پروفیسرضیاء الرحمن صدیقی
شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ (انڈیا)
سرسید کا خط کرنل گراہم کے نام
گراہم حکومت برطانیہ میں کرنل کے عہدے پر فائز تھا۔وہ سر سید کی دلنواز شخصیت سے ہمیشہ متاثر رہا۔ اس کی یہ خواہش رہتی تھی کہ سرسید جہاں بھی رہیں وہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے، ان کی محفلوں اور صحبت میں شامل رہے۔ سرسید کے زمانہئ ملازمت میں جہاں بھی سرسید کا تبادلہ ہوتا گراہم بھی وہیں اپنا تبادلہ کرالیتا۔ اور وہ پابندی کے ساتھ ہمیشہ ان کی مختلف میٹنگوں میں شریک ہونے کا متمنی رہتا۔ گفتگو کے دوران سرسید کی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں اور جملوں کو بڑی سنجیدگی سے سنتا اور ان کے ہر عمل اور حرکت پر نظر رکھتا۔ اور انہیں بڑی دیانت داری سے قلم بند کردیتا۔ ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد گراہم کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کیوں نہ سرسید کی زندگی پر مبنی اس قیمتی سرمایے کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کرایا جائے۔ گراہم کی ذاتی دلچسپی اور سرسید سے بے پناہ لگاؤ کے نتیجہ میں گراہم کا یہ خواب شرمندہئ تعبیر ہوا اور ۵۸۸۱ء میں گراہم کی سرسید پر ایک کتاب بعنوان ”Life & Work of Sir Syed Ahmad Khanانگریزی میں زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئی۔ جو نہایت ہی معتبر اور مستند تصور کی گئی۔
کرنل گراہم اس کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ:
”ستمبر کے اواخر میں سرسید سے میری ملاقات علی گڑھ میں ہوئی میں نے سرسید سے ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ سوالات کیے کیوں کہ میں ان کی حیات و خدمات پر ایک مقالہ قلم بند کرنا چاہتاتھا اس ضمن میں انہوں نے میری درخواست قبول کرلی آگرہ واپس آنے پر میں نے سرسید پر مضمون لکھنا شروع کردیا۔ مضمون اتنا طویل ہوتا گیا کہ اس میں سب کچھ سمونا مشکل معلوم ہونے لگا۔ لہٰذا میں نے یہ طے کیا کہ سرسیدپر ایک” Monograph ” کتابیی شکل میں تحریر کردیا جائے جو ملک کے نوجوانوں کے لیے یہ مشعل راہ ثابت ہوسکے۔ سرسید نے مجھے اکتوبر ماہ میں حیدرآباد کے وزیر نواب سالار جنگ سے ملاقات کے لیے علی گڑھ مدعو کیا اس موقع کو غنیمت سمجھ کر میں نے سرسید سے ان پر ایک کتاب لکھنے کی اجازت مانگی اس وقت سرسید نے قدرے تامل کرتے ہوئے اپنی زبان سے یہ الفاظ کہے۔” No life No life yet ” مگر دوستوں کے اصرار پر انہوں نے ایک لمحہ کے لیے سوچا اور بے ساختہ کہا کہ میں خود کو آپ کے سپرد کرتا ہوں، سرسید سے میرے دوستانہ مراسم تھے اور ایک طویل عرصہ سے میں ان کے رابطہ میں تھا۔ ان کے مختلف ادبی اور تصنیفی کاموں میں شریک بھی رہا۔ لہٰذامیں نے سرسید کی سوانح مکمل کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور نتیجہ کے طور پرLife & Work of Sir Syed Ahmad Khan“ شائع ہوکر منظر عام پر آگئی۔“
الطاف حسین حالیؔ نے ”حیات جاوید“ کے عنوان سے سرسید کی سوانح ترتیب دی تھی لیکن بعض مقامات پر حیاتِ جاوید پر تاثراتی نوعیت کی سوانح ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ لیکن گراہم کی سوانح سرسید کی سماجی زندگی کی سچی ترجمان ہے۔
Colonel George Farquhar living Graham(G.F.I. Graham) ۳/ دسمبر ۰۴۸۱ء کو پیدا ہوا جو نسلاً ایک Scotish کا بیٹا تھا۔ اپنی ماں کی خواہش پر ۶۵۸۱ء میں بنگال انفیٹری میں بحیثیت کیڈٹ ہندوستانی سروسز سے وابستہ ہوگیا۔ گراہم نے کلاسیقی ادب اور علم ریاضی کا باضابطہ عمیق مطالعہ کیا بعد ازاں اسے ” Meroving Institute ” جرمنی بھیج دیا گیا جہاں اس نے فرانسیسی اور جرمنی زبانوں پر دسترس حاصل کی۔ گراہم پہلا کمیشن آفیسر تھا جس نے ۶۵۸۱ء میں North Western Province یعنی موجودہ Uttar Pradesh کے شہر ایٹہ میں سپر نٹنڈنٹ آف پولیس (Superinetndent of Police) کے عہدے پر فائز ہوا۔ ان دنوں سرسید احمد خاں بنارس میں اسٹنٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ ۰۶۸۱ء سے ۶۶۸۱ء کے درمیان غازیپور میں پہلی بار گراہم سے سرسید کی ملاقات ہوئی۔ بحیثیت پولیس آفیسر گراہم کا بیش تر وقت ” North West proving ” میں گزرا لیکن حکومت برطانیہ کے اعلیٰ طبقہ(Elite Class)میں اسے کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ اس کی طبیعت میں بہت شرمیلا پن (Shyness) تھا اس نے اپنی بائیس سالہ دور ملازمت میں صرف دوبار عوامی جلسوں سے خطاب کیا:
