نظامی گنجوی کا شعری اسلوب

ڈاکٹر صدف نقوی

صدرِ شعبہ اُردو، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد

Abstract:

Nizami Ganjavi’s poetic style… Nizami Ganjavi is one of the most important Persian poet of the twelfth century AD. He was self-possessed and had a broad-minded personality. He considered goodness and nobility as necessary for the elevation of character and the completion of personality. History of Persian is incomplete without Nizami Ganjavi. Nizami has written on epics, philosophy of love, and ethics. Great poets have imitated the five masnavis of Nizami, which are in different styles. In his five Masnavis, Makhzan Asrar, Khusrau Sharan, Laila Majnu, Haft Pekar, Sikandar Namah, each of them has a different poetic style. Nizami Ganjavi has a unique position in Persian poetry due to these poetic merits.

Keywords: Nizami Ganjavi, Persian poet, Makhzan Asrar, Khusrau Sharan, Laila Majnu, Haft Pekar, Sikandar Namah.

نظامی گنجوی کا شمار بارہویں صدی عیسوی سے فارسی زبان کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے وہ خود دار اور وسیع النظر شخصیت کے حامل تھے۔ نیکی اور شرافت کو انسانی کردار کی بلندی اور شخصیت کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ نظامی کا اصل نام الیاسیوسف، کنیت ابو محمد، لقب نظام الدین اور تخلص نظامی تھا ۔ نظامی آذربائیجان کے ایک خوب صورت شہر گنجہمیں۵۳۳ ھ میںپیدا  ہوئے اور ۵۹۹ھ میںوفات پائی۔

فارسی ادب کی تاریخ نظامی گنجوی کے ادبی کارناموں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ اعتدال و متانت کا دامن کبھی اُن کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ رضیہ اکبر حسین لکھتی ہیں :

’’ جس طرح اُن کی زندگی ایک متوازنروش رکھتی تھی اسی طرح اُن کی شاعریبھی انسانی تہذیب کی اِس اعلیٰ قدرتوازن کی نمائندہ ہے۔‘‘(۱)

نظامی کا خاندان علم و فضل کاحامل تھا۔ نظامی کے بھائی’’قوامی مطرزی‘‘بھی مشہور شاعر تھے۔ نظامی عالم با عمل تھے۔ نظامی نے درسی علوم کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد شعر کہنے شروع کیے ۔ شعر گوئی کا ملکہقدرت کیطرفسے ودیعت کردہ تھا۔ اس لیے ہر شعر موزوں ہونے لگا ۔اسلیے نظامی گنجومی کی سلاطین وقت نے عزت افزائی کی اور فرمائش کر کے ان سے کتب لکھوائیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے بہرام شاہ کی فرمائش پر متفری’’مخزن الاسرار‘‘۵۵۹ھ میں لکھی۔ اُس وقت نظامی کی عمر ۲۵ سال تھی۔بہرام شاہ نے خوش ہو کر نظامی کو پانچ ہزار اشرفیاں، سرخ اونٹ اور قیمتی ملبوسات عطا کیے۔ نظامی کییہمثنوی تصوف ، فلسفہ و فکرکے اسرار و رموز پر مشتمل ہے، لیکن نظامی کی شاعری میں ہمیں ہر رنگ نظرآتاہے۔ شبلی نعمانی لکھتے ہیں :

’’ فردوسی رزم کا مرد میدان ہے۔ عشقیہ شاعری میں اِس کو کمال نہیں ، سعدیاخلاقی اور عشقیہ شاعری کے پیغمبر ہیں لیکن رزم میں پھیکے ہیں۔۔۔خیامصرف  فلسفہ لکھ سکتا ہے، حافظ صرف غزل سکتے ہیں، بخلاف اس کے نظامی نے رزم، بزم، فلسفہ عشق،اخلاق سب کچھ لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے لا جواب لکھا ہے۔‘‘(۲)

