اُجرت
والدکے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری نجم الدین کے ناتواں کندھوں پر آن پڑی ، نجم الدین نے اس بار کو اٹھانے کے لئےبارہا کوششوں کے باوجود اس کے لئے روزگار کی راہیں ہموار نہ ہو سکیں۔ نجم الدین حلال روزی کا متلاشی تھا اور اسے اس بات کا علم تھا کہ حلال روزی میںہی برکت ہے لہٰذا نجم الدین حلال روزی کی تلاش میں گھر سے نکلا اور پیدل چلتا ہوا کلمہ چوک پہنچا۔یہ نجم الدین کا پہلا دن تھا کلمہ چوک میں بہت سارے مزدور ٹولیاں بنائے ان لوگو کے منتظر تھے جو انہیں اپنے ساتھ مزدوری کے لئے لے جائیں ۔نجم الدین بھی انہی ٹولیوں میں سے ایک کے ساتھ جا ملا۔مستری احسن اس ٹولی کا سربراہ تھا۔اس ٹولی میں نجم الدین سمیت پانچ افراد تھے ان میں سے مختیا ر نے کہا استادجی ! اگر حالات ایسے ہی رہے تو کہیں فاقہ کشی نہ کرنی پڑ جائے۔کاش ہمارے شہر میں بھی کوئی بڑی فیکٹری لگے جس سے کم ازکم روزی کا کوئی آسرا تو ہورونہ بھوک کب تک برداشت کی جا سکتی ہے، ابھی یہی باتیں ہو رہیں تھیں کہ انتے میں گاڑی میں سوار ایک شخص وہاں آیا جسے ایک مزدور کی ضرورت تھی اس گاڑی کے آتے ہی بہت سے مزدور اس کے اردگرد جا پہنچے۔ گاڑی سوار شخص کام کی نوعیت بتا کر بارگینگ کرنے لگا،ان دِنوں ایک مزدور کی مزدوری 500روپے تھی۔اس کی مسلسل بارگینگ سے 400روپے میں ایک مزدور اس کے ہمراہ جانے کے لئے تیار ہوگیا اس شخص نے مزدور کو اپنا پتا سمجھایا اور چلتا بنااور دوسری جانب وہ مزدور بھی عازمِ سفر ہوا۔
نجم الدین کئی گھنٹے وہاں رہا اور اس سامنے ایک ایک کر کے بہت سارے مزدوروں کو کام ملتا گیایہ منظر دیکھ کر نجم الدین کے چہرے پر مایوسی کے اثرات نمایاں ہونے لگے اور اس کی پریشانی بڑھتی گئی کہ کہیں آج بھی حسبِ سابق خالی ہاتھ گھر نہ جانا پڑ جائے۔نجم الدین انہیں خیالات میں گم تھا کہ اچانک ایک موڑ سائیکل سوار اس کے پاس آیا اوراس نے بریک لگائی ،موڑ سائیکل سوار نے نجم الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کیا تم مزدوری کرو گے؟ رات آندھی آنے کی وجہ سے میرے گھر کی ایک دیوار گرِ گئی اس دیوار کا ملبہ اور اینٹیں اٹھانے کا کام ہے۔اس پر نجم الدین نے جواب دیاصاحب! ہم لوگ یہاں اسی کام کے لئے ہی تو بیٹھے ہیں۔موڑسائیکل سوار نے نجم الدین کو اپنی موڑ سائیکل کےپیچھے بیٹھایااور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔گھر پہنچ کر نجم الدین نے کام شروع کر دیا، کچھ گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد وہ تھک گیا اور تھکان اتارنے کیلئے دوسری دیوار کے سایے میں جا بیٹھا ابھی بیٹھا ہی تھا کی اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ تقریباً ڈیرھ گھنٹےسوتا رہا۔