پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی
شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(علی گڑھ)

اُردو کی مشترکہ تہذیبی و سماجی قدریں

کسی بھی مہذب سماج میں تہذیب یا تمدن کے معنی ہیں انسان کا اپنی ذہنی،اخلاقی یا تخلیقی قوتوں کو ترتیب دینا اور ان پر عمل پیرا ہونا۔
افراد سے اقوام کی تشکیل ہوتی ہے۔فرد اور سماج ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔افراد کے بغیر سماج کا تصورممکن نہیں۔تہذیب دراصل مجموعی ملی کاوش،عملی و اخلاقی اقدار و ذوق و شوق،محنت شاقہ،تلاش وجستجو کا مجموعہ اور نتیجہ کہی جاسکتی ہے کیونکہ سماج کاہرفرد الفاظ کے ذ ریعہ اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔
Soual values from an important part of the culture of the Society. Values such as fundamental right patriotism, respect of dignity rationality, democracy, behaviour and moral values in many way.
تہذیب ایک ایسا سرچشمہ ہے جس کے ذریعہ سماج کے مختلف افراداپنے زاویوں سے استفادہ کرتے ہیں۔اس سما ج میں تاریخ داں،سیاست داں،تخلیق کار،فن کار،ادباوشعرا،مصور و موسیقار،فن تعمیر کے ماہرین،سنگ تراش اور اہل کمال اپنے فنون کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ نمائندگی مجموعی طورپر ایک اعلیٰ سماج اور تہذیبی اقدار کی تشکیل و تعمیرکرتی رہتی ہے۔علم و فن،آرٹ فنون لطیفہ اور مصوری تہذیبی اقدار کے جز ولاینفک ہیں۔
آئیے لفظ ”سماج“ پر گفتگو کرتے ہیں۔
انسان فطری طور پر مدنی الطبع واقع ہواہے یعنی گروپ کی شکل میں رہنا پسند کرتا ہے (Living in group) اجتماعیت چاہتاہے یعنی صحبت پسند ہے۔یعنی People living in the community makeup Society تاریخ تمدن ہند میں محمد مجیب کچھ اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں۔
”فنون لطیفہ کا ذوق انسان کی سرشت میں شامل ہے اور فنون لطیفہ کا اصل سرمایہ اسے قدرت سے ملا ہے اور شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ انسان نے حسن کا معیار قدرت کے نمونوں کو دیکھ کر قائم کیا ہے۔علم چاہتا ہے کہ قدرت پر قابوپائے لیکن فن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود قدر بن جائے۔“
انسان خدا کی شاہکار تخلیق ہے اور اس کے ذریعہ پیدا ہونے والا ہر تخلیقی سرچشمہ سماج کی تہذیبی اقدار کا ضامن ہوتا ہے جس طرح انسان اپنے گھرکو سجاتاسنوارتا ہے اور یہ انفرادی کاوشیں سماج کی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں،معاون ثابت ہوتی ہیں۔انسانی تہذیب و تمدن کی ترویج و ارتقا میں رنگ بھرتی ہیں۔قدرت کی بے بہافیاضیاں اور فطری مناظر کائنات کو خوبصورت شکل عطا کرتے ہیں۔
خدانے اپنی دنیا کو سجایا ہے سنوارا ہے
پہاڑوں سے زمیں کی سمت بہتے آبشاروں سے
فلک کو چاند سورج اور خوبصور ستاروں سے
فضا میں چارسو بکھرے ہوئے رنگیں نظاروں سے
زمین پر خوش نما اگتے ہوئے ان سبز زاروں سے
خدانے اپنی دنیا کو سجایا ہے سنوارا ہے

