پرو فیسر ضیا الر حمن صد یقی
شعبہئ اردو،علی گڑ ھ مسلم یو نیورسٹی، علی گڑھ (انڈیا)
 شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ اردو

سر سید کے سیکو لر تعلیمی مشن کی عالمگیریت اور نفاذ
(سچرکمیٹی اوردیگر ایجوکیشن کمیشنز کے حوالے سے)

اٹھارہ سو ستاون ۷۵۸۱ کی ناکامی کے بعد ہمارا ملک پوری طرح برطانوی سامراج کے شکنجے میں آگیا۔ غیر ملکی نوآبادیاتی حکومت نے معاشی استحصال کے علاوہ بھی ہندوستانیوں اور خصوصاً مسلمانوں کی زندگی کے ہرشعبہ کو متاثر کیا تھا۔ انگریزوں کے سفاکانہ مظالم اور قتل وخونریزی کے سیلاب میں مسلمانوں کی صدیوں سے پرورش یافتہ تہذیبی، سماجی، اخلاقی اور تعلیمی قدریں بھی خس وخاشاک کی طرح بہہ گئیں اور پوری ایک صدی قدیم وجدید کی کشمکش میں گزری جس کا انجام مغربی صنعتی تہذیب کے غلبہ واقتدار کی شکل میں رونما ہوا۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد حکومتِ برطانیہ نے مسلمانوں کو خصوصاً اپنے مظالم کا نشانہ بنایا اور ان کے لیے سخت ترین سزائیں منتخب کیں۔ جس کی تصدیق انگریز مفکرین کی تحریروں سے ہوتی ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان کا اقتدار مسلمانوں سے حاصل کیا تھا۔
انیسویں صدی میں ایک ایسا دور بھی آیا جب ہندوستان کے علماء نے مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے کے لیے سخت ممانعت کردی اور فتویٰ صادر کردیا۔ مسلمان نہ صرف انگریزوں سے نفرت کرتے تھے بلکہ وہ انگریزی زبان سیکھنے کے بھی سخت مخالف ہوگئے ان سب حالات کو سرسید نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ ایک بہترین نباض تعلیمی مفکر اور مدبر تھے ان کی فکری کائنات کامرکز ومحور تعلیم کافروغ وارتقاء ترویج وتبلیغ تھا۔ سرسیدنے اس دور کے تقاضوں کے پیش نظر واحد راستہ یہی تجویز کیا کہ جدید عصری علوم اور انگریزی زبان کے بغیر صنعت وحرفت اور اعلیٰ ملازمتوں کا حصول ممکن نہیں۔
سرسید کا منشا تھا کہ مسلمان نوجوان انگریزی زبان وادب اور جدید علوم کے ساتھ مشرقی علوم اور مذہبی تعلیم سے بھی مزین رہیں۔
سرسید کادور نہایت بدامنی، سراسیمگی اور مایوسی سے نبردآزما تھا اور وہ سخت ذہنی کشمکش میں مبتلا تھے۔ ایک طرف وہ انگریزوں کی غلط فہمیاں دور کرکے مسلمانوں کو انگریزوں کے عتاب سے بچانا چاہتے تھے جس سے مسلمانوں میں ہمت اور حوصلہ پیدا ہوسکے۔ دوسری جانب وہ قوم سے جہالت دور کرکے ان میں جدید سائنسی علوم اور نئی فکر کو اپنانے کاجذبہ پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔
نئی نسل کے لیے یہ بڑا نازک وقت تھا وہ دوراہے پر کھڑے تھے ایک طرف ان کاشان دار ماضی اور عظیم روایات تھیں ان روایات کو وہ اپنے اجداد واسلاف کاورثہ تصور کرتے تھے دوسری طرف جدید طرزِ فکر اور مغربی علوم، نوجوان بڑے تذبذب اور اضطراری کیفیت میں مبتلا تھے۔
سرسید کی طرز نو پر اتہام اور کفر کے فتوے لگائے گئے نیچری کہا گیا و ہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے برداشت کرتے رہے۔ لیکن اس فکر کے نتیجے میں ایک ایسی اصلاحی تحریک وجود میں آئی جو تہذیب ومعاشرت اور تعلیمی اصلاح کے حوالے سے ایک نئے فکر وانداز کی تحریک تھی سرسید کے مخالفین کو بھی ان کی نیک نیتی اور بے لوث اصلاحی منصوبوں کا قائل ہونا پڑا۔ اور اکبرالٰہ آبادی کو بھی یہ کہنا پڑا:
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتاہے
سرسیدکی شخصیت میں بے شمار پہلو کارفرما ہونے کے باوجود وہ بنیادی طور پر تعلیمی مدبر تھے باقی ماندہ کاوشیں او ر بصیرتیں ان کی شخصیت کے ذیلی عکس ہیں جن کا مرکز ومحور بھی تعلیم کا فروغ ہے۔
سرسید کے تعلیمی مشن کاآغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے غازی پور میں ۴۶۸۱ء میں منعقدہ ایک عام اجلاس میں یہ تجویز بعنوان ”بخدمت ساکنان ہندوستان درترقی تعلیم اہل ہند“ پیش کی یہ اعلان داصل سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کی بشارت تھی اس تجویز کے اعلان کامقصد بھی یہی تھا کہ یورپی زبان میں جو علوم وفنون اور ادبیات کا خزانہ موجود ہے اسے مختلف ہندوستانی زبانوں میں منتقل کیا جائے علاوہ ازیں کسی گزٹ یا اخبار کی اشاعت بھی اس کی منشور میں شامل تھی۔
انگریزی سے مسلمانوں کی بے توجہی، بیزاری نیز اردو سے جذباتی لگاؤ اور مذہبی وابستگی کے مدنظر سرسید نے ۴۶۸۱ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اس سوسائٹی کے تحت متعدد مغربی سائنسی اور علمی کتابوں کا انگریزی اور دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمے کروائے گئے جس کے ذریعہ مسلم نوجوان جو انگریزی سے واقف نہیں تھے وہ بھی عصری سائنسی علوم سے خاطر خواہ واقفیت حاصل کرسکیں علاوہ ازیں صنعت وحرفت، باغبانی ودستکاری، معیشت وزراعت سے متعلق کتابوں کے ترجمے بھی اردو میں کرائے گئے سرسید نے سوسائٹی کے ذریعہ نہ صرف اپنے تعلیمی مشن کو مستحکم کیا بلکہ اردو زبان کی ترویج واشاعت اور آفاقیت کو بھی جلابخشی۔
سرسید کثیر لسانی موقف میں یقین رکھتے تھے سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ انہیں گہری دلچسپی تھی اسی مقصد کے تحت سرسید نے ۰۳/مارچ ۶۶۸۱ء کو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے نام سے ایک اخبار جاری کیا پہلے یہ ہفت وار تھا پھر ہفتہ میں دوبار نکلتا تھا۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ غور کرتے رہے انگلستان پہنچتے ہی سرسید نے ایک رسالہ Stricture upon the Govt. System in India. کے نام سے ایک پمفلٹ جاری کیا۔ اس رسالے کا مقصد ہندوستانی نظام تعلیم میں خرابیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ ہندوستان واپس آنے کے دو ماہ بعد یعنی دسمبر ۰۷۸۱ء کو سرسید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ بعد ازاں بنارس میں انجمن خواستگاران تعلیم مسلمان قائم ہوئی اور سرسید اس انجمن کے سکریٹری منتخب ہوئے۔ ۲۷۸۱ء میں کالج کا ایک خاکہ تیار کیا گیا اور اس کے قیام کے لیے علی گڑھ کاانتخاب کیا گیا۔
سرسید کے تعلیمی نقطہ نظر کے تحت تعلیمی نظام کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلی صف کے لوگوں کامقصد ملازمت کا حصول دوسری قسم تجارت اور صنعت وحرفت کو ذریعہ معاش بنانا، تیسری قسم زمین داروں اور جاگیرداروں کی تھی، چوتھی قسم علوم وفنون میں مہارت اور تصنیف وتالیف کو اپنا مشغلہ بنانا۔ پانچواں طبقہ علم دین کا حصول اور چھٹی قسم عوام الناس کی ہے جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ کر کامیاب زندگی گزارنے کے متمنی تھے۔
ابتداء میں مدرسۃ العلوم کا قیام ایک چھوٹے سے مدرسہ کی شکل میں عمل میں آیا تھا لیکن اس کے پس پشت تعلیم کا ایک عظیم مشن کارفرما تھا جو چند برسوں میں MAOکالج میں تبدیل ہوگیا اور اس کالج میں بی اے تک کی تعلیم دی جانے لگی اس کا مقصد طلبہ میں عصری سائنسی علوم کے علاوہ اردو کو بھی امتیازی حیثیت حاصل تھی، لیکن بلا امتیاز مذہب وملت کالج کے دروازے سبھی کے لیے کھلے ہوئے تھے۔
