مغربی ذرائع ابلاغ ایڈورڈ سعید کی نظر میں
Western Media in Views of Adward Said
عارفہ
پی ۔ایچ ۔ڈی، سکالر شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد
ڈاکٹر صدف نقوی
صدرِ شعبہ اردو ، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد

Arifa
PhD, Scholar Urdu Department, Govt. College Women University Faisalabad. arifaq4@gmail.com
Dr. Sadaf Naqvi (Corresponding Author)
Chairperson Urdu Department, Govt. College Women University Faisalabad. sadafnaqvi@gcwuf.edu.pk
Abstract:
Edward Said’s book” Covering Islam “is not just a book but a reality-based document that delves into the exaggerated portrayals, unchanging attitudes, and deep-seated hostility towards Muslims and Islam, aspects that are often overlooked in civilized societies. In the Western world, Islam is synonymous with hijacking and terrorism. This is why a country like Iran has become an open threat to Western nations. According to Edward Said, the relationships between the Islamic world, the Arabs, the East, and the West, particularly France, Britain, and America, form the basis of the book. In Orientalism, the book discusses Napoleon’s invasion of Egypt, the stages of colonialism, and the emergence of modern Oriental studies in Europe, which began in the 19th century. This important book, Covering Islam, also covers the period after World War II, when British and French powers declined and America emerged as a global force. The book narrates the story of the fusion of knowledge and power in Orientalism. Furthermore, it addresses the issue of Palestine, exploring the Western perspective on the Zionist movement that led to the creation of Israel and the national struggle of the Palestinian Arabs for self-determination. The central theme of Covering Islam is the contemporary world, in which the behavior of the United States is analyzed.
Keywords: Adverd Said, European, Revolution of Iran, Biased Media

معاشرے کی اصلاح و تجدید میں ذرائع ابلاغ کی ضرورت و اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ناصرف اپنی اہمیت میں بے مثل ہے۔ بلکہ دوسرے تمام شعبہ ہائے جات پر اثر انداز ہو کر حقائق کی صورت گری میں معاون ثابت ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی اخلاقی و معیاری حدود و قیود کا تعین کر لیا جائے ۔ تا کہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
بیسویں صدی اپنی ہنگامہ خیزی کی بدولت ادب سے سائنس تک ، دستکاریوں سے مشینوں تک ، زمین سے خلا تک ، ایٹم کی دریافت سے ایٹی بم کے اثرات تک تبدیلی کا محرک ثابت ہوئی ۔ دنیا بھر میں علوم و فنون کی نئی پہچان کے ساتھ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی اور سوچ بچار کے نئے دروا ہوئے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مغرب میں بہت پہلے اپنے قدم جما چکا تھا۔ مگر اس کے اثرات مشرق میں بھی پہنچنا شروع ہو چکے تھے۔ رسائل ، جرائد ڈائجسٹ اخبار، اشتہارات، سائن بورڈز ، ٹی وی کیبل ، نیٹ ورک ، انٹر نیٹ ،ٹیلی فون ، موبائل فونز وغیرہ وہ ذرائع آلات بن کر ابھر ے جنھیں آج کے دور میں کسی ملک ، سلطنت یا حکومت کا اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔
حکومتوں کے بننے سے بگڑنے تک میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بین الاقوامی طور پر اس وقت پورے میڈیا پر مغرب کا تسلط اور اس کے کارندوں کی اجارہ داری نظر آتی ہے۔ انسانیت کی پا مالی ، بے حمیّتی ، پرو پیگنڈا منفیت اور رائے عامہ کواپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کی روش عام ہے۔ اس کا شاخسانہ ہے۔ کہ آئے روز مغربی میڈیا اسلام کے خلاف کسی نہ کسی پیرائے میں طعنہ زنی اسلامی اقدار کی تضحیک، اور اشاروں کتابوں میں پھبتی کسنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ارباب اختیار اور خفیہ ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں۔ یہ طرزِ عمل جوصلیبی جنگوں کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک جاری ہے۔ مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتی چلی آرہی ہے۔
“مغرب اسلام سے خوف زدہ ہے جس کے لیے اس نے Islamo Phobia کی اصطلاح گھڑی ہے جو اس وقت پورے یورپ کے سر پر بھوت بن کر سوار ہے۔ اس مصنوعی خوف نے یورپ میں بالخصوص اور باقی دنیا میں بالعموم ، اسلام کے منفی پہلو اور تنفر کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام کے خلاف تنفر کو پھیلانے میں مغربی میڈیا نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ “(۱)
ایڈورڈ سعید نا صرف ہمہ گیر شخصیت کے مالک، قوتِ ارادی سے مالا مال، بڑے ادیب ، نظریہ ساز ، میدانِ سیاست کے شہسوار تھے بلکہ مسلمانوں کی عاقلانہ اور مہذب آواز بھی تھے ۔ایڈورڈ سعید کی بصیرت افروز کتاب Covering Islam اسی سلسلے کی اہم تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ “اسلام اور مغربی ذرائع ابلاغ” کے نام سے ظہیر جاوید نے کیا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اس کتاب Covering Islam میں اپنی نگاہِ باریک بیں سے قرنوں پر محیط مشرق و مغرب کے تعلقات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا ہے اور بتایا ہے کہ معلومات کی اہم شاخ یعنی ذرائع ابلاغ مغرب کے سامراجی توسیع پسندی کا ایک اہم آلہ ہے۔ ان کے خیال میں مغرب میں مشرق پر غلبہ پانے کے لیے علوم کی ایجادات ہوئیں جن میں ذرائع ابلاغ بھی ایک اہم رکن ہے۔ بقول علامہ اقبال
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات (۲)
ایڈورڈ سعید نے مغرب اور اسلام کے درمیان جس کشا کش کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا، صیہونی اور صلیبی طاقتوں کی چال بازی کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اسے اپنی تصانیف میں رقم کردیا۔ ایڈورڈ سعید نے جس کوشش کا آغاز Orientalism (۱۹۷۸ء)سے کیا اس سلسلے کی دوسری کتاب The Question of Palestine اور تیسری کتاب Covering Islam (۱۹۸۱ء) ہے۔ اورینٹل ازم میں علوم اور طاقت کے اد غام کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جبکہ The Question of Palestine میں فلسطین کا مسئلہ اسرائیل کا روپ دھار لینے والی صہیونی تحریک فلسطین کے مسلمان عرب باشندوں، ان کے حق خود ارادیت کی قومی جدو جہد کے متعلق مغرب کے نکتہ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ Covering Islam کا بنیادی موضوع “ہم عصر دنیا ” ہے جس میں امریکی طرزِ عمل کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
“متنازعہ کتاب کو رنگِ اسلام (۱۹۸۱ء) میں انھوں نے جانچ پڑتال تحقیق اور فکری فطانت کے بعد یہ بتایا ہے کہ کس طرح مغربی ذرائع ابلاغ نے مشرقِ سطیٰ کے بارے میں مغربی تناظر کی طرف داری کی ہے۔ ” (۳)
