نفسیاتی مریض
سورج کی کرنیں عامر کے چہرے پہ پڑھ رہی تھی، جو صحن کے درمیان میں پلنگ پہ بے سدھ پڑا تھا رات کو نہ جانے کب گھر لوٹا تھا۔ بیٹے کا انتظار کرتے ماں کھڑکی سے باہر دروازے پہ نظریں گاڑے سو گئی۔ صبح بیٹے کو بدحال صحن میں پڑے دیکھ کر دل پسیج گیا آنسو دوپٹے کے کونے سے صاف کرتی ہوئی باورچی خانے میں ناشتہ بنانے چلی گئی۔
مجید صاحب جو پہلے ہی بیٹے کی اس محبت کو پاگل پن سمجھتے تھے، عمر کو ایسے صحن میں پلنگ پہ پڑا دیکھ کہ اونچا اونچا بولنے لگے۔ پروین اس لڑکے کو عقل کب آئے گی،اُس لڑکی پہ کوئی جن ہے۔ اس کے ماں باپ یہ بات خود کہتے ہیں نہیں یقین کرتا تو ایک یہ تمھارا لال۔ ۔
اس سارے شور و غل سے عمر کی آنکھ کھل ہی جانی تھی۔ عمر نے آنکھیں کھولتے ہی سورج کی کرنوں کی تیز روشنی کی وجہ سے فوراً بھینچ لی،اور گزری رات کے واقعے کو دماغ میں دہرانے لگا اور ساتھ ساتھ امی ابو کی ناگوار گفتگو سنتے سنتے ہی بوسیدہ قدموں سے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
گھر میں ہر طرف چہل پہل تھی شادی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے۔دلہن سٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی کے اچانک دوسرے کمرے سے شور کی آواز آنے لگی۔ ۔تمام لوگ جن کی توجہ کا مرکز پہلے دلہن تھی اب شور والے کمرے کی طرف بھاگے۔
فجر آنکھیں کھولو! بیٹا ادھر دیکھو ، میں تمھاری امی ہوں۔ ۔۔فجر ،فجر بیٹا۔ ۔۔
فجر اچنک بے ہوش ہو جانے کی وجہ سے بستر پہ بے سُدھ پڑھی تھی۔اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مُٹھیوں کی طرح سختی سے بھینچ بھینچ رکھا تھا اور آنکھیں بھی سختی سے بند کر رکھی تھی۔ جسم بلکل ٹھنڈا اور رنگ زرد پڑنے لگا۔ ۔ہر طرف شادی والے گھر میں اظراب پیدا ہو گیا ہر کوئی اپنے ٹوٹکے آزمانے لگا۔ ۔اسکو پانی میں نمک ڈال کہ دیں کوئی کہنے لگا لیموں دیں بلڈ پریشر لو ہو گیا ہے ۔ہر ایک کے اندر کا ڈاکٹر جاگ گیا۔
فجر نے بے ہوشی کی حالت میں کانپنا شروع کر دیا۔
سب ڈاکٹر چپ ہو گئے جب ایک محترمہ نے کہا اسے میڈیکل نہیں روحانی مسلہ ہے۔ یہ رات کو جنگل کے راستے سے گزر کر آئی ہے۔ بس پھر گھریلو ٹوٹکے ختم اور دم درود شروع ہو گئے۔شادی میں آئے قاری صاحب کو بھی فجر کے قریب بیٹھا دیا گیا جو مسلسل کچھ پڑھ رہے تھے۔
فجر نے سختی سے دانت پیستے ہوئے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا اور اُسکی چیخیں تو جیسے روحانی مسلہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت تھی۔۔۔فجر کی چیخیں اسکے ماں باپ کا دل چیرنے لگی، جوان اولاد کی تکلیف اور سارے خاندان کے چٹکلے( جن آ گیا ہے اس پہ) جیسے دل پہ چھری کی طرح چلنے لگے۔
ایک محترمہ نے فجر کے پاوں تو چچا جان نے اسکے ہاتھ ملنا شروع کر دیئے۔
فجر کا جسم جیسے اکٹرنے لگا۔ اور چیخیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور ہر ایک بس مسلسل روئے جا رہا تھا کمرہ لوگوں سے کچھا کچ بھر گیا شادی میں آئے ہر شخص کی کوشش اس کمرے میں آنا تھی۔ لیکن بس بات یہی اٹک گئی کہ فجر پہ جن آ گیا ہے۔
