لکھنوی اردو
لکھنوی اردو برصغیر میں بولی جانے والی اردو زبان کا ایک خاص انداز ہے جو لکھنؤ کی تہذیب، نفاست، شائستگی اور مخصوص ادبی رنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس زبان میں الفاظ کے چناؤ، محاورات، لب و لہجے اور طرزِ تخاطب میں ایک الگ ہی نزاکت اور لطافت پائی جاتی ہے۔ لکھنوی اردو میں تہذیبی رکھ رکھاؤ، احترام اور نرمی نمایاں ہوتی ہے، جس کی جڑیں لکھنؤ کے ادبی، ثقافتی اور معاشرتی پس منظر سے جڑی ہوئی ہیں۔
لکھنوی اردو کی خصوصیات:
ادب و احترام:
لکھنوی طرزِ گفتگو میں عزت و احترام کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے، خواتین و حضرات سبھی سے انتہائی مہذب اور شائستہ انداز میں گفتگو کی جاتی ہے، مثلاً:
“قبلہ، آپ کی مزاج پُرسی کا شرف حاصل ہو؟”
“حضرت! کچھ ارشاد ہو؟”
نفاست اور نزاکت:
لکھنوی اردو میں الفاظ کے چناؤ اور جملوں کی ساخت میں ایک خاص نزاکت پائی جاتی ہے، جیسے:
“جناب، اگر زحمت نہ ہو تو کچھ عرض کروں؟”
“یہ چائے نوش فرمانے کی سعادت حاصل کیجیے۔”
محاورات و روزمرہ:
لکھنوی اردو میں مخصوص محاورے اور روزمرہ کے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے:
“یہ آپ کی عنایت ہے، ورنہ ہماری کیا بساط!”
“مزاجِ گرامی کیسا ہے؟”
شیریں بیانی:
لب و لہجے میں نرمی اور شائستگی ہوتی ہے، جس سے بات سننے والے کے دل پر اثر کرتی ہے۔
شاعرانہ رنگ:
چونکہ لکھنؤ اردو ادب اور شاعری کا مرکز رہا ہے، لہٰذا یہاں کی زبان میں فصاحت و بلاغت نمایاں ہوتی ہے۔
نمونۂ مکالمہ:
حامد: “قبلہ، آپ خیریت سے ہیں؟ کچھ احوال ارشاد ہو۔”
رفیق: “الحمدللہ، آپ کی دعائیں ہیں۔ فرمائیے، کسی خدمت کے لیے حاضر ہو سکتا ہوں؟”
حامد: “بس، یونہی آپ کی زیارت کا شوق تھا، اور یہ سعادت میسر آئی۔”
یہ اندازِ گفتگو لکھنوی تہذیب کی خوبصورتی کا عکاس ہے، جہاں شائستگی، محبت اور عزت و احترام کا عنصر ہر جملے میں جھلکتا ہے۔
حوالہ جات
لکھنوی اردو کے حوالے سے مستند حوالہ جات درج ذیل ہیں:
کتب و مضامین:
محمد حسین آزاد – آبِ حیات (1880)
اس کتاب میں اردو زبان، شعر و ادب اور لکھنوی و دہلوی طرزِ گفتگو کے فرق پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
عبدالحلیم شرر – گزشتہ لکھنؤ
اس کتاب میں لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت، زبان اور ادب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
شوکت صدیقی – اردو نثر میں لکھنؤ کی تہذیبی جھلکیاں
اس مقالے میں لکھنوی اردو کے مخصوص لب و لہجے اور اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
رام بابو سکسینہ – تاریخِ ادبِ اردو
اس کتاب میں لکھنؤ کی اردو زبان اور اس کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ – دہلی کا آخری مشاعرہ
اس تحریر میں لکھنوی اور دہلوی زبان و بیان کے اسلوب کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سید مسعود حسن رضوی ادیب – لکھنؤ کا دبستانِ شاعری
اس میں لکھنوی اردو کے شعری اسلوب اور نثر کے محاوراتی رنگ پر گفتگو کی گئی ہے۔
ڈاکٹر گیان چند جین – اردو کی ادبی تاریخ
اس میں اردو زبان کے مختلف دبستانوں بشمول لکھنؤ کے ادبی اسلوب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
دیگر حوالہ جات:
مولوی عبد الحق – چند ہم عصر
ڈاکٹر جمیل جالبی – تاریخ ادبِ اردو
نثار احمد فاروقی – اردو کے دبستان
یہ کتب اور مضامین لکھنوی اردو کے اسلوب، تہذیب، اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
لکھنوی اردو شیریں بیانی
لکھنوی اردو اپنی شیریں بیانی اور نرمی و لطافت کے لیے مشہور ہے۔ اس زبان میں جو مٹھاس اور تہذیبی وقار پایا جاتا ہے، وہ کسی اور اندازِ گفتگو میں کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ لکھنوی زبان کی شیرینی کا راز الفاظ کے چناؤ، لب و لہجے کی شائستگی، محاوراتی حسن اور ادب و احترام میں پنہاں ہے۔
لکھنوی اردو میں شیریں بیانی کے عناصر:
- الفاظ کی نزاکت اور شائستگی
لکھنوی اردو میں نرمی اور تہذیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، لہٰذا عام جملے بھی نہایت مہذب اور شیریں لگتے ہیں:
“قبلہ، مزاجِ گرامی کیسا ہے؟”
“حضرت! کچھ ارشاد ہو؟”
“آپ کی عنایت ہے، ورنہ ہماری کیا بساط!”
