بیگماتی اردو
“بیگماتی اردو” ایک اصطلاح ہے جو خاص طور پر 19ویں اور 20ویں صدی کے دوران برصغیر کی مسلم اشرافیہ، خصوصاً خواتین، کی بولی جانے والی اردو کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ زبان کا ایک نفیس اور مہذب انداز تھا جو دہلی اور لکھنؤ کے نوابوں، رئیسوں اور شریف گھرانوں میں عام تھا۔
بیگماتی اردو پس منظر
بیگماتی اردو ایک مخصوص طرزِ زبان ہے جو بنیادی طور پر برصغیر کی اعلیٰ طبقاتی مسلم خواتین کے درمیان مروج تھی، خاص طور پر اُنیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں۔ یہ زبان دہلی اور لکھنؤ جیسے ثقافتی مراکز میں پروان چڑھی، جہاں اشرافیہ کی خواتین کے لیے ایک مخصوص طرزِ گفتگو اور تحریر اپنایا گیا۔
پس منظر اور ارتقا
بیگماتی اردو کا ارتقا اُس وقت ہوا جب مسلم اشرافیہ کے گھروں میں خواتین کے لیے علیحدہ زبان و بیان کے اصول بنائے گئے۔
زنانہ اور مردانہ اردو: مردوں کی اردو نسبتاً زیادہ رسمی اور سنجیدہ تھی، جبکہ خواتین کی اردو میں نرمی، ادب آداب، اور مخصوص نسوانی محاورات شامل ہوتے تھے۔
پردہ کا اثر: چونکہ خواتین کو سماجی حدود میں رکھا جاتا تھا، اس لیے ان کی زبان زیادہ تر گھر کے اندرونی ماحول اور روزمرہ کی زندگی کے گرد گھومتی تھی۔
ادب میں بیگماتی اردو: کئی خواتین مصنفات نے بیگماتی اردو میں ناول، خطوط، اور مضامین لکھے، جن میں رشیدالنسا بیگم، نزہت النساء، اور اشرف النسا جیسے نام قابلِ ذکر ہیں۔
خصوصیات
نرم اور شائستہ لہجہ: بیگماتی اردو میں گفتگو کا انداز زیادہ مؤدب اور نرمی لیے ہوتا تھا، جیسے “کہیے”، “تشریف رکھیے”، “مزاج شریف کیسا ہے؟”
محاورات و ضرب الامثال: اس میں مخصوص زنانہ محاورے استعمال ہوتے تھے، جیسے:
اللہ جانیں، ہم تو بالکل ہلکان ہو گئے۔
کیا بتائیں، کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
بھئی، جی جل رہا ہے، اب کیا کریں۔
روزمرہ گھریلو زندگی کا عکس: بیگماتی اردو میں زیادہ تر گفتگو امورِ خانہ داری، زیورات، کپڑوں، کھانے پکانے اور بچوں کی تربیت پر مرکوز ہوتی تھی۔
ادب و خطوط میں بیگماتی اردو:
ناول: بیگماتی اردو میں تحریر کردہ ناولوں میں خاص طور پر گھریلو زندگی کے مسائل، خواتین کی دنیا، اور ان کے جذباتی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔
خطوط: خواتین کے لکھے گئے خطوط میں سلیقہ مندی، نرمی، اور تہذیبی اقدار نمایاں ہوتے تھے۔
بیگماتی اردو کا زوال
تعلیمی ترقی: جیسے جیسے خواتین کی تعلیم عام ہوئی، وہ زیادہ سنجیدہ اور مردوں کے مساوی زبان بولنے لگیں۔
سماجی تبدیلیاں: خواتین کا دائرۂ کار وسیع ہونے سے ان کی زبان میں تنوع آیا، اور بیگماتی اردو کی مخصوص شکل دھیرے دھیرے متروک ہوتی گئی۔
ادب میں تبدیلی: جدید ادب میں زیادہ حقیقت پسندانہ زبان استعمال ہونے لگی، جس میں بیگماتی اردو کی نرمی اور تکلفات کم ہوگئے۔
بیگماتی اردو برصغیر کی مسلم خواتین کی ایک دلچسپ لسانی روایت تھی، جو آج کے جدید اردو لہجے میں مکمل طور پر مدغم ہو چکی ہے۔ تاہم، قدیم ناولوں، خطوط، اور ڈائریوں میں اس کے نقوش اب بھی محفوظ ہیں، جو اس دور کی ثقافتی اور سماجی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
بیگماتی اردو کی خصوصیات:
نرمی اور شائستگی: اس اندازِ گفتگو میں نرم الفاظ، مہذب لہجہ اور نفاست پائی جاتی تھی۔
ادبی رنگ: روزمرہ گفتگو میں اشعار، محاورے، اور نازک الفاظ کا استعمال عام تھا۔
غیر رسمی مگر باوقار انداز: یہ زبان اشرافیہ کے گھروں میں بولی جاتی تھی، خاص طور پر خواتین کے درمیان، لیکن اس میں بے حد رکھ رکھاؤ تھا۔
فارسی اور عربی اثر: اس میں فارسی اور عربی کے الفاظ زیادہ شامل ہوتے تھے، جو زبان کو مزید شائستہ بناتے تھے۔
نسوانی لہجہ: خواتین کے مخصوص لب و لہجے اور طرزِ ادا کی وجہ سے اسے “بیگماتی اردو” کہا جاتا تھا۔
مثالیں:
“بیگم صاحبہ، ذرا پانی عنایت فرمائیں!”
