اردو علم حرفی
اردو میں علمِ حرفی سے مراد وہ علم ہے جو حروفِ تہجی، ان کی ماہیت، خواص، اعداد، اور تاثیرات پر بحث کرتا ہے۔ یہ علم زیادہ تر علمِ جفر، علمِ اعداد، اور روحانیات میں استعمال ہوتا ہے، جہاں ہر حرف کے مخصوص اثرات اور قوتوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔
علمِ حرفی کی خصوصیات:
حروف کی ماہیت – ہر حرف کی صوتیات، شکل اور اس کے اثرات کا مطالعہ۔
اعدادی نسبت – حروف کو اعداد کے ساتھ جوڑ کر ان کے اثرات کا جائزہ لینا، جیسے ابجد کے حساب سے الف = 1، ب = 2 وغیرہ۔
روحانی و کائناتی اثرات – بعض صوفیا اور ماہرین کے نزدیک ہر حرف میں مخصوص روحانی قوت ہوتی ہے جو کائنات میں اپنا اثر ڈالتی ہے۔
حروف کی ترکیب – حروف کو جوڑ کر مخصوص الفاظ یا نقش ترتیب دینا، جو بعض عقائد کے مطابق اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ علم صوفیاء، علما، اور بعض قدیم فلسفیوں میں مقبول رہا ہے، اور بعض لوگ اس کا تعلق علمِ نجوم، روحانی عملیات، اور تصوف سے بھی جوڑتے ہیں۔
“اردو علم حرفی” ایک اہم اور گہرا موضوع ہے جس میں اردو زبان کی تحریری، معنوی، اور لسانی خصوصیات پر بات کی جاتی ہے۔ اگر آپ اس موضوع پر مخصوص کسی قسم کی معلومات یا تحریر کی تلاش میں ہیں تو براہ کرم واضح کریں کہ آپ کس زاویے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اردو کے خطاطی، ادبی اظہار یا زبان کی ساخت سے متعلق کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟
اردو علم حرفی:
اردو علم حرفی ایک اہم اور دلچسپ موضوع ہے جو اردو زبان کے الفاظ، حروف اور ان کے اظہار کے مختلف طریقوں سے متعلق ہے۔ یہ علم خاص طور پر اردو خطاطی، عبارت نویسی، اور زبان کے جمالیاتی پہلوؤں پر مرکوز ہے۔ اردو علم حرفی نہ صرف زبان کے ہجے یا الفاظ کی تشکیل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اس میں موجود مختلف ادبی خصوصیات اور ان کے استعمال کا بھی گہرائی سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔
اردو کا خطاطی اور فنونِ حرفی
اردو میں خطاطی کا فن ایک قدیم اور معیاری روایت ہے جو فارسی، عربی، اور ترکی خطاطی سے متاثر ہوکر پروان چڑھتا ہے۔ اردو علم حرفی میں خطاطی ایک اہم مقام رکھتی ہے، جس میں مختلف خطاطی کے طرز، جیسے نستعلیق، دیوانی، اور کفی استعمال ہوتے ہیں۔ خطاطی کا ہر طرز اپنی خاصیت رکھتا ہے، جو لکھنے والے کی ذاتی مہارت، فنونِ لطیفہ کی تفہیم اور جمالیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اردو حروف اور ان کی اہمیت
اردو زبان کا رسم الخط بنیادی طور پر عربی-فارسی رسم الخط سے اخذ کیا گیا ہے، جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے۔ اس میں 38 حروف ہوتے ہیں، جن میں کچھ حروف عربی کے حروف کے مماثل ہیں، لیکن اردو میں ان کے تلفظ اور استعمال میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اردو میں بعض حروف کا مخصوص استعمال ہے جو دیگر زبانوں میں نہیں ہوتا جیسے “ٹ”، “ڈ”، “ڑ”، “ں” وغیرہ۔
اردو علم حرفی کا ادبی و ثقافتی پہلو
