ میں اردو اور بہاری زبانوں کا اختلاط
اردو زبان کا ارتقا برصغیر میں فارسی، عربی، ترکی اور مقامی زبانوں کے امتزاج سے ہوا۔
بہار میں، فارسی زبان کا اثر مغلیہ دور میں زیادہ گہرا ہوا، جہاں فارسی دربار اور علمی زبان کے طور پر مستعمل تھی۔
بہاری زبانوں جیسے ماگہی، بھوجپوری، اور میتھلی نے اردو کے ساتھ گھل مل کر ایک منفرد لہجہ تشکیل دیا، جو “بہاری اردو” کے طور پر جانا جاتا ہے۔
مغلیہ اور نوابینِ بہار کا دور
مغل دور میں بہار علمی اور ثقافتی لحاظ سے ایک اہم علاقہ تھا۔ یہاں کے نوابین اور اشرافیہ فارسی و اردو کے سرپرست تھے۔
اردو ادب کے کئی اہم شعرا اور ادیبوں کا تعلق بہار سے تھا، جنہوں نے مقامی زبانوں کے اثرات کو اپنی تحریروں میں جگہ دی۔
برطانوی دور اور بہاری اردو کی ترقی
برطانوی دور میں اردو سرکاری اور تعلیمی زبان بنی، لیکن بہاری اردو عام لوگوں میں اپنی جداگانہ شناخت کے ساتھ برقرار رہی۔
اس دور میں، بہاری اردو پر ہندی اور انگریزی کے بھی اثرات مرتب ہوئے، جس سے اس کی لفظیات اور گرامر میں مزید تغیر آیا۔
بیسویں صدی اور آزادی کے بعد
آزادی کے بعد، بہاری اردو کو وہ سرکاری اور تعلیمی حیثیت نہیں مل سکی جو معیاری اردو کو حاصل تھی، تاہم یہ عام بول چال میں بدستور موجود رہی۔
بہار اور جھارکھنڈ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملا، جس سے بہاری اردو کے فروغ کو کسی حد تک تقویت ملی۔
موجودہ دور میں بہاری اردو
آج کے دور میں بہاری اردو عام بول چال میں زندہ ہے، خاص طور پر عوامی سطح پر اور دیہی علاقوں میں۔
سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی یہ اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اردو ادب اور صحافت میں بھی بہاری اردو کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں مقامی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔
بہاری اردو اردو زبان کا ایک منفرد لہجہ ہے، جو تاریخی، سماجی، اور ثقافتی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ اسے معیاری اردو جیسی حیثیت حاصل نہیں، لیکن یہ عوامی بول چال اور علاقائی ادب میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
کی خصوصیات بہاری اُردو
بہاری اردو اردو زبان کی ایک علاقائی شکل ہے، جو بہار، جھارکھنڈ، اور مغربی بنگال کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کا لہجہ اور طرزِ بیان بہاری زبانوں جیسے بھوجپوری، ماگہی، اور میتھلی سے متاثر ہے۔ اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
لغوی اثرات
بہاری اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ اور محاورے شامل ہوتے ہیں، جو معیاری اردو سے مختلف ہوتے ہیں۔
فارسی اور عربی کے علاوہ سنسکرت اور بہاری زبانوں کے الفاظ بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔
لہجے اور تلفظ میں فرق
بہاری اردو کا تلفظ معیاری اردو سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں بہاری زبانوں کا مخصوص لہجہ نمایاں ہوتا ہے۔
بعض حروف کی ادائیگی الگ انداز میں ہوتی ہے، جیسے:
“ز” کو “ج” کی طرح بولا جاتا ہے (جیسے: “ضرورت” → “جرورت”)
“ف” کو “پ” سے بدلا جاتا ہے (جیسے: “فکر” → “پکر”)
“گ” کو بعض اوقات “غ” کی طرح بولا جاتا ہے۔