“ارے بہن، یہ تو بڑی نازکی کی بات ہے!”
“افوہ، تم تو بس یونہی بات بگاڑ دیتی ہو!”
یہ زبان زیادہ تر مسلم گھرانوں میں خواتین کے درمیان بولی جاتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ اندازِ گفتگو معدوم ہوتا گیا۔ آج کے دور میں اس کا ذائقہ کچھ ادبی تحریروں اور پرانی کہانیوں میں ہی ملتا ہے۔
بیگماتی اردو: تہذیب و نفاست کی زبان
“بیگماتی اردو” محض ایک بولی نہیں بلکہ تہذیب، رکھ رکھاؤ اور نسوانی شائستگی کی علامت تھی۔ یہ زبان برصغیر کی مسلم اشرافیہ میں، خصوصاً دہلی اور لکھنؤ کے اعلیٰ طبقے کی خواتین کے درمیان، گھریلو سطح پر بولی جاتی تھی۔ اس کا انداز نہ صرف مہذب تھا بلکہ اس میں ایک خاص قسم کی نرمی، نزاکت اور نفاست بھی تھی جو عام بول چال کی زبان سے مختلف تھی۔
- لہجے میں نرمی اور مٹھاس
بیگماتی اردو کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا نرم لہجہ تھا۔ خواتین گفتگو میں سخت الفاظ یا کرخت لہجے سے گریز کرتی تھیں اور نرم، شیریں الفاظ کا انتخاب کرتی تھیں۔
مثالیں:
“بی بی، ذرا تمیز سے بات کرو، لوگ کیا کہیں گے؟”
“ہائے اللہ، یہ تو غضب ہو گیا!”
“خدا نخواستہ، ایسا سوچنا بھی مت!”
- ادب و شائستگی
اس زبان میں بے حد رکھ رکھاؤ ہوتا تھا۔ کسی بھی جملے کو ایسے انداز میں کہا جاتا تھا کہ وہ دل کو ناگوار نہ گزرے۔ یہاں تک کہ ناراضگی یا غصے کا اظہار بھی انتہائی مہذب انداز میں کیا جاتا تھا۔
مثالیں:
“ارے بہن، آپ کی بڑی نوازش کہ آپ نے قدم رنجہ فرمایا!”
“برا نہ مانیں، مگر یہ بات کچھ مناسب نہیں لگی!”
- محاورے اور روزمرہ کے جملے
بیگماتی اردو میں محاورات کا استعمال عام تھا، اور گفتگو میں اکثر مزاحیہ اور نازک جملے سننے کو ملتے تھے۔
مثالیں:
“بی بی، یہ تو آپ نے جلتی پر تیل ڈالنے والی بات کر دی!”
“ارے آپ تو خوامخواہ دل چھوٹا کر رہی ہیں!”
“بس جی، نصیب نصیب کی بات ہے!”
- فارسی اور عربی کا اثر
بیگماتی اردو میں فارسی اور عربی کے الفاظ کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا تھا، جو زبان کو مزید نفیس بنا دیتا تھا۔
مثالیں:
“ارے بی بی، یہ کیسا معاملہ درپیش ہے؟”
“جناب عالی، ہم نے تو سنا تھا کہ آپ بڑی سخاوت فرماتی ہیں!”
- غیر رسمی مگر باوقار انداز
یہ زبان عام بول چال کے باوجود اپنی وقار اور سنجیدگی کو برقرار رکھتی تھی۔ گفتگو میں خوش اخلاقی اور عزت و احترام کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔
مثالیں:
“بی بی، آپ تو بالکل دل پر مت لیجیے!”