اردو علم حرفی صرف زبان اور خطاطی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ادبی پہلو بھی بہت اہم ہے۔ اردو شاعری اور نثر میں حروف اور الفاظ کا انتخاب انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اور یہ کسی بھی ادبی تخلیق کی اثر انگیزی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ شاعری کے اشعار، نثر کے جملے اور محاورے اردو علم حرفی کے ذریعے اپنی معانی اور جذبوں کو بہتر طور پر منتقل کرتے ہیں۔
اردو علم حرفی اور جدید دور
جدید دور میں، اردو علم حرفی نے کئی نئے طریقوں کو اپنایا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ترقی نے اردو زبان اور اس کے رسم الخط کو نئے ماحول میں بھی جگہ دی ہے۔ موبائل فونز، ویب سائٹس، اور سوشل میڈیا پر اردو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں ٹائپنگ کے مختلف سٹائلز، فونٹس، اور رسم الخط استعمال ہو رہے ہیں۔ اس سے اردو علم حرفی کو ایک نیا رخ مل رہا ہے جس میں قدیم خطاطی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج نظر آتا ہے۔
اردو علم حرفی ایک وسیع میدان ہے جس میں زبان کی گہرائی، اس کے حروف کی ترتیب اور ان کے جمالیاتی اثرات کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف خطاطی اور تحریر کے بارے میں ہے، بلکہ اس میں اردو کی ثقافت اور ادب کا بھی ایک اہم پہلو شامل ہے۔ اس علم کی تفصیل سے جانکاری رکھنے والے افراد نہ صرف زبان کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں، بلکہ اس کے فنونِ لطیفہ میں بھی مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔
اردو علم حرفی کا تعلق صرف زبان اور ادب سے نہیں ہے بلکہ یہ فنون، ثقافت اور تاریخ کا بھی حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا وسیع دائرہ ہے جس میں حروف اور الفاظ کی ساخت، ان کے ظاہری اور باطنی معنی، اور ان کے استعمال کے مختلف طریقے شامل ہیں۔
اردو حروف کی جمالیات
اردو علم حرفی کی بنیاد میں جمالیات کا عنصر بہت اہم ہے۔ اردو حروف نہ صرف ایک زبان کے اظہار کے آلے ہیں، بلکہ ان کی شکل اور ڈیزائن بھی مخصوص معنوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اردو خطاطی کا فن جمالیاتی پہلو سے پر ہے، اور ہر حرف کی ساخت میں ایک مخصوص ترتیب اور حسن ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو دلکش اور متاثر کن محسوس ہوتا ہے۔
ہر خطاطی کا ایک مخصوص مقصد ہوتا ہے: نستعلیق خط میں نرمی اور روانی، دیوانی میں طاقت اور عظمت، اور کفی میں سادگی اور پختگی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ یہ تمام عناصر اردو علم حرفی کو منفرد بناتے ہیں۔
اردو علم حرفی میں شاعری کا کردار
اردو شاعری میں حروف اور الفاظ کا استعمال نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ شاعری کی زبان میں الفاظ کے انتخاب، ان کی ترتیب اور ان کی ادائیگی میں ہر لفظ کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہر حرف اور ہر لفظ شاعر کی تخلیق کا حصہ بنتا ہے جو اُس کے جذبات اور خیالات کو ایک منفرد انداز میں ظاہر کرتا ہے۔
اردو علم حرفی میں لفظوں کی ترکیب اور ان کی متشابہت کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ شاعری کے اشعار میں الفاظ کا ہم آہنگ ہونا، ان کا وزن اور آہنگ، اور ان کے معانی کا نفوذ اس علم کا حصہ ہے۔ اس میں بھی مختلف اصطلاحات جیسے “مستعمل حروف” (جیسے کہ ا، ب، ج، د وغیرہ) اور “غیر مستعمل حروف” (جیسے کہ ٹ، ڈ، ڑ وغیرہ) کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، جو ہر شاعر کے مخصوص ذاتی استعمال میں فرق ڈال سکتے ہیں۔
