پشتوی اردو (پشتون علاقوں کی اردو)

پشتو ایک قدیم اور اہم زبان ہے جو پاکستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہ زبان افغانوں کی قومی زبان ہے اور پاکستان کے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ پشتو کا تعلق ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے ہے اور یہ پاکستانی قوموں کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔
پشتو اردو کی طرف سے ایک تہذیبی اور لسانی طور پر متاثر زبان ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں دونوں زبانوں کا استعمال عام ہے۔ اردو میں بہت سے پشتو الفاظ اور محاورے شامل ہو گئے ہیں، اور اسی طرح پشتو میں بھی اردو کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس طور پر پشتو اردو کی ایک منفرد اور اہم حیثیت رکھتی ہے، جہاں دونوں زبانیں ایک دوسرے کی لسانی ترقی کا حصہ بنتی ہیں۔
پشتوی اردو وہ اردو ہے جو خیبر پختونخوا، بلوچستان، افغانستان کے سرحدی علاقوں، اور کراچی میں مقیم پشتونوں کے درمیان بولی جاتی ہے۔ یہ اردو پشتو زبان کے اثرات کے ساتھ ایک منفرد لہجہ اختیار کر لیتی ہے، جو اسے معیاری اردو سے مختلف بناتا ہے۔
پشتوی اردو کی خصوصیات میں درج ذیل اہم پہلو شامل ہیں:
لسانی اثرات:
پشتو اور اردو دونوں کا تعلق مختلف زبانوں سے ہے، لیکن ان کے درمیان ایک گہرا لسانی تعلق ہے۔ پشتو میں اردو کے کئی الفاظ شامل ہو چکے ہیں، خصوصاً اس وقت جب پشتو بولنے والوں کا اردو بولنے والوں سے میل جول بڑھا۔ اسی طرح، اردو میں بھی پشتو کے کئی الفاظ اور محاورے شامل ہیں۔
مفہوم اور محاورے:
پشتو اردو میں اکثر ایک دوسرے کے محاورے، ضرب الامثال، اور روزمرہ کی زبانوں کے مرکب کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں اردو کے خوبصورت شعری عناصر کے ساتھ ساتھ پشتو کے اپنی روایات سے جڑی گفتگو ہوتی ہے۔
موزوں لب و لہجہ:
پشتو اردو میں اردو کے نرم اور شائستہ لب و لہجے کے ساتھ پشتو کی سختی اور جذباتیت کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک منفرد اور دل کو چھو لینے والی زبان بنتی ہے جو دونوں زبانوں کے بولنے والوں کے لیے دلنشین ہے۔
مفہوم کا اظہار:
دونوں زبانیں اپنے اپنے انداز میں جذبات اور خیالات کا اظہار کرتی ہیں، اور جب ان دونوں کا امتزاج ہوتا ہے تو بات کرنے والے کو زیادہ آزاد اور اظہار خیال کا بھرپور موقع ملتا ہے۔
ادبی روابط:
پشتو اردو کے ادبی میدان میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ کئی مشہور پشتو شاعروں اور ادیبوں نے اردو میں بھی لکھا اور اردو شاعری میں پشتو کے اثرات دیکھے جاتے ہیں، جیسے کہ اقبال اور دیگر اردو شاعروں کا پشتو سے تعلق رہا۔
پشتو اردو کا یہ امتزاج نہ صرف لسانی لحاظ سے بلکہ ثقافتی طور پر بھی ایک نیا اور دلچسپ رنگ پیش کرتا ہے، جو دونوں زبانوں کے بولنے والوں کے درمیان بہتر روابط اور مفہوم کی تکمیل میں مددگار ہوتا ہے۔لہجے کا فرق
پشتوی اردو میں الفاظ کی ادائیگی سخت اور قدرے بھاری ہوتی ہے۔
“ش” اور “خ” کی آوازیں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔
جملوں میں پشتو کی مخصوص سختی محسوس ہوتی ہے، جیسے:
“تم کدھر جاتاہے؟” (تم کہاں جا رہے ہو؟)
“یہ آدمی بہت تیز ہے، نا؟” (یہ آدمی بہت چالاک ہے، ہے نا؟)
گرامر کی تبدیلی
جملے کی ساخت بعض اوقات پشتو انداز میں بدل جاتی ہے۔
فعل اور فاعل کی ترتیب تبدیل ہو جاتی ہے، جیسے:
“تم کل آیا تھا؟” (کیا تم کل آئے تھے؟)
“میں تم کو بولا تھا نا!” (میں نے تم سے کہا تھا نا!)
“یہ کیا چیز ہے، معلوم نہیں!” (یہ کیا چیز ہے؟ مجھے معلوم نہیں!)
پشتوی اردو میں بہت سے پشتو الفاظ شامل ہوتے ہیں، جیسے:
“بچہ” (لڑکا، دوست)
“نان” (روٹی)
“خٹک” (ایک مخصوص پشتون قبیلہ)
“زما” (میرا)
“دیر” (بہت)
“چرتہ” (کہاں)
مثالیں:
“یہ میرا بچہ ہے، بڑا تیز آدمی ہے!” (یہ میرا دوست ہے، بہت ذہین آدمی ہے!)
“نان کھایا تم؟” (کیا تم نے روٹی کھائی؟)
“زما دوست بہت اچھا آدمی ہے!” (میرا دوست بہت اچھا انسان ہے!)الفاظ کی مخصوص ادائیگی
بعض اردو الفاظ کو پشتو لہجے میں ادا کیا جاتا ہے، جیسے:
“مسئلہ” → “ماسلا”
“دوپہر” → “دپیہر”
“تھوڑا” → “ٹوڑا”
“یہاں” → “یہا”
محاورے اور روزمرہ کے جملے
پشتوی اردو میں کئی مخصوص محاورے اور جملے بولے جاتے ہیں، جیسے:
“تم کو معلوم نہیں؟” (کیا تمہیں معلوم نہیں؟)
“دیر کام ہے، میں بعد میں آتا!” (بہت کام ہے، میں بعد میں آؤں گا!)
“یہ آدمی بہت مزاخی ہے!” (یہ آدمی بہت مزاحیہ ہے!)
“جلدی کرو، ٹائم ضائع مت کرو!” (جلدی کرو، وقت ضائع نہ کرو!)
پشتوی اردو کے بولنے والے لوگ
خیبر پختونخوا، بلوچستان، افغانستان کے سرحدی علاقے، اور کراچی میں رہنے والے پشتون افراد۔
زیادہ تر لوگ اردو کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ہیں، اس لیے ان کا لہجہ منفرد ہوتا ہے۔
کراچی، پشاور، کوئٹہ، اور چمن جیسے شہروں میں یہ اردو عام ہے۔
پشتوی اردو پشتو اور اردو کا ایک خوبصورت امتزاج ہے، جس میں پشتو کے الفاظ، سخت لہجہ، اور مخصوص جملے شامل ہوتے ہیں۔ یہ لہجہ زیادہ تر پختون ثقافت، روایات، اور زبان کا عکاس ہوتا ہے اور اسے سننے میں ایک منفرد احساس ہوتا ہے۔