پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی
شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ (انڈیا)

اردو لسانیات کی تدریس

URDU LINGUISTICS PEDAGOGY

اُردو میں زبان کے مطالعہ کی روایت بہت قدیم ہے۔ لیکن لسانیات کا علم بالکل نیا ہے۔ اس علم سے ہم بیسویں صدی کے نصف آخر میں متعارف ہوئے ہیں۔ لیکن ہم نے گزشتہ چالیس سال میں لسانیات کو اپنی تدریس کا بنیادی حصہ نہیں بنایا۔ اگر لسانیات کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو بلا تامل کہا جاسکتا ہے کہ روایتی قواعد کی ترقی یافتہ شکل لسانیات ہے، جس کا آغازپہلی صدی کے اوائل میں عمل پذیر ہوا۔ روایتی قواعد سے مراد مختلف مکتبہئ فکر رکھنے والے افراد کے افکار و خیالات سے ہے۔
لسانیات کے ابتدائی نقوش یونان میں افلاطون کے یہاں محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ زبان کی ابتداکے ذیل میں افلاطون نے معنی کی مختلف جہتوں، خصلت اور الفاظ کے مآخذ پر اظہار خیال کیا ہے۔ زبان کے ماہرین افلاطون کو قواعد کا موجد قرار دیتے ہیں۔ زبان کو بہ خوبی بولنے اور لکھنا سکھانے کا فن قواعد کہلاتاہے۔
ابتداہی سے زبان فلسفہ، منطق، مذہب، علم فصاحت و بلاغت، تدریس زبان اور ادبی تنقید سے وابستہ رہی ہے۔ ان علوم سے متعلق دانشوروں نے زبان اور اس کی قواعد پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انسانی تہذیب یعنی ”CULTURAL ANTHROPOLOGY“ کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ زبان کا کلچر اور اس کے نقوش عہدِ قدیم ہی سے موجود ہیں۔ اس کی بہترین مثال آدمؑ، شیطان اور خدا کے مابین گفتگو سے دی جاسکتی ہے۔ قدیم مصر کے عقائد کی رو سے، خدا بول چال اور تحریر کا بانی ہے۔ جس طرح برہما نے آریہ تہذیب کو لکھنے کا علم دیا۔ زبان کو محفوظ کرنے کے لیے قواعد لکھی گئی۔ مثلاً ویدک سنسکرت کی قواعد پاننی نے تصنیف کی۔
انگریزی کی ابتدائی قواعد پر لاطینی کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب زبان کی تدریس کے طریقے وضع ہوئے، ادبی معیار قائم ہوا اور زبان کی ابتدأ سے متعلق نظریات کو فروغ ملا۔
زبان کے سائنسی مطالعہ کو لسانیات یعنی ”LINGUISTICS“ کہتے ہیں۔ گریک میں ”LING“ کے معنی زبان اور ”TICS“ کے معنی سائنسی مطالعہ ہے۔ یہ لسانی نظام SCIENTIFIC STUDY اور OBSERVATION پر مشتمل ہے۔ کسی علم کو سائنس کہنے کے لیے تین اہم نکات تصور کیے جاتے ہیں۔ مثلاً صراحت، معروضیت اور تنظیم یعنی باقاعدگی، زبان کا سائنٹفک مطالعہ انھیں تینوں سے عبارت ہے۔ زبان کے سائٹفک مطالعہ میں اہم پہلو باقاعدگی یعنی ”SYSTEMATICNESS“ ہے۔ زبان کا سائنسی مطالعہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ کیوں کہ زبان کا تجزیہ کرتے وقت معیاری طریق کار پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

لسانیات کا مختلف علوم کے ساتھ گہرا رشتہ ہے۔ ان علوم میں تاریخ فلسفہ سماجیات، نفسیات، حیاتیات، انسانیات اور کمپوٹرسائنس وغیرہ اہم ہیں۔
لسانیات کو دو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1۔ توضیحی لسانیات (CORE LINGUISTICS)
2۔ اطلاقی لسانیات (APPLIED LINGUISTICS)
