سلہٹی اردو

سلہٹی اردو، اردو زبان کی ایک بولی ہے جو بنیادی طور پر سلہٹ (بنگلہ دیش) کے لوگوں میں رائج رہی ہے۔ یہ زبان بنگالی اور اردو کے امتزاج سے بنی ہے اور زیادہ تر سلہٹی بولنے والے مسلمانوں کے درمیان استعمال ہوتی رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں برطانوی راج کے دوران یا اس کے بعد ہجرت ہوئی۔

سلہٹی اردو کا تاریخی پس منظر

سلہٹی اردو کا تعلق برصغیر کی ایک مخصوص لسانی اور ثقافتی روایت سے جڑا ہوا ہے، جو بنیادی طور پر سلہٹ (موجودہ بنگلہ دیش) سے وابستہ ہے۔ اس زبان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے، ہمیں برصغیر میں اردو زبان کے ارتقا، سلہٹ کی تاریخی حیثیت، اور وہاں کے باشندوں کی زبان و ثقافت پر نظر ڈالنی ہوگی۔

  1. سلہٹ کا تاریخی اور ثقافتی پس منظر

سلہٹ تاریخی طور پر ایک منفرد خطہ رہا ہے، جو بنگال کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ یہاں کی زبان، سلہٹی، بنگالی زبان کی ایک شاخ ہے، لیکن اس پر عربی، فارسی اور اردو کے اثرات بھی نمایاں ہیں، خصوصاً ان صوفی بزرگوں اور تاجروں کی بدولت جو برصغیر کے مختلف علاقوں سے یہاں آئے۔

  1. اردو زبان کا ارتقا اور سلہٹ

اردو زبان بنیادی طور پر دہلی اور نواحی علاقوں میں پیدا ہوئی، لیکن اس کا اثر رفتہ رفتہ پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ مغلیہ دور میں، جب فارسی سرکاری زبان تھی، اردو نے مختلف مقامی زبانوں کے ساتھ ایک مشترکہ ذریعہ ابلاغ کی حیثیت حاصل کرلی۔ سلہٹ جیسے علاقوں میں، جہاں تجارتی اور صوفیانہ روابط زیادہ تھے، وہاں اردو کے اثرات زیادہ نمایاں ہوئے۔

  1. سلہٹی اردو کا آغاز اور ترقی

سلہٹی اردو درحقیقت ان مسلم تاجروں، صوفی بزرگوں، اور اہل علم کی مرہون منت ہے، جو سلہٹ میں آباد ہوئے اور وہاں اردو کو فروغ دیا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں جب برطانوی راج نے بنگال پر اپنا تسلط قائم کیا، تو اردو ایک رابطے کی زبان کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔

یہاں کے مسلم علما اور ادبی شخصیات نے اردو کو نہ صرف سیکھا بلکہ اس میں لکھنے کا آغاز بھی کیا۔ کئی اخبارات اور رسائل میں اردو مضامین شائع ہونے لگے، اور مقامی لوگوں نے بھی اردو کو اپنی ثانوی زبان کے طور پر اپنانا شروع کیا۔

  1. سلہٹی اردو کی خصوصیات

سلہٹی اردو میں درج ذیل خصوصیات نمایاں ہیں:

    اس پر بنگالی اور سلہٹی زبان کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اس میں کچھ الفاظ اور جملے ایسے ملتے ہیں جو خالص اردو یا فارسی کے بجائے مقامی بولیوں سے ماخوذ ہیں۔

    مذہبی اور صوفیانہ اثرات کی وجہ سے اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی شمولیت زیادہ ہے۔

    بعض مخصوص صوتی اور نحوی (grammatical) تبدیلیاں بھی دیکھی جاتی ہیں، جو سلہٹی اردو کو ایک منفرد رنگ دیتی ہیں۔

  1. جدید دور میں سلہٹی اردو

آج بھی بنگلہ دیش اور برطانیہ میں مقیم سلہٹی نژاد کمیونٹی کے کئی افراد اردو بولتے اور لکھتے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد، خاص طور پر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، سلہٹی اردو کو محدود چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن برطانیہ میں مقیم سلہٹی مسلمانوں نے اسے اپنی شناخت کے ایک حصے کے طور پر برقرار رکھا۔