سرسید کا تعلیمی مشن صرف علی گڑھ تک ہی محدود نہیں تھا ان کاخیال تا کہ اس نوع کے ادارے ملک گیر سطح پر قائم کیے جائیں۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرسید نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی اس کا پہلا اجلاس ۷۲/ستمبر ۶۸۸۱ء کو علی گڑھ میں منعقد ہوا۔ جسے برصغیر کی پہلی کانفرنس قرار دیا گیا۔ سرسید نے اس سلسلے میں مختلف شہروں اور علاقوں کے سفر کیے اور وہاں کی سربرآوردہ شخصیات سے رابطہ قائم کیا اور اپنے تعلیمی مشن کو عوام وخواص تک پہنچایا اس کے مختلف اجلاسوں میں سرسید کی حج کی مخالف ہوئی۔ اودھ پنج کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین بھی مخالفین میں شامل تھے۔
یکم فروری ۴۸۸۱ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے سرسید نے کہا تھا:
”افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں نے میرے مطلب اور مقصد کو نہیں سمجھا اور مجھ پر جھوٹے اتہام لگائے“۔
علی گڑھ تحریک ۶۶۸۱ء میں شروع ہوچکی تھی۔ ۰۷۸۱ء میں سرسید لندن سے واپس آئے اور اسی سال یعنی ۰۷۸۱ء میں رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ ۱۷۸۱ء میں انجمن خواست گار ترقی تعلیم مسلمانانِ قائم کی۔ ۵۷۸۱ء میں مدرسۃ العلوم اسکولی سطح پر علی گڑھ میں شروع کیا جو کالج کی سطح تک پہنچا۔ محسن علوم وفنون سرسید نے علی گڑھ میں ایسے دانش ور، عالم، فن کار، صاحب قلم، تخلیق کار اور عظیم المرتبت شخصیتوں کو ایک چھت کے نیچے لاکر جمع کردیا جو نہ صرف سائنسی علوم کے فروغ میں معاون ثابت ہوئے بلکہ زبان وادب کے فروغ وارتقاء میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں ہر مذہب وملت اور رنگ ونسل کے لوگ شامل تھے۔
عالمی سطح Global Level پر سرسید احمد خاں سیکولر تعلیمی مشن Secular Education Mission کے بانی تھے۔ انھوں نے اپنے تعلیمی افکار اور مذہبی نظریات کو کبھی فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم نہیں کیا وہ ہمیشہ مذہبی اور لسانی سطح پر یکسانیت اور مساوات کے علمبردار رہے انھوں نے اپنی علمی بصیرت اور دانشوری کو تعلیم کی ترویج کے لیے وقف کردیا۔
کرنل جی.ایف. آئی گراہم (G.F.I Graham) اپنی کتاب Life & Work of Sir Syed Ahmad Khan میں نہایت مستند حوالوں کے ساتھ علی گڑھ کالج کے بارے میں رقم طراز ہیں:
”علی گڑھ کالج دنیا کا واحد سیکولر تعلیمی ادارہ ہے جس کے بنیاد گزاروں نے مختلف مذاہب اور مسلک کے لوگوں کے لیے کالج کے دروازے کھول دئیے تھے۔ کالج میں کل ۹۵۲ طلبہ میں سے ہندو طلبہ کی تعداد ۷۵ تھی اور تقریباً ایک چوتھائی طلبہ میں عیسائی اور پادری طلبہ شامل تھے جو کالج کے احاطے میں سیکولر نوعیت کی تعلیم حاصل کررہے تھے“۔
“MAO college portals were open to all communities irrespective of caste, Creed, Colour religion and region”. Lala Baijnath Prasad was nest to H.G.I Siddons the first christian principal of MAO college in authority. Mr. Ishwari Pradad was first Graduate and Mr Amba Prasad was the first Post Graduate of MAO college, & The Sanskrit language was included in the curriculum of the college
سرسید کے یہاں لفظ قوم کا تصور در اصل نیشن Nation کے لیے مختص ہے انھوں نے لاہور میں اپنی تقریر کے دوران اس لفظ کی وضاحت اس طرح کی تھی:
”لفظ قوم سے میری مراد ہندومسلمان دونوں سے ہے یہی وہ معنی ہیں جس سے میں لفظ ‘Nation’ کی تعبیر کرتا ہوں“۔(ارمغان، علی گڑھ، خلیق احمد نظامی، ص:۹۹۱)
Sir Syed was an indian Muslim pragmatist, Islamic reformist and the thinker of nineteen century’
سرسید نیشن کے لیے گلوبل سطح پر سیکولر تعلیمی مشن کے بانی ہی نہیں بلکہ ایک ادارہ اور مکتبہ فکر School of Thoughts کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج کی طرز پر قوم کو جدید تعلیم سے مزین کرنے کا عزم کیا تھا۔
خطبات سرسید میں اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”اے میرے عزیزو! میری یہ آرزوہے کہ میں اپنی قوم کے بچوں کو آسمان کے تاروں سے اونچا اور سورج کی طرح چمکتا ہوا دیکھوں… پس میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام بچے طالب علم جو کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جن کے لیے میری یہ آرزو ہی کہ وہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میں اعلیٰ شمار کیے جائیں اور ان دو الفاظ لاالٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ کو نہ بھولیں“۔
علی گڑھ کالج کی بنیاد سیکولر اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ اس کالج کو ہندوستانی لائق اساتذہ اور دانش وروں کے علاوہ ممتاز انگریز اساتذہ اور اعلیٰ افسروں کی بھی تعلیمی اور تنظیمی خدمات حاصل رہیں۔ ان میں مسٹر سڈن Mr.Sidon کانام سرفہرست ہے ان کے بعد ۳۸۸۱ء میں مسٹر تھیوڈوربیک کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ مسٹر بیک سائنس، انگریزی اور فلسفہ کے طلبہ کو لکچر دیا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں سے کالج کے تعلیمی معیار میں اضافہ کیا ۹۹۸۱ء میں انتقال ہوا اور شملہ میں تدفین ہوئی۔
مسٹر پی ایم والس ۷۸۸۱ء میں علی گڑھ تشریف لائے آکسفورڈ کے گریجویٹ تھے انگریزی اور تاریخ کے ماہر تھے ان دنوں لارڈ ڈفرن علی گڑھ تشریف لائے مسٹر والس نے میر ولادت حسین سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج میں دنیا کے دو مدبروں سرسید اور لارڈ ڈفرن کو ایک جگہ دیکھ رہا ہوں۔

پروفیسر ٹی.ڈبلو آرنلڈ جنوری ۸۸۸۱ء کے اواخر میں علی گڑھ تشریف لائے کیمبرج کے گریجویٹ تھے انھیں عربی اور فرا نسیسی زبانوں پر قدرت حاصل تھی فلسفہ کے استاد تھے اقبال کو اپنا مایہ ناز شاگرد تسلیم کرتے تھے۔ آرنلڈ بڑے وضع دار شخصیت کے مالک تھے۔ سرپر عمامہ، چغا، چوڑی دار پاجامہ اور ہندوستانی جوتا پہن کر کلاس میں جایا کرتے تھے۔ طلبہ کو نماز اور درسِ قرآن کی طرف بھی توجہ دلاتے ان کی تربیت سے کالج میں علمی فضا کو فروغ ملا۔ علاوہ ازیں وہ مجلسِ اخوان الصفا کے روح رواں بھی تھے۔
پروفیسر تھیوڈماریسن کیمبرج کے گریجویٹ تھے۔ مسٹر والس کے جانے کے بعد علی گڑھ میں انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے مہاراجہ چھترپور کے اتالیق رہ چکے تھے کلاس روم کے علاوہ بھی وہ طلبہ کی ذہنی تربیت کرتے تھے انھوں نے کالج میں فٹ بال کو پہلی بار متعارف کرایا یہ کھیل اس زمانے میں صرف انگریزی فوج میں رائج تھا کرکٹ وغیرہ کھیلوں میں بھی انھیں دلچسپی تھی علی گڑھ کے طلبہ انھیں سولجرماریسن کے نام سے پکارتے تھے۔
سرسید اگرچہ سائنس داں نہیں تھے لیکن انھیں مغربی علوم اور انگریزی بان وادب کا گہرا شعور تھا انھوں نے انگریز دانشوروں کو نہ صرف کالج میں جمع کیا بلکہ تاریخ، فلسفہ ونفسیات اور عصری علوم کی تدریس کے لیے ان کی تقرری بھی کی وہی بنیاد گزار طریقہ تدریس بھی علی گڑھ کے تدریسی نظام میں آج بھی رائج ہے۔