نظامی نے اپنیمثنوی’’مخزن الاسرار‘‘میں سب سے پہلے پانچ نعتیں لکھیں اور ہر ایک کا رنگ جدا ہے۔فلسفیانہ مباحث کو شاعری میں شامل کرنا ہو یا عقیدہ کو موج سے پاک کرنا ، نظامی ہی کو اولیت حاصل ہے۔ نظامی نے سب سے پہلے ساقی نامہ کا آغاز کیا۔ نظامی نے شروع ہی سے اپنے لیے طرز خاص مقررکر لی تھی۔

اگر چہ نظامیبادشاہان وقت کی علم و ادب پروری اور قدرشناسی سے آگاہ تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی شاعری میں بادشاہوں کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کی ہے، اگر چہ اُن کی تخلیقاتبادشا ہوںسےمنسوبہیں لیکن انہوں نے اپنے آپ کو کبھی کسی دربار سے وابستہ نہیں کیا۔البتہ حاکمانِ وقت کے انعام و اکرام کو وصول کیا ہے۔ بلاشبہ نظامی کی بلندشخصیت اور اُن کے طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ حاکمان وقت نے ہمیشہ انہیں قدر و منزلتکی نگاہ سے دیکھا۔ رضیہ اکبر حسن لکھتی ہیں:

’’ ایسی سچی قدر و منزلت سلاجقہ کے عہد میں کسی دوسرے شاعر کو شاید ہی ملی ہو اور یہ نظامی کی بلند و پاکیزہ شخصیت کا ہی فیضان تھاجس نے خود اپنا مقام پیدا کیا اور زندگیبھر اُسے برقرار رکھا۔‘‘(۳)

فارسی شاعری کے موضوعات اور اسلوب دونوں میںنظامی کو مجتہد کا درجہ حاصل ہے ۔

 نظامی کی پہلی مثنوی’’مخزن الاسر ار‘‘تصوف و مذہب کے مضا مین پر مشتمل تھی اور دوسریمثنوی’’شریں خسرو‘‘ جو کہ سلطان طغرل  بن الاسلان کی فرمائش پر لکھی۔طغرل نے سلطنت کا تمام کاروبار محمد بن ایلدکز کے ہاتھ میں دے دیا جو ابتدا میں غلام تھا اور ترقی کرتے کرتے امیر الامراء کے نصب پر پہنچ گیا۔ قزل ارسلان اس کا بھائی تھا۔’’شریںخسرو‘‘ مکمل ہوئی تو  محمد بن ایلدکزوفات پا چکا تھا اور اُس کا بھائی قزل ارسلان بادشاہ بن چکا تھا۔قزل ارسلان نے نظامی کو عزت و احترام سے دربار میں بلایااور بہت عزت  و تکریم سے نوازا اور مثنوی کی بے حد تحسین کی اور نظامی کو ایک گاؤں ’’حمد ونیان‘‘ انعام کے طور پر عطا کر دیا۔شبلی نعمانی اس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’مثنوی ’’شریں خسرو ‘‘میں نظامی نے فن کارانہ چابک دستی کا مظاہرہ کیا ہےاور غیر معمولی قوت متخیلہ سے کام لیا ہے۔ خسرو کی تعریف کے چند اشعار دیکھئے:

شگرفی،چابکی، حُسینی، دلیری
یہ لہر آہو، یہ کینہ تند شیرے‘‘(۴)

خسرووشرینسے خفا ہو جاتا ہے۔شریں  کی کیفیت کےلیے الفاظ کا استعمال دیکھیے:

’’شریںخسروجب انجام کو پہنچیتو محمد بن ایلدکز جودرحقیقت تاج و تخت کا مالک تھا، وفات کر چکا تھا اور اُس کا بھائی قزل ارسلان اس کا قائم مقام مقرر ہوا تھا۔ اُس کو شرین خسرو کے تمام ہونے کی خبر پہنچی تو نظامیکی طلبی کا فرمان بھیجا،قاصد فرمان لے کر آیا،فرمان کو پہلے سر پر رکھا،پھر تین جگہ بوسہ دے کراور دشت بیابانطےکرتے ہوئے قریباًایکمہینہ میں پائے تخت میںپہنچے، قاصد نے جا کر دربار میں اطلاع کی،قزل ارسلان  نے شمس الدین محمد کوحکم دیا کہ  خود جا کر اُن کو ساتھ لائے،دربار میں پہنچے تو دیکھا کہ مجلس عیش آراستہ ہے۔ساز چھیڑ رہے ہیں،گانا ہو رہا ہے،بادہ وجام کا دور چل رہاہے۔قز ل ارسلان نے فورا ً ان کے آداب سےگانا بجانا بند کرا دیااور تخت سے اُٹھ کرتعظیم بجا لایا۔پھر بیٹھنے کا اشارہ کیا،ہر طرح کی باتیں ہو تی رہیں۔بیچ بیچ بزرگانہ نصیحتیں بھی کرتے جاتے تھے۔مدحیہ نظم لکھ کر لے گئے تھے۔اُس کو بتانا چاہا تھا قاعدہ یہ تھاکہ شعراء اپنا کلام خود نہیں پڑھتے تھے بلکہ کسی خوش لہجہ سے پڑھواتے تھےجو ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتا تھااور اُس کو راوی کہتے تھے۔چنانچہ  راوی نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا یہ ہی دستور تھا کہ جب  قصیدہ پڑھا جاتا تھا تو شاعر کھڑا ہو جاتا تھااور قصیدے کے ختم ہونے تک کھڑا رہتا تھا۔نظامی نے بھی اس قاعدے کو بجا لانا چاہا تھالیکن قزل ارسلان نے منع کر دیا۔‘‘(۵)

          غرض کہ خسرو شریں میں نظامی کا اسلوب تخیل کی بلندیوںپر نظر آتا ہے ۔

نمک درِ نرگس بے خواب می کرد
زنرگس لالہ راسیراب می کرد(۶)

ابوالمظفر شروان شاہ نے نظامی کو اپنے ہا تھ سے خط لکھا کہ اس کے لیےلیلیمجنوں کاقصہ نظم کرے۔ نظامی نے یہقصہ چار ماہ سے بھی کم مدت میں مکمل کر کے۴۵۸ھ میں بادشاہ کو پیش کیا اور صلے کے طور پر بادشاہ سے درخواست کی کہ اس کے بیٹے کو ولی عہد کے رفقاء میںشامل کر لیا جائے۔ نظامی کی مثنوی’’لیلی و مجنوں ‘‘ اسلوب بیان کے حوالے سے انفرادیت کی حامل ہے۔ ایسی ایسی تشبیہات کا استعمال ہےجو نظامی کیجدتِ فکر کا عکاس ہے۔ یہ اشعار دیکھیے،جن میںلیلیٰ کے حسن  کو کس خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے :

ماہِعربییہ رُخ نمودن
ترک عجمیپہ دل ربودن
زلفش چو شبے رخش چراغ
یاشعلٔہبہچنگ زلفے
مجموعۂ بیت زندگانی
شہہ بیت قصیدہجوانی(۷)

۱۴رمضان ۵۹۲ھ میں سلطان غیاث الدین کرپ ارسلان علاء الدین اقنقری کی فرمائش پر مثنوی’’ہفت پیکر‘‘( بہرام گور کا قصہ لکھی)۔

 قزل ارسلان کے مرنے کے بعد اس کا بھتیجا محمد بن ایلدکز کا فرزند ابو بکر نصرۃ الدین ۵۸۷ھ میں سند آرا ہوا۔نظامی کو اس  خاندان سے قدیم تعلق تھا۔ اُس وقت تک جو کتابیں لکھی تھیں وہ سلاطینکی خواہش پر لکھی تھیں۔ لیکن’’سکندرنامہ‘‘ اُنہوں نے اپنی خواہش کے مطابق ابو بکر نصرۃ الدین کے نام موسوم کیا۔یہ کتاب ۵۹۹ھ میں انجام کوپہنچی۔کتاب لکھنے پر بادشاہ نےمقررہ رقم سواری کا ایک گھوٹر اور بیش قیمتکپڑے وغیرہ عطا کیے ۔ یہ کتاب ان کی آخری کتاب تھی اس پر نظامی کی شاعری اور عمر دو نوں کا خاتمہ ہوا۔ نظامی کی’’ مخزن الاسرار‘‘،’’خسرو شرین‘‘،’’لیلیٰ و مجنوں‘‘، ’’ہفت پیکر‘‘ اور ’’سکندر نامہ‘‘ پانچ مثنویاں ہیں جن کو خمسہ نظامی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھینظامی نے بہت سی غزلیں وغیرہ لکھی تھیں۔ لیکن اُن کا باقی کلام مفقود ہے۔نظامی کی شاعری میں تشبیہ واستعارات اپنے عروج پر نظر آتے ہیں، لیکن جذ بات نگاری میں بھی  نظامی کو مہارت حاصل ہے۔

