کَرْخَنْداری اُرْدُو

کَرْخَنْداری اُرْدُو اردو کی بولی ہے جو پرانی دہلی

 (دہلی سکس) میں بولی جاتی ہے

کَرْخَنْداری اُرْدُو ایک خاص بولی ہے جو پرانی دہلی کے کَرْخَنْدے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ یہ اُردو کی ایک مقامی شکل ہے جو دہلی کے مخصوص سماجی اور ثقافتی پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں قدیم دہلی کی زبان، لفظوں کے انداز، اور مقامی لہجے کی جھلکیاں پائی جاتی ہیں، جو اس کے دیگر اُردو بولیوں سے الگ کرتی ہیں۔

کَرْخَنْداری: اردو کا تاریخی پس منظر

لفظ “کَرْخَنْداری” عام طور پر کسی ایسے نظام یا عمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کارخانے اور صنعتوں کی نگرانی، دیکھ بھال، یا انتظام سے متعلق ہو۔ اردو میں یہ اصطلاح مغلیہ دور، برطانوی استعمار، اور بعد ازاں صنعتی ترقی کے ساتھ مختلف سیاق و سباق میں استعمال ہوتی رہی ہے۔

مغلیہ دور میں کارخانداری

مغلیہ سلطنت کے دور میں “کارخانہ” ایک وسیع اصطلاح تھی جو دربار سے منسلک مختلف صنعتوں اور ہنر مندوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ مغل بادشاہوں نے مختلف کارخانے قائم کیے جہاں ہتھیار سازی، قالین بافی، کپڑے کی تیاری، اور زیورات بنانے جیسے کام ہوتے تھے۔ ان کارخانوں کا انتظام کارخاندار کے سپرد ہوتا تھا، جو بادشاہ یا دربار کے لیے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کروانے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ کارخانداری اس دور میں ایک معزز عہدہ تھا، اور کارخاندار کو شاہی سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔

برطانوی دور میں کارخانداری

برطانوی راج میں کارخانداری کا نظام بدل گیا۔ روایتی ہنر مندوں اور کاریگروں کی جگہ بڑی مشینری اور صنعتی مراکز نے لے لی، اور کارخانداری زیادہ تر یورپی طرز کے صنعتی نظام میں تبدیل ہو گئی۔ برطانوی حکومت نے ہندوستان میں کپڑے اور دیگر مصنوعات کے کارخانے قائم کیے، جس کی وجہ سے مقامی ہنر مند طبقہ متاثر ہوا۔ تاہم، کچھ مقامی صنعتیں بھی پروان چڑھیں، خاص طور پر وہ جو انگریزوں کے ساتھ تجارتی تعلقات میں تھیں۔

جدید دور میں کارخانداری

آج کے دور میں کارخانداری ایک باقاعدہ صنعتی اور تجارتی شعبے کے طور پر موجود ہے، جہاں مختلف صنعتوں کے انتظام، پیداوار اور سپلائی چین کے عمل کو مربوط کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں روایتی دستکاری کی بحالی کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ قدیم کارخانہ جاتی ہنر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اردو ادب میں کارخانداری کی عکاسی

اردو ادب میں کارخانداری اور صنعت و حرفت کے موضوعات مختلف طریقوں سے بیان کیے گئے ہیں۔ کلاسیکی ادب میں یہ مغلیہ دور کے درباری نظام سے جڑا رہا، جبکہ جدید دور کے افسانوں، ناولوں اور شاعری میں صنعتی ترقی، مزدوروں کے مسائل، اور سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات پر گفتگو کی گئی ہے۔

کارخانداری کا نظام برصغیر کی معیشت اور ثقافت میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مغلیہ دور میں شاہی سرپرستی سے لے کر برطانوی صنعتی ترقی اور آج کی جدید معیشت تک، کارخانداری کے تصور میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اردو زبان و ادب نے بھی اس ارتقائی سفر کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے، جو اس کی تاریخی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔کَرْخَنْداری اُرْدُو کی ساخت اور الفاظ میں قدیم دہلی کی زبان کی جھلکیاں ہیں، جس میں بعض الفاظ اور محاورے دہلی کے مخصوص محلے اور لوگوں کے تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں۔ آپ کو اس بولی میں کوئی خاص الفاظ یا جملے دلچسپ لگے ہیں؟