جملوں کی بناوٹ
بہاری اردو میں جملوں کی ساخت عام اردو سے مختلف ہو سکتی ہے، جیسے:
معیاری اردو: تم کہاں جا رہے ہو؟
بہاری اردو: تو کہاں جات ہا؟
معیاری اردو: میں نے کھانا کھا لیا۔
بہاری اردو: ہم کھانا کھا لے ہن۔
گرامر میں مقامی رنگ
بہاری اردو میں مصدر (Verb Infinitive) کا استعمال مقامی انداز میں ہوتا ہے، جیسے:
“کرنا” کی جگہ “کرے کے”
“جانا” کی جگہ “جائے کے”
واحد اور جمع کے صیغے میں بھی فرق دیکھا جاتا ہے، جیسے:
“ہم” (میں) کی بجائے “ہمرا” یا “ہم نی”
“تم” کی جگہ “توہر”
عوامی اور غیر رسمی استعمال
بہاری اردو زیادہ تر غیر رسمی گفتگو اور مقامی تحریروں میں استعمال ہوتی ہے۔
یہ عام بول چال اور دیہی علاقوں میں زیادہ رائج ہے۔
تعلیمی اور سرکاری سطح پر معیاری اردو کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر روزمرہ کی زندگی میں بہاری اردو کا استعمال عام ہے۔
ہندی اور دیگر مقامی زبانوں کا اثر
بہاری اردو میں ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کے الفاظ اور جملے شامل ہوتے ہیں۔
بعض الفاظ کا متبادل معیاری اردو سے ہٹ کر ہوتا ہے، جیسے:
“جلدی” کے بجائے “تورا بھیر”
“بالکل” کے بجائے “بلکلے”
ادبی و ثقافتی پہلو
بہاری اردو کا استعمال لوک کہانیوں، عوامی شاعری، اور دیہی گیتوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
مقامی شعرا اور ادیب اپنی تحریروں میں بہاری اردو کے الفاظ اور محاورے شامل کرتے ہیں۔
بہاری اردو ایک منفرد لسانی رنگ رکھتی ہے، جو اردو زبان اور بہاری بولیوں کے امتزاج سے وجود میں آئی ہے۔ اس کی خاص بات اس کا مخصوص لہجہ، مقامی گرامر، اور الفاظ کا منفرد استعمال ہے، جو اسے معیاری اردو سے مختلف بناتے ہیں۔
مثالیں
بہاری اردو کی مثالیں
بہاری اردو کی خصوصیات کو مزید واضح کرنے کے لیے روزمرہ گفتگو، محاورات، اور جملوں کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
عام گفتگو میں فرق
معیاری اردو بہاری اردو
تم کہاں جا رہے ہو؟ تو کہاں جات ہا؟
میں نے کھانا کھا لیا۔ ہم کھانا کھا لے ہن۔
کیا تمہیں میری بات سمجھ آئی؟ توہکا ہمری بات سمجھ میں آیل؟
تم کیا کر رہے ہو؟ تو کی
مجھے پانی دو۔ ہمرا پانی دیا۔
فعل اور مصدر کی تبدیلی
معیاری اردو: میں بازار جانا چاہتا ہوں۔
بہاری اردو: ہم بازار جائے کے چاہے ہن۔
معیاری اردو: وہ رو رہا ہے۔
الفاظ اور لہجے کا فرق
ضرورت → جرورت
فکر → پکر
یہاں → ایہاں
وہاں → اوہاں
بالکل → بلکلے
کیوں → کا?
ہم → ہمرا
محاورے اور مقامی رنگ
معیاری اردو: تم بہت ضدی ہو۔
بہاری اردو: تو بڑا ڈھیٹ ہا۔
معیاری اردو: وہ بہت باتونی ہے۔
بہاری اردو: اوہ بڑا بک بک کرے ہا۔
معیاری اردو: کام جلدی کرو۔
بہاری اردو: کام تیزے کر۔
معیاری اردو: میرے پاس وقت نہیں ہے۔
بہاری اردو: ہمرا لگے ٹائم
سوالیہ جملے
معیاری اردو: تم کہاں رہتے ہو؟
بہاری اردو: تو کہاں رہے ہا؟
معیاری اردو: یہ کس کا گھر ہے؟
بہاری اردو: ایہ ککر گھاٹ ہا؟
معیاری اردو: تمہیں کیا چاہیے؟
بہاری اردو: توہکا کا چاہی؟
بہاری اردو میں نہ صرف الفاظ بلکہ جملوں کی بناوٹ اور لہجے میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ اس میں مقامی زبانوں کا اثر نمایاں ہے، جو اسے معیاری اردو سے مختلف بناتا ہے۔