نظامی نے تراکیب کے استعمال سے اپنے کلام میں زور، بلندی اور شان و شوکتکے اوصاف پیدا کیے ہیں۔

 نظامی کی قوت تخیل، فارسی، شاعری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔ مشکل، نازک اور لطیف معاملات کے بیان میں ان کیجدت اور اختراع نظر آتی ہے۔داستان کے قصہ کو تشکیل دینے ، ترتیب، واقعات، تمہید، واقعہ نگاری میں، بندش مضامین، استعارات ، مبالغہ ہر جگہ ایک نیاپن نظر آتا ہے ۔

فارسی شاعری کا اصل سرمایہ عشقیہ شاعری ہے۔ نظامی کی مثنویوں میںخسروشرین میںعشقیہ مضامین کا بیانبے مثال ہے۔رضیہ اکبر حسن لکھتی ہیں :

’’ بہر حال یہ نظامی کا پہلا کارنامہ ہے۔جو نہ صرف ساسان شاہی کے اُونچےطبقے کی رومانٹک زندگی کی اچھی تصویر ہے بلکہ ساتھ ہی نظامی کے عہد میں محبت کا جو نیا تصور اُبھر رہا تھا۔ محبت جس طرح ایک Passionبن رہی تھی، مگر ابھی اُس نے دور وسطیٰ کی خالص رومانٹکشکل اختیار نہیں کی تھی ، اس کا بھی اچھا نمونہ ہے۔‘‘(۸)

’’خسر و شرین‘‘ کی داستان ساسانشا ہی آخری دور کی داستان ہے، جس کا آغازہیخسروپرویز کی شاہ زادگی کے زمانے سے ہوتاہے۔ابھی اُس پر ملک و حکومت کی ذمہ داریاں عائد نہیںتھیں۔ شرین آرمینیہ کی شہزادی ہے۔شایور خسروکا دوست ہے۔ اور اس کیز بانی ہیشرین کے حسن کے متعلق سن کر وہ اُس پرفریفتہ ہوجاتا ہے۔

خسرو جب باپ کا جانشین بنتا ہے تو سلطنت کی مجبوریوں میں گھر کر اپنے شوق بے تاب کو پسِپشت ڈال دیتا ہے۔ نظامی کا یہ شعر اس صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے:

دلش گرچہ بہ شرین مبتلا بود
بہ ترک مملکت گفتن خطا بود(۹)

لیکنبد قسمتیسے اُس کو تخت و تاج چھوڑنا پڑتا ہے اور شرین سے ملتا ہے۔ شرین بڑے نشاط و شوق سے اِس کا خیر مقدم کرتی ہے۔ عشق و محبت میں سرشارخسرو اپنے وقارشاہی اور احساسِ فرض کو بھی بھولتا جاتاہے۔ایسے میں شرین  اُسے یاد دلاتی ہے تو وہ اُسے اپنی ساری بربادی کا ذمہ دارقرار دے کر ملک روم کا رُخ کرتا ہے اور شہنشاہ روم کی مدد سے اپنا تخت و تاجحاصل کرتا ہے اور اُس کی بیٹی مریم  سے شادی بھی کر لیتا ہے۔مریم اُس سے شادی سے پہلے ہیقسم لیتی ہے کہ وہ کسی اورسےتعلق نہیں رکھے گا۔خسرو اور فریاد کے درمیان سوال و جواب بھی نظامینے بڑی سچائی سے بیان کیےہیں۔