اردو علم حرفی اور زبان کے ارتقاء کا تعلق
اردو زبان کی ترقی میں بھی اردو علم حرفی کا بڑا کردار ہے۔ ابتدا میں جب اردو کی بنیاد فارسی اور عربی پر رکھی گئی، تو یہ دونوں زبانیں اپنی تہذیب اور ثقافت کے ساتھ اردو میں منتقل ہو گئیں۔ لیکن جیسے جیسے اردو کی اپنی شناخت اور خصوصیت بنتی گئی، اس میں حروف کی ساخت، تلفظ، اور ان کے استعمال میں بھی تبدیلیاں آئیں۔
اردو کا رسم الخط صرف ایک زبان کا نشان نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف قوموں کی تاریخ، ثقافت، اور ان کے درمیان ہونے والے تبادلوں کا بھی اثر موجود ہے۔ اردو علم حرفی میں ان مختلف تبدیلیوں اور اثرات کا مطالعہ کرنا ایک دلچسپ پہلو ہے، جس سے اردو کی گہرائی اور اس کے معانی کی تفہیم میں اضافہ ہوتا ہے۔
اردو علم حرفی اور جدید ٹیکنالوجی
آج کل کی دنیا میں اردو علم حرفی نے ایک نئی جہت اختیار کی ہے۔ کمپیوٹر اور سمارٹ فونز کی دنیا نے اردو کو مختلف نئی جگہوں تک پہنچایا ہے۔ اردو ٹائپنگ، جدید فونٹس، اور آن لائن خطاطی نے اس علم کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ خاص طور پر ویب اور سوشل میڈیا پر اردو کے استعمال نے نہ صرف اسے زندہ رکھا ہے بلکہ اس میں نئی طرزیں اور انداز پیدا کئے ہیں۔
اس کے علاوہ، اردو ٹائپنگ کے مختلف سافٹ ویئرز اور فونٹس نے اردو علم حرفی کو ایک نیا مقام دیا ہے۔ یہ ترقی اردو کے الفاظ اور حروف کو ایک نئے اور مختلف منظر میں پیش کرتی ہے، جہاں قدیم روایت اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
اردو علم حرفی نہ صرف ایک زبان کے حروف اور ان کی شکل و ساخت کا علم ہے بلکہ یہ ایک گہری ثقافتی، ادبی اور جمالیاتی میراث ہے جو اس زبان کو منفرد اور قیمتی بناتی ہے۔ اس علم کی وسعت اور گہرائی کو سمجھنا کسی بھی اردو زبان و ادب کے طالب علم کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ نہ صرف اردو کی تاریخی اہمیت کو بیان کرتا ہے بلکہ اس کی جمالیات، تخلیقی اظہار اور ثقافتی اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اردو علم حرفی کا مطالعہ ہمیں نہ صرف زبان کی جڑوں سے جوڑتا ہے بلکہ اس کے تخلیقی امکانات اور فنون میں ڈوب کر اس کی حقیقت کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اردو علم حرفی میں لفظوں کی ترکیب اور ان کی متشابہت
اردو زبان میں الفاظ کی ترکیب اور ان کی متشابہت زبان کی فنی ساخت اور معنوی گہرائی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ الفاظ کے درمیان تعلق، ان کی ترتیب، اور ان کے صوتی و معنوی اشتراکات اردو کے ادبی اور لسانی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔
لفظوں کی ترکیب
لفظوں کی ترکیب سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے الفاظ کو جملوں میں جوڑا جاتا ہے تاکہ وہ ایک مکمل اور بامعنی ساخت حاصل کریں۔ اردو میں الفاظ کی ترکیب مختلف طریقوں سے ہوتی ہے، جن میں درج ذیل اقسام شامل ہیں:
۱۔ مرکب الفاظ