- نرم لہجہ اور تکریم آمیز انداز
لکھنؤ کی زبان میں جو عزت و احترام پایا جاتا ہے، وہ اس کی شیریں بیانی کا بنیادی جزو ہے۔
“محترم، اگر زحمت نہ ہو تو کچھ عرض کروں؟”
“یہ آپ کی نوازش ہے کہ ہمیں یاد فرمایا!”
- محاورات اور روزمرہ کی مٹھاس
لکھنوی اردو میں مخصوص محاورات اور روزمرہ کی ترکیبیں بھی شیریں بیانی کو نمایاں کرتی ہیں:
“بندہ پرور، آپ کی عنایتوں کا کیا شمار!”
“قبلہ، آپ کی زیارت نے دل خوش کر دیا!”
“آپ کے لبوں سے یہ الفاظ سننا سعادت کی بات ہے!”
- شاعرانہ رنگ
لکھنوی طرزِ گفتگو میں شاعرانہ انداز پایا جاتا ہے، جو سننے والے کو مسحور کر دیتا ہے:
“آپ کی گفتگو تو جیسے شبنم میں بھیگی ہوئی ہے!”
“آپ کے لہجے کی مٹھاس دل میں اترتی جاتی ہے!”
شیریں بیانی کا ایک مکالمہ
حامد: “قبلہ، آپ کے دیدار کا شرف حاصل ہوا، دل باغ باغ ہو گیا!”
رفیق: “حضرت، یہ سب آپ کی محبت اور نوازش ہے، ورنہ ہماری کیا حقیقت!”
حامد: “آپ کی صحبت میں بیٹھنا کسی نعمت سے کم نہیں!”
یہ سب اندازِ بیان لکھنوی اردو کو شیریں اور پرکشش بناتے ہیں، جو نہ صرف زبان کی خوبصورتی کا اظہار ہیں بلکہ لکھنؤ کی تہذیبی عظمت کا بھی حصہ ہیں۔
محاورات و روزمرہ
لکھنوی اردو میں محاورات و روزمرہ زبان کا حسن اور نفاست نمایاں ہوتی ہے۔ اس طرزِ بیان میں نرمی، احترام اور تہذیبی رکھ رکھاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، جس سے بات چیت نہایت شیریں اور دلنشین معلوم ہوتی ہے۔
لکھنوی اردو کے چند خاص محاورات اور روزمرہ کے جملے:
- مزاج پرسی اور احوال پرسی:
“مزاجِ گرامی بخیر؟” (آپ کیسے ہیں؟)
“مزاج شریف کیسے ہیں؟”
“حضور کی طبیعت تو ہشاش بشاش ہے؟”
“اللہ سلامت رکھے، آپ کی خیر ہی خیر ہو!”
- شائستہ تکریم اور گفتگو کا آداب:
“قبلہ، کچھ ارشاد ہو؟” (کوئی بات کہنی ہو تو فرمائیے)
“جناب، یہ سب آپ کی عنایت ہے!”
“آپ کی نوازش ہے، ورنہ ہماری کیا مجال!”
“آپ کے قدموں کی برکت سے یہ محفل روشن ہے!”
- دعوت اور مہمان نوازی:
“بندہ پرور، آپ کچھ تناول نہیں فرما رہے؟”
“یہ ناچیز سی خدمت قبول فرمائیے!”
“قبلہ، بس ایک پیالی چائے تو نوش فرما لیجیے!”
“یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ تشریف لائے!”
- دعائیں اور نیک تمنائیں:
“اللہ آپ کو سلامت رکھے!”
“اللہ آپ کے علم و فضل میں برکت دے!”
