8 ہجری(31 مارچ 630ء) ولادت حضرت ابراھیمؑ بن محمد رسول اللہ ذوالحجہ 7
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور حضرت ماریہ قبطیہ کے پیارے بیٹے
تحریر: نصیر وارثی
ابراہیم بن محمد رسول اللہ (ﷺ) کے فرزند تھے جو حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ ماریہ قبطیہ ایک قبطی (مصر کی قدیم قوم) خاتون تھیں جو رسول اللہ (ﷺ) کو مصر کے حکمران مقوقس نے بطور ہدیہ بھیجی تھیں۔ ماریہ قبطیہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (ﷺ) کی زوجیت میں آئیں۔
ابراہیمؑ کی پیدائش 8 ہجری (تقریباً 630 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) کو ان سے بے پناہ محبت تھی اور آپ نے ان کا نام اپنے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر رکھا۔
ابراہیم ذی الحجہ سنہ 8 ہجری میں پیدا ہوئے۔ پیغمبر نے اپنے صحابہ سے فرمایا: میرے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ میں نے اس کا نام اپنے جد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔ آپ ؐ نے ابراہیمؑ کی پیدائش کے ساتویں روز عقیقہ کیا۔ ان کے سر کے بال تراشے اور بالوں کے ہم وزن چاندی فقرا میں تقسیم کی-
ابراہیمؑ کی ولادت کے موقع پر حضرت جبرائیل ؑنازل ہوئے اور آپؐ کو ابا ابراہیم ؑکہہ کر سلام کیا- ابراہیم ؑکی ولادت کے بعد رسول اللہ ؐ خوش ہوئے اور نو مولود حضرت عائشہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا: دیکھو یہ بچہ کس قدر میرا ہمشکل ہے۔ابراہیم ؑبن محمؐد کی زندگی مختصر تھی، ایک قول کے مطابق ابراہیم کی وفات آخر ربیع الاول سنہ 10 ہجری میں 16 ماه کی عمر میں ہوئی۔ ایک اور قول کے مطابق 18 ماہ کی عمر میں وفات ہوئی۔ ابن شہر آشوب کے مطابق ایک سال، دس مہینے اور آٹھ دن کی عمر میں ابراہیم ؑکی وفات ہوئی اور بقیع میں عثمان بن مظعون (متوفی 2 ھ) کے پاس دفن ہوئے۔
ابراہیمؑ کی وفات نے آپؐ کو بہت غمناک کیا۔ آپؐ نے گریہ کیا بعض کے اعتراض کے جواب میں فرمایا
إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ تَدْمَعُ الْعَینُ وَ یفْجَعُ الْقَلْبُ وَ لانَقُولُ مَا یسْخِطُ الرَّبَّ وَاللَّهِ یا إِبْرَاهِیمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ
میں بھی انسان ہوں، آنکھ روتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے۔ واللہ! اپنے رب کو ناراض کرنے والی بات نہیں کرونگا۔ اے ابراہیمؑ! خدا کی قسم تمہاری موت کی وجہ سے غمگین ہوں-
ایک روایت میں یوں آیا ہے:
اے پہاڑ! جو میرے ساتھ پیش آیا ہے اگر وہ تیرے ساتھ پیش آتا تو تو ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن ہمیں جس طرح خدا نے حکم دیا ہے ہم کہتے ہیں: إنّا لِلهِ وَ إنّا اِلَیْهِ راجِعونَ وَ الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعالَمینَ رسول اللہ ؑنے ان کی قبر پر ایک پتھر رکھا اور قبر پر پانی چھڑکا- ان کی وفات پر رسول اللہ (ﷺ) بہت مغموم ہوئے اور آپؐ نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔ ابن شہرآشوب نے کتاب مناقب آل ابی طالب میں ابن عباس سے نقل کیا ہے: ایک روز رسول اللہ اپنے دامن میں اپنے فرزند ابراہیم ؑاور حسینؑ کو لئے بیٹھے تھے اس دوران جبرئیلؑ نازل ہوئے اور کہا: خدا تم پر سلام بھیجتا ہے اور کہتا ہے: ان دونوں کو اکٹھا نہیں رکھوں گا پس ایک کو دوسرے پر فدا کرو۔ رسول خدا نے امام حسینؑ کا انتخاب کیا۔ اس کے تین روز بعد ابراہیمؑ کی وفات ہو گئی ابراہیمؑ کی وفات کے وقت ایک سورج گرہن بھی ہوا تھا، جس پر لوگوں نے کہا کہ یہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔ لیکن رسول اللہ (ﷺ) نے اس بات کو رد کیا اور فرمایا کہ سورج اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور کسی کی موت یا زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ابراہیم کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ ان کی موت سے رسول اللہ (ﷺ) اور ان کے اہل خانہ کو بہت صدمہ پہنچا لیکن آپ (ﷺ) نے اللہ کی رضا پر صبر کیا۔
