جدیدیت اور مابعد جدت

جدیدیت اور مابعد جدت کی تعریف

جدیدیت (Modernism) کی تعریف

جدیدیت ایک فکری اور ادبی تحریک ہے جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ابھری۔ یہ تحریک روایتی اقدار، اسلوب، اور بیانیہ طریقوں کو رد کرتے ہوئے نئے اور تجرباتی انداز میں حقیقت کی تفہیم پر زور دیتی ہے۔ جدیدیت کا بنیادی مقصد انسانی تجربے کو ایک نئے زاویے سے بیان کرنا اور ادب، فن، فلسفہ، اور ثقافت میں جدت پیدا کرنا تھا۔

خصوصیات:

    حقیقت (Reality) کو موضوعی (subjective) انداز میں پیش کرنا

    روایتی بیانیے (narrative) اور پلاٹ کے بجائے شعور کی رو (stream of consciousness) اور علامتی انداز اختیار کرنا

    سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب، اور جنگوں کے اثرات کو ادب اور فن میں سمو دینا

    فرد کی داخلی کیفیت اور نفسیاتی پیچیدگیوں پر توجہ دینا

اہم شخصیات: جیمز جوائس، ٹی ایس ایلیٹ، ورجینیا وولف، فرانتس کافکا، پابلو پکاسو

مابعدجدت (Postmodernism) کی تعریف

مابعدجدت بیسویں صدی کے وسط میں جدیدیت کے ردِعمل کے طور پر سامنے آئی۔ یہ نظریہ حقیقت، زبان، اور ثقافت کے مطلق سچائیوں (absolute truths) کو چیلنج کرتا ہے اور حقیقت کو ایک سماجی اور لسانی تشکیل (social and linguistic construct) کے طور پر دیکھتا ہے۔ مابعدجدت میں ادب، فلسفہ، اور فنون میں عدم مرکزیت، بین المتونیّت (intertextuality)، اور روایت کی تحلیل پر زور دیا جاتا ہے۔

خصوصیات:

    حقیقت کی غیر یقینی نوعیت (Reality as fragmented and uncertain)

    متن کی مختلف تشریحات اور معنوں کی کثرت (multiple interpretations)

    بین المتونیت (Intertextuality) اور طنز (Irony) کا استعمال

    زبان اور بیان کے غیر روایتی تجربات

    روایت کی ہنسی اڑانے (Parody) اور طنزیہ رویہ

اہم شخصیات: ژاک دریدا، ژاں فرانسوا لیوتار، مائیکل فوکالٹ، امبرٹو ایکو، سلمان رشدی

جدیدیت نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے حقیقت کے نئے زاویے تلاش کیے، جبکہ مابعدجدت نے حقیقت اور سچائی کے تصورات کو مزید توڑ کر متنوع اور کثیرالمعانی بنا دیا۔جدیدیت اور مابعدجدت (Postmodernism) دو مختلف فکری اور ادبی رجحانات ہیں، جو خصوصاً بیسویں صدی کے آخر میں مغربی دنیا میں سامنے آئے۔

جدیدیت (Modernism) عموماً اواخر 19 ویں صدی اور 20 ویں صدی کے ابتدائی حصے میں نمودار ہوئی۔ اس کے تحت فنون، ادب، اور فلسفے میں روایات سے انحراف اور جدید خیالات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں حقیقت پسندی (Realism) کے بعد انسان کی انفرادی شناخت، ان کی داخلی دنیا، اور زندگی کے پیچیدہ پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ جدیدیت میں زبان، فنون، اور ادب میں جدید تکنیکیں جیسے کہ استعارہ، رمز، اور اختصاری طریقے استعمال کیے گئے۔