“بھئی، ہمیں تو یہ سب کچھ بہت انوکھا لگا!”
“بس جی، دن پھرتے دیر نہیں لگتی!”
تاہم، بیگماتی اردو نہ صرف زبان کا ایک خوبصورت انداز ہے بلکہ یہ برصغیر کی مسلم ثقافت اور تہذیب کا ایک قیمتی اثاثہ بھی ہے۔ اگرچہ اب یہ عام بول چال میں نہیں رہی، لیکن اس کی جھلک ہمیں قدیم داستانوں، ناولوں اور ڈراموں میں ضرور ملتی ہے۔
بیگماتی اردو کی نفاست اور رکھ رکھاؤ کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں اس کے مخصوص انداز، محاورات اور لب و لہجے کو یاد رکھنا ہوگا۔ شاید آج کے جدید دور میں یہ انداز ناپید ہوتا جا رہا ہو، مگر ادب اور تاریخ میں اس کی خوشبو ہمیشہ باقی رہے گی۔
“بی بی، زبان کا حسن تو نرمی اور شیرینی میں ہے، ورنہ کڑوا بولنے والے تو دنیا میں بہت ہیں!”
بیگماتی اردو: تہذیبی نسوانیت کی زبان
بیگماتی اردو صرف ایک بولی نہیں بلکہ ایک تہذیب، ثقافت اور مخصوص طرزِ زندگی کا آئینہ تھی۔ یہ زبان برصغیر کے مسلم اشرافیہ کی خواتین میں رائج رہی، جس میں نفاست، رکھ رکھاؤ، اور شائستگی نمایاں تھے۔ خاص طور پر دہلی اور لکھنؤ جیسے مراکز میں یہ زبان ایک مخصوص نسوانی نزاکت اور نرمی کے ساتھ بولی جاتی تھی، جس میں طنز بھی ہوتا تھا مگر وہ بھی ایک خاص مہذب انداز میں۔
بیگماتی اردو کی مزید نمایاں خصوصیات
- مخصوص الفاظ اور جملے
بیگماتی اردو میں بعض الفاظ اور جملے خاص طور پر خواتین کی گفتگو کا حصہ ہوتے تھے، جو آج کے دور میں کم سننے کو ملتے ہیں۔
مثالیں:
“بی بی، یہ تو حد ہو گئی!”
“اللہ رکھے، آپ کی باتیں تو غضب کی ہوتی ہیں!”
“ارے بہن، دل کو سنبھالو، دنیا کے رنگ نرالے ہیں!”
- اندازِ گفتگو میں شیرینی
یہ زبان سخت جملوں سے عاری تھی اور اگر کبھی غصے یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی مقصود ہوتا تو وہ بھی شائستگی سے کیا جاتا تھا۔
مثالیں:
“افوہ بی بی، آپ تو یونہی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہیں!”
“ارے آپ سے یہ توقع ہرگز نہ تھی!”
“بھئی، کیا ہی کہنے، مزاج تو بس بادشاہوں والے ہیں!”
- طنز مگر شائستگی کے ساتھ
بیگماتی اردو کی ایک خاص بات یہ تھی کہ طنزیہ جملے بھی ایسے انداز میں کہے جاتے کہ سامنے والا محسوس تو کرتا مگر برا نہ مانتا۔
مثالیں:
“ہائیں، آپ نے بھی سچ مچ دل پر لے لیا؟ بس، بات یونہی کہہ دی تھی!”
“ماشاءاللہ، آپ کی زبان سے تو پھول جھڑتے ہیں!”
“ارے بی بی، واہ واہ، آپ کی باتیں سن کر تو اب ہمارا جینا دوبھر ہو گیا!”
- دعا اور بددعا کے مخصوص انداز
بیگماتی اردو میں دعائیں دینے کا بھی ایک منفرد انداز تھا، اور بددعائیں بھی مہذب اور شاعرانہ انداز میں دی جاتی تھیں۔
مثالیں:
“اللہ نصیب اچھے کرے، بی بی!”
“جیتی رہو، سدا سہاگن رہو!”
“خدا تمہاری زبان کو سوکھا دے، جو ایسی بات کہی!”
“ہائے ہائے، ایسی بات زبان پر لائی بھی تو کیوں؟ اللہ نہ کرے!”
