کلکتیا اردو
“کلکتیا اردو” ایک مخصوص انداز یا لہجہ ہو سکتا ہے جو کلکتہ (موجودہ کولکتہ) میں بولی جانے والی اردو سے منسلک ہو۔ تاریخی طور پر، کلکتہ برصغیر میں اردو ادب اور صحافت کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں بہت سے ممتاز ادیب، شاعر، اور صحافی سرگرم رہے۔
کلکتیا اردو کا تاریخی پس منظر
کلکتہ (موجودہ کولکتہ) اردو زبان و ادب کے تاریخی تناظر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر نہ صرف برصغیر کے سیاسی، تجارتی اور ثقافتی مراکز میں شامل تھا بلکہ اردو زبان کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
اردو زبان کی ابتدا اور کلکتہ
اردو زبان کی ابتدائی نشوونما دہلی، لکھنؤ اور دکن میں ہوئی، لیکن برطانوی دور میں کلکتہ اردو کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے بعد کلکتہ میں مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ آئے، جن میں اردو بولنے والے بھی شامل تھے۔ اس اختلاط نے اردو کو یہاں فروغ دینے میں مدد دی۔
اردو صحافت اور کلکتہ
انیسویں صدی کے آغاز میں کلکتہ اردو صحافت کا ایک اہم گہوارہ بن گیا۔ یہاں سے کئی مشہور اخبارات اور رسائل شائع ہوئے، جن میں “جام جہاں نما” (1822) کو اردو کا پہلا اخبار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے علاوہ “سیدالاخبار” اور “دہلی اردو اخبار” جیسے جرائد بھی کلکتہ سے نکلتے رہے۔
ادبی سرگرمیاں اور کلکتہ
کلکتہ میں اردو شاعری، نثر اور تنقید کو فروغ ملا۔ یہاں کئی معروف شعراء اور ادیبوں نے قیام کیا، جن میں مرزا غالب، سر سید احمد خان، الطاف حسین حالی، نذیر احمد اور محمد حسین آزاد جیسے نام نمایاں ہیں۔
مرزا غالب جب 1828 میں کلکتہ آئے تو یہاں کے علمی و ادبی ماحول سے بے حد متاثر ہوئے۔
سر سید احمد خان نے کلکتہ میں قیام کے دوران جدید تعلیم اور اصلاحی نظریات پر کام کیا۔
محمد حسین آزاد نے اردو نثر اور انشائیہ نگاری میں نئے اسلوب متعارف کرائے۔
اردو نثر اور کلکتہ
اردو نثر کے فروغ میں کلکتہ کی بڑی اہمیت رہی۔ خاص طور پر فورٹ ولیم کالج (1800) کا قیام اس سلسلے میں سنگ میل ثابت ہوا۔ یہاں اردو نثر کو باقاعدہ طور پر سکھانے اور اسے مستحکم کرنے کا کام کیا گیا۔ میر امن کی “باغ و بہار” اور سید انشا کی “رانی کیتکی کی کہانی” جیسی کتابیں یہیں لکھی گئیں۔
اردو ڈرامہ اور کلکتہ
کلکتہ اردو ڈرامہ نویسی کا بھی ایک بڑا مرکز رہا۔ آغا حشر کاشمیری، جو “شیکسپئیرِ ہند” کہلاتے ہیں، نے اپنی بیشتر ڈرامائی تخلیقات یہیں پیش کیں۔
زوال اور اردو کا تسلسل
بیسویں صدی کے آغاز میں اردو زبان پر زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ کلکتہ میں بنگالی زبان کا فروغ، آزادی کے بعد ہجرت اور سیاسی حالات اردو کے زوال کا باعث بنے۔ تاہم، آج بھی کلکتہ میں کئی ادبی انجمنیں اور اردو اخبارات اس زبان کی بقا کے لیے کوشاں ہیں۔
کلکتہ اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اردو صحافت، شاعری، نثر اور ڈرامے نے ترقی کی، اور یہ شہر کئی اہم اردو ادیبوں اور شاعروں کی آماجگاہ رہا۔ آج بھی کلکتہ کی علمی و ادبی فضا میں اردو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کلکتیا اردو کی خصوصیات:
زبان کا لب و لہجہ: کلکتہ میں اردو بولنے والے عام طور پر دہلی اور لکھنوی اردو کے امتزاج کے ساتھ بنگالی لب و لہجے کا اثر بھی رکھتے تھے۔