مرکب الفاظ وہ ہوتے ہیں جو دو یا زیادہ الفاظ کے ملنے سے بنتے ہیں اور ایک نیا مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ یہ مزید مختلف اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں:
مرکب اضافی: وہ مرکب جو کسی شے کی صفت یا نسبت کو ظاہر کرے، جیسے “گلابی رنگ”، “کتابِ حکمت”، “چاندنی رات”۔
مرکب توصیفی: جس میں ایک لفظ دوسرے کی صفت بیان کرے، جیسے “سفید چادر”، “گرم چائے”۔
مرکب عطفی: جس میں دو الفاظ کو عطف کے ذریعے ملایا جائے، جیسے “خیر و برکت”، “عقل و شعور”۔
مرکب مزجی: دو یا زیادہ الفاظ کا ایسا امتزاج جو ایک نیا مفہوم دے، جیسے “سائنسدان” (سائنس + دان)، “بادشاہ” (باد + شاہ)۔
مرکب عددی: جس میں عدد کے ذریعے کسی ترتیب کو بیان کیا جائے، جیسے “چودہ طبق”، “پانچ وقت”۔
۲۔ الفاظ کی صوتی ترکیب
الفاظ کی صوتی ترکیب کا مطلب ہے کہ اردو میں بعض الفاظ کی آوازوں کے امتزاج سے مخصوص آہنگ اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر:
“چھن چھن”، “ٹھک ٹھک”، “گرج چمک” جیسے الفاظ صوتی مماثلت کے ساتھ تخلیق کیے جاتے ہیں۔
شاعری میں “ردیف” اور “قافیہ” اسی اصول پر مبنی ہوتے ہیں۔
الفاظ کی متشابہت
اردو زبان میں کئی الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو صوتی یا معنوی طور پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، مگر ان کے مفاہیم یا استعمال مختلف ہو سکتے ہیں۔
۱۔ ہم آواز الفاظ (Homophones)
یہ الفاظ وہ ہوتے ہیں جو سننے میں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کے معانی مختلف ہوتے ہیں، جیسے:
بر (کنارہ) اور بَر (اوپر)
عام (معمولی) اور آم (پھل)
قید (اسیر ہونا) اور قیادت (رہنمائی کرنا)
۲۔ ہم معنی الفاظ (Synonyms)
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو مختلف ہوتے ہیں مگر ان کے معانی ایک جیسے یا بہت قریب ہوتے ہیں، جیسے:
خوشی اور مسرت
محبت اور عشق
غم اور ملال
۳۔ متضاد الفاظ (Antonyms)
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں، جیسے:
اندھیرا اور اجالا
نرمی اور سختی
سچ اور جھوٹ
۴۔ ہم شکل الفاظ (Homographs)
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو لکھنے میں ایک جیسے نظر آتے ہیں، لیکن ان کے معانی اور تلفظ مختلف ہو سکتے ہیں، جیسے:
پڑھنا (مطالعہ کرنا) اور پڑنا (گرنا)
سورج (ستارہ) اور سورج (جانور کا نام)
اردو علم حرفی میں الفاظ کی ترکیب اور متشابہت زبان کی فنی خوبصورتی اور ادبی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔ الفاظ کی صوتیات، ترکیب، اور معنوی فرق کو سمجھنے سے نہ صرف زبان میں مہارت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ شاعری، نثر، اور دیگر ادبی تحریروں میں بھی خوبصورتی پیدا کی جا سکتی ہے۔
اردو علم حرفی میں لفظوں کی ترکیب اور ان کی متشابہت
اردو زبان کی ساخت میں الفاظ کی ترکیب اور ان کی متشابہت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ زبان کی ترقی اور وسعت میں یہ دونوں عناصر نہ صرف جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں بلکہ الفاظ کے معانی میں گہرائی اور تہہ داری بھی لاتے ہیں۔
۵۔ مترادفات اور ان کے استعمال
