باغ و بہار (کتاب)

باغ و بہار میر امن دہلوی کی تصنیف کردہ ایک داستان ہے جو اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج میں جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ عام خیال ہے کہ باغ و بہار کو میر امن نے امیر خسرو کی فارسی داستان قصہ چہار درویش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن یہ خیال پایہ استناد کو نہیں پہنچتا۔ حافظ محمود شیرانی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ان کے مطابق یہ قصہ محمد علی معصوم کی تصنیف ہے باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہیں میر امن نے باغ و بہار کو جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسین کی نو طرز مرصع سے استفادہ کرکے تصنیف کیا۔ اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے بجا طور پر جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ قرار دیا گیا ہے۔ اس داستان کی اشاعت کے بعد اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کا رواج ہوا اور آگے چل کر غالب کی نثر نے اسے کمال تک پہنچا دیا۔ اسی بنا پر مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔ بقول سید محمد، “میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مرورِ ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔” نیز سید وقار عظیم کے الفاظ میں “داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا”۔
باغ و بہار اردو کے کلاسیکی ادب کی ایک شاہکار کتاب ہے، جسے میر امن دہلوی نے تحریر کیا۔ یہ کتاب فور سخیوں (چار درویشوں) کی داستان پر مبنی ہے اور اسے فورٹ ولیم کالج کے لیے 1803 میں لکھا گیا تھا۔
کتاب کی کہانی چار درویشوں کی داستانوں پر مشتمل ہے، جو ایک بیمار بادشاہ امیر حمزہ کے سامنے اپنے حالات سناتے ہیں۔ ہر درویش اپنی زندگی کی مشکلات، عشق و محبت کے قصے، اور قسمت کے کھیلوں کو بیان کرتا ہے۔ کہانی میں مافوق الفطرت عناصر، دلچسپ مکالمے، اور فارسی ادب کے اثرات نظر آتے ہیں۔
ادبی مقام و اہمیت
اردو نثر کا شاہکار: “باغ و بہار” کو اردو نثر کی بنیاد رکھنے والی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
زبان و اسلوب: سادہ، دلچسپ اور دلنشین انداز میں لکھی گئی ہے، جو آج بھی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
تعلیمی حیثیت: یہ کتاب برصغیر میں اردو نصاب کا حصہ رہی ہے اور کئی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔
یہ کتاب آج بھی اردو ادب کے شائقین کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے اور کلاسیکی داستانوی ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
باغ و بہار: تفصیلی جائزہ
باغ و بہار اردو نثر کی اولین شاہکار کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسے میر امن دہلوی نے تحریر کیا اور یہ فورٹ ولیم کالج کی سرپرستی میں لکھی گئی۔ یہ کتاب اردو کی ابتدائی داستانوی نثر میں شمار ہوتی ہے اور اپنی دلکشی، سادہ بیانی اور زبان کے حسن کی بدولت آج بھی مقبول ہے۔
تاریخی پس منظر
باغ و بہار کا اصل ماخذ فارسی کی مشہور داستان قصۂ چہار درویش ہے، جو امیر خسرو سے منسوب کی جاتی ہے۔ میر امن نے اس داستان کو فارسی سے اردو میں نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اسے سہل اور عام فہم زبان میں ڈھال کر ہندوستانی عوام کے لیے پیش کیا۔ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد فورٹ ولیم کالج کے طلبہ کو اردو زبان سکھانا تھا، جسے اس وقت ہندوستانی کہا جاتا تھا۔
کہانی کا خلاصہ