لسانیات کی اہم شاخوں میں توضیحی لسانیات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ توضیحی لسانیات میں زبان کی ساخت سے بحث کی جاتی ہے زبان مختلف آوازوں، بے شمار لفظوں اور جملوں کا باضابطہ صوتی نظام ہے، جو ایک زبان سے دوسری زبان میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آوازیں ہمارے اعضائے صوت کی مختلف انداز میں عمل پیرا ہونے سے تلفظ ہوتی ہے۔ آوازوں کے تسلسل سے لفظ تشکیل پاتے ہیں۔ ارور لفظوں کی مخصوص ترتیب سے فقرے اور جملے بنتے ہیں۔ یہاں آوازوں سے لے کر جملوں تک ہر جگہ ہمارا عمل اختیاری ہوتا ہے، جس کے ذریعہ ہم معانی و مفاہیم کا تعین کرتے ہیں۔ زبان،آوازوں، لفظوں اور جملوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتی ہے جہاں ہر سطح پر مخصوص نظام کار فرما رہتا ہے۔ اسی عمل کو ہم زبان کی ساخت کہتے ہیں۔
توضیحی لسانیات یعنی ”CORE LINGUISTICS“ کے تحت زبان کی ساخت یعنی ”STRUCTURE“ کا سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ توضیحی لسانیات کی بنیادی دلچسپی زبان کی ساخت ہے۔ زبان کی ساخت کی رعایت سے توضیحی لسانیات کے مطالعہ کو پانچ شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ صوتیات / فونیات: یعنی ”PHONETICS“ اس کے تحت زبان میں تلفظ ہونے والی مختلف آوازوں کی توضیح کا مطالعہ اور ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔
2۔ علم الاصوات یعنی فونیمیات /PHONOLOGY PHONEMICSجسم سے نکلنے والی آوازوں کے مطالعہ کو علم الاصوات یعنی ”PHONOLOGY“ کہتے ہیں۔ جس کا اطلاق زبان و ادب کی تفہیم میں کیاجاتا ہے۔ یعنی زبان میں عمل کے اعتبار سے آوازوں کی بنیادی اور ذیلی حیثیتوں کی نوعیت اور ان کا تعین وغیرہ۔
3۔ تیسری اہم شاخ صرفیات یا مارفیمیات یعنی ”MORPHOLOGY“ ہے۔ لسانیات کی اس شاخ کے تحت حروف کی تحریری شکل الفاظ کی تشکیل عمل اور اقسام نیز ان کی ساختوں کا توضیحی و تجزیاتی مطالعہ صرفیات کہلاتا ہے۔اردو میں اسے ”علم حرف“ بھی کہتے ہیں۔
4۔ چوتھی قسم نحویات یعنی ”ترکیب کارم یعنی SYNTAXہے۔ جملے میں ایک دوسرے سے باہمی ربط، الفاظ کی ترکیب اور جملوں کا باہمی تعلق ”نحو“ کہلاتا ہے۔ اس کے تحت لفظ کے باطن اور اس کے مفہوم سے تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔
5۔ آخری قسم معنیات ”SEMANTICS“ ہے مفہوم اور الفاظ کا مطالعہ علم معانی کہلاتا ہے۔ جس میں الفاظ کے معنی سے مفصل بحث کی جاتی ہے۔
ماہرِ لسانیات رابرٹ ہال زبان کی ساخت کا خاکہ کچھ اس طرح پیش کرتا ہے:
لغت LEXICON
معنیات SEMANTIC
(داخلی ساخت) نحویات SYNTAX
تشکیلیات(مارفیمیات)بیرونی ساخت MORPHOLOGY
فونیمیات PHONEMICS
صوتیات PHONETICS
دوسری قسم اطلاقی لسانیات یعنی APPLIED LINGUISTICS کی ہے۔ لسانیاتی نظام کے تحت زبان کے اطلاق کے مطالعہ کو اطلاقی لسانیات کہتے ہیں۔ اطلاقی لسانیات کی آٹھ شاخیں قائم کی گئی ہیں۔
1۔ زبان کی تدریس(LANGUAGE TEACHING AND PEDAGOGY)
لسانیات کے اصولوں کے تحت زبان کی تدریس سے متعلق بحث اور اس کے اطلاق پر گفتگو کی جاتی ہے۔
2۔ سماجی لسانیات (SOCIO LINGUISTICS)
زبان اور سماج کے درمیان گہرا رشتہ ہے۔ کسی بھی مہذب سماج کا تصور زبان کے بغیر ممکن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ زبان اور سماج کے باہمی رشتہ یعنی ”Corelationship“ کے مطالعہ کو سماجی لسانیات کہتے ہیں۔