اس طرح انسان بھی اپنے گھر اور اپنی زندگی کی بکھری ہوئی محدود کائنات کو سجاتا اور سنوارتاہے اور یہ انفرادی کوششیں مجموعی طورپر ایک عظیم سماجی اور تہذیبی اقدار کی امین ثابت ہوتی ہیں۔انہیں میں چند عظیم شخصیات بھی جنم لیتی ہیں۔
”یہ قوموں کے زندہ ہونے کی علامت ہے کہ ان میں عظیم تر ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو حسن کو دوسری آنکھوں سے نہ دیکھ کر خود اس کے دیدارکے طالب ہوتے ہیں اور اپنے کام کو نئی اخلاقی قدروں اور تازہ قلبی وردات کا حامل بناتے ہیں۔“
سماجی اقدار اور تہذیبوں کی تکمیل کا عمل سینکڑوں بلکہ ہزاروں برس کے عرصہ کو محیط ہے ہر فن کار اپنے میدانوں میں اپنے فن کا اظہار کرتا رہتاہے۔ اس طرح تہذیبوں کی یکمیل بتدریج عمل پذیر ہوتی رہتی ہے۔یہ سلسلہ عہد عتیق ہی سے جاری ہے۔
جس طرح معمار فن تعمیر سے،موسیقار اپنے موسیقی کے فن سے،قلم کار اپنی تحریروں سے تاریخ داں یعنی مورّخ اپنے بیانیہ اور فنون لطیفہ سے،سلاطین وقت اپنی انتظامیہ اور رزم و بزم سے تخلیق کار اپنی شاعری اور فکشن سے،سیاح اپنے سفر ناموں، تذکروں اورخود نوشت و سوانح سے۔
انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ روز اول سے وجود میں آچکی تھی۔ یونان و مصر و روماں تہذیبیں اگرچہ صفہء ہستی سے مٹ گئیں لیکن یہ تہذیبیں، علم و عمل،سیاست،تنظیم اور استقلال کی مثالیں قائم کر گئیں جس سے مستقبل میں دنیا سبق حاصل کرتی رہے گی۔
قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں تہذیبوں کی تاریخ سے وابستہ ہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب قومیں ترقی کرکے تمدن اور تہذیب کی علمبردار بن جاتی ہیں تو ان میں اکثر وہی اخلاقی اور معاشرتی خوبیاں موجود نہیں رہتیں جن کی بدولت انھوں نے دنیا میں نام پیدا کیا تھا لیکن مورّخ صحافی احتساب نہیں کرسکتا کہ تہذیب کا نمونہ بننے سے قوموں کو فائدہ ہوتا ہے۔
آج بھی دنیا اور خصوصاً دنیا کی بے شمار تہذیبیں ایسی ہیں جن کے درمیان تفاوت ہے قوموں کی ترقی کا راز کئی اعتبار سے مبہم اور پوشیدہ بلکہ نظرآتا ہے۔حادثے،انقلابات،آسمانی آفات،کسی عظیم رہنماکانزول اور اس کی رہنمائی،اعمال صالحہ،محنت،کاوش،تلاش و جستجواور ایک قوم کا دوسری قوم پر فتح حاصل کرنا شامل ہیں اور وہ یقینا معاشرتی و لسانی اور اخلاقی تہذیب و تمدن کی مثال پیش کرتی ہیں۔
قومی تہذیب کے عروج کی ایک وجہ باہمی ربط،بیرونی حملہ آوروں کی آمد،تجارتی تعلقات،عقائد اور مسلک کی تبلیغ،سیاسی معاملات،کیونکہ قومیں ایک دوسرے کے رابطہ میں آکر ہی صنعت و حرفت،علم و ہنر،ادب،آرٹ اور دیگر فنون لطیفہ کی ترقی کا باعث بن سکتی ہیں۔مورّخ و صحافی کے پاس تہذیب کو پرکھنے کی کوئی کسوٹی نہیں ہوتی،مورّخ تہذیبوں کے عروج و زوال کا بیان اپنی ذاتی دلچسپی اور ترجیحات پرکرتاہے۔ہر مورّخ فطری طورپر اپنے عقائد اور مسلک کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے۔