سرسید مفسر قرآن تھے انھوں نے سورہ نساء کا بھی بہ نظر غائر مطالعہ کیا تھا وہ تعلیم نسواں اور مساوات نسواں کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے سرسید کبھی تعلیم نسواں کے مخالف نہیں رہے البتہ تعلیم نسواں سے متعلق ان کی پالیسی قدرے معتدل تھی جس کا جواز انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں پیش کیاہے۔
سرسید تعلیمی نظریہ ساز Educational Theorist تھے وہ مسلمانوں میں جدید تعلیم اور مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان میں باضابطہ نظریہ تعلیم کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ جو سائنسی علوم سے متعلق تلاش وتحقیق پر مبنی ہو اس مقصد کی تکمیل کے لیے انھوں نے اصلاحی اور اخلاقی نوعیت کے مضامین بھی قلم بند کیے۔ مید برآں سرسید نے مغربی تعلیم کو مشرقی طرزِ فکر میں ڈھال کر اس کے نفاذ کی کاوشیں بھی کیں۔ سرسید کو شدید احساس تھا حصول علم کے طریقے فرسودہ اور بے اثر ہوچکے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ لایعنی فلسفیانہ بحث ومباحث کی دنیا سے قطع نظر انکار ونظریات کے نئے زاویے تلاش کیے جائیں۔
سرسید کو اندازہ تھا کہ صرف کتابوں کا مطالعہ کرلینا ہی کافی نہیں ہے اس کے ساتھ اعلیٰ اقدار، تہذیب وتربیت اور صاف ستھرا معاشرہ بھی درکار ہے۔
اپنے ایک مضمون مدرسۃ العلوم کی ضرورت میں سرسید نے ایک حکم کا قول نقل کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
”انسان اپنے آپ میں سب سے بڑا استا د ہے“۔
سرسید نے تعلیمی مردم شماری کے پیش نظر ایک رسالہ بھی مرتب کیا تھا جو تعلیمی اور لسانی سطح پر اپنی نوعیت کا اردو کا پہلا رسالہ تھا اس رسالے میں علی گڑھ کے نواحی علاقوں، مختلف بستیوں اور قصبوں کی کیفیات کے تحت ان کی کیفیات مسلمانوں کی تعداد، آبادی، تحصیل کھیر، تحصیل سکندرہ، تحصیل ہاتھرس تحصیل اتروتی، تحصیل اگلاس کے علاوہ اپرکوٹ وغیرہ کی تعلیمی صورت حال مناسب اسکولوں میں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد اور آنکڑے پیش کیے جاتے تھے۔
سرسید کا طریقہ تدریس روایتی انداز سے بالکل مختلف تھا وہ تدریس کے سائنسی طریقہ کار Scientific Method of Teaching میں یقین رکھتے تھے لیکن انھوں نے تدریس کے دیگر طریقوں کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ وہ ہندوستان کے مسلم نوجوانوں میں سائنسی شعور اور طرزِ فکر کو اس طریقہ تدریس کے ذریعہ عام کرنا چاہتے تھے اور کلاس روم اور سائنسی تجربہ گاہ کو باہری عملی زندگی سے ہم آہنگ کرنے کاعزم رکھتے تھے۔ سرسید کا یہ طریقہ تدریس حکومت ہند کے تحت قومی درسیات کاخاکہ یعنی National Curriculum Frame work 2005 اور National Knowledge Commission کے طریقہ تدریس سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔
بارہ سال قبل یعنی ۳۱/جون ۵۰۰۲ کو حکومت ہند کے تحت National Knowledge Commission قائم کیا گیا تھا اس کمیشن کے تحت اکیسویں صدی میں تعلیمی نظام، ایجوکیشن سینٹرس، ریسرچ لیب، جدید سائنسی تکنیکی تدریس کے طریقے، صنعت وحرفت کی توسیع اور زبان کی اصلاح کی سفارش کی گئی تھی۔
Sir Syed Ahmad Khan, being as pragmatic thinker, he held the view that scientific method should be followed.