بتاو تم کہاں سے آئے ہو؟ بتاو تمھیں وہیں چھوڑ آئیں گے۔ ایک عورت فجر کا کندھا ہلاتے ہوئے مسلسل یہی بات بولے جا رہی تھی۔ مجھے حیرت اس بات کی تھی کہ انکو کیسے معلوم کہ جن ہے اور اگر تو کوئی مرد ہے۔ فجر کی امی جو بے چاری اولاد کو نظروں کے سامنے تڑپتا دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی اسے کہا جانے لگا، لڑکیاں اتنا تیار ہو کے رات کو نکلی کیوں جن عاشق ہو گیا ہے لڑکی پہ، اب بس اسکو کبھی اکیلے نہ چھوڑنا یہ کچھ کر لے گی اپنے ساتھ۔ ایک قیامت گزر رہی تھی کہ مزید آسمان ٹوٹ ٹوٹ کر فجر کے گھر والوں پہ گرنے لگا۔
فجر کی چیخیں کچھ تھمنے لگی اور جسم جو پچھلے پندرہ منٹ سے اکڑا ہوا تھا اب نرم پڑھنے لگا، مٹھیاں کھلنے لگی۔ آنسوں کی لڑی فجر کے گالوں پہ بھی بہنے لگی۔ اور کچھ مرد و حضرات مسلسل یہی کہہ رہے تھے اس سے پوچھیں کے کہاں سے آیا ہے یہ؟ وہیں چھوڑ آئیں گے۔ وہیں چھوڑ آئیں گے۔ ۔۔۔۔
فجر نے اچانک آنکھیں کھول دی تو جیسے ماں باپ کے آنسوں میں ڈوبے چہروں پہ کچھ تسلی آنے لگی۔ فجر تو جیسے آنکھیں کھول کر سارے واقعے سے بے خبر ہو۔ ۔۔۔
شادی والا گھر جو کچھ دیر پہلے ماتم کے سماں میں ڈوبا تھا دوبارہ جشن میں ڈوب گیا، فجر اسکے ماں باپ اور بہنوں کے علاوہ ہر کوئی اپنی زندگی کی طرف لوٹ گیا۔ فجر کے گھر والوں کو نہ جانے کن کن خدشوں نے گھیر لیا۔ کیا واقعی ہی جن عاشق ہو گیا ہے انکی جوان بیٹی پہ؟ کیا وہ اب کبھی اسکو بیاہ نہیں سکیں گے؟ کیا اب وہ ہر کچھ دیر بعد اس اذیت سے گزرا کرے گی؟ آپ انکی جوان بیٹی۔ ۔۔شادی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے لیکن اُس گھرانے کے سر پہ جیسے کوئی ہتھوڑے مار رہا ہو۔
فجر کو اگلی شام اُسی وقت پہ پھر وہی دورہ پڑھ گیا۔ اور اب فجر سب وہی باتیں کرنے لگی جو کل اسکی بے ہوشی میں کی جارہی تھی۔ وہ ہر سوال کا جواب دینے لگی۔ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں جنگل سے اسکے ساتھ آیا ہوں۔ کہاں چھوڑ کے آئیں تمھیں؟ کہیں نہیں میں اسکو مار دوں گا مار دوں اور بلند آواز میں چیخیں اور پھر ویسے ہی جسم اکڑنے لگا دانت بھینچ لئیے۔ اور کہتی تھی وہ مجھے نظر آ رہا ہے وہ لڑکا ہے وہ کھڑا ہے۔لیکن یہ سب دس سے پندرہ منٹ کے لئیے ہوتا اور پھر جیسے اسے کچھ یاد نہیں۔
اب یہ سب ہر شام کا معمول بننے لگا۔ سارے خاندان والے بس روز فون کر کہ افسوس کرتے جیسے سارے گھر کے دنیا اُجڑ گئی ہو۔
فجر کو پیر فقیروں کے پاس لے جایا جانے لگا۔ لیکن کچھ بہتر نہ ہوا۔
فجر کی ایک بہن اسما جو نفسیات کی طالب علم تھی اس سارے دھچکے سے بجھ کے رہ گئی تھی لیکن اُس نے اب ماں باپ کو مشورہ دیا اسے کسی ماہر نفسیات کو دکھایا جائے۔ اسکو یہ سب نظر آتا ہے جسم اکڑ جانا یہ سب ایک نفسیاتی بیماری ھو سکتی ہے جس کو “شیزوفرینا “کہتے ۔۔اور ہو سکتا ہے یہ سب توجہ حاصل کرنے کے لئیے بھی ہو اکثر جوان لوگ یہ کرتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی۔ جس پہ اس نے خوب باتیں سنی۔ کیا دوائیوں پہ ڈال دیں اسکو کیا چاہتی ہو۔ کیا کہہ رہی ہو پاگل ہے یہ۔ خدا کو مانو
عمر بھی جو کے فجر کا چچا زاد تھا اسما کے ساتھ مل کر تایا تائی کو سمجھانے لگا کہ اسے ماہر نفسیات کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ خدارا مان جائیں لیکن نہیں۔!