“اللہ آپ کو دن دونی رات چوگنی ترقی دے!”
“خدا آپ کو سلامت رکھے اور ہر بلا سے بچائے!”
- خوش اخلاقی اور انکساری:
“یہ سب آپ کی مہربانی ہے، ورنہ ہماری کیا بساط!”
“آپ کی صحبت میں بیٹھنا تو سعادت کی بات ہے!”
✅ “جناب، یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے!”
✅ “ہم تو آپ کے قدموں کی خاک بھی نہیں!”
- تعریفی کلمات:
✅ “آپ کے لب و لہجے کی مٹھاس دل میں اترتی جاتی ہے!”
✅ “آپ کی طبیعت میں جو نفاست ہے، وہ کم لوگوں میں دیکھی!”
✅ “یہ آپ کی محبت ہے کہ ہمیں یاد فرمایا!”
✅ “آپ کی گفتگو کسی شبنم میں بھیگی صبح کی مانند ہے!”
- رخصت ہونے کے آداب:
✅ “حضور اجازت دیجیے، قدم بوسی کی سعادت پھر کبھی نصیب ہوگی!”
✅ “قبلہ، اب رخصت چاہیں گے، مگر دل تو یہیں رہ جائے گا!”
✅ “اللہ حافظ، آپ کی خیر و عافیت کی دعا ہے!”
یہ سب لکھنوی اردو کے مخصوص محاورات اور روزمرہ کے جملے ہیں، جو نہ صرف زبان میں مٹھاس اور شائستگی پیدا کرتے ہیں بلکہ تہذیبی عظمت کے بھی آئینہ دار ہیں۔
لکھنؤ اردو ادب اور شاعری کا مرکز رہا ہے، لہٰذا یہاں کی زبان میں فصاحت و بلاغت نمایاں ہوتی ہے۔
جی ہاں! لکھنؤ اردو ادب اور شاعری کا ایک اہم مرکز رہا ہے، اور اسی وجہ سے یہاں کی زبان میں فصاحت و بلاغت، نزاکت و لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔ لکھنوی اردو کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا ادبی حسن، تہذیبی نفاست، شائستگی اور شیریں بیانی ہے، جو اس شہر کی تہذیبی وراثت کا حصہ بن چکی ہے۔
لکھنوی اردو کی خصوصیات:
- فصاحت و بلاغت:
✅ الفاظ کے درست استعمال اور جملوں کی موزونیت، جو گفتگو کو دلنشین اور ادبی بناتی ہے۔
✅ الفاظ کی تراش خراش اور تلفظ کی خوبصورتی، جو زبان کو ایک خاص دلکشی عطا کرتی ہے۔
✅ سنجیدگی، نرمی اور وقار کے امتزاج سے گفتگو میں متانت پیدا ہوتی ہے۔
- محاورات اور روزمرہ کی شائستگی:
✅ لکھنوی زبان میں شیریں بیانی اور ادب آداب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
✅ روزمرہ کے محاورات میں بھی شائستگی اور ادب جھلکتا ہے، جیسے:
“قبلہ! کچھ ارشاد ہو؟”
“حضرت، مزاج شریف کیسے ہیں؟”
“یہ سب آپ کی عنایت ہے، ورنہ ہماری کیا بساط!”