ادبی رنگ: کلکتہ اردو صحافت، شاعری، اور نثر میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہاں نذیر احمد، مولانا محمد علی جوہر، اور دیگر کئی نامور شخصیات نے کام کیا۔
اردو صحافت: 19ویں اور 20ویں صدی میں کلکتہ سے کئی مشہور اردو اخبارات شائع ہوتے تھے، جن میں سے بعض تحریک آزادی کے دوران بہت مؤثر ثابت ہوئے۔
بنگالی اثر: چونکہ کلکتہ میں اردو بولنے والے افراد بنگالی زبان کے زیرِ اثر تھے، اس لیے ان کی اردو میں بعض مقامی الفاظ اور تاثرات شامل ہو گئے۔
کلکتیا اردو (بنگلہ: کلکتہ شہر میں بولی جانے والی اردو کی ایک منفرد بولی ہے، جو بنگالی زبان کے اثرات کے باعث اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ یہ بالخصوص شہر کی مسلمان بستیوں میں رائج ہے اور اس کا ادبی ورثہ بھی قابلِ ذکر ہے۔
کلکتیا اردو کی نمایاں خصوصیات میں بنگالی زبان کے اثرات جھلکتے ہیں، جو اس کی صوتیات، صرف و نحو اور لغت میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بعض حروفِ تہجی کی ادائیگی میں بنگالی لہجے کی جھلک نمایاں ہوتی ہے، اور جملوں کی ساخت میں بھی بنگالی طرزِ ادا کا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ادبی لحاظ سے، کلکتیا اردو نے کئی اہم شخصیات کو جنم دیا ہے، جنھوں نے شاعری اور نثر میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان میں ابراہیم ہوش ایک نمایاں مثال ہیں، جنھوں نے کلکتیا اردو میں شاعری کرتے ہوئے اس بولی کو ایک نئی جہت بخشی۔ ان کے کلام میں مقامی رنگ نمایاں ہے، جو کلکتیا اردو کی انفرادیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
یہ اقتباس کلکتیا اردو کی تاریخی اور سماجی حیثیت کو واضح کرتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زبان کلکتہ میں بسنے والے ان مسلمانوں کے درمیان فروغ پائی جو بہار کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے وہاں آباد ہوئے۔ نصیر احمد کے مطابق، یہ ایک “زبردست سماجی بولی” ہے جو خاص طور پر مزدور طبقے میں رائج ہے اور جس پر بہاری زبانوں جیسے مگدھی، بھوجپوری اور مقامی بنگالی زبان کے اثرات نمایاں ہیں۔
تلفظ میں بنگالی اور بہاری اثرات نمایاں ہیں۔
صرف و نحو میں بنگالی طرز کی جھلک ملتی ہے، جیسے جملوں کی ساخت میں تبدیلی۔
لغت میں مقامی الفاظ شامل ہیں جو معیاری اردو میں مستعمل نہیں۔
یہ زبان عام طور پر غیر رسمی ماحول میں استعمال ہوتی ہے، تاہم معیاری اردو بولنے والے اس کے اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بنگالی اردو کے معیار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔
ادبی سطح پر بھی کلکتیا اردو کے نمونے ملتے ہیں، جیسا کہ اپورب کشن بہادر کنور کی مثنوی “مثنوئ کنور” میں اور ابو بکر جیلانی کے پیش کردہ اشعار میں، جہاں مخصوص الفاظ جیسے “شادی دینا” (شادی کرنا)، “جنمیں گا” (پیدا ہوگا)، اور “آنے سکے” (آ نہیں سکا) دیکھنے کو ملتے ہیں، جو اس زبان کے منفرد انداز کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ اقتباسات کلکتیا اردو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس کے لسانی ارتقا کے ساتھ ساتھ اس کے ادبی پہلو کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