مارچ ۵۰۰۲ء میں وزیر اعظم کی ایما پر جسٹس سچر کی سربراہی میں سا ت ممبرو ں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل عمل میں آئی اس کمیٹی کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں کی اقتصادی، معاشی اور تعلیمی صورتِ حال کا جائزہ سفارشات کے ساتھ پیش کرنا تھا ایک سال بعد یعنی ۷۱/نومبر ۶۰۰۲ء کوسچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ ۶۷ سفارشات کی ساتھ پیش کی ان میں سے ۲۷ سفارشات کو منظوری دی گئی اور ۳۴ کو عملی جامہ پہنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ سچر کمیٹی کے تحت جو سفارشات کی گئیں ان میں یہ اہم سفارش بھی شامل ہے:
Recognise the degrees from Madrasas for the eligibility in defence, civil and banking examinations.
یعنی مدرسہ کی ڈگریوں کو Defence، Civil اور Banking examinations کے لیے مجاز قرار دیا جائے۔
راجندر سچر کی رپورٹ کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ سچر نے سرسید کی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظریہ فکر کو مختلف زاویوں سے پڑھا ہوگا۔ کیوں کہ وہ قدرِ مشترک، عزائم اور تجاویز جس کامثبت تصور سرسید کے یہاں پہلے ہی سے موجود ہے۔ سچر کمیٹی نے متعدد جگہ حکومتِ ہند سے مسلمانوں کے لیے اس نوع کی سفارشات پیش کی ہیں۔ مثلاً وہ آنکڑے جوسرسید نے بالخصوص علی گڑھ کے نواحی علاقوں کے مسلم گھرانوں کی آبادی کے تعلیمی تناسب کی لحاظ سے سروے کیا تھا جس کا ذکر گزشتہ صفحات پر کیاجاچکاہے۔ سچر نے بھی اسی نہج پر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق رپورٹ پیش کی ہے۔ نیشنل نالج کمیشن NKC 2005 اورسچر کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات سرسید کے نظریہ تعلیم سے بڑی حد تک مماثلت اور مطابقت رکھتی ہیں۔
سرسید کے جدید تعلیمی رہنما اصولوں اور طرزِ فکر کا نہ صرف ہندوستان میں نفاذ ہورہا ہے بلکہ گلو بل سطح پر مختلف ممالک اپنی تعلیمی پالیسی میں ترجیحات کے طور پر شامل کررہے ہیں۔
سرسید نے تعلیمی فکر کے تحت جو اصول وضع کرلیے تھے۔ ان میں سائنسی اور عصری علوم کاحصول، تدریس کا سائنسی طریقہ، دینی مدارس کی جدید کاری تراجم، تہذیب وتربیت، اردورسم الخط کاتحفظ جدید نثر اور سیکولر طریقہ تعلیم شامل تھے۔
سرسید نے مدرسہ کاتصور عصری علوم کے ساتھ پیش کیاتھا جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ ہندوستان میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ مدرسے ہیں جن کی جدید کاری کاعمل جاری ہے۔
ڈیڑھ سو سال قبل سرسید نے جو نظریہ تعلیمی اداروں کے قیام کے سلسلے میں پیش کیا تھا اس پر عمل کرنے کے لیے آج کاتعلیمی نظام مجبور ہے۔ سیٹوں کا قیام بھی عمل میں آرہا ہے۔ مسلمانوں کو حکومت کی مدد کے بغیر اپنی ذاتی کاوشوں سے تعلیمی ادارے قائم کرنا ہوں گے سرسید نے حکومت کی مدد کے بغیر تعلیمی ادارے قائم کیے تھے۔