مابعدجدت (Postmodernism) ایک ردعمل تھا جو جدیدیت کے خلاف آیا۔ مابعدجدت کی خصوصیات میں روایتوں کا مذاق اُڑانا، سچائی اور حقیقت کی غیرمستقل نوعیت کو تسلیم کرنا، اور معیاروں سے انحراف شامل تھا۔ مابعدجدت میں شناخت، حقیقت، اور طاقت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ یہاں پر ادب، فنون، اور ثقافت میں غیر متوقع عناصر، تضادات، اور تجریدیت کا استعمال بڑھ گیا۔ یہ اکثر موجودہ حقیقتوں کو چیلنج کرتا ہے اور حقیقت کی متعدد تشریحات کو تسلیم کرتا ہے۔

فرق:

    جدیدیت ایک نوع کی ترقی اور نئے تصورات کی طرف مائل تھی، جبکہ مابعدجدت ان تصورات کو سوالیہ نشان بنا کر ان کا مذاق اُڑاتی ہے۔

    جدیدیت میں حقیقت اور سچائی کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مابعدجدت میں ان کے وجود کو ہی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

    مابعدجدت میں ادب اور فن میں پیچیدگی، تضادات اور تجریدیت زیادہ ہیں، جب کہ جدیدیت میں نظم و ضبط اور ترتیب کی اہمیت تھی۔

جدیدیت کی خصوصیات:

    انفرادی تجربہ: جدیدیت میں انفرادی تجربے اور اندرونی دنیا کی اہمیت تھی۔ ادبی تخلیقات میں شخصیت کی پیچیدگیوں اور ان کے ذہنی اور جذباتی احساسات کو اہمیت دی گئی۔ مثلاً، جیمز جوائس اور مارسل پروست جیسے مصنفین نے انسانی شعور اور وقت کی لچکدار نوعیت کو اپنے کام میں اجاگر کیا۔

    جدیدیت اور ترقی: یہ رجحان ٹیکنالوجی، سائنسی ترقی، اور انسانی فلاح کی طرف راغب تھا۔ اس میں مستقبل کی طرف نظریات تھے، جہاں انسان کی ترقی اور عقل کو اولین اہمیت دی جاتی تھی۔ ادب میں یہ فنی آزادی اور نئی تخلیقی تکنیکوں کے استعمال کی جانب اشارہ کرتا تھا۔

    روایات سے انحراف: جدیدیت نے روایتی ادب اور شاعری کے اصولوں کو چیلنج کیا۔ مثلاً، ویرجینیا وولف اور ایزرا پاؤنڈ جیسے ادیبوں نے اپنی تخلیقات میں زبان کے استعمال میں نئی شکلیں پیدا کیں، جیسے فری ورڈ ایسوسی ایشن (Free Word Association) اور داخلی مونولوج (Interior Monologue)۔

مابعدجدت کی خصوصیات:

    غیر یقینی اور تضادات: مابعدجدت میں ایک طرف سچائی کے تصورات کو رد کیا گیا، اور دوسری طرف یہ ظاہر کیا گیا کہ دنیا میں کوئی مستقل حقیقت نہیں ہے۔ مختلف ثقافتی پس منظر، ذات کی مختلف تعریفیں، اور حقیقت کے مختلف انداز سامنے لائے گئے۔

    بین النصیّ (Intertextuality): مابعدجدت میں مختلف ادبی کاموں، ثقافتی حوالوں، اور تخلیقی تصورات کا آپس میں جڑنا ایک اہم عنصر بن گیا۔ اس میں مختلف زمانوں، مقامات اور نظریات کا امتزاج کیا جاتا ہے، اور ایک متن کا مطلب دوسرے متن سے جڑا ہوتا ہے۔

    نظریہ شک: مابعدجدت میں اس بات کا سوال کیا گیا کہ آیا حقیقت کی کوئی اصل صورت موجود ہے یا نہیں؟ اس میں سچائی کو متنوع نظریات کے ساتھ جوڑا گیا اور ہر فرد کو اپنی حقیقت اور تجربات کی بنیاد پر مختلف سچائیاں ملتی تھیں۔