مترادفات وہ الفاظ ہوتے ہیں جو مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔ اردو زبان میں مترادفات کی بڑی تعداد فارسی، عربی، سنسکرت اور مقامی زبانوں سے ماخوذ ہے، جو زبان کو وسعت اور فصاحت عطا کرتے ہیں۔
مترادفات کی اقسام:
معمولی فرق کے ساتھ مترادفات: جیسے “محبت”، “عشق”، “پیار”، “مودّت”۔ یہ سب بظاہر ایک جیسے ہیں مگر شدت، کیفیت، اور سیاق و سباق میں فرق رکھتے ہیں۔
استعمالی فرق رکھنے والے مترادفات: جیسے “موت” اور “وفات”۔ “موت” عمومی استعمال کے لیے ہے، جبکہ “وفات” زیادہ باوقار اور باادب انداز میں بولا جاتا ہے۔
علاقائی اور تہذیبی مترادفات: جیسے “روٹی” (عام بول چال)، “نان” (فارسی اثر)، اور “چپاتی” (ہندی اثر)۔
۶۔ الفاظ کی تکرار اور اس کا ادبی استعمال
اردو میں بعض اوقات ایک ہی لفظ کو دو مرتبہ یا اس سے زیادہ دہرایا جاتا ہے تاکہ کسی کیفیت، حالت، یا جذبات کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔
تکرار کی اقسام:
تاکید کے لیے تکرار
“جلدی جلدی آؤ” (جلد آنے پر زور دینے کے لیے)
“زور زور سے بولو” (آواز بلند کرنے پر زور)
ادبی حسن پیدا کرنے کے لیے
“برس برس کی پیاس بجھی” (شاعری میں خوبصورتی کے لیے)
“دیوار در دیوار ہیں خواہش کے سلسلے”
محاوراتی یا عوامی انداز
“کھیل کھیل میں” (کسی چیز کو ہلکے انداز میں بیان کرنا)
“باتوں باتوں میں” (بات چیت کے دوران)
۷۔ اردو زبان میں الفاظ کے صوتی اثرات اور ان کی مطابقت
الفاظ کی ترکیب اور ان کی ہم آہنگی، اردو زبان کی شاعری اور نثر میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ الفاظ کے درمیان موسیقیت، ان کی تکرار، اور صوتی ہم آہنگی کسی بھی تحریر کو دلکش بناتی ہے۔
شاعری میں صوتی توازن اور ہم آہنگی
ہم قافیہ الفاظ
“چمک”، “نمک”، “دمک”
“دھوپ”، “روپ”، “چوپ”
ہم صوت الفاظ (Alliteration)
“پتھر پر پانی پڑے”
“چمکتی چاندنی میں چپکے چپکے چلنا”
تشبیہاتی اور استعاراتی ہم آہنگی
“دل دریا سمندرون ڈونگے” (بلھے شاہ)
“ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے؟” (غالب)
۸۔ الفاظ کی ترکیب اور متشابہت کا جدید تناظر
جدید اردو ادب، میڈیا، اور سوشل میڈیا کے اثرات کی بدولت الفاظ کے معانی اور ان کی ترکیب میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔ نئے الفاظ، مترادفات، اور تراکیب زبان میں شامل ہو رہے ہیں، جس سے اردو مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔
جدید دور میں الفاظ کی ترکیب کی مثالیں
“ڈیجیٹل دنیا” (مرکب اضافی)
“سوشل میڈیا انفلوئنسر” (مزجی اور غیر اردو الفاظ کا امتزاج)
“وائرل ہو گیا” (نیا لسانی رجحان)
یہ تمام پہلو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو علم حرفی ایک مسلسل ارتقائی عمل میں ہے اور اس میں الفاظ کی ترکیب اور متشابہت زبان کے فنی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔
اردو زبان میں الفاظ کی ترکیب اور متشابہت اس کی وسعت، فنی نزاکت، اور ادبی حسن کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعری، نثر، اور عمومی گفتگو میں الفاظ کے درست انتخاب اور ان کی ترکیب سے ایک خوبصورت اور بااثر بیان تخلیق کیا جا سکتا ہے۔