ایڈ ورڈ سعید کی کتاب Covering Islam ابتدائی تعارف کے علاوہ تین حصوں پر مشتمل ہے ۔ ان تین حصّوں کو پہلے دو حصوں کے تین تین ذیلی عنوانات اور تیسرے حصّے کو دو ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی تین تعارف ای ۔ ڈبلیو ایس نے تحریر کئے ۔ جن میں ایک تعارف کتاب کی پہلی اشاعت 1980ء ، دوسرا دوسری اشاعت میں مزید اضافے کے ساتھ 1981ء اور تیسرا وینٹج ایڈیشن کے نام سے 1996ء میں لکھا گیا۔
ایڈورڈ سعید کی کتاب Covering Islam محض ایک کتاب نہیں بلکہ حقیقت افروز دستاویز ہے۔جو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مغربی مبالغہ آرائی ، نہ تبدیل ہونے والی سوچ اور گہری دشمنی کے ان پہلوؤں تک رسائی دیتی ہے۔ جو متمدن معاشروں میں ،ہیچ سمجھے جاتے ہیں۔ مغربی دنیا کے نزدیک اسلام “ہائی جیکنگ اور دہشت گردی” کا دوسرا نام ہے۔ اسی سبب ایران جیسا مسلم ملک مغربی ممالک کے لیے کھلا خطرہ بن چکا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے نزدیک عالمِ اسلام ، عربوں اور مشرق اور دوسری طرف فرانس ، برطانیہ اور امریکہ کو رکھ کر ان کے مابین تعلقات کا جائزہ دراصل اس کتاب کا محرک بنا، اور ینٹل ازم میں مصر پر نپولین کے حملے ، نو آبادیات کے مراحل کا ذکر یورپ میں شرق شناسی کی جدید عملی تحقیق جس کا آغاز انیسویں صدی میں ہو چکا تھا، بتایا گیا ۔ اس سلسلے کی اس اہم کتاب Covering Islam میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بات آتی ہے۔ برطانوی اور فرانسیسی اقتدار کے خاتمے اور امریکہ کے ابھرنے کی داستان آجاتی ہے۔
ستر کے عشرے کے بعد مغرب کے طرزِ عمل میں نفرت در آنے کی بے شمار وجوہات ہیں۔
سٹوارٹ آئزن سٹاٹ جو داخلہ پالیسی کے مشیر تھے صدر کا رٹر کو مشورہ دیتے ہیں ۔
“ہمیں سخت اقدامات کے ذریعے قوم کو حقیقی بحران کے لیے تیار کرنا اور اوپیک کے رکن ممالک کو واضح طور پر دشمن قرار دینا چاہیے۔ “(۴)
1970ء کی دہائی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا تو یورپ کا نپ اٹھا کہ اسلامی دنیا پھر اپنی سابقہ فتوحات کو دہرانے کے قریب آن پہنچی ہے گو یا تیل کی سپلائی کم ہونا ، عربوں کو خاص بنا گیا۔ امریکیوں کی نظر خلیج فارس کے تیل کے ذخائر اوپیک پر مذکور ہونا شروع ہو گئی ۔ایران کے انقلاب کے بعد یر غمالیوں کا بحران آیا ۔ جس نے مغرب کی نگاہ کو آئینہ دکھا کر سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ “اسلام پھر ، بھرنے لگا ہے۔ ” اسلامی دنیا میں پر تشدد قوم پر ستی نے سر اٹھایا بڑی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی بھی قوم پرستی کے ساتھ جڑ گئی (پر تشدد قوم پرستی کی مثال، ایران ، عراق جنگ جبکہ بڑی طاقتوں کے ساتھ محاذ آرائی افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت اور امریکہ کی طرف سے فوجی دستوں کی تیاری سے ملتی ہے۔ جنھیں تیزی سے خلیج کے علاقے میں پہچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔
ایڈورڈ سعید کی اپنی کتاب Covering Islam ” اسلام ” کو مغرب کی نظر میں خاص صدمہ پہچانے والی ذو معنی اصطلاح کے طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس مغربی تاثر کے پلنے اور پھلنے پھولنے کی وجوہات اور پس پردہ عناصر کی گمراہ کن سوچ کو پیش کیا گیا ہے۔ بتاتے ہیں امریکی میڈیا خاص طور پر اپنی نشریات میں اسلام کو شامل کر چکا ہے۔ اپنے انداز کے مطابق اس کی تشریح کرتا ہے تجزیہ اور وصف طے شدہ منظر نامے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ امریکی میڈیا نے اسلام کو معروف کر دیا ہے۔ جغرافیائی سیاست کے ماہرین اسلام سے متعلق گمراہی عام کرتے ہیں۔ اکثر خبریں سننے والے ان تجزیوں اور تبصروں کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو اسلام سمجھ آگیا ہے۔ در اصل یہ سب مل کر اسلام کے خلاف گمراہی عام کرنے میں معاون بنتے ہیں۔ میڈیا کے ذریے دکھائی گئی تصویر وں کا اصل حقائق سے تعلق نہیں ہوتا ۔ گروہی ، ثقافتی اور نسلی منافرت کو ہوا دی جاتی ہے۔ اسلام کو پیش کرنے کے لیے بڑی لاپرواہی سے جو مقولے تیار کر لیے گئے ہیں۔ انھیں بار بار استعمال کر کے فرض کر لیا جاتا ہے۔ اس کے ماننے والے جارح ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جس کا ایک جارح مستحق ہے۔ وہ مغربی زندگی کے انداز اطوار کے لیے کھلا خطرہ ہے۔ اس کا تصور عمارتوں کو دھماکے سے اُڑ کر زمین بوس کر دیتا ہے۔ تجارتی ہوائی جہازوں کو سبو تاژ کر دیتا ہے اور پانی کی سپلائی لائنوں کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ گالیاں دینا ، دھمکیاں دینا ، اس پر پابندی لگانا، انھیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنا اور بسا اوقات ان پر ہوائی حملے کرنا نہایت مناسب سلوک ہے کہ جس اسلام کی بات کی جار ہی ہے۔ وہ حقیقی اور پائید ار چیز ہے۔ اور وہاں پائی جاتی ہے۔ جہاں مغرب کو تیل سپلائی کرنے کے ذخائر موجود ہیں۔
میمونہ فاروق لکھتی ہیں:
“اسلام ایک پُرامن مذہب ہے اور ایڈورڈ سعید اس کے نظریات کے حامی ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مغرب نے مشرق کو ہرگز قبول نہیں کیا۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرتے تو مشرق کو غلام کس طرح بناتے، مغرب نے مشرق کے رہن سہن، کلچر اور لوگوں کے بارے میں مشرق کو کمتر درجہ دیا ہے۔ سعید نے اسلام کو غلط روشنی میں پیش کرنے کے خلاف پورے خلوص سے جدو جہد کی وہیں انھوں نے عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں غیر جمہوری اور جابرانہ حکومتوں پر سختی سے تنقید کی ۔” (۵)
ایڈورڈ سعید کا ماننا ہے کہ کوریج کے نقائص، اہداف میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ مثلاً نیو یارک ٹائمز نے عراق کے تابڑ توڑ حملوں کے خلاف ایران کے حیرت انگیز اور مضبوط مزاحمت کی وضاحت کرنا چاہی تو “شیعوں کے شوقِ شہادت” کے فارمولے کو استعمال کیا دراصل مغربی ماہرین حقائق کا تجزیہ اس لیے بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اس قصے میں علاقائی زبان کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ایسی صورت میں کسی رپورٹر کو بغیر تیاری کے کسی اجنبی ملک میں بھیج دینا بھی حالات کی تصویر کشی کرنے میں آڑے آتا رہا ہے۔
1978ء کے بعد ایران مرکزی حیثیت کا حامل ہو کر ابھرا تو امریکی خود کو مفلوج اور بے بس سمجھنے لگے۔ امریکی چاہ کر بھی ایران کو اپنے دماغ سے علیحدہ نہ سکتے تھے۔ جہاں دنیا میں ایک طرف توانائی کی قلت تھی تو دوسری طرف ایران تیل کی دولت سے مالا مال تھا۔ جنگی اعتبار سے ایران ایک متلاطم خیز حصّے کا نام تھا۔ ماضی میں امریکہ ایران کا اتحادی رہا ۔ مگر شہنشائیت کا زوال ، تعلق کا زوال ثابت ہوا۔ اسلامی انقلاب اایا تو اسلامی نظام حکومت مقبول ہونے لگا۔ مغربی میڈیا پر آیت اللہ خمینی کی شبیہہ چھا گئی ۔ ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب 22 اکتوبر 1979ء میں سابق شاہ ایران نے امریکہ میں قدم رکھا تو 4 نومبر 1971 میں طلبہ کے ایک گروپ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور50 سے زائد افراد کو یر غمال بنالیا کئی مہینوں (444دنوں) کے بعد 20 جنوری 1981 میں انھیں رہا کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایران اور مسلمان یور پین کے دماغوں پر آکٹو پس کی طرح چیک گئے ۔ اور تیل سپلائی کرنے والے دہشت گرد ، دوسروں کے خون کے پیاسے ، تہذیب و ثقافت سے نا آشنا تصور کیے جانے لگے ۔ بحث مباحثوں میں امریکی طرز عمل کی حالت یہ ہے کہ غیر مغربی باشندوں کے لیے بہت کم گنجائش رکھی جاتی ہے۔ اور انھیں ہم وردی کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔
“تار یخی طور پر امریکی اور شاید عمومی طور پر مغربی طور پر مغربی میڈیا مرکزی ثقافتی سیاق و سباق کی حسیاتی توسیعات ہی رہے ہیں۔ عرب تو محض “دوسروں ” یا غیروں کی ایک حالیہ مثال ہی ہیں جنھوں نے سخت گیر سفید فام کے غضب کو لکارا، یہ سفید فام ایک قسم کی سپرایگو ہے جس کی بیابانوں میں مہم جوئی لامحدود ہے اور جو اپنا آپ منوانے کے لیے ہر ممکنہ حد پار کرتی ہے۔”(۶)
امریکی میڈیا میں اسلام کو جس ثقافتی اور نظریاتی دائرے کے تحت بیان کرتے ہیں۔ اس کے اصول ان کے خود ساختہ ہیں۔ تحریر و تقریر میں مدافعانہ تعصّب اور بعض اوقات شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ ایرانی انقلاب سے متعلق امریکی مطالعاتی رپورٹوں اور انٹرویوز میں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی کہ انقلاب اس خطے میں اہم تبدیلی کا باعث ہوا ہے اور نا ہی یہ تاثر ملتا ہے۔ کہ تاریکی پر روشنی کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ ایران اس خطے میں امریکہ کو واضح شکست دے چکا ہے۔
امریکی میڈیا پر ایران کے خلاف گفتگو کا سلسلہ 1990 تک جاری رہا۔ اس کے بعد سرد جنگ ختم ہوئی تو ایران کے ساتھ “اسلام ” کو بھی امریکہ کے لیے خطر ناک قرار دے دیا گیا۔ اور حزب اللہ کی پشت پناہی کا الزام ایران کے سر دھر دیا گیا اور بنیاد پرستی کا الزام بھی تھوپ دیا گیا۔
رابن لائیٹ نے لاس اینجلس ٹائمز میں لکھا۔
“تیس سے چالیس سال پہلے کمیونزم کے ساتھ جس ہوشیاری کا مقابلہ کیا گیا ۔ اسلام کے مقابلے میں اس سے زیادہ ہو شیاری دکھانا ہو گی ۔ “(۷)
مغرب نے اسلام کا تجزیہ ” ہم مقابلہ وہ ” کی ترکیب خام سے اخذ کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران اور مسلمانوں کے اند رتصو رِ انصاف ، مظلومیت کی تاریخ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ بلکہ امریکہ کے نزدیک ” اسلامی انقلاب ” کے زیر اثر کیا ہو رہا ہے ، یہ بات اہمیت رکھتی ہے۔
ایڈورڈ سعید کا کہنا ہے کہ بڑی اور نہایت پیچیدہ حقیقتوں کے لیبل بڑے شرم ناک اور غیر واضح ہوتے ہیں۔ مسلمان اسلام ، عیسائی عیسائیت اور یہودی ، یہودیت کی اچھائی بیان کرتے ہیں۔ یہ سب ثقافتی زندگی کا حصّہ ہے۔ خمینی ایک مسلمان اور پا پ جان پال ایک عیسائی ہے یہ محض ایک تعارف ہے جو صرف امتیاز کرتا ہے۔ یہ لیبل اس وقت پیچیدہ ہو جاتے ہیں کہ جب مغرب میں اسلام کی بات کی جاتی ہے تو فوری طور پر نا گوار باتوں کا ذکر آجاتا ہے۔ جبکہ ان میں سے کتنے لوگ ہوں گے جو اسلام ، اسلامی قوانین اور اسلامی پہلوؤں کو جانتے ہیں۔ اور اس کے باوجود کم معلومات رکھنے والا شخص پورے اعتماد سے ” اسلام ” اور “مغرب ” تجزیہ کرتے ہیں، گویا نئے واقعات ، اطلاعات اور حقائق کے مطابق ہنگامی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسلام کے مقابلے میں عیسائیت نہیں بلکہ مغرب ہے۔ کیونکہ مغرب ، عیسائیت سے بڑا ہے۔ اور عیسائیت سے آگے نکل چکا ہے۔ جبکہ اسلامی دنیا ابھی تک مختلف معاشروں ، مختلف تاریخ کے حامل ممالک مختلف زبانوں ، قدامت پر ستی اور پسماندگی میں ہے مغرب ماڈرن ہے۔ اس کے خیالات تضاد بھرے ہیں۔ مگر سوچ کے دروازے کھولتے ہیں اس کی ثقافتی شناخت ” مغرب ” ہے جبکہ اسلامی دنیا میں “اسلام” سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ تضادات اگرچہ دونو ں جگہ ہیں مگر اسلامی دنیا میں تضادات کے نتائج کو گھٹا دیا جاتا ہے۔ جان کیفز نے سوویت یونین کے مسلم دنیا سے تعلق کو اسی سرخی کی صورت میں لکھا۔