وقت بیتا چلا گیا، دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے، دو مہینوں میں فجر کو ننگے بابا سے لے کر ہر مزار پہ لے جایا گیا نہیں تو صرف ایک ماہر نفسیات کو نہیں دیکھایا گیا۔ کیونکہ انکے خاندان میں سب پہ جن ہی آتے رہے ہیں اور وہ اسی کے ساتھ جیتے رہے ہیں۔ دماغی بیماری کو بیماری کبھی نہ مانا گیا۔ یہ سب گالی تھا انکے لئیے۔۔۔اس سارے وقت کے دوران فجر نے تہن دفعہ خود کو زخمی کیا۔ اب وہ خود سے اکیلے باتیں کرنے لگی۔ اسے لوئی نظر آتا تھا۔ اپنا کچھ خیال نہیں تھا اسے کپڑے گندے تو گندے کوئی کھانے کو دے دیتا تو دے دیتا نہ دیتا تو اسے بھی پرواہ نہیں۔ کتابوں کے صفحے پھاڑ پھاڑ کے پھنکتی اور ہر چیز توڑ دیتی تھی۔
عمر جو فجر کو چاہتا تھا ہر روز بس اسکے گھر کے چکر لگاتا اور اسکا یہ حال دیکھ کر دل خوں کے آنسوں رونے لگتا لیلن محبت ایسی ہی ہے کے برے حال میں بھی محبوب محبوب ہوتا ہے۔فجر کو اب دورے پڑنا کم ہو تو گئے جو سب کو لگتا کے بابا جی کہ دم کی وجہ سے ہے۔ دورے کم ہوئے لیکن اب فجر اب نارمل نہیں رہی تھی۔ وہ کسی اور دنیا میں گم ہو چکی تھی۔
چار ماہ بعد فجر کی بہن اور عمر کسی کو بتائے بغیر اسے چپکے سے ماہر نفسیات کے پاس لے گئے جب گھر پہ کوئی نہیں تھا۔
آپ نے اسے لانے میں بہت دیر کر دی!!! جب یہ سب شروع ہوا تھا تو لے کر آتے تو شاید سب بہتر ہو سکتا تھا لیکن اب اسکا نفسیاتی مسلہ بہت بڑھ چکا ہے۔
ایسی عمر میں چھوٹے نفسیاتی مسلوں کہ حل آسان ہوتے ہیں لیکن انکو لانے میں دیر کر گئی ہے۔
اماں ابا آپکی غلطی ہے کہا تھا میں نے کہا تھا، آپکے پیر بابا سب سے بہتر تھے نا اب یہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گئی ایسے ہی، اب جوان اولاد کی چوکیداری مسلسل کریں گے آپ لوگ۔۔۔ اب اسکو دوائیوں پہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اسما مسلسل ماں باپ پہ چیخ رہی تھی اور فجر صوفے کے کونے پہ ایسے سہمی بیٹھی تھی جیسے وہ بھی کچھ سمجھنا چاہ رہی ہو اور عمر دروازے پہ کھڑا محبت کے لئیے آنسوں بہا رہا تھا۔ کاش وہ یہ ہمت پہلے کر لیتا اور فجر کو زبردستی لے جاتا۔ ۔۔
ایک سال دو سال وقت گرزتا گیا۔ فجر مسلسل دواائیوں پہ آ گئی اگر دوائی نہ کھاتی تو دورے پڑھنے لگتے۔شہر کے مشہور ماہر نفسیات نے فجر کو شیزوفیرنیا کی بیماری تشخیص کر دی۔اب وہ مسلسل اسی کو دوائیاں کھاے گی جب تک زندہ ہے۔
عمر بس دیوانہ بن گیا۔سب کے منع کرنے کے باوجود دو سال سے روزانہ انکے گھر کے چکر لگاتا۔تایا تائی سے منت کر کے اس نے اجازت لی کہ وہ صرف اس کے ساتھ وقت گزارنے آیا کرے گا۔ فجر نفسیاتی ضرور ہو گئی تھی لیکن اب عمر کی عادی بھی جس دن عمر نہ آتا فجر بھی بے چین ہو جاتی۔۔
گزشتہ شام فجر دروازہ کھلا پا کر گھر سے نکل گئ اور گاڑی سے ٹکرا گئی۔چوٹیں زیادہ نہ آئی لیکن عمر اسے اس حال میں دیکھ کر مزید بکھر گیا۔اور آدھی رات کو قدم گھسیٹتے ہوئے سرد رات میں روڈ پہ پاگلوں کی طرح چلتا ہوا گھر جانے لگا۔ فجر ہسپتال کے بیڈ پہ پڑی تھی اماں ابا جانے کیوں آج رو نہیں رہے تھی بس کھلی آنکھوں سے اندھیرا دیکھ رہے تھے۔جوان اولاد سچ میں نفسیاتی مسلے کا شکار تھی کاش یہ بات مان لیتے۔۔