- تکلفات اور لحاظ
بیگماتی اردو میں ایک خاص تکلف اور رکھ رکھاؤ پایا جاتا تھا، جہاں براہِ راست بات کرنے سے گریز کیا جاتا تھا۔
مثالیں:
“بی بی، یہ تو آپ نے بہت ناگوار بات کہہ دی!”
“حضور، ذرا اپنی زبانِ مبارک سے ارشاد تو فرمائیں!”
“نہ نہ، یہ تو بہت خلافِ تہذیب بات ہوئی!”
بیگماتی اردو کی سماجی اہمیت
یہ زبان دراصل مسلم معاشرت کی ایک جھلک تھی، جس میں خواتین اپنے مخصوص لب و لہجے اور طرزِ گفتگو کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھتی تھیں۔ اس کا استعمال زیادہ تر گھریلو ماحول میں ہوتا تھا، خاص کر بیگمات، بہو بیٹیاں، اور خاندانی خواتین کے درمیان۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، جیسے ہی جدید طرزِ زندگی اور زبانوں کا اختلاط بڑھا، بیگماتی اردو معدوم ہونے لگی۔ آج یہ زبان صرف پرانے ادبی ناولوں، داستانوں، یا ڈراموں میں سننے کو ملتی ہے۔
بیگماتی اردو: ادب اور ثقافت میں اثرات
بیگماتی اردو کا اثر کئی ادبی اصناف میں نظر آتا ہے، خصوصاً:
ناول اور افسانے (رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرة العین حیدر)
قدیم ڈرامے اور تھیٹر
اردو فلموں اور ریڈیو ڈراموں میں مکالمے
بعض مخصوص ادبی محافل اور خاندانوں کی گفتگو
بیگماتی اردو کا احیاء: کیا ممکن ہے؟
اگرچہ آج بیگماتی اردو کم سننے کو ملتی ہے، مگر اسے محفوظ رکھنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً:
ادبی تحریروں میں اس کا استعمال
ڈراموں اور فلموں میں پرانے طرز کی اردو شامل کرنا
اردو ادب کے طلبہ اور محققین کو اس زبان پر تحقیق کی ترغیب دینا
معاشرتی سطح پر اردو کے قدیم الفاظ اور محاورات کو زندہ رکھنا
بیگماتی اردو صرف ایک طرزِ گفتگو نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک نفاست اور ایک خاص نسوانی انداز کی نمائندہ ہے۔ اگرچہ یہ زبان اب عام بول چال میں کم سننے کو ملتی ہے، مگر اردو ادب میں اس کی جھلکیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
“بی بی، زبان کا حسن تو نرمی میں ہے، ورنہ تلخ باتیں کرنے والے تو ہر جگہ ہوتے ہیں!”
بیگماتی زبان اردو کی بولی ہوا کرتی تھی۔[انگ ] شاہی قلعوں اور محلات میں مقیم بیگمات کے مخصوص لہجے اور منفرد محاوروں پر مبنی طرزِ گفتگو کو بیگماتی زبان کہا جاتا تھا۔ تاہم دہلی میں سیاسی انتشار اور معاشرتی تبدیلیوں کے بعد یہ زبان شاہی حدود سے نکل کر پرانی دہلی کی گلیوں اور بازاروں میں رائج ہو گئی، جہاں اشرافیہ کی خواتین نے بھی اسے اپنے روزمرہ مکالمے کا حصہ بنا لیا۔
بیگماتی اردو لکھنؤ میں بھی بولی جاتی تھی۔ رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں: ”لکھنؤ کی بیگماتی زبان اپنی شیرینی اور دل آویزی کے اعتبار سے مشہور ہے، ظاہر ہے کہ یہ زبان جتنی نکھری ہوئی اور ستھری ہوئی قصر شاہی میں نظر آ سکتی ہے اور کہاں نظر آسکتی ہے، واجد علی شاہ کی بیگمات کے خطوط اس اردوئے معلیٰ کا بہترین نمونہ ہیں۔“
تاریخ