“Marx and Mosque are les compatible than ever”(۸)
مارکس اور مسجد ایک دوسرے کے لیے پہلے سے زیادہ منافق ہو گئے ۔
مزید لکھتا ہے۔
“ماسکو کے گھٹتے ہوئے اثر و رسوخ کی بڑی سادہ وجہ ہے مارکس اور مسجد ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔(۹)
ایڈ ورڈ سعید لکھتے ہیں کہ اسلام بمقابلہ مغرب وہ میدان ہے جو تضادات کے بہترین نمونے پیش کرتا ہے۔ ثقافتی ربط کا نا ہونا بھی مغرب و مشرق کی دوری کا ایک اہم سبب ہے ۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ میں اسلام کا کوئی مقام نہ تھا۔ تا ہم مستشرقین کی مسحور کن اشاعتوں میں اور ناہی کثیر الا شاعت اخباروں میں اسکا ذکر تھا۔ امریکی یونیورسٹیوں میں اسلام کے شعبہ جات کا ذکر سر سری تھا۔ اور مغربی ماہرین محض دسویں صدی کے بغداد میں اسلامی فلسفہ و قانون اور انیسویں صدی کی شہری زندگی کے قوانین کے متعلق جانتے تھے ۔ مگر اسلامی تہذیب خصوصاً اسلامی لٹریچر ، قانون سیاست تاریخ کو جاننے اور سمجھنے سے قاصر تھے ۔ اس کمی کے باوجود وہ اسلامی ذہنیت اور اہلِ تشیع کے شوق شہادت کے فلسفے پر تبصرے سے باز نہیں آئے، امریکیوں کا اسلام کا مطالعہ ہے ہی نہیں تو عبور کیسے ہو سکتا تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ جو کچھ اسلام پر لکھا گیا وہ اس پائے کا نا تھا ۔ کہ توجہ حاصل کر پایا ۔ اور دوسری بنیادی وجہ یہ کہ کسی یونیورسٹی کی سطح پر مطالعہ اسلام کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کی گئی۔
1970ء کی دہائی میں اسلامی دنیا پر انتشار کے جو واقعات رونما ہوئے ان میں گلف میں تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کا طاقت میں آنا، لبنان میں طویل المدتی جنگ کا چھڑ جانا، ایتھوپیا اور صومالیہ کے جنگی مسائل ، ایران کا اسلامی انقلاب ، پاکستان کے وزیر اعظم کی سزائے موت اور فوجی آمریت افغانستان پر مار کسی گروپ کا قبضہ، جس نے خطے میں انتشار کو گہرا کر دیا۔ ایران ، عراق جنگ کے بعد حماس اور حزب اللہ کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہونا ، گویا اسلام خبروں کا حوالہ بن گیا۔
امریکی میڈیا کو بڑے بحران کی گرفت میں لینے اور سیخ پا کرنے میں ۴ نومبر ۱۹۷۸ ء کے واقعہ کا بھی گہرا اثر موجود تھا۔ امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے والے طلبہ کی امریکی حکومت سے تقاضا تھا کہ مفرور محمد رضا شاہ پہلوی کو مقدمہ چلانے کے لیے ایران کے حوالے کیا جائے ۔ ایڈورڈ سعید کا مؤقف تھا کہ رپورٹروں اور تجزیہ نگاروں نے جو افرا تفری ، حقائق سے چشم پوشی اور جھوٹے بیانات کا نا ختم ہونے والا سلسلہ کئی مہنیوں تک جاری رکھا ۔ اسے بین الاقوامی اور عالمی شعور کے تناظر میں دیکھا جانا ضرور تھا۔ مغرب کا مشرق کے بارے میں طرزِ تفہیم استعماری اندازِ فکر سے ہٹ کر ہونا چاہیے جو صدیوں سے اساطیری ڈسکورس کی آغوش میں پل کر توانا ہو چکا ہے کہ بصیرت و بصارت بھی خاص اِلتباس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ مغرب نے اس التباس میں جو دیکھا، سمجھا جانا ،اسی کو اصل جان کر پورے مشرق کے کردار پر لاگو کر دیا۔
نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون “عسکریت پسند اسلام ایک تاریخی گرد باد” کے عنوان سے شائع ہو جس میں کہا گیا کہ اسلام میں کبھی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ اس کی تاریخ ، جغرافیہ، سماجی ڈھانچہ، ثقافت کی پیروی کرنے والے کروڑوں افراد ایک لگے بندھے راستے پر چلتے ہیں۔ اس مضمون میں وضاحت کی گئی کہ جہاں کہیں قتل ہو گا، جنگ ہو گی، جھگڑے ہوں گے ان میں اسلام کا یقینی طور پر ہاتھ ہوگا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بات دلیل کے بغیر بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ تبصرہ نگار نا تو ان زبانوں سے اور نہ ان معاشروں سے واقف تھے جن سے متعلق فیصلہ صادر کر رہے ہیں۔