“ Gragam was only persuaded to speak in public twice in 22 years. At the same time he became fervent supporter of Sir Syed Ahmad Khan”
کرنل گراہم ایک اچھا سوانح نگار اور اسلوب نگار ” Stylist ” بھی نہیں تھا۔ لیکن سرسید کی شخصیت اور ان کے کارناموں سے اسے ذاتی دلچسپی تھی اور وہ انہیں بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ غالباً اسی تاثر نے گراہم کو سرسید کی سوانح لکھنے پر آمادہ کیا۔
سرسید پرایک تاریخی نوعیت کی سوانح ہے جو ایک انگریز نے ایک ہندوستانی مدبر اور دانش ور کے بارے میں قلم بند کی ہے۔ جس سے سرسید سے متعلق بعض اہم تاریخی واقعات اورسماجی حالات و کوائف کا علم ہوتا ہے۔ لیکن ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایک انگری کو ایک ہندوستانی دانشور سے اس قدر دلچسپی کیوں تھی۔ کیا وہ سرسید کے بارے میں انگریزوں کو معلومات فراہم کراناس چاہتا تھا۔ لیکن گراہم کی اس سوانح میں سرسید سے متعلق آخری دس سالوں کے حالات و کوائف دست یاب نہیں ہوسکے۔ غالباً کتاب شائع ہونے کے بعد سرسید کا گراہم سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا تھا۔
ان دنوں سرسید کو اسی حالات اور کالج کے ناگفتہ صورتحال سے نبرد آزما ہونا پڑرہا تھا۔
“ The establishment of Aligarh College was the grownning of his work and he had to face the keenest oppositin and was threatened with assassination”(G.F.I.Graham)
البتہ گراہم کی کتاب ” Life & Work of Sir Syed Ahmad Khan ” ایک Primary Source کے طور پر اس لیے اہم ہوجاتی ہے کہ اس نے سرسید سے متعلق معمولی سے معمولی واقعات کو نہایت سنجیدگی سے قلم بند کیا ہے جو مواد عموماً سرسید سے متعلق دستیاب نہیں ہے۔
بعض خامیوں کے باوجود یہ ایک دلچسپ کتاب ہے۔ جو سرسید سے گہرے مراسم، سچی ذہنی وابستگی اور ان کی شخصیت سے دلچسپی کی بناء پر ضبط تحریر میں آئی۔ Life & Work of Sir Syed Ahmad Khanکے شائع ہونے پر کتاب کی ایک کاپی کرنل گراہم نے سرسید کو ارسال کی۔ کرنل گراہم لکھتا ہے کہ:
With regard to my book on his life, I received the following letter: Allygurg. 24the November, 1885,
“My dear Graham, by the last mail I received a copy of the book which you have called the Life & Work of Sir Syed Ahmad Khan”, but which I call the favour of Graham to Syed Ahmed Khan, although the book is well wrtten, is neatly got up, has a good cover, and is a thing to be proud of on acount of its auther, yet the only defect in it is devoted to the life of one like my humble self. The reader cannot help thinking of the follownig verse of a persian poet, ‘If you combine in you one Good quality and seventy bad ones, your friend will overlook them all and direct his attention to that one good quality. I looked through the book carefully, and turned it all over trying, if I could, to find out any word in it which might give me genuine pleasure and be something to be proud of, and immense was my joy on finding out the followning words in its preface: I have known syed Ahmad more like a relative, I may say, than a friend. ‘ I assure you that I shall always feel proud of it the Anglo- Indians. it would be able to realize that such friendship and Sympathy is quite possible between Europeans and the native of India.
