نصیر وارثی

نثر نگار،افسانہ نگار ،شاعر,منتظم  اعلیٰ اُردومرکز نیو یارک، منتظم خدیجہؑ فاؤنڈیشن نیو یارک اور سہ ماہی عالمی جریدے “ورثہ ” نیویارک کے مدیر و پبلشر نصیر وارثی   کی شخصیت ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جو بیک وقت نثر نگار، افسانہ نگار، شاعر، منتظم اور مدیر کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں ۔ ان کی علمی، ادبی اور تنظیمی خدمات انہیں اردو دنیا میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کہنہ مشق ادیب ہیں بلکہ تنظیمی صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

نصیر وارثی کی نثری اور شعری تخلیقات ان کے وسیع مطالعے، فکری گہرائی اور گہرے مشاہدے کی عکاس ہیں۔ ان کے افسانے انسانی نفسیات، سماجی مسائل اور تہذیبی کشمکش کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی شاعری ایک خاص فکری جہت رکھتی ہے، جس میں جذبات کی شدت، الفاظ کی سادگی اور تاثیر کی گہرائی پائی جاتی ہے۔

:ادبی تنظیم اور فروغِ اردو

بطور منتظم، نصیر وارثی نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ وہ اُردو مرکز نیویارک کے منتظم اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ خدیجہؑ فاؤنڈیشن نیویارک(اسلامی تحقیقی اداہ) کے  بطورڈائریکٹر  امور بھی سنبھالتے ہیں۔ ان کے زیرِ انتظام ادارے اردو زبان کی ترویج اور نئی نسل تک اس کی روح کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

:مدیری و صحافتی خدمات

سہ ماہی عالمی جریدہ “ورثہ” نیویارک کا مدیر و پبلشر ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ نصیر وارثی صحافت کے میدان میں بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ یہ جریدہ اردو ادب کی ترقی، تحقیق اور فروغ کا ایک معتبر ذریعہ ہے، جس میں دنیا بھر کے معروف قلمکاروں کی تخلیقات شامل ہوتی ہیں۔

نصیر وارثی کی شخصیت اور خدمات اردو ادب اور تہذیب کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک ایسے ادیب اور منتظم ہیں جو اردو زبان کی آبیاری میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان کی کاوشیں اردو زبان و ادب کے مستقبل کو ایک نئی جہت دینے میں یقیناً مددگار ثابت ہوں گی۔

اصل نام نصیر احمد خان وارثی ہے۔قلمی نام نصیر وارثی ہے  -کراچی میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے ہے۔ان کے والد ستار وارثی نعت کے معروف شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔بڑے بھائی ڈاکٹر سعید وارثی معروف  سماجی ادبی شخصیت  و شاعر،کئی کتابوں کے مصنف ہیں  دوسر ے بھائی رشید وارثی محقق  نعت ،نقاد، اور شاعر ہیں ،ایک بھائی نیویاک کے معروف نمائندہ شاعر اور اُردو مرکز نیویارک کے بانی صدر ہیں۔والدین  نے یوپی (انڈیا) کے شہر بریلی سے تقسیم کے وقت ہجرت کی تھی-

 اسکول کے دورسے ہی وہ مختلف علمی ادبی   اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔اسکول کے زمانے میں انہوں نے   نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں میں حصہ لیا  اور کئی میڈل اور سرٹیفکیٹ  حاصل کئے  اردو سائنس کالج میں  ایک ادبی تنطیم   “بابائے اردو کے نام سے قائم کی۔یونیورسٹی  کے زمانہ طالب علمی میں طلبہ  سیاست میں سر گرم رہے۔

کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل  کی- 1989ء میں نیویارک  میں  منتقل ہوئے-

GIA: Gemological Institute of Amirica

نیویارک سے ڈائمنڈ گریڈنگ کا کورس  کیا- اور 1999ء  نیویارک میں جیم اینڈ جوئیلری کمپنی قائم کی “2004تا 2006ایشین جیم اینڈ جوئیلری ایسوسی ایشن”کے سیکٹریری  رہے-

2011 ء  میں ہالی وڈ فلم اسکول سےفلم ڈائریکشن کا کورس کیا-

پاکستان کی معروف سماجی ادارے مجلس سماجی کارکنا ن پاکستان کے کراچی  کے صدر رہے

ینگ پاکستانی رائٹر  کے نام سے ادارہ قائم کیا

ملک کے نامور ادیبوں شاعروں کی صحبت حاصل رہی- جن میں جون ایلیاء سید محمد تقی، صہبا اختر،اعجاز راہی،دلاور فگار،محشر بدایونی،سرشار صدیقی،مسرور انور،اختر فیروز،مقبول نقش،جیسے نامور شاعر وادیب شامل ہیں- رئیس امرہوی ،صاحب کی قائم کردہ  ادبی تنظیم(مہران رائٹر گلڈ) میں کارکن کی حیثیت سےکام کیا۔1986 میں  کراچی سے  ڈاکٹر سعید وارثی کی ادارت میں شائع ہونے والے ادبی جریدے”ورثہ” جس میں ڈاکٹر سعید وارثی،ڈاکٹر شاہد الوری، جناب دلادر فگار، شامل تھے، میں انتظامی مدیر  رہے۔ 1987 ء میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے جریدے “ادراک “کا بھی حصہ رہے-یونیسکو  کی عالمی تحریک “ڈرگ فری زون”  کے کراچی کے سربراہ کے طور پر کام کیا-سماجی  کاموں میں کراچی  انتطامیہ کے ساتھ کام کیا-