جب اس کی آنکھ کھلی نجم الدین کو اپنی لاپرواہی کا بہت ملال ہوااور وہ دل میں سوچنے لگا کہ میںنے مزدوری کو صحیح طریقے سے نہیں نبھایا اب اس سے ملنے والی اجرت حلال نہیں رہے گی۔دل میں پیدا ہونے والے خیال نے نجم الدین کو جھنجوڑ دیا وہ فوراً اٹھا اور پہلے سے زیادہ محنت کرنے لگا ۔ایک طرف تو اس کے ذہن میں اسی بات کو لے کر بہت سارے خیالات گردش کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ اپنی کوتاہی کو دور کرنے کیلئے مزید جی جان سے کام کرنےلگا اور دل کو تسلی دیتا رہا۔بلاآخر شام کو جب نجم الدین اپنے کام سے فارغ ہوا تو مالک مکان سے مزدوری لیتے ہوئے اس نے اپنی کوتاہی اور بعد کی محنت کا ذکر کیا ۔مالک، نجم الدین کی بات سنا کر مسکرایا اور اس نے نجم الدین کو 500روپے نکال کردے دیئےگو کہ اس کی مزدوری اتنی نہیں بنتی تھی، بہرحال مالک مکان نے اس کی صداقت اور محنت کو سراہتے ہوئے ایسا کیا۔
نجم الدین نے 500روپے تو لے لئے مگر اس کے دل کی کیفیت بہت عجیب ہو رہی تھی۔وہ اسی کشمکش میں مبتلا رہا کہ پتا نہیں یہ مزدوری حلال بھی ہے یا نہیں۔اپنی اس روزی کے بارے میں اس کے دل میں طرح طرح کے سوالات جنم لیتے رہے۔چلتے چلتے جب وہ حسن آراء کے گھر کے قریب سے گزرا تو اس کے قدم رُک گئے۔حسن آراء اپنے حسن و جمال اور جسم فروشی کی وجہ سے کافی شہرت رکھتی تھی،اس کی خوبصورتی کے چرچے ہر زبان زدِ عام تھے۔نجم الدین یہ سوچ کر حسن آراء کے گھر میں داخل ہوگیا کہ اگر میری روزی حلال ہے تو حلال اور نیک کام میں ہی خرچ ہوگی اور اگر اس میں حرام کی آمیزش ہے تو حرام اور برے کام میں خرچ ہوگی۔وہ شام کا وقت تھا نجم الدین جیسے ہی حسن آراء کے گھر میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ حسن آراء بناؤ سنگھار کرکے صحن میں گاؤ تکیے سے ٹھیک لگائے بیٹھی ہے اور اس کے نظریں اپنے گھر کے باہری دروانے پر جمی ہیں۔حسن آراء نے جب نجم الدین کو آتے دیکھا تو اپنی نشست سے اٹھی اور اپنے گاہک کا استقبال کرتے ہوئے نجم الدین کا ہاتھ پکڑ کر صحن میںلے آئی اور اسے ایک کرسی پر بیٹھا دیا۔
نجم الدین نے حسن آراء کی طرف دیکھا اور خاموش نگاہی میں اس سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
حسن آراء نے نجم الدین کی خاموش نگاہی کا سوال خوب سمجھ کر جواب دیا! کہ میں ایک آدمی کا 300روپے لیتی ہوں ، وقت کی کوئی قید نہیں۔نجم الدین نے حسن آراء کی بات مکمل ہوتے ہی اسے 300روپے نکال کردے دیئے ۔جیسے ہی حسن آراء کو 300روپے ملے تو اس نے اپنے ملازم کو آواز دی۔آواز سن کر بخشو دوڑا دوڑا حاضر ہو ا اور کہنے لگا !جی بیگم صاحبہ؟
حسن آراء نے اسے 300روپے دیتے ہوئے کہا!
یہ میری آج کی پہلی کمائی ہے لہٰذا یہ پیسے مسجد میں دے آؤ۔