مختصریہ کہ ہزار شوق ، مجبوریوں اور ر شک و رقابت کے جذبات سے مزینیہ داستان آگے بڑھتی ہے اور بالآخر مریم کی وفات کے بعددوچاہنے والوں کو ملا دیتی ہے ۔ خسرو شاہی تزک و احتشام کے ساتھ اُس کو اپنی بیویبنا کر لاتاہے۔ لیکن اس داستان میں الم ناک موڑ اُس وقت آتا ہے، جب خسرو کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور شیرویہ شرینکے لیےاپنی محبت ظاہرکرتاہےشرین جس کے دل میں صرف خسرو کی محبت ہوتی ہے۔ آغوش خسرو میں اپنے ہی ہاتھوں اپنی جانلے لیتی ہے ۔ اس پوری داستان میں جس طرح نظامی نے جذبات کی عکاسیکی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

دوسری مثنوی’’ لیلی و مجنوں‘‘ ہے۔ سید عامری عرب کے ایک قبیلہعامر کا سردار ہے،متیں اُس کا اکلوتا بیٹا ہے۔لیلیٰ ایک دوسرے عرب قبیلہنجد کے رئیس کیبیٹی ہےدونوں ایک مکتب میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور محبت کے جذبہ بے اختیارکا شکاربنتے ہیں۔نظامیکے الفاظ میں :

عشق آمود کرد خانہ خالی
برداشتہتیغ لااُبالی(۱۰)

قیس کے باپ کو جب پتہ چلتا ہے تو وہ اُس کو اس عشق سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب اُس کیبے تابی دیکھ نہیںپا تاتو لیلیٰ کے باپ سے اُس کا رشتہ طلب کرتا ہے۔ لیلیٰ کا باپ انکار کر دیتا ہے ۔ قیسدیوانہہو کر جنگلوں، بیابانوں کا رخ کرتا ہے۔اسی اثنا میں قبیلہ بنی اسد کا ایک نوجوان ابنِ اسلام لیلیٰ پر عاشق ہوتا ہے اور شادی کا خواہاں ہوتا ہے۔ لیلیٰ کا باپ راضی ہو جاتا ہے کہ بیابان میں قیس کی ملاقات نوفل نامی ایک اور قبیلہ کے جری سردار سے ہوتی ہے جو اس کو لیلیٰ سے ملانے کا عہد کرتا ہے اور دو سو سواروں کے ساتھ لیلیٰ کے والد کے پاس پہنچتا ہے اوراس کو کہتا ہے کہ لیلی اُس کے حوالے کر دے۔

دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوتیہے۔نوفل شکست  کھا کر واپس آ جاتا ہےاور کچھ عرصہ بعد دوبارہ بڑی طاقت سے حملہ کرکے لیلیٰ کے باپ کو شکست دیتاہے۔لیلیٰ کا باپ نوفل کو کہتا ہے کہ اگر تو اُس دیوانےکےلیے لیلیٰ کو لے کر جائے گاتو وہ اپنے ہاتھوں سے اُس کا گلہ دبا دے گا۔بالا آخر نوفل بھی ہار مان جاتاہےاور لیلیٰ کی شادی ابن سلام سے ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنیمحبت کے غم میں دنیاسے رخصت ہو جاتی ہے اور اُس کا دیوانہقیس بھی  پہلوئے لیلیٰ میںجاسوتا ہے۔

نظامی نے اس معمولی واقعے کو دو دلوں کی خون شدہ حسرتوں کو اس ادبی کہانی کی شکل دی کہ محروم عاشق ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہوگئے۔

نظامی کی مثنوی’’ہفت پیکر‘‘ میں نظامی کی شاعرانہ ذہانت کے زیادہ مواقع نظر آتے ہیں:

’’ زبان و بیان کی سحر کاری سےہٹ کر جدت وجود طبع کے لحاظ سے بھییہمثنوی ان کی دوسریمثنویوں سے اپنی ایکالگ ، امتیازی حیثیت رکھتی ہے ۔‘‘(۱۱)

نظامی کییہ مثنوی سات قصوں کا مجموعہ ہےجو بہرام گور کی سات محبوب بیویاں بیان کرتی ہیں۔ ان کہانیوں کے بیان میں نظامی کے اظہار بیانکی سحر کاری نے دل فریب بنا دیا ہےیہ سات حصے پوری داستان نہیں بلکہ بہرام گورکیداستان حیات کے مختلف واقعات میں نظامینے ان قصوں کو بنیادی حیثیت دی ہے۔

 نظامی کی آخری مثنوی’’ سکندر نامہ‘‘ ہےجو دوسری  مثنویوں سے زیادہضخیم ہےاور ان کے آخری ایام کییادگاررہے۔نظامی نے اسکندراعظم کی زندگی اُس کے کارنامہ اور اس کی تلاش آب حیات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سکندرکی داستان نظامی تین حصوں میں لکھنا چاہتے تھےمگر آج ’’سکندرنامہ‘‘کے  جتنےبھی حصے ملتے ہیں ،وہ دوہیحصوں  میں منقسم ہیں۔ دوسرا اور تیسرحصہیک جا ہو گیاہے۔

پہلا حصہ’’شرف نامہ‘‘یا’’اسکندر نامہ بری‘‘ ہے۔ دوسرا حصہ’’ اقبال نامہیا اسکندر نامہبحری ‘‘کہلاتا ہے۔ یہ دونوں حصےپہلاحصہ’’شرف نامہ‘‘ قزل ارسلان کے بھتیجےاتابی ابوبکر نصرة الدین سے منسوب ہے اور دوسرا حصہ ’’اقبال نامہ‘‘ فرمان روائے موصل ملک عز الدین مسعود بن ارسلان سلجوقیکے نام منسوب ہے۔

نظامی نے اپنی غیر معمولی ذہانت ، جرأت اوربہادری سے فاتح عالم کی زندگی کے واقعات کو اکٹھاکیاہے ۔ نظامی نے اسکندر ذوالقرنین اور اسکندر یونانی کو ایکہی شخصیت دکھایاہے۔یہ نظامی سے زیادہ اُس وقت کیمروجہ تاریخ دانوں کی غلطی ہے۔

’’اسکندر نامہ ‘‘میں نظامی نے’’ساقی نامہ ‘‘کی روایت کابھی آغاز کیا ہے اور اپنیشعلہ بیانی سے اِس قصے کو دلچسپ بنا دیاہے۔

پانچ مثنویوں پر مشتمل ’’ خمسہ نظامی‘‘ اپنے اسلوب بیان ترکیبوں میں چستی،کلام میں زور اور شان و شکوہ کی بدولت اپنی پہچان آپ ہے۔

حوالہ جات

  1. رضیہ اکبر حسن نظامی گنجوی، حید ر آباد:مکتبہ صبا ،س ن ، ص ۳۰
  2. شبلی نعمانی، مولانا، سوانح عمری نظامی گنجوی، دہلی: مطبع مجتبائی جدید، س ن، ص۱۰
  3. رضیہ اکبر حسن ، نظامی گنجوی، ص۳۔۴
  4. نظامی گنجومی، خسرو شیریں،لکھنو : طبع لکھنو، س ن،ص ۲۸
  5. شبلی نعمانی ،سوانح عمری نظامی گنجوی، ص۳
  6. ایضاً،ص۲۸
  7. نظامی گنجوی ، لیلیٰ مجنوں ، لکھنو : طبع لکھنؤ ، س ن،ص۳۰
  8. رضیہ اکبر حسن ، نظامی گنجوی، ص ۸۹
  9. نظامی گنجومی، خسرو شیریں،ص۷
  10. نظامی گنجوی، لیلیٰ مجنوں، مرتبہ: وحید دستگردی، طبع طہران، ص۷۲
  11. رضیہ اکبر حسین، نظامیگنجوی،ص۱۳۴