    پیرودی (Parody) اور ٹائپولوجی: مابعدجدت میں کلاسیکی ادب اور ثقافت کی نقل (parody) اور ان کی نقل کے ذریعہ ان کے ذریعے مفاہمت کی کوشش کی گئی۔ اس میں بعض اوقات مذاق اُڑانے اور تضاد کی زبان استعمال کی جاتی تھی تاکہ موجودہ معاشرتی نظریات اور روایتوں کو سوالات میں ڈالا جا سکے۔

    فنی پیچیدگی اور تجریدیت: مابعدجدت میں فنی پیچیدگی اور تجریدیت کی شدت ہوتی ہے۔ یہاں پر مکمل معنی کی تلاش کی بجائے، ایک نئے تجربے کی گنجائش رکھی جاتی ہے، جہاں ہر قاری اپنے تاثر کے مطابق اپنی حقیقت اور تشریح پیدا کرتا ہے۔

جدیدیت بمقابلہ مابعدجدت:

    یقین بمقابلہ غیر یقینی: جدیدیت میں سچائی اور حقیقت کی تلاش تھی، جبکہ مابعدجدت میں ان چیزوں کو شک کی نظر سے دیکھا گیا۔

    مرکزیت بمقابلہ غیر مرکزیت: جدیدیت میں مرکزیت تھی، یعنی ایک مضبوط نکتہ نظر یا حقیقت کی تلاش۔ مابعدجدت میں اس کے برعکس غیر مرکزیت اور متعدد حقیقتوں کو تسلیم کیا گیا۔

    تکنیک اور تخلیق: جدیدیت میں فنی تخلیق میں نئی تکنیکوں اور افکار کو اپنانا اہم تھا، جبکہ مابعدجدت میں تخلیق کی نوعیت میں تنقید اور تضاد تھا، جو فنون اور ادب کی حدود کو چیلنج کرتا تھا۔

جدیدیت اور مابعدجدت کی ثقافتی اثرات:

    جدیدیت نے سامراجی اور روایتی نظاموں کو چیلنج کیا، جابرانہ اقتدار کے خلاف آواز اُٹھائی اور انفرادی آزادی کو اہمیت دی۔

    مابعدجدت نے ثقافتی تنوع اور مخصوصیت کو اجاگر کیا، جس میں ہر ثقافت اور شناخت کے اپنے زاویے اور حقیقتیں ہیں، اور ان کو کوئی واحد حقیقت یا حقیقتی معیار کے تحت نہیں پرکھا جا سکتا۔

جدیدیت کے اثرات:

    مذہبی اور فکری تصورات: جدیدیت نے مغربی معاشروں میں مذہب اور روایتی اخلاقیات کے بارے میں سوالات اٹھائے، خاص طور پر 19 ویں اور 20 ویں صدی میں جب سائنسی ترقی اور صنعتی انقلاب نے انسانوں کی دنیا کے بارے میں تصورات بدل دئیے۔ یہ عہد مذہب کے اثرات میں کمی، سائنسی تحقیق کے بڑھتے ہوئے اثرات، اور عقل پر مبنی تفکر کی طرف بڑھتا ہے۔

    ادبی تحریر: جدیدیت نے ادبی زبان کو زیادہ پیچیدہ، فنی اور تجریدی بنایا۔ اس نے مختلف تخلیقی اصول وضع کیے جن میں حقیقت کی زیادہ فردی، داخلی اور داخلی دنیا پر توجہ دی گئی۔ شاعری میں ایزرا پاؤنڈ، ٹی ایس ایلیٹ، اور جیمز جوائس جیسے مصنفین کی تخلیقات میں ہمیں داخلی خیالات، غیر روایتی گرامر، اور زبان کی بازیگری دیکھنے کو ملتی ہے۔

    ثقافت اور معاشرتی نظریات: جدیدیت نے نئی معاشرتی حقیقتوں کو تسلیم کیا، جیسے شہر کی زندگی، صنعتی ترقی، اور جدید دنیا کی پیچیدگیاں۔ اس رجحان نے انفرادیت، انسان کی آزادی، اور خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کیا، مگر اس کے ساتھ ہی موجودہ حقیقتوں کے بارے میں مایوسی اور نفسیاتی بے سکونی کی صورت بھی پیدا کی۔