تاریخ اورصحافت، تہذیب وتمدن اورمعاشرت کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہیں لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہے کہ مورّخ وصحافی غیرجانبدار ہو اور بیانیہ یعنی تاریخی بیانیہ پر اُسے قدرت حاصل ہو۔
سماج ایک Prism کے مانند ہے۔اس مثلثی حیثیت میں مختلف تہذیبیں،منفرد رنگوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ہر ر نگ اپنے انداز میں اپنی تاریخ بیان کرتاہے۔ تاریخ و تمدن،سماج،زبان،معاشرہ اور تہذیب ایک ہی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ہر علاقہ،خطے اور اقوام کی اپنی تہذیبی تاریخ ہے اور ان کی قدریں بھی متعین ہیں۔تہذیب کی قدروں کو دو طرح سے پرکھا جاسکتا ہے جس کا ذکر ’تاریخ تمدن ہند‘ کے مصنف نے بھی کیا ہے۔کسی سماج اور قوم کے تہذیبی معیار کو ان کی قدروں سے پرکھاجاسکتا ہے۔یہ دو طرح کی ہیں۔داخلی قدریں اور خارجی قدریں۔داخلی قدریں کسی فرد کی علمیت،ذہنی بالیدگی باہمی ربط اور اخلاقی اور تخلیقی صلاحیتوں سے عبارت ہیں کسی بھی سماج میں خارجی قدروں سے مراد وہ سر زمین ہے جس پر اقوام کی بودو باش،طرز معاشرت سیاسی و تنظیمی نظام،بیرونی پالیسی،صنعت و تجارت،سرمایہ کاری،صنعت و حرفت کی ترقی اور فروغ شامل ہیں۔رنگ و نسل،لسانی امتیاز،بود و باش،مذہب و مسلک اور عقائد،زبان کی درجہ بندی،اطوار،تاریخی و سیاسی اور تنظیمی التزام،ریت رواج،تہوار،شاعری و موسیقی،آرٹ،فن تعمیر اور بھی بے شمارفنون ہیں جو تہذیب و سماج کی تعمیر و تشکیل کرتے ہیں اور تمدن کی نمائندگی بھی لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ سب لسانی رابطہ،گفت و شنید کے بغیر ممکن نہیں۔ عالمی سطح پر قوموں کی تہذیبوں کے عروج و زوال کی بھی ایک طویل داستان ہے۔ اقبال ؔ نے شاید اسی کے تاریخی پس منظر میں کہا تھا ؎
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
باقی مگر ہے اب تک نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہاہے دشمن دورزماں ہمارا
آئیے اب ہم اجمالاً ہندوستان کی مختصر تاریخ،زبان،تہذیب اور سماج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔
زبان کا تہذیبوں سے گہرا تعلق ہے۔زبان کی بنیاد تہذیب پر ہوتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور یہ التزام افراد سے اقوام اور سماجی اقدار کے پس منظر میں تہذیب کی شکل اختیار کرنے پر مکمل ہوتا ہے۔صحافت اس کا بہترین ذریعہ اظہار ہے۔صحافت غیر تخلیقی زبان ہے۔
زبانوں کی تاریخ کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ہندوستان میں سب سے پہلے آسٹرک آئے پھر دراوڑ قوم داخل ہوئی جو آج بھی جنونی ہند میں موجود ہیں۔اس کے بعد پھرآریوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔سنسکرت معیاری زبان کی شکل میں برسوں تک چھائی رہی،پراکرت زبانوں نے جنم لیا،پالی اور اپ بھرنش حاوی رہیں۔
عہد مغلیہ میں فارسی کا عروج ہوا اور پھر انگریزوں کی آمد نے انگریزی زبان کو گلی کوچوں تک پہنچادیا۔ فارسی کا زوال،اردو کے عروج کا زمانہ قرار پایا۔
