پروی اردو

پروی اردو (یا پوروِی اردو) ہندوستان کے مشرقی علاقوں، خاص طور پر بہار، اتر پردیش کے مشرقی اضلاع (پوروانچل)، جھارکھنڈ، اور مغربی بنگال میں بولی جانے والی اردو کا ایک مخصوص لہجہ ہے۔ اس میں مقامی بولیوں جیسے بہاری، میتھلی، بھوجپوری، اور بنگالی کے اثرات واضح طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

پروی اردو کا ثقافتی پس منظر برصغیر کی تہذیبی، لسانی اور ادبی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ “پروی” دراصل فارسی لفظ “پروان” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ترقی پذیر یا نشوونما پانے والی۔ تاریخی طور پر، پروی اردو ایک ایسی زبان یا اسلوب تھا جو مغلیہ دور میں شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر دہلی، اودھ، اور دکن میں رائج رہا۔

تاریخی پس منظر

پروی اردو کا آغاز اس وقت ہوا جب فارسی، عربی، ترکی، اور مقامی ہندوی زبانوں کے باہمی میل جول سے ایک نئی لسانی روایت تشکیل پانے لگی۔ مغل دربار میں فارسی زبان کا راج تھا، لیکن عوامی سطح پر مختلف مقامی زبانوں کے ساتھ اس کا امتزاج ایک منفرد ثقافتی شناخت بنا رہا تھا۔

ثقافتی اثرات

    ادبی ترقی: پروی اردو میں شعری اور نثری روایات نے خاصی ترقی کی۔ میر، سودا، اور دیگر شعرا نے اس اسلوب کو اپنا کر اسے مزید نکھارا۔

    صوفیانہ اثرات: صوفی بزرگوں نے پروی اردو کے ذریعے عوام سے خطاب کیا، جس سے اس میں سادگی اور جذباتیت در آئی۔

    درباری زبان: اگرچہ دربار میں فارسی کا چلن زیادہ تھا، لیکن پروی اردو بھی مختلف سطحوں پر استعمال ہونے لگی، خاص طور پر عوامی مکالمے میں۔

    عوامی زبان: بازاروں، میلوں، اور عوامی اجتماعات میں پروی اردو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی تھی، جو اسے ایک وسیع سماجی بنیاد فراہم کرتی تھی۔

زبان و بیان کی خصوصیات

    فارسی، عربی اور ہندی الفاظ کا حسین امتزاج

    سادہ اور رواں اندازِ بیاں

    محاوراتی رنگ

    عوامی لہجے کی جھلک

پروی اردو نہ صرف زبان کی ایک ارتقائی شکل تھی بلکہ اس نے برصغیر کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کو بھی نمایاں کیا۔ اس نے بعد میں جدید اردو کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کا اثر آج بھی اردو زبان کے مختلف لہجوں اور اسالیب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

پروی اردو کی خصوصیات

  1. تلفظ اور لہجے کی خاصیت

    پروی اردو کا لب و لہجہ نرم اور کھنک دار ہوتا ہے، جو مشرقی ہندوستان کی بولیوں سے متاثر ہے۔

    اس میں بعض الفاظ کو الگ انداز میں ادا کیا جاتا ہے، جیسے:

        “بات” کو “بئیت”

        “کیا” کو “کئو”

        “گھر” کو “گھئیر”

    بعض الفاظ کو کھینچ کر بولا جاتا ہے، جیسے “کہاں” کو “کھاں” اور “وہاں” کو “وہاں” (مگر کھینچ کر)۔

  1. الفاظ اور جملوں کی ساخت

    پروی اردو میں بھوجپوری، میتھلی، اور ہندی کے کئی الفاظ شامل ہوتے ہیں، جیسے:

        “ہمکے” (مجھے)

        “توکے” (تجھے)

        “کا حال با؟” (کیا حال ہے؟)

        “ایہہ” (یہ)

        “اوہہ” (وہ)

    جملے کی ساخت بھی کچھ مختلف ہو سکتی ہے، جیسے:

        “ہم کو جانا ہے” کی جگہ “ہمکے جانا با”

  1. روزمرہ میں ہندی اور بھوجپوری کے اثرات

    پروی اردو میں ہندی اور بھوجپوری کے اثرات بہت زیادہ ہیں، خاص طور پر گنتی، رشتہ داریوں کے نام، اور کچھ مخصوص الفاظ میں۔

    مثالیں:

        “دادا” (دادا کی جگہ)

        “نانی” (نانی کی جگہ)

        “بہنیا” (بہن)

        “کا حال با؟” (تمہاری طبیعت کیسی ہے؟)

  1. ادب اور شاعری میں پروی اردو

    پروی اردو کا زیادہ استعمال دیہاتی اور عوامی شاعری، قصے، اور داستانوں میں ہوتا رہا ہے۔

    بہار اور بنگال میں کئی معروف شعرا نے پروی اردو میں شاعری کی ہے، جیسے سید شاہ نصیر، شبلی نعمانی، اور علی سردار جعفری۔

  1. پروی اردو کا ثقافتی پس منظر

    پروی اردو کا زیادہ تر استعمال بہار، جھارکھنڈ، اور مشرقی یوپی کے دیہی علاقوں میں ہوتا ہے۔

    کلکتہ اور پٹنہ جیسے شہروں میں اس اردو کے ساتھ بنگالی اور ہندی کا امتزاج بھی نظر آتا ہے۔

    دیہاتی اور عوامی بول چال میں یہ لہجہ زیادہ مقبول ہے۔

پروی اردو مشرقی ہندوستان کی زبان، ثقافت، اور تہذیب کی نمائندہ ہے۔ اس کا منفرد لب و لہجہ اور الفاظ اس کی پہچان ہیں۔ یہ اردو کے ان لہجوں میں شامل ہے جو آج بھی عوامی سطح پر زندہ ہیں اور اپنے مخصوص رنگ کے ساتھ بولے جاتے ہیں۔