مابعدجدت کے اثرات:

    ادب اور فنون: مابعدجدت نے ادب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جس میں روایات اور تحریری اصولوں کا مذاق اُڑایا گیا۔ فنون میں حقیقت کو غیر متعین اور کثیر جہتی انداز میں پیش کیا گیا۔ مختلف دھاروں، جیسے سنیما، میوزک، اور ادبی اسلوب میں بھی مابعدجدت نے نئے تجربات کی طرف راہنمائی کی۔ رولان بارتھ، ژاک ڈریدا، اور مائیکل فوکالٹ جیسے مفکرین نے ادب میں متن کی بے شمار تشریحات پر زور دیا۔

    ثقافتی اعتبار: مابعدجدت نے ثقافت کو ایک مسلسل بدلتی ہوئی حقیقت سمجھا، جس میں مختلف گروہ، نسلیں، اور نظریات اپنی الگ الگ حقیقتوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس میں ایک طرح کا ‘کثرت پسندی’ ہے، جو مختلف ثقافتی اظہار کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دیکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اثرات: مابعدجدت نے سچائی، معنی اور حقیقت کے حوالے سے فلسفہ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ کوئی بھی حقیقت ہمیشہ متنازعہ اور متعدد تشریحات کی حامل ہوتی ہے، اور حقیقت کا تعین فرد یا گروہ کے نظریے سے ہوتا ہے۔ اس کا اثر فکر کے دیگر شعبوں میں بھی محسوس کیا گیا، جیسے تاریخ، سیاست، اور سماجیات۔

    مابعدجدت اور زبان: مابعدجدت میں زبان کو بھی چیلنج کیا گیا۔ ژاک ڈریدا نے “Deconstruction” کا نظریہ پیش کیا، جس میں زبان کی ساخت کو تحلیل کر کے اس کے اندر چھپے ہوئے تضادات اور غیر یقینی کو سامنے لایا گیا۔ اس کے مطابق، کسی بھی متن کا کوئی ثابت اور مستقل معنی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تشریح مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے۔

مابعدجدت کی اہم خصوصیات:

    مذاق اور طنز: مابعدجدت میں سچائیوں کا مذاق اُڑانا اور پرانی روایتوں کو استہزا کے طور پر پیش کرنا ایک اہم خصوصیت ہے۔ مختلف “پیرودی” (parody) اور “ہائپر ریالٹی” (hyperreality) جیسے تصورات اس رجحان کی بنیاد ہیں۔

    ہائپر ریالٹی (Hyperreality): یہ تصور ژاں بودریار کی جانب سے آیا، جس میں کہا گیا کہ ہم جو حقیقت دیکھ رہے ہیں، وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ ایک مصنوعی یا مبالغہ آمیز حقیقت ہوتی ہے، جیسے میڈیا اور سوشل میڈیا میں پیش کردہ ‘فکری حقیقت’۔

    نئی کہانیاں اور کہانیوں کا اختتام: مابعدجدت میں ‘کھلا’ یا ‘غیر روایتی’ کہانیاں لکھی جاتی ہیں، جہاں روایتی آغاز، وسط اور اختتام کی سرحدیں مٹادی جاتی ہیں۔ اس میں کہانی کا غیر متوقع طور پر موڑ آنا یا مکمل طور پر غیر فنی اختتام ہونا عام ہے۔

    ثقافتی نقاب کشائی: مابعدجدت میں ثقافت کے غیر مرئی اور پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے، خاص طور پر وہ جو ظلم، طاقت، اور سماجی فرق کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس رجحان میں نسلی، صنفی، اور سماجی طبقاتی فرقوں کو بھی کھل کر پیش کیا جاتا ہے۔

جدیدیت اور مابعدجدت کا ادبی ادب پر اثر:

    جدیدیت نے شاعری اور ادب میں نظریاتی اور فلسفیانہ تصورات کے استعمال کو بڑھاوا دیا، جہاں فنی اصطلاحات کی زیادہ اہمیت تھی اور ہر لفظ کا گہرہ مطلب نکالنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

    مابعدجدت نے ادب میں روایتوں کی دوبارہ تشکیل کی، اور اس میں روایتی طریقوں اور کلاسیکی شکلوں کا مذاق اُڑایا۔ اب ادب کی تشریح کی کوئی حد نہیں تھی، اور تخلیقات زیادہ آزادانہ اور غیر روایتی طریقوں میں کی جاتی تھیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ اس کے کسی خاص پہلو پر مزید تفصیل سے بات کر سکتے ہیں یا مابعدجدت کے ادب یا فنون میں کی جانے والی کسی خاص تبدیلی کی مثالوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

    جدیدیت میں زبان کا استعمال:

        جدیدیت میں زبان کو زیادہ معانی اور گہرائی دینے کی کوشش کی گئی۔ زبان کے استعمال میں پیچیدگی، علامتیں (symbols) اور استعارے (metaphors) کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حقیقت کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جائے اور قارئین کو خود اپنی تشریح کرنے کا موقع دیا جائے۔

        جیمز جوائس کی “یولیسس” اور ٹی ایس ایلیٹ کی “ویسٹ لینڈ” جیسے کاموں میں زبان کی پیچیدگی اور غیر روایتی اسلوب نے ادب کو ایک نئی سمت دی۔ ان مصنفین نے داخلی مونولوج اور بہاؤ (stream of consciousness) جیسے تکنیکوں کا استعمال کیا، جس سے ذہنی خیالات اور جذبات کو براہ راست اور پیچیدہ انداز میں پیش کیا گیا۔

    مابعدجدت میں زبان اور فن کا غیر روایتی استعمال:

        مابعدجدت میں زبان کو غیر روایتی انداز میں استعمال کیا گیا، جہاں نہ صرف الفاظ کی معانی کو چیلنج کیا گیا بلکہ اس کے مجموعے اور اسلوب کو بھی توڑا گیا۔ یہاں تک کہ زبان کی غیر متوقع ترتیب، مذاق، اور غیر سنجیدگی کو اہمیت دی گئی۔

        خوان مینگویل اور دون ڈی لِلو جیسے مصنفین نے مابعدجدت کی فنی خصوصیات کو اپنے کاموں میں ڈھالا، جہاں کہانیاں ایک ساتھ مختلف زاویوں سے پیش کی جاتی ہیں، اور ان کے معنی ہمیشہ غیر متعین رہتے ہیں۔

        پوسٹ ماڈرن آرٹ میں بھی فنون کی مختلف شکلیں، جیسے پینٹنگ، فوٹوگرافی، اور سنیما میں کثیر الجہتی اور تجریدی اسلوب اپنائے گئے۔ سنیما میں خاص طور پر کوانٹین ٹرانس اور پالورٹ جیسے ہدایتکاروں نے روایتی سینمائی طریقوں کو چیلنج کیا اور تجربات کی بنیاد پر کہانیاں بنائیں۔

مابعدجدت اور ثقافتی تنقید:

    مابعدجدت میں ثقافتی نقاب کشائی:

        مابعدجدت میں ثقافت کو کھولنے اور اس میں موجود پیچیدگیوں، تضادات، اور عدم مساوات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس رجحان میں سماجی، نسلی، اور جنس کی شناخت کو چیلنج کیا گیا، اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ ہر ثقافت کی حقیقتیں اور تجربات مختلف ہو سکتے ہیں۔

        مائیکل فوکالٹ نے تاریخ اور طاقت کے تعلقات پر بات کی، اور کہا کہ تاریخ ہمیشہ فاتحین کے نظریات سے بنائی جاتی ہے۔ اس طرح، مابعدجدت میں موجودہ حقیقتوں کو حکومتی، ثقافتی، اور سماجی طاقتوں کے نقطہ نظر سے پرکھا گیا۔