یہ داستان ایک بادشاہ، عزیز، درویش اور نصیب کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار ایک بیمار بادشاہ، خلیل سلطان اور چار درویش ہیں، جو اپنی اپنی زندگی کی داستانیں سناتے ہیں۔ ہر درویش کی کہانی عشق، جدائی، امتحان اور قسمت کے کھیلوں پر مشتمل ہے۔
پہلا درویش
پہلا درویش ایک شہزادہ ہوتا ہے جو اپنے محبوب کی محبت میں دربدر بھٹکتا ہے۔ کئی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد وہ اپنی محبت حاصل کر لیتا ہے۔
دوسرا درویش
دوسرے درویش کی کہانی بھی محبت، دھوکے اور قسمت کے اتار چڑھاؤ سے بھری ہوتی ہے۔ وہ بھی شدید مشکلات کے بعد اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔
تیسرا درویش
تیسرا درویش ایک دولت مند خاندان کا چشم و چراغ ہوتا ہے لیکن قسمت اسے درویش بنا دیتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کی تلخیوں کو بادشاہ کے سامنے بیان کرتا ہے۔
چوتھا درویش
چوتھا درویش اپنی نادانی اور قسمت کی سختیوں کی وجہ سے بے وطن ہو جاتا ہے۔ لیکن آخرکار اسے اپنے مقاصد میں کامیابی ملتی ہے۔
آخر میں، بادشاہ کو ان کہانیوں سے نصیحت حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے کیے پر نادم ہو کر سلطنت کو بہتر طریقے سے چلانے کا عہد کرتا ہے۔
ادبی خصوصیات
باغ و بہار کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان کی سادگی اور فصاحت ہے۔ میر امن نے اس کتاب میں فارسی کے مشکل الفاظ کے بجائے عام بول چال کی اردو استعمال کی، جس کی وجہ سے یہ کتاب آج بھی عام قاری کے لیے دلچسپ ہے۔
مکالمہ نگاری: کتاب میں مکالمے بہت فطری اور دلچسپ ہیں، جو قاری کو کہانی میں محو کر دیتے ہیں۔
تمثیلی اسلوب: میر امن نے اس داستان کو تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے، جس میں کرداروں کے ذریعے مختلف اخلاقی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سندیسی اور محاوراتی زبان: باغ و بہار میں ہندوستانی محاورے اور روزمرہ کے الفاظ کا بہت خوبصورت استعمال کیا گیا ہے، جو اسے ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔
داستانوی عناصر: کتاب میں جادو، قسمت کے کھیل، آزمائشیں، محبت اور مافوق الفطرت عناصر شامل ہیں، جو اسے مزید دلچسپ بناتے ہیں۔
باغ و بہار کی ادبی اہمیت
یہ کتاب اردو نثر کے ارتقا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
باغ و بہار کو اردو کی پہلی نثری کلاسیک کہا جاتا ہے۔
فورٹ ولیم کالج میں اسے اردو سیکھنے والوں کے لیے ایک بنیادی نصاب کے طور پر شامل کیا گیا۔
یہ کتاب کئی دہائیوں تک برصغیر کے نصاب میں شامل رہی اور آج بھی اردو ادب میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اس نے اردو نثر کو فارسی نثر کے اثر سے نکال کر ایک خالص ہندوستانی اسلوب دیا۔
اسلوب
داستانوں میں جو قبول عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اسلوب اور دلنشین انداز بیان ہے جو اسے اردو زبان میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔
باغ و بہار کے مُصنّف میرامن دہلوی چونکہ فورٹ ولیم کالج سے متعلق تھے، اس لیے اس کی تصانیف بھی کالج کے متعینہ مقاصد کے تحت لکھی گئیں اور ان میں وہ تقاضے بالخصوص پیشِ نظر رہے جن کی نشان دہی ڈاکٹر جان گل کرائسٹ نے کی تھی۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے جتنی کتابیں تالیف ہوئیں ان میں لکھنے والوں نے سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی کہ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس ہو اور بول چال کی زبان اور روزمرہ محاورہ کا خیال رکھا جائے۔ چونکہ اس سے مقصود انگریز نو واردوں کو مقامی زبان و بیان اور تہذیب و معاشرت سے آشنا کرنا تھا۔ اس لیے فورٹ ولیم کالج کے لکھے گئے قصوں میں زبان و بیان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ باغ وبہار کو مِنجملہ دوسری خوبیوں کے زبان و بیان کے لحاظ سے بھی فورٹ وِلیم کالج کی دوسری کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔ باغ و بہار کی اس فوقیت کی پیش نظرسرسید کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ میر امن کا اردو نثر میں وہی مرتبہ ہے جو میر کا غزل گوئی میں۔