دی نیوری پبلک نے علمانہ انداز میں لکھا۔
“اسلام کے مقدس قوانین جنھیں شریعت کہا جاتا ہے۔ ناکام مذہبی جذبات سے اٹھنے والا غیض و غضب ہے”(۱۰)
اٹلانٹا کا نسٹی ٹیوشن نے 8 نومبر کو اشاعت میں الزام لگایا۔
“سفارت خانے پر قبضے کے پیچھے فلسطین کی تنطیم آزادی یعنی پی ۔ ایل ۔ او کا ہاتھ ہے”(۱۱)
ڈینیل بی ڈروز نے اٹلانٹا جرنل میں لکھا
“جہاں شیعہ ہو گا وہاں ہنگامہ آرائی ہو گی۔”(۱۲)
18 نومبر کی اشاعت میں دوبارہ لکھا۔
“سفارت خانے پر قبضہ اہل تشیع کی حاکمیت تسلیم کرانے اور شاہ کے خلاف غم و غصے کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔ “(۱۳)
آیت اللہ خمینی کو میڈیا کے ذریعے بد مزاج ملا کے دوپ میں پیش کیا گیا۔ ایرانی پر چم جلانا امریکیوں کا مشغلہ بن گیا۔امام حسین اور شیعہ مسلک سے متعلق بتا یا گیا کہ مسلمانوں میں اذیت رسانی کا جذبہ موجود ہے اسی سبب امام خمینی کو اپنا لیڈر بنا لیا۔
CPS کی 21 نومبر کی رات کی خبروں میں محرم کے متعلق بتایا گیا۔
“کہ اس میں شیعہ مسلمان محمدؐ  کی طرف سے دنیا بھر کے لیڈروں کو چیلنج کرنے کی یاد مناتے ہیں۔”(۱۴)
۸۰ء کی دہائی کے آخری دنوں میں ایک قلم Death of Princess کو بہت شہرت ملی۔ پاکستان سمیت دُنیا بھر میں پڑھے لکھے طبقے نے یہ فلم دیکھی۔ ۱۹۷۸ ء میں سعودی عرب نے کیمپ ڈیوڈ کے امن معاہدے میں حصہ نہیں لیا تو امریکی اخبارات نے عربوں کی خامیوں اور کمزوریوں کو ہدفِ تنقید بنایا ۔ غلط اعداد و شمار اور گمراہ کُن اِطلاعات سے بھر پور حقائق پیش کیے گئے ۔ ایڈورڈ سعید اس فلم Death of Princess کو عربوں کے خلاف امریکی ردِ عمل قرار دیتے ہیں۔
ایڈورڈ سعید نے نا صرف حالات و واقعات کا تجزیہ میڈیا کی زبانی بیان کیا ۔ کہ وہ میڈیا کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کا حصّہ بننے والے پروگرام جن کا امریکی قومی سلامتی پر صحت سے لکھنے یا نشر کرنے میں شمار ہوتا ہے۔ انکی رپورٹنگ کو ایک معیار سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان فورمز پر بھی جھوٹ کے پلندے پیش کیے جاتے ہیں ۔ بیشتر مبصرین و تجزیہ نگاروں سے اگر پوچھا جائے کہ اسلامی طرز حیات نظر یاتی ہے، مابعد ا لطبیعاتی ہے۔ یا اقتصادی تو وہ اسلام کے حقیقی تصور کو پیش کرنے سے قاصر نظر آئیں گے۔
ایڈورڈ سعید غیر صحت مند رپورٹنگ کو بُری شے تصور کرتی ہیں۔ ان ان صورتوں میں بدترین شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جب حالات جوں کے توں رہیں اور رپورٹنگ کی بنیاد محض مفروضوں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر رکھ دی جائے۔ مغربی میڈیا نے انقلابِ ایران کے بعد ایک مُدّت تک یہی طرزِ عمل اپنائے رکھا۔ شاہ کی قوت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی سنگین غلطی کی۔ یہاں تک “ری پبلکن” ” ڈیمو کریٹس” سمیت وائٹ ہاؤس کونسلوں سے لے کر کانگرس ہال تک کسی نے ان شکوک و شبہات سے پُر اور مخالفت کی آوازوں کو نہ سنا ۔ ایڈورڈ سعید کے نزدیک ذرائع ابلاغ میں بہتر صورت گری کے لیے ایسی بحث کی شروعات کرنے کی ضرورت ہے جو معنوی اعتبار سے کارگر ہوں۔ سیاسی امور کی بات چیت اخلاقی کمزوریوں پر ضرب لگائے بغیر کی جائے۔ رپورٹر اپنی رائے میں جارحانہ انداز ، مبالغہ آرائی ، الفاظ و معنی کے بدلاؤ اور نظریاتی دشمنی کو نکال کر اپنی رائیے پیش کریں۔ خبر کو پیش گوئی نہ بنا دیں۔