عالمی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ(جینوا) اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ انسداد منشیات کی مہم کا حصہ رہے

“نیشنل فیڈریشن آف این،جی،اوز،پاکستان”کراچی کی نمائندگی کی

پاکستان نارکوٹکس کنٹرول بورڈ،اوریو،ایس،ایڈ کے تربیتی کورس مکمل کئے

  1990-اور1989  دو مرتبہ  امریکہ میں ہونے والی عالمی انسداد منشیات کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی

 نیویارک میں مستقل قیام کے بعد ادبی تنظیم اُردو مرکزنیویارک کے منتظم اعلٰی کے طور پر زمہ داری سنبھالی اور وہاں  ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا- نیویارک میں مذہبی  تحقیقی  ادارے “خدیجہؑ فاؤنڈیشن نیویارک” قائم کی اور اُس کے منتظم ہیں- 

نیو یارک سے  پہلے عالمی اردو جریدے ورثہ نیو یارک” کے مدیر و ناشر ہیں-گذشتہ  تین دہائیوں  سے امریکہ میں مقیم ہیں- اور نیویارک میں  جوئیلری و جیم اسٹون  کا   کاربار کرتے ہیں-

نصیر وارثی: ایک ہمہ جہت شخصیت

:تنظیمی اور سماجی خدمات

نصیر وارثی نے اپنی زندگی میں نہ صرف ادب بلکہ سماجی خدمات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

    مجلس سماجی کارکنان پاکستان، کراچی کے صدر رہے۔

    “ینگ پاکستانی رائٹر” کے نام سے ایک ادبی و فکری ادارہ قائم کیا۔

    یونیسکو کی عالمی تحریک “ڈرگ فری زون” کے کراچی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    عالمی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ (جنیوا) اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ انسدادِ منشیات کی مہم میں شامل رہے۔

    پاکستان نارکوٹکس کنٹرول بورڈ، یو ایس ایڈ کے تربیتی کورس مکمل کیے۔

    1989ء اور 1990ء میں امریکہ میں ہونے والی عالمی انسداد منشیات کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

:نیویارک میں قیام اور خدمات

1989ء میں نیویارک منتقل ہونے کے بعد نصیر وارثی نے علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا۔

    نیویارک میں “اردو مرکز نیویارک” کے منتظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں اور اردو ادب کے فروغ کے لیے کام کیا۔

    “خدیجہؑ فاؤنڈیشن نیویارک” قائم کی، جو مذہبی اور تحقیقی کاموں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔

    نیویارک میں جوئیلری اور جیم اسٹون کا کامیاب کاروبار کیا اور “ایشین جیم اینڈ جوئیلری ایسوسی ایشن” کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    2011ء میں ہالی وڈ فلم اسکول سے فلم ڈائریکشن کا کورس مکمل کیا۔

:تصانیف

نصیر وارثی کی علمی و تحقیقی کاوشیں مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں، جن میں مذہب، تاریخ، نعت، شاعری، افسانے اور تنقید شامل ہیں۔ ان کی غیر مطبوعہ تصانیف درج ذیل ہیں:

    مادر زہرا (ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہؑ الکبریٰ کے فضائل و مناقب اور سیرت پر مشتمل مدلل کتاب)

    شیرِ یزداں وصی رسول اللہﷺ (حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے فضائل و شجاعت پر مشتمل مفصل کتاب)

    ملکہ کائنات، حجاب اللہ (حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و حالاتِ زندگی پر جامع کتاب)

    مرشد لا فتح (حافظ قاری مرشدی سید وارث علی شاہؒ کے مختصر حالاتِ زندگی پر مشتمل کتاب)

    معروف اردو شعراء کی مرثیہ نگاری

    عشقِ شاہِ اُمم (نعتوں کا مجموعہ)

    اس شب کی ابھی سحر باقی ہے (غزلیات کا مجموعہ)

    زندانوں کا ذکر کریں (مجموعہ نظم)

    زندگی سے فرار مشکل ہے (مجموعہ مضامین)

    محو خواب زندگی (افسانوں کا مجموعہ)

    جہانِ سخن (اردو ادب کی تاریخ اور مختلف ادبی شخصیات پر تحقیقی مضامین)

    نعتیہ ادب میں تحقیق و تنقید (نعتیہ شاعری پر تحقیقی اور تنقیدی جائزہ)

    مہاجر زادے (ہجرت کے پس منظر میں لکھا گیا ایک تاریخی ناول)

    دیارِ غیر میں اردو ادب (امریکہ میں اردو کے فروغ پر تحقیقی کام)

نصیر وارثی کی شخصیت کئی جہتوں پر مشتمل ہے—وہ نہ صرف ایک بلند پایہ ادیب، شاعر، اور مدیر ہیں بلکہ ایک فعال سماجی کارکن، کامیاب منتظم، اور اردو ادب کے بے لوث خادم بھی ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے انہیں اردو دنیا میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔

ان کی زندگی کا ہر لمحہ اردو ادب کے فروغ، سماجی خدمات اور تنظیمی کاموں میں بسر ہوا ہے۔ ان کا ادبی و فکری سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