3۔ نفسیاتی لسانیات”PSYCHO LINGUISTICS“
لسانیات کی اس شاخ کے تحت اس بات کا بھی مطالعہ کیا جاتا ہے کہ طالب علم کلاس میں زبان کو کس طرح سیکھتا ہے۔
4۔ اسلوبیات ”STYLISTICS“
اس کا تعلق خالص ادب سے ہے۔ یعنی لسانیات کے اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے ادب کے مختلف تخلیقی پاروں کا مطالعہ اسلوبیات کے ذیل میں آتا ہے۔
5۔ کمپیوٹرائی لسانیات ”COMPUTATIONAL LINGUISTICS“
کمپیوٹر کے ذریعہ ایک زبان کے رسم الخط کو دوسری زبان میں تبدیل کرنا نیز اس کے ذریعہ پیدا ہونے والی دقتوں کا مطالعہ کرنا شامل ہے۔
6۔ تاریخی لسانیات ”HISTORICAL LINGUISTICS“
تاریخی لسانیات میں زمانی اعتبار سے ماضی، حال اور مستقبل کے مدنظر زبان کی مختلف سطحوں (LEVEL) کا ارتقاء ”CHRONOLOGICAL ORDER“ میں کیا جاتا ہے۔
7۔ تخالفی لسانیات ”CONTRASTIVE LINGUISTICS“
تخالفی لسانیات کی اس شاخ کے تحت مختلف زبانوں کا باہمی ربط ”COMMONNESS“ اور فرق و امتیازات سے متعلق مطالعہ کیا جاتا ہے۔
8۔ منصوبہئ زبان یعنی ”LANGUAGE PLANNING“
منصوبہئ زبان لسانیاتی نظام کا نہایت اہم پہلو ہے۔ اس کے تحت زبان کا رسم الخط لفظیات اور قواعد کی مدد سے زبان کے معیار کو مستحکم اور بہتر بنانے پر گفتگو کی جاتی ہے۔
زبان دراصل اصوات کا مجموعہ ہے۔ زبان کی ان اصوات کے مطالعہ کو علم الاصوات کہا جاتا ہے۔ اصوات ایک دوسرے سے مل کر مارفیم بناتے ہیں اور مارفیم ایک دوسرے سے مل کر الفاظ کی تشکیل کرتے ہیں۔ مارفیم اور الفاظ کے مطالعہ کو ”MORPHOLOGY“ یا صرف کہتے ہیں۔ مختلف الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جملے بناتے ہیں۔ جملے کے مطالعہ کو نحو کہتے ہیں۔
MORPHOLOGY اور PHONOLOGY،SYNTAXیعنی صرف و نحو زبان کے مطالعہ کی مختلف سطحیں ہیں۔ زبان کے اصولوں کے تحت پر ایک مکمل لسانی نظام ہے۔ جسے ”ساختیاتی نظام“ کہاجاتا ہے۔
زبان کی ساخت ”STRUCTURE OF LANGUAGE“ کے پانچ اہم رکن ہیں مثلاً:
آواز۔ لفظ۔ جملہ۔ معنی اور فرہنگ
تشکیلیات کی اصطلاح میں زبان کی چھوٹی سے چھوٹی بامعنی آزاد اکائی کو لفظ کہتے ہیں۔ اردو میں ایسی اکائیوں کی تین قسمیں ہیں، سادہ، پیچیدہ اور مرکب۔
اردو کے صوتی نظام کی کل تعداد 36ہے۔ ہمزہ (ء) دراصل ”DIACRATICAL“ ہے جو حروف تہجی میں شامل نہیں ہے۔ اردو میں 15 ہکاری آوازوں یعنی ”ASPIRATED SOUNDS“ کو ملا کر کل 51 آوازیں ہیں۔ یہ ترتیب ابجدی نظام سے مختلف ہے۔ اردو زبان کی روایت تقریباً نو سو سال پرانی ہے۔ اردو کا اسکرپٹ / رسم الخط PERSO ARABIC ہے اس رسم خط میں دنیا کی کئی بڑی زبانیں مثلاً عربی، فارسی، پنجابی، کشمیری، سندھی، پشتو، ترکی، بلوچی، سائیکی، ازبک اور تاجی وغیرہ شامل ہیں۔ مگر اردو میں یہ خط صوتی نہ ہو کر صوری ہے۔
اردو لسانی تحقیق کی ابتدأ امیر خسرو کی منظوم لغت خالقِ باری سے ہوتی ہے۔
لسانی تحقیق کے نقطہئ نظر سے تجزیاتی نوعیت کی پہلی کتاب محی الدین قادری زورؔ کی ہندوستانی لسانیات ہے جو 1930ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی۔