“اس کتاب کا لکھنے والا جدی پشتی عیسائی تھا لیکن اس نے اپنی اس کتاب میں اسلام کا جس طرح دفاع کیا ہے۔ اسے پڑھ کر ہی یہ اندازہ ہوتا کہ اگر آپ دل کی گہرائیوں میں سیکو لر ازم پر ایمان رکھتے ہوں۔ تب ہی آپ کے اندر انصاف کرنے والی وہ تیسری آنکھ کھلتی ہے جو آپ کے پیدائشی اور خاندانی تعصّبات سے بالا تر ہو کر دوسروں کو دیکھ سکتی ہے۔ اور آپ کے اندر وہ طاقت رکھ سکتی ہے جس سے آپ اپنے زمانے کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے وار ان کا دفاع کر نے کا حو صلہ رکھیں ۔”(۱۵)
ایڈ ورڈ سعید نے عالمی سیاست اور میڈیا کی پیش کش پر گہری نظر ڈالی ہے۔ اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر جو غلط فہمیاں پیدا کی گئیں ہیں اس نے اس مذہب کو سمجھنے ، سننے اور دیکھنے کی خواہش ختم کر دی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اسلام کے متعلق جو الٹا سیدھا کہا گیا اسے کہنے والے اناڑی تھے۔ مغرب میں لوگ خبروں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میڈیا انھیں سمجھانے کے لیے تصویروں سے جوڑ کر پیش کرتا ہے جس سے دشمنی اور لا علمی پھیلتی ہے ۔ اسی کا اظہار ناؤم چومسکی نے اپنی کتابوں میں کہا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں فرانسس فٹز جیر ٹر نے لکھا کہ اس کتاب کا مطالعہ ہر غیر ملکی نامہ نگار اور غیر ملکی خبروں کے ہر مدیر کے لیے لازم ہے۔
1980 میں Covering Islam  پہلی بار شائع ہوئی ۔ تب سے اب تک حالات بہتری کی طرف جانے کی بجائے زیادہ گھمبیر ہوئے ۔ مکالمہ اور تبادلہ خیال کو عوامی ملکیت بنا دیا گیا ۔ جس پرذرائع ابلا غ چھایا ہوا ہے۔ سنسنی خیزی مشرق اور اسلام کے نام پر بھونڈے انداز میں نفرت اور شعور سے عاری جنگ کو رواج دیا گیا۔ ایڈورڈ سعید نے مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مغربی سازشوں کے پیچھے بظاہر تو علمی تجسس اور ذرائع ابلاغ کی تیزی دکھائی جاتی ہے۔ مگر اصل میں یہ تمام مغربی استعمار کے آلہ کار ہیں۔ اور ان کا اصل مقصد مغرب کی بالا دستی کو دوام بخشنا ہے۔ جس کے نتیجے میں “ہم ” اور “وہ” کی خیالی سرحدوں کے دونوں جانب اثرات مرتب ہوئے ۔ جن کی اصلاح کی گنجائش ممکن نہیں ۔ تا ہم آگاہی اور تحقیق و تلاش کے ذریعے منفی اثرات کے بڑے ذخیرے میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات:-
ایڈورڈ سعید کی کتاب Covering Islam کی تو ضیحی قرآت،ڈاکٹر عبدالعزیز ملکhttps://www.humsub.com.pk/، dated: 25-12-2024 ، Time 02:00PM
محمد اقبا ل، ڈاکٹر، کلیات ِ اقبال، لاہور : شیخ غلام علی اینڈ سنز ، ۱۹۷۳ صفحہ نمبر ۳۹۹
ایڈورڈ سعید کی انتقادی فکر یات اور ان کی کتاب ” دُنیا متن اور اسکا نقاد” کا تجزیہ https://www.facebook.com/،Dated:25-12-2024 ، Time:02:15PM
ایڈورڈ سعید ، Covering Islam ترجمہ ، ظہیر جاوید ، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان ، ۲۰۰۷ صفحہ نمبر۷۹
میمونہ فاروق ، ایڈورڈ سعید اور دفاعِ مشرق ، مشمولہ : زبان و ادب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد: شمارہ ۱۰۔۲۰۱۲ء ، ص ۱۶۲۔۱۶۳
ایڈورڈ سعید Culture and Imperialism ، مترجم : یاسر جواب ، ثقافت اور سامراج ، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان ، ۲۰۰۹ء ص۲۷۳
ایڈورڈ سعید، Covering Islam ترجمہ ، ظہیر جاوید ، اسلام آباد : مقتدرہ قومی زبان ، ۲۰۰۷ صفحہ نمبر۸۳
ایضاً ،صفحہ نمبر۸۷
ایضاً ،صفحہ نمبر۸۸
ایضاً ،صفحہ نمبر۱۷۹
ایضاً ،صفحہ نمبر۱۷۴
ایضاً ، صفحہ نمبر۱۷۹
ایضاً ، صفحہ نمبر۱۷۴
ایضاً ، صفحہ نمبر۱۷۵
زاہدہ حنا، ایڈورڈ سعید اور مسئلہ فلسطین ۳ (کالم ) مشمولہ ایکسپریس نیوز ، روزنامہ ، لاہور: ۲، جون ۲۰۲۱ء، ص۹