کَرْخَنْداری اُرْدُو دہلی کے قدیم محلے کی ثقافت، روزمرہ کے معاملات، اور سماجی رواجوں کا ایک عکاس ہے۔ اس میں مقامی رنگت، محاورے، اور بعض خاص الفاظ شامل ہیں جو اس علاقے کے لوگوں کی زندگی اور اس کے جغرافیائی اور ثقافتی پس منظر کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بولی دہلی کی ماضی کی عظمت اور اس کے باشندوں کی مخصوص سوچ اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔

کَرْخَنْداری اُرْدُو کی زبان میں عام طور پر روایتی اُردو کے علاوہ کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں جو دہلی کی مقامی زبان اور ہندی/اردو کے درمیان کا امتزاج ہوتے ہیں۔ اس میں دہلی کے قدیم شہری زندگی کے رنگ اور مذاق کی جھلک ملتی ہے، جیسے کہ محلہ، بازار، اور چھوٹے کاروباروں کے خاص الفاظ۔

اس بولی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ اُردو کے کلاسیکی شعر و ادب سے زیادہ وابستہ ہے، خاص طور پر دہلی کے مشہور شعراء اور ادب دانوں کے ذریعے استعمال ہونے والے محاوروں سے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بولی اُردو کی تہذیب و تمدن کی ایک قیمتی میراث سمجھی جاتی ہے۔

کَرْخَنْداری اُرْدُو میں کئی ایسی اصطلاحات اور محاورے بھی ہیں جو دہلی کے مخصوص زندگی کے معمولات اور مذاق کو ظاہر کرتے ہیں، جیسے:

    “چائے پر بلانا” – یہ محاورہ پرانی دہلی کی گلیوں کی روایت کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں لوگ آپس میں گپ شپ کرنے یا ملاقات کے لیے ایک دوسرے کو چائے پینے کی دعوت دیتے ہیں۔

    “کَٹھے مارنا” – یہاں اس کا مطلب ہوتا ہے، “بحث کرنا” یا “جھگڑنا”۔

    “گلی گلی میں طبلہ بجانا” – یہ محاورہ کسی بات کو پھیلانے یا مشہور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کَرْخَنْداری اُرْدُو کو دہلی کے لوگوں کے بیچ میں زندہ رکھنے اور اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کے لیے اس بولی کے استعمال میں بڑھاوا دینا ضروری ہے۔ کیا آپ کو اس بولی سے مزید جملے یا محاورے دلچسپ لگے ہیں؟

کَرْخَنْداری اُرْدُو کی مزید دلچسپ خصوصیات اور اس کے مخصوص محاورے اس کے رنگین اور مزے دار لہجے کو ظاہر کرتے ہیں، جو دہلی کی ثقافت کی گہرائیوں سے جڑے ہیں۔ یہاں کچھ مزید مثالیں ہیں:

    “گلی محلے کا چکر لگانا” – اس کا مطلب ہوتا ہے، “لوگوں سے ملاقات کرنا” یا “گپ شپ کرنا”۔ یہ محاورہ دہلی کی گلیوں میں لوگوں کے آپس میں میل جول اور چھوٹے اجتماعات کی عکاسی کرتا ہے۔

    “ڈھاکہ کی چمچم” – یہ ایک مقامی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے “زیادہ پھولنا” یا “دکھاوے میں آنا”۔ پرانی دہلی کے کچھ علاقے جہاں لوگ اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کرتے ہیں، اس محاورے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

    “نرم برف بنانا” – یہ محاورہ عام طور پر کسی شخص کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے یا کسی سے میل جول بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر کسی کو خوش کرنے یا اس کی نظر میں اچھا بننے کے لیے۔