ابراہیم کی زندگی کی اہمیت کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ان کی پیدائش کے تاریخی اور سماجی تناظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ القبطیہ کو 628 عیسوی کے لگ بھگ مصر کے حکمران مقوقس سے بطور تحفہ حاصل کیا۔ ماریہ قبطی عیسائی وراثت سے تعلق رکھتی تھیں، اور انہوں نے مدینہ پہنچنے پر اسلام قبول کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ بہت احترام اور پیار کے ساتھ برتاؤ کیا، جو رشتوں کے بارے میں ان کے مساویانہ اور ہمدردانہ انداز کو ظاہر کرتا ہے۔
اپنے بیٹے ابراہیم سے پیغمبر اسلام کی محبت گہری اور اپنے اردگرد کے تمام لوگوں کو دکھائی دیتی تھی۔ مختلف احادیث (روایات) اس محبت کی گہرائی کو واضح کرتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے قریبی ساتھی انس بن مالک نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اپنے بیٹے کو پکڑے اور چومتے دیکھا جاتا تھا۔ پیار کا یہ عوامی مظاہرہ اس ثقافت میں اہم تھا جہاں جذباتی اظہار، خاص طور پر مردوں کے ذریعہ، اکثر روکا جاتا تھا۔
ابراہیمؑ کے ساتھ پیغمبرؐ کی شفقت نے ایک محبت کرنے والے اور ہمدرد باپ کے طور پر ان کے کردار کی مثال دی۔ وہ روزانہ ابراہیمؑ کے پاس جاتے اور ان کے ساتھ وقت گزارتے، یہ ظاہر کرتے کہ ایک مذہبی اور سیاسی رہنما کے طور پر اپنی بے پناہ ذمہ داریوں کے باوجود، وہ اپنے خاندانی فرائض کی بہت قدر کرتے ہیں۔ قیادت اور ذاتی زندگی کے بارے میں یہ متوازن نقطہ نظر مسلمانوں کو تقلید کے لیے ایک لازوال نمونہ فراہم کرتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ابراہیم کی زندگی مختصر رہی ۔ وہ چھوٹی عمر میں بیمار ہو گئے، اور کم صحت یابی کی امید کے باوجود، ابراہیم تقریباً عمر میں انتقال کر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غم واضح تھا۔ جب ابراہیم نے اپنے والد کی بانہوں میں آخری سانس لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے روتے ہوئے فرمایا: “آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے، اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی ہو، اے ابراہیم! بے شک ہمیں تمہاری جدائی کا غم ہے۔ “
یہ لمحہ اسلامی روایت میں بہت اہمیت کا حامل ہے، جو پیغمبر ؐکی انسانیت اور ان کی گہری جذباتی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ ہونے کے باوجود آپ زندگی کے دکھوں سے محفوظ نہ تھے۔ اس کے آنسو اور غم کے اظہار نے ان کے پیروکاروں کو ایک اہم سبق دیایہ احساس اور غم کا اظہار ایمان کے خلاف نہیں ہے بلکہ انسانی تجربے کا ایک فطری حصہ ہے۔
ابراہیم ؑکی مختصر زندگی مسلمانوں کے لیے کئی اہم اسباق اور اثرات رکھتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ اسلام میں قدر (خدائی حکم) کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ گہرے دکھ کے باوجود پیغمبر ؐاسلام کا اپنے بیٹے کی موت کو قبول کرنا ان کے اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا ثبوت ہے۔ یہ قبولیت اسلامی عقیدے کے بنیادی اصول کی نشاندہی کرتی ہے: ذاتی نقصان کے باوجود اللہ کی حکمت اور رحمت پر بھروسہ۔
ابراہیمؑ کی والدہ حضرت ماریہ القبطیہ بھی اسلامی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ ان کا مصر سے مدینہ تک کا سفر، ان کا قبول اسلام، اور پیغمبرؐ کے بیٹے کی ماں کے طور پر ان کا کردار ابتدائی مسلم کمیونٹی کے تنوع اور جامعیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حضرت ماریہ کو مدینہ میں عزت اور احترام حاصل تھا، اور پیغمبرؐ اسلام کے ساتھ اس کا رشتہ اپنی تمام بیویوں اور ساتھیوں کے ساتھ ان کے انصاف پسندانہ سلوک کی ایک مثال ہے۔
حوالہ جات:
ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۲۰۰
بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۴۵۰
ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۵؛ أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۱
ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۸۱
مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۹، ص۹۱؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۴