رئیس وارثی

بانی صدر اُردو مرکز نیو یارک

چیف ایڈیٹر عالمی ادبی جریدہ  سہ ما ہی ورثہ،نیو یارک،کراچی،دہلی

پیدائش 1 مارچ 1963

کراچی، سندھ، پاکستان

پیشہ اردو شاعر، صحافی، ٹی وی اینکر

تعلیم ایم اے (ماس کمیونیکیشن)

جامعہ کراچی کا الما میٹر

صنف غزل/ نظم

رئیس وارثی (اردو: رئیس وارثی؛ پیدائش 1 مارچ 1963) ایک پاکستانی امریکی اردو شاعر، صحافی، گیت نگار، ٹی وی اینکر اور سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے عصری مسائل کو کلاسک شاعری میں ملایا ہے۔ جہاں اردو شاعری 20ویں صدی کے اوائل تک محبت، رومانس اور اس کے المیوں تک محدود تھی وہیں وارثی اور کچھ دیگر قابل ذکر ہم عصر شاعری نے کلاسیکی شاعری کو برقرار رکھتے ہوئے اردو شاعری کو جدید حقیقت پسندی کے تقاضوں تک بڑھایا ہے۔ وہ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں-

خاندان اور بچپن

وارثی کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق شاعروں اور ادبی شخصیات کے معروف خاندان سے تھا۔ ان کے والد، ستار وارثی، نعت کی صنف میں مذہبی شاعری میں ایک گھریلو نام ہیں۔ ان کے دونوں بھائی ڈاکٹر سعید وارثی اور رشید وارثی اردو کے شاعر اور صحافی ہیں۔ کراچی میں بچپن کی ابتدائی تعلیم کے بعد، وارثی نے 1987 میں کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ پاکستان میں پذیرائی حاصل کرنے کے بعد، وہ امریکہ چلے گئے، جہاں وہ اپنی اہلیہ تبسم پرویز کے ساتھ رہتے ہیں۔

رئیس وارثی کی شاعری نعتیہ، غزلیہ اور فکری شاعری کے امتزاج پر مشتمل ہے۔ ان کا کلام اردو کے کلاسیکی اسلوب اور جدید طرزِ احساس کا حسین امتزاج ہے۔ نعتیہ شاعری میں ان کا اسلوب نہایت عقیدت مندانہ اور جذباتی ہے، جس میں عشقِ رسولؐ کا گہرا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

غزلیہ شاعری

رئیس وارثی کی غزلوں میں محبت، جدائی، حیات و کائنات کے اسرار، اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کے اشعار نرمی، سادگی اور گہرے معنی رکھتے ہیں۔

فکری اور سماجی شاعری

ان کی شاعری میں سماجی مسائل، انسانی قدریں، اور معاشرتی رویے بھی موضوع بنتے ہیں۔ وہ اپنے کلام کے ذریعے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر ڈالتے ہیں۔

رئیس وارثی کی شاعری میں روایتی اور جدید اردو شاعری کا امتزاج ملتا ہے۔ ان کے کلام میں نرمی، سادگی، اور گہرائی ہے، جو پڑھنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔

غزلوں کا اسلوب

رئیس وارثی کی غزلوں میں رومانویت، اداسی، عشق، اور زندگی کی ناہمواریوں کی عکاسی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے اشعار میں نرم تخیلات، سادہ الفاظ، اور گہری معنویت کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

فکری اور سماجی شاعری

رئیس وارثی نے اپنی شاعری میں صرف محبت اور عقیدت کے موضوعات تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے معاشرتی ناہمواریوں، انسانی رویوں اور سماجی مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

رئیس وارثی نے شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور اردو ادب میں ان کی شاعری کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں تازگی، معنویت اور اثر انگیزی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