بیرونی اقوام اپنی تہذیبیں اور زبانیں ساتھ لے کر آئے اور تہذیبوں کے باہمی اختلاط سے نئی تہذیبوں نے جنم لیا جو بہر حال لسانی رشتوں کے زیر نگیں ہندوستانی تہذیب کی شناخت بن گئیں۔محمد بن قاسم،علاالدین خلجی،غزنوی اور غوری،بہمنی سلطنت،عادل شاہی،قطب شاہی آصف جاحی، مغلیہ سلطنت اور پھر تقسیم ملک یہ سب سماج،تہذیب اور زبان کا امتزاج انگریزوں کا دور ہے۔ یہ دور زبان و تہذیب کا دور زیاں ہے
قومیں،حکومتیں اور مذاہب زبانوں کی تعمیر و تشکیل نہیں کرتے یہ ہزاروں سال پر مشتمل ایک لسانی عمل ہے جو بولیوں سے زبان کی جانب عمل پذیر رہتاہے۔یہ انتشار سے اتحاد کا عمل جو بولیوں سے زبان کی جانب سفر طے کرتا ہے۔اس طرح بولی میں قواعد شامل ہونے پر زبان کی شکل مکمل ہوجاتی ہے۔
اکثر زبانیں بولیوں کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں لیکن اردو کی لسانی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبان بولیوں کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئی بلکہ براہ راست زبان کی شکل میں نمودار ہوئی۔اردو ایک Multi Lingual Languageہے جو کئی تہذیبوں کے باہمی اختلاط سے تشکیل پائی کیونکہ ہندوستانی زبانوں کے علاوہ بھی اردو میں دنیا کی جس قدر زبانوں کے الفاظ موجود ہیں دنیا کی کسی زبان دیگر زبانوں کے اتنے الفاظ نہیں پائے جاتے،اس طرح اردو کا ایک گلوبل کریکٹر ابھرکر سامنے آتا ہے اور عالمی سطح پر لسانی و تہذیبی یکجہتی کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ہر قوم اور ہر تہذیب نے اردو کو اپنی لفظیات (Diction) کے ذریعہ مالامال کیا ہے۔اردو accent کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کا لہجہ اختیار کرنے کے بعد دنیاکی کسی بھی زبان کے لہجے کو بخوبی ا د ا کیاجاسکتا ہے۔
اُردو ایک PAN Languge ہے۔اس کا رسم الخط Perso Arabicہے۔اس کے بولنے اور لکھنے پڑھنے والے نیز تخلیق کار،شعراو ادبانہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں موجود ہیں۔عالمی سطح پر ہر بڑی یونیورسٹی اور ادارے میں اردو تدریس و تحقیق کے شعبے قائم ہیں اور اخبارات و رسائل کی اشاعت ہوتی رہتی ہے۔
اردو نے اپنے عالمی کردار سے ابتداہی سے دنیا کی مختلف تہذیبوں کو متاثرکیا مشاعرے اس کا خاص مقبول طرز رہا۔ہر مذہب و ملت اور ادبیات کا علمی سرمایہ اس نے اپنے دامن میں سمولیا ہے۔ترجمہ نے بھی اردو کو وسعت بخشی۔گیتا رامائن،گوروگرنتھ صاحب اور بائبل کے علاوہ دیگر مذہبی کتابوں کے تقریباً سات سو تراجم اردو میں شائع ہوکر منظرعام پر آچکے ہیں۔
اردو اپنی شیرینی لطافت اور لہجہ کی مٹھاس کی وجہ سے ہر سماج اور ہر طبقہ میں مقبول ہے غزل جو ہزاروں سال کی بوطیقاہے،اس کی آبرو ہے۔اس زبان کی یہ خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کو پڑھنے اور اس کے لہجے پر مہارت حاصل کرلینے کے بعد دنیا کی کسی بھی زبان کا صحیح تلفظ ادا کرنے میں مشکل پیش نہیں آتی،اس لیے یہ بین الاقوامی زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے۔