اردو زبان میں الفاظ کی ترکیب اور متشابہت کا گہرا تعلق زبان کے اسلوب، بیان کی تاثیر، اور الفاظ کی معنوی گہرائی سے ہے۔ زبان کی ساخت اور ادبی حسن کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات کا مطالعہ ضروری ہے۔
۹۔ اردو زبان میں الفاظ کی بناوٹ اور جڑیں
الفاظ کی تشکیل میں ان کے ماخذ (اصل) کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اردو زبان میں الفاظ کی بناوٹ کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(الف) مفرد الفاظ
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو مزید ٹوٹنے کے قابل نہیں ہوتے، جیسے:
قلم
درخت
محبت
روشنی
(ب) مشتق الفاظ
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو کسی بنیادی لفظ (جڑ) سے نکل کر مختلف معانی پیدا کرتے ہیں، جیسے:
لکھ → لکھائی، لکھنا، لکھاری
حسن → حسین، حسن کاری، خوبحسورتی
(ج) مرکب الفاظ
دو یا زیادہ الفاظ کے ملنے سے جو نیا لفظ بنتا ہے، وہ مرکب کہلاتا ہے۔
مرکب اضافی: دروازہ کھولنا، پانی کا گلاس
مرکب توصیفی: حسین خواب، روشن دن
مرکب مزجی: ہفتہ وار، دانشور
۱۰۔ اردو میں الفاظ کے معنوی درجات
الفاظ کا مفہوم ایک جیسے ہونے کے باوجود ان کے استعمال کا درجہ اور شدت مختلف ہو سکتی ہے۔
(الف) شدت کے فرق سے مترادفات
خوشی → مسرت → شادمانی → فرحت
غم → ملال → حزن → سوگ
بولنا → پکارنا → چیخنا → گرجنا
(ب) تہذیبی اور ثقافتی فرق سے الفاظ
مرنا → انتقال کرنا → وصال پانا (ادبی و مذہبی انداز)
کھانا → تناول کرنا (ادبیت کے لیے)
سونا → آرام فرمانا (باوقار انداز)
یہی فرق زبان کی نفاست اور تہذیبی نرمی کا باعث بنتا ہے۔
۱۱۔ اردو زبان میں الفاظ کے صوتی اور معنوی میلانات
الفاظ کے درمیان ہم آہنگی اور توازن نہ صرف شاعری بلکہ نثر میں بھی خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔
(الف) ہم آواز الفاظ (Alliteration)
یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو ایک جیسے صوتی اثر رکھتے ہیں:
“بجلی کی چمک، بادل کی گرج”
“ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا”
(ب) ہم قافیہ الفاظ
یہ شاعری میں حسن پیدا کرتے ہیں، جیسے:
وفا، جفا، عطا، قضا
خواب، حساب، گلاب، شراب
(ج) رد و بدل سے بننے والے الفاظ
بعض اوقات الفاظ میں معمولی تبدیلی سے ان کا مفہوم بدل جاتا ہے:
“کھانا” (غذا) اور “کھلانا” (دوسرے کو دینا)
“بولنا” (بات کرنا) اور “بُلا نا” (کسی کو بلانا)
۱۲۔ جدید اردو میں الفاظ کی تشکیل اور مداخلت
وقت کے ساتھ ساتھ زبان میں نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں، جنہیں زبان کی ترقی کہا جاتا ہے۔
(الف) غیر ملکی زبانوں کے اثرات
انگریزی: موبائل، کمپیوٹر، سافٹ ویئر
فارسی و عربی: عدالت، حکومت، سیاست
ہندی و سنسکرت: چمچ، پتنگ، چٹنی
(ب) نئی اصطلاحات
ڈیجیٹل انقلاب
سوشل میڈیا
آن لائن خریداری
یہ الفاظ اردو میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور زبان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اردو علم حرفی میں الفاظ کی ترکیب اور متشابہت زبان کے حسن، اسلوب اور بیان کی اثر پذیری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ زبان کی ترقی اور ارتقا کے ساتھ نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں، جو اردو کو مزید وسعت اور تنوع عطا کرتے ہیں۔