دہلی کی زبان
باغ و بہار اپنے وقت کی نہایت فصیح اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہے۔ میر امن دہلی کے رہنے والے ہیں اور اُن کی زبان ٹھیٹھ دہلی کی زبان ہے۔ میر امن صرف دہلی کی زبان کو ہی مستند سمجھتے ہیں چنانچہ اس کو انھوں نے ہزار رعنائیوں کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ باغ و بہار کے دیباچے میں میر امن نے اپنے کو دلی کا روڑا اور پشتوں سے دلی میں رہائش کرنے اور دلی کے انقلاب کو دیکھنے کے ناطے خود کو زبان کا شناسا بتایا ہے اور اپنی زبان کو دلی کی مستند بولی کہا ہے۔ اردو کی پرانی کتابوں میں کوئی کتاب زبان کی فصاحت اور سلاست کے لحاظ سے باغ و بہار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگرچہ زبان میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، الفاظ و محاورات اور فقرات و تراکیب میں مختلف النوع تغیرات آ گئے ہیں اس وقت کی زبان اور آج کی زبان میں بڑا فرق ہے لیکن باغ و بہار اب بھی اپنی دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے یہ دلکش اعجاز میر امّن کے طرزِ بیان اور اسلوبِ تحریر کا حصہ ہے۔ میر امن ہر کیفیت اور واردات کا نقشہ ایسی خوبی سے کھینچتے اور ایسے موزوں الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ کمال انشا پردازی کی داد دینا پڑتی ہے۔ نہ بے جا طول ہے نہ فضول لفاظی ہے۔
سادہ زبان
باغ و بہار کی عبارت کی سادگی اور روانی جہاں بجائے خود ایک طرح کا حسن و لطافت ہے اس میں اس اندیشہ کا امکان بھی کسی وقت نہیں ہوتا کہ یہ سادگی عبارت کو سپاٹ بنا دے اور سادگی کا یہ ہموار تسلسل پڑھنے والے کے لیے اکتاہٹ یا تھکاوٹ کا باعث بن جائے۔ میر امن کی سادگی کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ پڑھنے والے کے ذہن پر کسی جگہ بھی اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا بوجھ نہیں ڈالتی بقول کلیم الدین احمد، “باغ و بہار کی سادگی سپاٹ نہیں اس میں ناگوار نیرنگی نہیں یہاں سادگی و پرکاری بیک وقت جمع ہیں”۔
سادگی بیان میں ایک اور خطرہ یہ ہے جس چیز کو سادگی سمجھا گیا ہے اس کا دامن کبھی کبھی عامیانہ پن کے کانٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ زبان کو سادگی کے دائرے میں رکھنے والے کو ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ اس کی سادگی پر عمومیت اور بعض صورتوں میں عامیانہ پن کا سایہ نہ پڑ جائے۔ ہمارے سادہ نگاروں میں بیشتر اس لغزش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سید وقار عظیم ”ہماری داستان“ میں لکھتے ہیں، “میر امن کے طرز بیان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اُن کی سادگی ہمیشہ عمومیت اور ابتذال کے داغوں سے پاک رہی ہے اس سادگی کی ایک تہذیبی سطح ہے اور میر امن کبھی اس تہذیبی سطح سے نیچے نہیں اترتے۔”
الفاظ کا بر محل استعمال
لفظ کو اس کے صحیح مفہوم میں موقع و محل کی مناسبت سے استعمال کرنا اصل انشا پردازی ہے اور یہی میر امن کا فن ہے۔ ڈاکٹر ممتاز لکھتے ہیں، “میر امن کے ہاں ہر ایک بیان نہایت کامیاب ہے اس کے پاس الفاظ کا وسیع ذخیرہ بھی موجود ہے اور پھر اس کے استعمال پر یہ قدرت کہ جو لفظ جہاں استعمال کر دیا وہ عبارت کا جزو ناگزیر بن گیا جو صفت کسی موصوف کے لیے استعمال کی وہ اس کا ایسا حصہ بن کر رہ گئی کہ گویا صرف اسی کے لیے وضع ہوئی تھی”۔