ہندوستانی خواتین ازل سے پردے کی پابندی کو نہایت سخت گیر انداز میں اختیار کیا کرتی تھیں اور یہی پردہ درحقیقت وہ بنیادی محرک تھا جس نے عام اردو اور بیگماتی اردو کے درمیان لسانی تفاوت کو جنم دیا۔ بیگمات کی زبان میں ان کی معاشرتی زندگی کی ترجمانی صاف طور پر عکس انداز ہوتی تھی۔ ابتدائی دور میں وہ زبان کے قواعد و ضوابط سے نابلد تھیں، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی حیات ایک محدود ماحول کے دائرۂ احاطہ میں گذر رہی تھی۔ ان کی زبانیں قلعوں اور کوٹھیوں کی چار دیواری سے ماورا نہ ہو پاتی تھیں، لہٰذا ان پر بیرونی دنیا (مردوں کی زبان) کے اثرات مرتب نہ ہو سکے۔ شمالی ہند کے قلعۂ معلیٰ کی بیگمات اپنی دختران پر پردے کے سخت ترین احکامات نافذ کرتی تھیں، حتیٰ کہ انھیں کسی بھی غیر مرد کے سایہ تک سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہی قلعوں، کوٹھیوں اور محلات میں بیگمات کے لیے زنان خانے تعمیر کیے جاتے تھے، جہاں ان کی زندگی کا ہر لمحہ انہی چہار دیواریوں میں بیتتا تھا۔ سماجی رسومات، خواہ شادی بیاہ ہو یا موت و تدفین کا سلسلہ، تمام معاملات اسی حصار کے اندر انجام پاتے تھے۔ کنواری لڑکیوں کو باہر کی بزرگ عورتوں سے بھی پردہ کرایا جاتا تھا، تاکہ ان کے متعلق کوئی نامناسب رائے قائم نہ ہو سکے۔ لہٰذا کہا جاتا تھا: ”میکے سے ڈولی آتی اور سسرال سے ڈولا نکلتا تھا۔“ یہی وہ عوامل تھے جن کی بنا پر بیگمات کی روزمرہ زبان اور معیاری اردو کے درمیان لسانی خلیج پیدا ہوئی۔
معدومیت
سنہ 1976ء میں شائع ہونے والی کتاب ”دلّی کی بیگماتی زبان“ میں مصنف نے اس کی معدومیت کی طرف اشارہ کیا تھا، غالباً اس وقت بھی یہ بولی معدومیت سے دوچار نہ ہوئی تھی، ان کا بیان ہے کہ دہلی کی بیگماتی زبان میں یہ تفریق حالیہ عہد میں تیزی سے مٹ رہی ہے، کیونکہ قلعہ معلیٰ کے اصل باشندے جو اس زبان کے امین تھے، وقت کے ساتھ ہجرت کر گئے، جب کہ دہلی میں دیگر علاقوں کے لوگ آباد ہونے لگے۔ مزید برآں پردے کی رسم بھی بتدریج ختم ہوتی گئی۔ ان تمام اسباب کے زیرِ اثر دہلی کی بیگماتی زبان میں پنجابی لہجے کی آمیزش بڑھنے لگی-
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی محققہ ثانیہ کے بقول ”ڈپٹی نذیر اور حالی جیسے مصلحین نے اس زبان کو بد زبانی کہہ کر ختم کروا دیا یا جب سے لڑکیوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی تب سے اسکولوں میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں، اس میں بیگماتی زبان کہیں چُھپ گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود بیگماتی زبان کے اثرات ہماری گفتگو میں آج بھی مل جائے گے۔ کچن اور خواتین سے جڑے جو محاورے ہیں، وہ بیگماتی زبان کے ہی دین ہیں۔“
مصنفین
ایسے ادیب جنھوں نے بیگماتی زبان کا عملی مظاہرہ کیا، وہ یہ ہیں:
منشی فیض الدین دہلوی
ناصر نذیر فراق دہلوی
رتن ناتھ سرشارؔ لکھنوی
راشد الخیری (دہلوی)
انشا اللہ خاں انشاؔ (لکھنوی)
وزیر حسن دہلوی
نذیر احمد دہلوی
خواجہ محمد شفیع دہلوی
آغا حیدر حسن مرزا (دہلوی)
محی الدین حسن دہلوی (صاحب دلّی کی بیگماتی زبان)
حوالہ جات
اردو
ا ب سہیل اختر قاسمی (10 نومبر 2024)۔ “دہلی میں بولی جانے والی بیگماتی زبان کیوں ختم ہوئی؟”۔ انڈیپنڈنٹ اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-02-02
رئیس احمد جعفری (1957)۔ واجد علی شاہ اور ان کا عہد۔ لکھنؤ: کتاب منزل۔ ص 661
ا ب محی الدین حسن (1976)۔ “بیگمات کی زبان کا پس منظر”۔ دلّی کی بیگماتی زبان۔ نئی دہلی: نئی آواز جامعہ نگر۔ ص 17–18