However, putting aside the subject of the book, and whether it ought, or ought not, to have been written about an issignificant person like myself, I am glad that you have completed the work on which you had set your heart, and that your labour of love has come time I congratulate myself on the fact that though I did not approve of such a book being written, I have way to the pleasure of one whom I value, not aonly as a friend, but as a brother. Remember,dear Grham, I do not mean an elder brother, for I am older than you in you resspect of years, and I acted on the persian saying, It is easy to atone for the breaking of an oath, but it is a mighty wrong to grieve a friend. Herewith I envlose some cutting from tehe ‘pioneer’. containing letters that appeared about one or two points trated of in your book.
we had very heavy rain this year, and as a natural consequence we had a good deal of fever after the rains. I have had fever too, once or twice, but now i am quite well again, and the weather is getting lovely (sic)“ syed Mahmud is also here, busy on his work on the Muhamedan law. His leave will expire towars the close of March, when, I think, he is have to go back to his substantial post at Rai Bareli, until a vacancy occurs in the High Court. lord Dufferin will soon be at Agra, where he is going to hold a leve. Sir Syed alfred Lyall asked me to come over to Agra, and I am going by to day’s mail. I wish you had been there so that I could then enjoy my visit. I trust this will find you and Mrs. Graham and children well and happy.
with kindest regards for Mrs. Graham and yourself.
Be;oeve me,
Yours ever sincrely
(Sgd.) Syed Ahmed
سرسید کا مذکورہ خط اظہار تشکر بھی ہے اظہار مسرت بھی اور گراہم سے سرسید کی گہری وابستگی نیز روز مرہ کی خبر گیری اور معاملات کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔
۰۷۸۱ء میں public Committee کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو خصوصاً تعلیم کے معیار کو بلند کرنا تھا۔ خصوصاً مسلمان نوجوانوں میں سیکولر تعلیم (Secular Education) کا احیاء تھا تاکہ وہ نہ صرف حکوم کے ساتھ وفادار ہوں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ترقی کے زینے طے کرسکیں ہندوستان میں پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ علی گڑھ کالج میں بلاتفریق مذہب و ملت اور مسلک ملک کے شمال و جنوب اور مشرق و مغرب یعنی دہلی کے علاوہ بنگال، حیدرآباد اور دورو دراز علاقوں سے طلبہ ایک ہی نوع کی تعلیم حاصل کرنے آئے اور سب کا مقصد صرف ایک تھا یعنی اعلیٰ سطح پر حصول تعلیم۔
گراہم اپنی اس کتاب میں لکھتا ہے کہ علی گڑھ کالج دنیا کا پہلا واحد سیکولر تعلیمی ادارہ تھا جہاں کے بنیاد گزاروں نے مختلف مذاہب اور مسلک کے لوگوں کے لیے کالج کے دروازے کھول دیئے تھے۔ ۹۵۲ طلبہ میں ۷۵ ہندو اور تقریبا ایک چوتھائی طلبہ عیسائی، پارسی تھے جو کالج کے احاطہ میں سیکولر نوعیت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔(Life & Work of sir Syed Ahmad Khan, P: 274)
At the time of writting my first edition of his lif. Syed Ahmad was alive and well. I then wrote as follows:
” Syed Ahmad has now resided for many years in his comfortable house in Aligarh, which was purchased and fumished for him in Europen style by his son, the Hon, Syed Mahmud. Here he entertains his numerous gueste who visit him from all parts of India Mohammendans, Sikhs, Hindu, and Englishmem. The doors are always open. The whole atmosphere is redolent of literatuer. His sitting of books and papers; the walls of his dining room are covered with bookcases filled with standard English works; and his library a splendid room- is stocked used by him in wrtting his Commenntary on the Bible, Koran,&c. One of the not least interesting books to me is syed Mahmud’s prize taken at Cambrdge for the best books English essaly! In the drawing- room is the diploma making Syed Ahmed a fellow of thr royal Asiatic Society, of which he is particularly proud, on the wall opposite is a full- lenght protratit in oil his friend Sir john strachey, a lifelie likeness. There are also portaits of sir Salar jang, lord Lytton, and his Highness the Nizam of Hydrabad. the days for him pass pleasantlyii and quickly. One of his great chracteeristics is his untiring energy. in additon to great breath of views on questions of nationla importance, he possesses power of work regards minute details which is astonishing. Up