اردو میں حکائی ادب (Oral Literature) کی بڑی مثبت روایت ہے،جس سے سماجی و ثقافتی اداروں نے جنم لیا۔حکائی ادب کی یہ روایت سینہ بہ سینہ صدیوں سے قائم ہے عوامی سطح پر اردو شاعری اور خصوصاً گزل کے فروغ کا ناگزیر حصہ تسلیم کی جاتی ہے۔اس ذیل میں گیت،نغمے،مجرے،ماہیئے،سوانگ،الوادعیہ،رخصتی، سہاگ، ملہار،لوک گیت،قوالی، کنڈلیاں چوبولے،،کہہ مکرنیاں،چہار بیت، نوحے، مرثیے، ساون کے گیت، لوریاں، دوہے، منظوم قصے اور زبانی اشعار اور مشاعرے،میت خوانی،شعری نشستیں،سلام، میلاد شریف کی محفلیں وغیرہ شامل ہیں۔یہ سبھی اصناف کسی نہ کسی طورپر مشترکہ تہذیب کی علامت ہیں اور اردو سماجی و قافتی اداروں کی شکل میں رونما ہوئے جو اردو کے شعرو ادب کا ناگزیر حصہ تصور کیے گئے۔اگرچہ ان کی کوئی تحریری شکل نہیں ہے لیکن شعری تاریخ کے ارتقا میں معاون ثابت ہوئے اور مشترکہ تہذیبی اقدار کے متحمل بھی،جن کی بنیاد زبان اور صحافت ہے۔
ادب زندگی کا آئینہ دار ہے۔زندگی سماج سے عبارت ہے۔سماج کی بنیاد تہذیبی اقدار پر ہے۔سماجی قدریں زبان و ادب سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی اور یہ ہزاروں سال کی تاریخ کا سفر ہے جنہیں ہم سفر ناموں،داستانوں میں تلاش کرسکتے ہیں۔تہذیبیں بنتی رہیں اور مٹتی گئیں لیکن آج یہاں اردو کی سماجی اقدار کے تحفظ کا مسئلہ ہے جو زوال پذیر ہیں اور طاق نسیاں ہوتی جارہی ہیں۔
اُردو کی سماجی کی قدروں کے تحفظ کے لیے ادبی محفلوں،مجلسوں،ذاتی طورپر نشستوں میں نئی نسل کی شمولیت ضروری ہے،جس کا رواج ختم ہوتاجارہاہے۔کتابی دنیا سے ہم Digital World کی جانب گامزن ہیں جو ایک زوال پذیر عمل ہے۔
سماجی قدروں کے تحفظ کے زوال کا تحفظ، ان کے نفاذ کی عملی تدبیر ناگزیر ہے۔گذشتہ نصف صدی میں ہندوستان کی متعدد بولیاں اور زبانیں ختم ہوگئیں،آج بھی Endangered زبانوں کی ایک طویل فہرست ہے۔
یہ عہد تو سماجی دوری (Social Distancing) کا دور ہے۔عہد حاضر کے سماج میں سماج کے ادیب اور ادب کے مسائل کوکئی حصوں میں تقسیم کیا گیا جا سکتاہے۔ایک تو ادیب کے اپنے مسائل،دوسرے ادیب کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے ادبی اظہار کا مسئلہ،تیسرے ادیب کی تخلیقات اور ان کا اپنے عہد سے تعلق رکھنے والے ادبی مسائل سے رابطہ کا معاملہ۔ایسی صورت میں یہ بحث ادیب،ادب اور معاشرے کے باہمی روابط کی بحث میں بدل جاتی ہے۔
اردو زبان کا ہر لفظ از خود تہذیبوں سے عبارت ہے اور ادب عالمی تہذیبوں کی شناخت کا ضامن ہے کیونکہ اردو نے کبھی بھی دیگرزبانوں کے الفاظ پر اعتراض نہیں کیا،اس زبان میں جذب وقبول کی صلاحیت موجود ہے۔اردو کی ادبی قدریں تو انقلاب زمانہ کی نذرہوگئیں لیکن اس کی حکائی روایت اِسے ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے جو سماجی اور تہذیبی و ثقافتی اداروں کی شکل میں آج بھی قائم ہیں۔
<<

Prof. Zia ur Rehman Siddiqui
Dept. of Urdu (AMU)
Aligarh Muslim University, ALIGARH
Mobile. No 07018979058