کلکتیا اردو کی چند لسانی خصوصیات حسب ذیل ہیں:
اردو میں عربی و فارسی کے مصمتے /ق ، ف ، ز ، خ ، غ/ کلکتیا اردو میں /ک ، پھ – پ، ج ، کھ اور گ/ ہو جاتے ہیں۔ /ش/ پر مشتمل الفاظ بھی /س/ مصمتے کے ساتھ تلفظ ہوتے ہیں۔
/ہ/ آواز کی طرف رجحان کم ہے۔ اکثر الفاظ /ہ/ مصمتے کے بغیر تلفظ کیے جاتے ہیں، جیسے آہستہ سے آستا، نہیں سے نَئِیں وغیرہ۔
عام طور پر دو مصوتے ایک ساتھ نہیں آتے۔ ایسے الفاظ میں مصوتے کو گرا دیا جاتا ہے یا اس کی جگہ کوئی مصمتہ تلفظ کیا جاتا ہے، جیسے جائے گی > جاگی، بنائیگی > بنابیگی، چائے > چا، کھائیں گے > کھانگے وغیرہ۔
/و/ مصمتہ اکثر /ب/ میں بدل جاتا ہے، جیسے تصویر > تصبیر، تلوار > تلبار، جلوہ > جلبا، مولوی > مولبی۔
مصوتوں کو انفی کرنے کی طرف عام رجحان پایا جاتا ہے، جیسے ہوش > ہونس، سوچ > سونچ، چالاکی > چلانکی۔
لفظ کے آخیر میں مصمتی خوشوں کو توڑ دیا جاتا ہے یا آخری مصمتے کو گرا دیا جاتا ہے، جیسے درخت > درکھت، گوشت > گوش، عشق > اِسک، چاند > چان وغیرہ۔ لفظ کے شروع میں نیم مصوتے کے ساتھ بھی خوشے ممکن نہیں ہیں، جیسے کیا > کا، بیاہ > باہ۔
طویل مصوتوں کو مختصر کرنے کی طرف بھی عام رجحان ملتا ہے جیسے دوسرا > دُسرا، آسمان > اَسمان۔
مصمتوں کو مشدّد کرنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں، جیسے کمر > کمّر، نیلام > نِلّام وغیره۔
اردو کی دوسری بولیوں کی طرح کلکتیا اردو میں بھی مصمتوں کے ادغام کا عمل ہوتا ہے۔ اس صورت میں اکثر دوسرا مصمتہ پہلے مصمتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جیسے جتنا > جتّا، اُتنا > اُتّا وغیرہ۔
نیم مصوتے لفظ کے شروع میں اکثر گر جاتے ہیں، جیسے یاد > آد، وہاں > ہواں، وہ > او وغیرہ۔
ایسی مثالیں بھی کلکتیا اردو میں کثرت سے ملتی ہیں جہاں مصمتے لفظ میں اپنی جگہ بدل لیتے ہیں؛ جیسے لعنت > نالت، الزام > اجلام، رکشہ > رِسکا مقابلہ > مکالبہ وغیرہ۔
کلکتیا اردو میں بعض ضمیریں بدلی ہوئی ملتی ہیں؛ جیسے تو > تے، مجھ > مِس، میں > مے، تجھ > تُس وغیرہ۔
اردو میں میں ماضی کا لاحقہ ”ا“ اور ”یا“ ہے جو جنس، تعداد اور حالت وغیرہ کے لیے گردان کرتا ہے جبکہ کلکتیا اُردو میں محض ”اَس“ لاحقہ ملتا ہے جس میں کوئی تعریفی عمل نہیں ہوتا، جیسے دیکھا > دیکھنیں، گئی > گئیں، اڑا > اُڑس، بیٹھا یا بیٹھی > بیٹھس وغیرہ۔
اردو کی دو جنسوں یعنی مذکر اور مؤنث کے مقابلے میں کلکتیا میں عام طور پر الفاظ مذکر ملتے ہیں۔ جو الفاظ اپنی اصل کے اعتبار سے مونث ہیں ان سے رشتہ رکھنے والے الفاظ بھی مذکر ہی استعمال ہوتے ہیں۔
کلکتیا اردو میں الفاظ اپنی فعلی حالت میں بھی کوئی تصریفی عمل نہیں رکھتے۔ لڑکے کے گھر گیا > لڑکا کا گھر گئیں، تھوڑے دن کے بعد > تھوڑا دن کا باد وغیرہ۔
اردو کے بعض الفاظ کے تلفظ اس طرح بدل جاتے ہیں؛ اندھیرا > اندھیالا، فیرینی > پھرنی، بدنامی > بدلامی، میلاد > مولود، آگے > اگو، پیسے والا > پیسے آلا، جانور > جناور، نمک > نہمک، مسجد > مہجد، سحری > سرگہی، کم > کمتی، گھبرانا > گھبڑانا، لائیں > لابیں، الوداع > البدا اور > اَر وغیرہ۔
کلکتیا اردو میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو اردو میں نہیں ملتے، جیسے ٹھکڑی (غریبی)، ماکڑی (لڑکی)، بُڑبک (بے وقوف)، ٹھو (عدد)، سرتا (یادداشت)، کنکھی (کنکڑی)، بَمک (جذباتی ہونا) ، سوڑی (کھانا) وغیر