اعتدال کی روش
اردو زبان میں فارسی الفاظ و تراکیب اور تشبیہات و استعارات کو بڑا دخل حاصل ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فارسی زبان کے اثرات سے بچ کر اردو لکھنا بہت دشوار ہے۔ لیکن میر امن نے اپنی تحریروں میں اعتدال کی روش کو اپنایا ہے۔ ان کی زبان کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عربی فارسی کے الفاظ کم اور ٹھیٹھ اردو کے الفاظ زیادہ ہیں۔ میر امن بدیسی لفظوں اور چیزوں کی شان و شوکت سے مرعوب ہو کر اپنے مقامی رنگ کو نہیں بھول جاتے۔ قدیم فارسی تشبیہوں اور استعاروں کے ساتھ ساتھ اپنے بے تکلف اور لطیف استعارات اور تشبیہات سے بھی انھیں محبت ہے۔ اس لیے انھوں نے بہت سے اشعار برج بھاشا کے بھی نقل کیے ہیں۔ اور کچھ الفاظ ہریانی کے بھی استعمال کیے ہیں۔ مثلاً، کبھو، کدھو، کسو، گزرایاں وغیرہ۔ مقامی الفاظ کے بے تکلف اور لطیف استعمال نے میر امن کے یہاں اخلاقیات کو ادب کا جزو بنا دیا ہے۔ وہ حکمت و دانش کی باتیں اور پند و نصیحت کی باتیں بھی اس خوبصورتی سے بیان کر جاتے ہیں کہ کانوں کی راہ سے سیدھا دل پر اثر کر جاتی ہیں۔ بقول سید وقار عظیم، “میر امن کو لفظوں کے صرف پر قدرت ہے وہ آسان ہندوستانی لفظوں سے مرکبات بنا کر اور ہندوستانی کے معمولی الفاظ استعمال کرکے اپنی بات کا وزن اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے”۔
روزمرہ محاورہ
کامیاب روزمرہ اور محاورے کا استعمال عبارت کی رفعتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ میر امن نے اپنی زبان میں روزمرہ اور محاورے کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ بول چال کے انداز کو تحریری اور گرائمر کی زبان پر ہر جگہ ترجیح دی ہے۔ اگرچہ میر امن ایک فرمائش کی تعمیل میں اپنی عبارت کو محاوروں سے مزین کر رہے تھے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ ان کی بامحاورہ زبان اچھی داستان گوئی کے فطری عمل کی تابع معلوم ہوتی ہے۔ کہانی کی صورت حال اور افرادِ قصہ کی کیفیت کے اظہار سے محاورہ اس طرح پھب کر آتا ہے گویا متقضائے فطرت یہی تھا، اسی وجہ سے باغ و بہار میں اکثر یہ کیفیت نظر آتی ہے کہ محاورہ آپ ہی اپنی شرح بھی ہوتا ہے اور عبارت کو سمجھنے کے لیے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بقول پرفیسر حمید احمد خان، “اردو نثر روزمرہ کی روانی اور ٹھیٹھ محاورے کے لطف سے پہلی مرتبہ باغ و بہار میں آشنا ہوئی”۔
اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ
میر امن ماہر زبان دان تھے، انھوں نے اردو کو مالا مال کرنے کے لیے نہ صرف مقامی اور عوامی بول چال کے الفاظ کھپائے بلکہ کتنے ہی الفاظ اور محاورے تخلیق کر دیے۔ بہت سے الفاظ اور محاورے باغ و بہار کے علاوہ اور کہیں دیکھنے میں نہیں آتے۔ اگر کوئی شخص ایک نیا لفظ یا ایک محاورہ وضع کر دے تو اس کے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے اور یہاں میر امنؔ نے تو نئے الفاظ کا گراں قدر سرمایہ زبان کو عطا کیا ہے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض دلی کے محلوں میں بول چال میں رائج رہے ہوں لیکن بھر بھی میر امن کا یہ احسان تو ہے کہ انھوں ان الفاظ اور محاوروں کو ادب میں محفوظ کرکے ہم تک پہنچایا ہے۔
تفردات
باغ و بہار محض ایک داستان نہیں بلکہ اردو زبان کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس کا اسلوب، زبان کی سادگی اور دلچسپ کہانی آج بھی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ میر امن دہلوی نے اسے صرف ایک عام قصہ نہیں، بلکہ اردو ادب کا ایک شاہکار بنا دیا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