سرسید ایک تعلیمی نظریہ ساز تھے (Educational Theorist) لیکن افسوس اس بات کا ہی کہ شعبہ تعلیم نے سرسید کے نظریہ تعلیم کو کبھی نصاب کا حصہ قرار نہیں دیا اور یکسویت کے ساتھ باضابطہ اور باقاعدہ تحقیق کاموضوع نہیں بنایا جب کہ ڈیڑھ سو صدی قبل سرسید نے تعلیم کا جو نظام قائم کیاتھا اس کی عالمگیریت اور نفاذ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
آزادی کے بعد ہندوستان میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر تعلیمی کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل پائے ہیں وہ سب سرسید کی تعلیمی فکر کے تتبع میں نظر آتے ہیں ان کی رپورٹوں اور سفارشات میں سرسید کے تعلیمی نظریے اور وضع کیے گئے اصول شامل ہیں اس نوع کے سبھی ایجوکیشن کمشنر اور نیشنل نالج کمشنر سرسید کے تعلیمی نظریات کی رہین منت ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جو کمیشن اورکمیٹیاں قائم ہوئی ہیں ان کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی ۵۱ فی صد اقتصادی حالت قبا ئیلو ں یعنی NomadicTribe سے بھی بدتر نظر آتی ہے۔ اکیسویں صدی کی جمہوری ہندوستان میں بائیس کروڑ مسلمان تعلیمی پس ماندگی اور زبوں حالی کے شکار ہیں۔ ان میں ۰۶ فی صد بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ ۵۱ فی صد بچے مدرسوں میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں مسلم بچوں کی تعداد صرف ۶ فی صد رہ گئی ہے۔ عدلیہ میں بھی ججوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقلیتوں کے لیے ۵۱ نکاتی پروگرام کا فائدہ غیر اقوام نے اٹھایا۔
سرسید مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کودیکھ کتنے مایوس ہوئے سرسید احمد خاں ایک ذکی الحس تعلیمی نظریہ ساز تھے۔ عالمی سطح پر ان کے علمی عزائم اور سیکولر تعلیمی مشن کی تفہیم اورنفاذ کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے جس کے بغیر اعلیٰ سماجی اور تعلیمی اقدار کا تصور ممکن نہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی عالمی سطح پر سرسید کے سیکولر تعلیمی مشن پر گامزن ہے۔ یہ دنیا کاواحد ایسا ادارہ ہے جہاں بلاتفریق مذہب وملت ہندوستان کی ۹۲ ریاستوں کے علاوہ پوری دنیا سے ہر رنگ ونسل کے طلبہ علی گڑھ میں زیر تعلیم ہیں۔
دانش گاہِ علی گڑھ سے اب تک تقریباً ۵۲ لاکھ طلبہ اورطالبات تعلیم یافتہ ہوچکے ہیں بیرون ممالک میں بھی ALUMINI کی بڑی تعداد موجود ہے گلستانِ سرسید کے یہ رنگارنگ پھول اپنی مختلف النوع خوشبوؤں سے دنیائے علم ودانش کو معطر کررہے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر سرسید کے سیکولر تعلیمی مشن کی عالمگیریت مسلم ہے۔سرسید جیسے عظیم رہنمائے قوم کی آج بھی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ نذیر احمد نے کہاتھا:
اب اس کے بعد لشکر ہے مگر افسر نہیں کوئی
بھٹکتا پھر رہا ہے قافلہ رہبر نہیں کوئی
٭٭