    کثرت پسندی (Pluralism):

        مابعدجدت کی ایک اہم خصوصیت کثرت پسندی ہے، یعنی یہ کہ ایک واحد حقیقت یا حقیقت کا تصور نہیں ہو سکتا۔ مختلف افراد اور گروہ اپنے تجربات اور حقیقتوں کے مطابق مختلف سچائیاں رکھتے ہیں۔

        اس میں ہر شخص کے نکتہ نظر کو یکساں طور پر اہمیت دی جاتی ہے، اور کسی بھی خیالات یا حقیقتوں کو قطعی نہیں سمجھا جاتا۔ اس میں ثقافتی، نسلی، اور نظریاتی تنوع کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

مابعدجدت کے اثرات فلسفہ اور سماج پر:

    سچائی اور حقیقت کی غیر یقینی نوعیت:

        مابعدجدت نے سچائی اور حقیقت کے روایتی تصورات کو سوالیہ نشان بنایا۔ اس کے مطابق، حقیقت ہمیشہ غیر متعین، متغیر، اور مختلف زاویوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔

        ژاک ڈریدا نے “Deconstruction” کے ذریعے دکھایا کہ ہر زبان اور متن میں خود تضاد ہوتا ہے، اور اس کے معنی کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتے۔ اس نے ثابت کیا کہ حقیقت کی کوئی مستحکم یا واحد شکل نہیں ہوتی، بلکہ وہ مختلف طریقوں سے نظر آتی ہے۔

    پوسٹ ماڈرن سوشل تھیوری:

        مابعدجدت نے سماجی حقیقتوں اور ان کے معنی کو چیلنج کیا، اور یہ کہا کہ سچائیوں کو طاقت اور حکومتی نظریات کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔

        آدرین ریشٹر اور ہیرمن نیچ جیسے مفکرین نے ان نظریات کو فروغ دیا، جن میں کہا گیا کہ معاشرتی حقیقتوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر سماجی ڈھانچہ اپنی ذات میں متعدد حقیقتوں کا حامل ہوتا ہے، جو ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔

مابعدجدت کی اہم تنقیدات:

    روایت کی تنقید:

        مابعدجدت نے پرانی روایات اور ثقافتی مظاہر کا مذاق اُڑایا۔ اس میں نئی روایتوں اور حقیقتوں کی تشکیل کی گئی، جو روایتوں اور ان کے معانی کو دوبارہ تعریف کرتی ہیں۔ اس میں “سیریال” (serial) اور “پیرودی” (parody) جیسے طریقے استعمال کیے گئے، جو کسی خاص صنف یا ثقافت کے اسلوب کو نقل کر کے اس پر طنز کرتے ہیں۔

    مابعدجدت کا فردیت اور مادیت پر سوال:

        مابعدجدت نے فردیت اور ذات کے تصور کو چیلنج کیا اور اس کے بجائے زیادہ کثرتی (plural) اور مختلف حقیقتوں کو تسلیم کیا۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی فرد اپنی ذات میں مکمل نہیں ہے اور وہ اپنے معاشرتی، ثقافتی، اور ذاتی تجربات سے جڑا ہوتا ہے۔

نتیجہ: جدیدیت اور مابعدجدت دونوں نے مغربی دنیا میں ادب، فلسفہ، اور ثقافت پر گہرے اثرات ڈالے۔ جہاں جدیدیت نے نئے فنی اور ثقافتی نظریات کی طرف توجہ دی، وہیں مابعدجدت نے ان نظریات کی غیر یقینیت اور پیچیدگی کو اجاگر کیا۔ دونوں رجحانات نے موجودہ حقیقتوں کو نئے طریقوں سے دیکھنے کی کوشش کی، اور ان میں سے ہر ایک نے مختلف مسائل اور سوالات کو اجاگر کیا جن کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