- شاعری کا ذوق اور شعری محفلیں:
✅ لکھنؤ نے اردو شاعری کو میر انیس، دبیر، آتش، ناسخ، اور امیر مینائی جیسے بلند پایہ شاعر دیے۔
✅ یہاں کی زبان میں تشبیہات، استعارات، کنایات اور صنائع و بدائع کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
✅ شاعری میں لطافت، نزاکت اور حسنِ بیان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
- نثر میں ادبی رنگ:
✅ لکھنوی نثر میں بھی سلاست، برجستگی، نفاست اور محاکاتی حسن پایا جاتا ہے۔
✅ عبدالحلیم شرر، سید مسعود حسن رضوی ادیب، مرزا فرحت اللہ بیگ جیسے نثر نگاروں نے لکھنوی نثر کو نیا آہنگ دیا۔
✅ طنز و مزاح میں لطف، شیرینی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ نمایاں ہوتا ہے، جیسا کہ مرزا فرحت اللہ بیگ کے یہاں نظر آتا ہے۔
لکھنؤ کی زبان صرف بول چال کا ذریعہ نہیں بلکہ ادبی حسن، تہذیبی شائستگی، اور شعری لطافت کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت نے اردو کو ایک شائستہ، شیریں اور باوقار لب و لہجہ عطا کیا، جو آج بھی اردو ادب میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔
———————-
لکھنوی اردو
لکھنوی اردو برصغیر میں بولی جانے والی اردو زبان کا ایک خاص انداز ہے جو لکھنؤ کی تہذیب، نفاست، شائستگی اور مخصوص ادبی رنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس زبان میں الفاظ کے چناؤ، محاورات، لب و لہجے اور طرزِ تخاطب میں ایک الگ ہی نزاکت اور لطافت پائی جاتی ہے۔ لکھنوی اردو میں تہذیبی رکھ رکھاؤ، احترام اور نرمی نمایاں ہوتی ہے، جس کی جڑیں لکھنؤ کے ادبی، ثقافتی اور معاشرتی پس منظر سے جڑی ہوئی ہیں۔
لکھنوی اردو کی خصوصیات:
ادب و احترام:
لکھنوی طرزِ گفتگو میں عزت و احترام کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے، خواتین و حضرات سبھی سے انتہائی مہذب اور شائستہ انداز میں گفتگو کی جاتی ہے، مثلاً:
“قبلہ، آپ کی مزاج پُرسی کا شرف حاصل ہو؟”
“حضرت! کچھ ارشاد ہو؟”
نفاست اور نزاکت:
لکھنوی اردو میں الفاظ کے چناؤ اور جملوں کی ساخت میں ایک خاص نزاکت پائی جاتی ہے، جیسے:
“جناب، اگر زحمت نہ ہو تو کچھ عرض کروں؟”
“یہ چائے نوش فرمانے کی سعادت حاصل کیجیے۔”
محاورات و روزمرہ:
لکھنوی اردو میں مخصوص محاورے اور روزمرہ کے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے:
“یہ آپ کی عنایت ہے، ورنہ ہماری کیا بساط!”
“مزاجِ گرامی کیسا ہے؟”
شیریں بیانی:
لب و لہجے میں نرمی اور شائستگی ہوتی ہے، جس سے بات سننے والے کے دل پر اثر کرتی ہے۔
شاعرانہ رنگ:
چونکہ لکھنؤ اردو ادب اور شاعری کا مرکز رہا ہے، لہٰذا یہاں کی زبان میں فصاحت و بلاغت نمایاں ہوتی ہے۔
نمونۂ مکالمہ:
حامد: “قبلہ، آپ خیریت سے ہیں؟ کچھ احوال ارشاد ہو۔”
رفیق: “الحمدللہ، آپ کی دعائیں ہیں۔ فرمائیے، کسی خدمت کے لیے حاضر ہو سکتا ہوں؟”
حامد: “بس، یونہی آپ کی زیارت کا شوق تھا، اور یہ سعادت میسر آئی۔”
یہ اندازِ گفتگو لکھنوی تہذیب کی خوبصورتی کا عکاس ہے، جہاں شائستگی، محبت اور عزت و احترام کا عنصر ہر جملے میں جھلکتا ہے۔
حوالہ جات
لکھنوی اردو کے حوالے سے مستند حوالہ جات درج ذیل ہیں:
کتب و مضامین:
محمد حسین آزاد – آبِ حیات (1880)
اس کتاب میں اردو زبان، شعر و ادب اور لکھنوی و دہلوی طرزِ گفتگو کے فرق پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
عبدالحلیم شرر – گزشتہ لکھنؤ
اس کتاب میں لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت، زبان اور ادب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
شوکت صدیقی – اردو نثر میں لکھنؤ کی تہذیبی جھلکیاں
اس مقالے میں لکھنوی اردو کے مخصوص لب و لہجے اور اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
رام بابو سکسینہ – تاریخِ ادبِ اردو
اس کتاب میں لکھنؤ کی اردو زبان اور اس کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ – دہلی کا آخری مشاعرہ
اس تحریر میں لکھنوی اور دہلوی زبان و بیان کے اسلوب کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سید مسعود حسن رضوی ادیب – لکھنؤ کا دبستانِ شاعری
اس میں لکھنوی اردو کے شعری اسلوب اور نثر کے محاوراتی رنگ پر گفتگو کی گئی ہے۔
ڈاکٹر گیان چند جین – اردو کی ادبی تاریخ
اس میں اردو زبان کے مختلف دبستانوں بشمول لکھنؤ کے ادبی اسلوب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
دیگر حوالہ جات:
مولوی عبد الحق – چند ہم عصر
ڈاکٹر جمیل جالبی – تاریخ ادبِ اردو
نثار احمد فاروقی – اردو کے دبستان
یہ کتب اور مضامین لکھنوی اردو کے اسلوب، تہذیب، اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