at 4 A. M. He writes his newpaper articles, his books and pamphelt sess visitors, offial and private- and conducts the onerous duties of his secretaryship to the College Committees not only by day, but not unfrequently far into the night, withe him mental labour oif the higher kind tends to long life and sound health. His meals are served in European style dinner friends frop in. The topics of conversation range from persian poets and humorous anecdotes. He is of middle height and of massive build, weighing up wards of nineteen stone. His face is leonine- a rugged witness to his determination and energy. If however, rather sterm and forbidding when at rest, it lights up genially when speaking, reflicting the warmth of heart which he so largely possesses. He has a hearty laugh, and enjoys a joke as much as any man. He will put his stick under the table at dinner. and suddenly frighten those present by pretending to see a anake. Or again, the subject o conversation is the reform of his nation. One of his listenners is sleepy and nods. the Syed is anxious that a ll should attend. The sleepy member says he hears everything, but he presently nods again. All of a sudden a terrific shout ofalarm is heard which makes every one jump, including the sleppy one; but all they see is the old Syed in roars of laughter! He has been a widower for many years, and only had one wife. He informed me the other day, with a twinkle in his eye, that ” might marry again! but ” said he, ” she must be English, in order that I may mix more freely in English Society, and she must be eighty years old, and have lost all her teeth! ” He is a born orator, his delivery, when he warms to his subject, resembles that of Mr. Gladstone. His lips quiver with suppressed emotion; the voice and figurefollow suit, and these evidences audince. He is intnsely cosmopolitain. to substitute ” Mohammedan” for ” Englishment” ineloquent words used lately in describing the late lord Ampthill: ” It is an exceedingly rare thing for an ordinary Mohammedan, even of the better sort, thoroughly to realise the fact, hwever emphatilly he admits the theory, that Mohammendans and other races are of the same flesh and bloood, and are amenvable to the same passions and impulses. It is still rarer to find a Mohammden was no only mptpm;u understands this to be the case, but proves his perception of it in practice. Syed Ahmed is so him, and rising above all accidental conditions of climate and race, of latitude, longitude, and ethnic idiosyncrasy, he gazes, by dint of his own power of judicious generalisation, upon an imahe which is none other than that of human natuer ttselt. He preserves of patrotism and pride of the stock from which he is sprung, and has divested him- self of all its prejudices.” There was not another Mohammedan in India so fitted to take the lead in the great Mohammedan Educational movement as he: no other Mohammedan gentleman possessed the ability, the eloquence, the grat reputation, the comopolitanism, and the intense energy and perseverance of the subject of this sketch, Had. it not been for his great offorts, the Mohammedan would have been far further behind the Hindu community as regard education than it now is; and if the movement with the rapidity which has hitherto characterised it, the Mohammedans will soom be abreast of the Hindus. amongst the mightly forcesw which have been silently chaning the aspect of affairs in India during the last froty years, Syed Ahmed Khan’s name will, to future
generations, occupy a conspicuos place.
” I have now traced his honourable and laborious career from his earliest years up to the present, and trust that the pictuer, though very imperfectly drawn, may act as I stimulant to the rising generation of high and distingushed family, but poor, educated only up to his nineteenth year, has raised himself from
the lowest rung of the official ladder to the highest, and also educated himself, without the great advantage of a knowledge of English, to become, as he now is, the foremost Mohammedan of his day in India”
گراہم کی یہ تحریر نہایت ہی دلچسپ معلومات افزا ہے جو تاریخی نوعیت کے ساتھ ساتھ سرسید کے عزائم مسلک و معاملات اور ذاتی زندگی کے حالات و کوائف کی غماز ہے۔
٭٭