سلہٹی اردو، اردو زبان کے ایک تاریخی تسلسل اور برصغیر کے ثقافتی امتزاج کی ایک مثال ہے۔ یہ زبان نہ صرف اردو کے عمومی ارتقا کا ایک اہم باب ہے بلکہ برصغیر کی متنوع ثقافتی تاریخ کا ایک منفرد پہلو بھی پیش کرتی ہے۔ آج بھی، سلہٹی اردو اپنی تاریخی جڑوں کو محفوظ رکھتے ہوئے مخصوص حلقوں میں زندہ ہے اور ایک ثقافتی ورثے کے طور پر اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

خصوصیات:

    بنیادی ڈھانچہ:

        سلہٹی اردو میں اردو کا رسم الخط استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کے جملوں کی ساخت اور الفاظ میں بنگالی اثر واضح ہوتا ہے۔

        بعض اوقات عربی اور فارسی الفاظ زیادہ ملتے ہیں، جو اسے روایتی اردو سے جوڑتے ہیں۔

    الفاظ اور ذخیرۂ الفاظ:

        اس میں بنگالی، عربی، فارسی اور ہندی الفاظ کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

        کچھ الفاظ اردو سے ملتے جلتے ہیں، لیکن ان کا تلفظ بنگالی انداز میں ہوتا ہے۔

    تلفظ:

        سلہٹی اردو بولنے والے بعض اردو الفاظ کو بنگالی انداز میں ادا کرتے ہیں۔

        نرمی اور سادگی اس زبان کی ایک پہچان ہے۔

    استعمال:

        یہ زبان خاص طور پر بنگلہ دیش، بھارت (آسام، تریپورہ)، اور برطانیہ میں سلہٹی نژاد کمیونٹیز میں بولی جاتی ہے۔

        پرانی نسل کے لوگ زیادہ تر اسے روزمرہ کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں، جبکہ نئی نسل معیاری اردو یا انگریزی کی طرف زیادہ مائل ہے۔

سلہٹی اردو دراصل ان مسلمانوں کی زبان رہی ہے جو مغل دور، برطانوی دور، اور آزادی کے بعد ہجرت کے مختلف مراحل سے گزرے۔ خاص طور پر برطانیہ میں موجود سلہٹی مسلمانوں کی کمیونٹی نے اس زبان کو طویل عرصے تک زندہ رکھا۔

موجودہ صورتِ حال:

آج کے دور میں سلہٹی اردو بولنے والے کم ہو گئے ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ اردو، بنگالی، یا انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، یہ اب بھی ایک مخصوص طبقے میں رائج ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو برطانوی سلہٹی مسلم کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

کیا آپ سلہٹی اردو کے کسی خاص پہلو پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟ سلہٹی اردو: ایک تفصیلی جائزہ

سلہٹی اردو ایک منفرد زبان یا بولی ہے جو اردو اور بنگالی زبان کے امتزاج سے بنی ہے۔ یہ خاص طور پر سلہٹ (بنگلہ دیش)، آسام، تریپورہ (بھارت)، اور برطانیہ میں سلہٹی نژاد مسلم کمیونٹی میں بولی جاتی رہی ہے۔ اس زبان کا وجود تاریخی، سماجی، اور ثقافتی عوامل کا نتیجہ ہے۔

سلہٹ کا علاقہ برصغیر کی مسلم تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں اسلام کی آمد شاہ جلالؒ اور ان کے ساتھی صوفی بزرگوں کے ذریعے ہوئی۔ مغلیہ دور میں اردو زبان کا اثر بڑھا اور سلہٹی مسلمانوں نے اسے اپنے لہجے میں اپنا لیا۔

    مغل دور: اردو زبان کا فروغ مغلوں کے زیر اثر ہوا، اور سلہٹی مسلمان بھی اس زبان سے واقف ہو گئے۔

    برطانوی راج: جب برطانوی حکومت نے سلہٹ کو پہلے آسام میں اور پھر بنگال میں ضم کیا، تو یہاں اردو بولنے والوں کا حلقہ محدود ہونے لگا۔