    “چوپڑی کی طرح سستا” – اس کا مطلب ہوتا ہے “بہت سستا یا معمولی”۔ یہ محاورہ دہلی کے بازاروں میں کچھ سستی یا غیر قیمتی چیزوں کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    “جھگڑے کی ٹوٹی” – اس کا مطلب ہوتا ہے “بڑی بحث یا جھگڑا”۔ دہلی کی گلیوں میں عام طور پر جب دو افراد آپس میں بحث یا لڑائی کرتے ہیں، تو اس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    “سیلفی کے بھولے” – یہ لفظ دہلی کے نوجوانوں میں ایک مزاحیہ طور پر استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ہر وقت سیلفی لیتے رہتے ہیں یا سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں پوسٹ کرتے ہیں۔

کَرْخَنْداری اُرْدُو میں دہلی کے مخصوص رواجوں اور زندگی کے مختلف رنگوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس میں مزید گہرائی اور معنی کا اظہار اس کے محاوروں، روزمرہ کے جملوں اور علاقائی انداز میں نظر آتا ہے، جو اس بولی کو اپنے دیگر اُردو لہجوں سے ممتاز بناتا ہے-

کَرْخَنْداری اُرْدُو اردو کی بولی ہے جو پرانی دہلی (دہلی سکس) میں بولی جاتی ہے۔ یہ خالص دہلی کی زبان ہے جو اب بہ مشکل بولی جاتی ہے یا معدودے چند لوگ بولتے ہیں-

گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں: ”کرخنداری دہلی کے پرانے شہر میں رہنے والے دست کاروں، کاریگروں، تاجروں اور مزدوروں کی بول چال میں استعمال ہونے والی ایک سماجی بولی ہے۔ حالیہ دہلی کی آبادی اور ثقافت میں تبدیلیوں کے باوجود اس بولی کے بولنے والے آج بھی پرانے شہر کے مخصوص علاقوں میں محدود ہیں۔ ان کی رہائشی حدود شمال میں چاندنی چوک بازار، مشرق میں فیض بازار، جنوب میں آصف علی روڈ، اور مغرب میں لاہوری گیٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کرخنداری بولنے والوں کی زیادہ تر آبادی جامع مسجد کے جنوب مغرب اور لال کنواں بازار کے جنوب مغرب میں واقع گلیوں میں بسی ہوئی ہے، جن میں چتلی قبر، کوچہ چیلان، کلاں محل، مٹیا محل، بھوجلا پہاڑی، پہاڑی املی، چوڑی والاں، ٹوکری والاں، سوئی والاں، پھاٹک تیلیاں، بُلبُلی خانہ، محلہ قبرستان، گلی شاہ تارا، کوچہ پنڈت، محلہ رود گراں، فراش خانہ، اور گلی بتاشاں جیسی مشہور گلیاں شامل ہیں۔ لال کنواں کے شمال مشرق میں گلی قاسم جان، بازار بَلی ماراں، حویلی حصام الدین حیدر، بارہ دری شیر افگن خان، اور احاطہ کالے صاحب جیسے علاقے بھی کرخنداری بولنے والوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھاری باؤلی کے قریب پھاٹک حبش خاں میں بھی کچھ خاندان اس بولی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پرانے شہر کی دیواری سے باہر محلہ کشن گنج، شیش محل، قصاب پورہ، بیری والا باغ، اور باڑہ ہندو راؤ کی کچھ گلیاں بھی کرخنداری بولنے والوں کی رہائش گاہیں ہیں۔“[انگ 2]

لفظ کی تاریخ

لفظ کرخنداری کارخانہ سے مشتق ہے۔ اس لفظ کی تشکیلیاتی ساخت کچھ یوں ہے: کارخانہ (< کار ”کام“ + خانہ ”جگہ“) + دار (لاحقہ) = کارخانے دار (کارخانے (< خانہ) دار) + ی (لاحقہ) = کارخانے داری ← کرخنداری۔[2]