عبدالقادر سروی کی کتاب زبان اور علم زبان میں آوازوں اور ان کی بنیادی شکلوں سے بحث کی گئی ہے۔ نیز اردو حروف تہجی کی صوتی ترتیب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اردو میں الفاظ کے تاریخی پس منظر پر حسن الدین احمد کی کتاب اردو الفاظ شماری اور دتاتریہ کیفی کی کتاب کیفیہ میں اس موضوع سے مفصل بحث کی گئی ہے۔
پہلی اردو قواعد 1715ء میں شاکیتا نیھ DUTCH زبان میں لکھی تھی۔ بنجمن شلر نے ہندوستانی قواعد لاطینی زبان میں 1745ء میں تصنیف کی تھی۔ مورگریسن نے 1773ء میں ہندوستانی لغت دو حصوں میں لندن میں تیار کی تھی۔ بیلی ڈف نے کلکتہ سے لندن واپس جاکر 1787ء میں اردو کی باقاعدہ قواعد ترتیب دی۔ اقتدار حسین کی کتاب اردو صرف و نحو میں لسانیاتی اصولوں سے بحث کی گئی ہے۔ عصمت جاوید کی اردو قواعد پر پہلی کتاب ہے جو روایتی اندازِ فکر سے ہٹ کر لکھی گئی ہے۔
لسانیاتی نقطہئ نظر سے اردو ساخت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مضامین لسانی شعور کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوئے۔ مثلاً پرانے لفظوں کی نئی تحقیق سید سلیمان ندوی اردو اشتقاقات کی سرگزشت اور اردو کے مرکب الفاظ شوکت سبزواری، لفظ و معنی دتاتریہ کیفی صحتِ زبان کے لسانیاتی پہلو۔ احتشام حسین اردو میں صرف و نحو کا خاکہ عبدالرؤف عشرت، پنجابی اور اردو کی مشترک ساخت کے بنیادی عناصر حامداے خان اردو کے ایمیہ فقروں کی ساخت کا تجزیہ۔ انور دل اردو فونیمیات، نصیر احمد خان ”اردو سابقے اور لاحقے، مرزا خلیل بیگ مضامین اہم ہیں۔
اردو کی سماجی، لسانی اور علاقائی بولیوں کی نشاندہی سب سے پہلے انشاء اللہ خان نے ”دریائے لطافت“ میں کی ہے اور مادری زبان کا لفظ بھی پہلے انشاء نے استعمال کیا۔
اردو ایک ”PAN LANGUAGE“ ہے۔ عالمی سطح یعنی GLOBAL پر دنیا کی جس قدر زبانوں کے الفاظ اردو میں پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کسی بھی زبان میں اتنی زبانوں کے الفاظ نہیں ملتے۔ اردو میں ہندوستانی الفاظ کی تعداد 73.5% فیصد، سامی، فارسی اور ترکی الفاظ کی تعداد 25.5% فیصد اور یوروپی الفاظ کی شمولیت 2%فیصد۔
علم لسانیات دراصل زبان و ادب کے اصولوں کی تفہیم اور اس کے باقاعدہ اطلاقی عمل کا منطقی نظام ہے جوآوازوں لفظ، جملوں، معنی اور فرہنگ غرض کہ ساخت کی ہر سطح پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
لسانیات کا علم زبان و ادب کے ہر طالب علم کے لیے ناگزیر تصور کیا گیا ہے۔
؎ یہاں ہم چند لسانیاتی اصلاحات کے بارے میں بھی گفتگو کرتے چلیں یوں سمجھے آواز کے دو حصے ہوتے ہیں۔
٭ صوتیات(PHONETICS)
٭ اردو فونیمیاتURDU PHONEMICS
آواز کا عمل مثلاً غالبؔ اور قالب کا فرق:
٭ اردو فونیم تقسیمیات (یعنی صوت)(URDU PHONOTACTICS)
٭ اردو فونیمیات(URDU MORPHONEMICS)
٭ اردو مافیمیات (URDU MORPHOLOGY)
٭ اردو نحویات (URDU SYNTAX)
٭ اردو معنیات (URDU SEMENTICS)
٭ اردو فرہنگیات(URDU LEXICON)
٭ اردو علم ہجا (URDU ORTHOGRAPHY)
(سادہ آوازیں اور ان کی تحریری شکلیں)
٭ نشانیات (SEMIOTICS)
٭ ٓاعضائے تکلم (VOCAL ORGANS)
٭ عصری لسانیات (SYNCHRONIC LINGUISTICS)
(عصری زبان کا سائنسی مطالعہ)
٭ تکلمی صوتیات (ARTICULATORY PHONETICS)
علم اشتقاقِ الفاظ (ETYMOLOGY)
اردو تدریس (URDU PEDAGOGY)
طلاقتِ لسانی (ORACY SKILL)
حروفیات (GRAPHEMES)
یعنی اردو رسم خط کا مطالعہ اور تجزیہ وغیرہ شامل ہیں۔

٭٭٭