    ہجرت اور برطانیہ میں سلہٹی کمیونٹی: بیسویں صدی میں برطانیہ ہجرت کرنے والے سلہٹی مسلمانوں نے اپنی مخصوص اردو کو وہاں برقرار رکھا، خاص طور پر لندن، برمنگھم، اور مانچسٹر میں۔

  1. سلہٹی اردو کی زبان دانی

سلہٹی اردو میں اردو کے بنیادی اصول موجود ہیں، لیکن اس پر بنگالی زبان کے گہرے اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

(الف) رسم الخط

سلہٹی اردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر اردو کے قریب ہے۔ تاہم، کچھ مقامی سلہٹی الفاظ کو تحریر میں شامل کرنے کے لیے ان کا اردو میں متبادل ڈھونڈا جاتا ہے۔

(ب) ذخیرۂ الفاظ

اس زبان میں اردو، عربی، فارسی، اور بنگالی الفاظ کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ چند مثالیں:

معیاری اردو سلہٹی اردو

کھانا  خائو

پانی   پان

جلدی کرو   تارا کر

کہاں جا رہے ہو؟  تو کتے جائت ایسو؟

میں جا رہا ہوں    ہم جاو تم

یہاں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سلہٹی اردو میں اردو اور بنگالی الفاظ کا امتزاج موجود ہے، اور جملے کی ساخت بھی بعض اوقات بنگالی سے مشابہت رکھتی ہے۔

(ج) تلفظ اور لہجہ

سلہٹی اردو بولنے والے اردو کے بہت سے الفاظ کو بنگالی انداز میں ادا کرتے ہیں۔ جیسے:

    “ز” کی جگہ “ج” یا “د” کی آواز

    “ف” کی جگہ “پ”

    “گ” کی جگہ “ک”

مثلاً:

    زبردست → جبردست

    فائدہ → پائیدہ

    گاڑی → کاڑی

  1. سلہٹی اردو کی ثقافتی حیثیت

سلہٹی اردو زیادہ تر سلہٹ کے مسلمانوں میں بولی جاتی رہی ہے، لیکن برطانیہ میں ہجرت کے بعد اس کا دائرہ مزید محدود ہو گیا۔

(الف) برطانوی سلہٹی کمیونٹی

    بیسویں صدی میں سلہٹی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ (خصوصاً لندن، برمنگھم، مانچسٹر) میں منتقل ہوئی۔

    وہاں ریسٹورنٹ، کاروبار، اور مذہبی اجتماعات میں سلہٹی اردو کا استعمال ہوتا رہا، لیکن نئی نسل زیادہ تر انگریزی یا معیاری اردو کی طرف مائل ہو گئی ہے۔

(ب) بھارت اور بنگلہ دیش میں سلہٹی اردو

    بھارت میں آسام، تریپورہ، اور مغربی بنگال میں کچھ بزرگ اب بھی سلہٹی اردو بولتے ہیں، لیکن نئی نسل زیادہ تر بنگالی کو ترجیح دیتی ہے۔

    بنگلہ دیش میں اردو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، اس لیے وہاں سلہٹی اردو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

  1. سلہٹی اردو کا مستقبل

(الف) معدومیت کا خطرہ

    نئی نسل میں معیاری اردو، انگریزی، یا بنگالی کا رجحان زیادہ ہو رہا ہے۔

    سلہٹی اردو بولنے والے بزرگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

(ب) تحفظ کے اقدامات

    سلہٹی کمیونٹی میں کچھ افراد اس زبان کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    برطانیہ میں کچھ سلہٹی ریڈیو اسٹیشنز اور ویب سائٹس اس زبان کو زندہ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

سلہٹی اردو ایک دلچسپ لسانی امتزاج ہے، جو اردو اور بنگالی زبانوں کے اثرات کا عکاس ہے۔ تاہم، نئی نسل میں اس کا استعمال کم ہونے کی وجہ سے اس کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر اس زبان کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ چند دہائیوں میں ناپید ہو سکتی ہے۔