لسانی خصوصیات

معیاری اردو کے ساتھ موازنہ کرنے پر کرخنداری کے بعض مصمتوں اور مصوتوں کا تلفظ بدلا ہوا ملتا ہے؛ جیسے حلقی بندشی مصمتے، لب دندانی، دندانی، مسوڑی، تالوی اور حلقی صفیری مصمتے جو مخارج اور طریق ادائیگی کے اعتبار سے اردو سے مختلف ہیں۔ مصوتوں کے تلفظ کے وقت زبان کے مختلف حصوں کے عمل، ان کا مختلف ڈگریوں میں اٹھنا اور ہونٹوں کا مدور اور غیر مدور ہونا ایسی چیزیں ہیں جہاں کرخنداری اردو سے فرق کرتی ہے۔ کرخنداری میں عربی و فارسی /ق، خ، غ، ف، ز، ژ/ مصمتوں کا تواتر بھی شاذ ہے۔ اس کے علاوہ /ہ/ مصمتہ شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا ہے۔ لفظ کی تینوں پوزیشنوں میں اردو میں مصمتے جس کیفیت کے ساتھ آتے ہیں، کرخنداری بولی میں نہیں۔ یہی عالم مصمتی خوشوں کا بھی ہے۔ رکنوں کی ساخت بھی بڑی حد تک بدلی ہوتی ہے۔ البتہ مصوتوں کے انفی ہونے کا رجحان کرخنداری میں نسبتاً زیادہ ہے۔ کرخنداری میں اردو الفاظ کے ساتھ ادغام یا تماثل، تقلیب، ابتدائی الحاق اور حذفِ صوت مکرر جیسے صوتی عمل کا ہونا ایک عمومی بات ہے۔ الفاظ میں ان صوتی عملوں کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

اردو   کرخنداری

بد صورت   بس صورت

لکھنؤ نکھلؤ

دَرْد   دَرَد

شہادت      شادت

کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ رکنوں میں مصمتے جوڑ دیے جاتے ہیں جیسے اچانک (اردو) سے اچانچک (کرخنداری) وغیرہ۔ مارفیمیاتی سطح پر بھی متعدد تبدیلیوں کی نشان دہی کی جان جاتی ہے، مثلاً غیر فاعلی حالت میں غائب ضمیروں کا واحد اور جمع میں فرق جیسے: اُس > وِس ، اُن > وِن ، انھوں نے > ونوں نے، مجھ > مج، تجھ > تج وغیرہ۔ ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں جہاں واحد اور جمع بنانے کے طریقے الگ ہیں؛ جیسے مستقبل کا فعلِ امدادی ”گا“ کرخنداری میں ”آں“ ہو جاتا ہے۔ اس فرق کی نوعیت تکلمی بٹوارے کی ہے۔ وقت، جگہ اور سمت کی ضمیروں کے اشتقاتی عمل میں بھی فرق ملتا ہے، جیسے جبھی > جدی، کبھی > کدی، یہاں > یاں، وہاں > واں، جہاں > جاں، کہاں > کاں، اِدھر > اِدر ، اُدھر > وُدر، یہیں > یئیں، وہیں > وئیں وغیرہ۔ لفظی سطح پر دو طرح کا فرق ہے، صوتی تغیر یعنی اردو الفاظ کے صوتی تبدیلی کے ساتھ کرخنداری میں استعمال اور خالص کرخنداری الفاظ یعنی وہ الفاظ جو کرخنداری اردو میں منفرد ہیں اور اردو میں نہیں پائے جاتے:

قسم   اردو   کرخنداری

صوتی تغیر   درخت      درکت

جگہ   جنگہ

ٹھنڈ تھنڈا

مسجد مَیجد

پتھر   پھتّر

سیر   سیل

کمبل کمّل

چاقو   چقو

کبوتر قبوتر

آگے اَگاڑو

بادام بدام

خالص کرخنداری الفاظ     لڑکا   لمڈا

تحریک      ہلہلا

خلل کھنڈک

ممنوع       منادگی

آہستہ رسان

اجرت       دھیانگی

جرأت       تڑی

رقم   ناواں

مذاق مخریز

کرخنداری میں عربی و فارسی الفاظ یا فقروں کا غلط تلفظ یا غلط استعمال بھی ملتا ہے، جیسے بے فضول، دراصل ہیں، انشاء اللہ اگر اللہ نے چاہا، پا پیادہ پیدل چل کر، لبِ جمنا کے کنارے، ماہ رمضان کا مہینہ، لِلّٰہ کے واسطے، سنگِ مرمر کا پتھر اور چندے آب چندے ماتاب وغیرہ۔[3]