پروفیسر ضیاالرحمٰن صدیقی
شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)
موبائل نمبر9018979058 :
عادل شاہی عہد
دکن کی شعری تاریخ میں بہمنی سلطنت کے زوال پزیر ہونے کے بعد قطب شاہی اور عادل شاہی عہد میں بھی اردو زبان و ادب اور خصوصاً شعروسخن کو فروغ حاصل ہوتا رہا۔عادل شاہی بادشاہوں نے اردو کو سب سے پہلے سرکاری زبان کا درجہ عطا کیا۔دکن میں اردو زبان کو سرکاری سرپرستی سے قبل صوفیہ نے دکنی یا ابتدائی اردو کو جسے ہم اردوئے قدیم بھی کہہ سکتے ہیں،اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔
دکن میں بہمنی سلطنت کے تاخت و تاراج ہونے کے بعد کئی صوبہ دار اخود مختار ہوگئے یوسف عادل شاہ نے عادل شاہی سلطنت قائم کرلی۔بہمنی سلطنت کے عہد حکومت میں یوسف عاسل شاہ بیجا پور کا صوبہ دار تھا۔عادل شاہ عہد دوسو برس قائم رہا۔اس عرصہ میں نوبادشاہوں نے حکومت کی۔یوسف عادل شاہ سے لے کر سکندرعادل شاہ تک انتیس شعرانے اپنے تخلیقی فن پاروں کے ذریعہ دکنی شعر و ادب کی آبیاری کی۔سلاطین نے ان شعرااور فن کاروں کی تعظیم و سر پرستی کی،اعزازواکرام سے سرفراز کیا اور اپنے شاہی درباروں میں جگہ دی۔ان سلاطین میں بیشتر تخلیق کار و صاحب قلم تھے اور علم پروری،اس عہدلا شیوہ بھی تھا۔
عادل شاہ عہد کے شعرانے اپنی تخلیقات میں صنف مثنوی اور دیگر اصناف کے ذریعہ اس عہد کے سلاطین کی علمی خدمات،انتظام و انصرام،نظام سلطنت،عسکری کارنامے اور عدل و انصاف کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
یوسف عادل شاہ فارسی کا شاعر تھا۔یوسف تخلص تھا۔بچپن ایران میں گزرا،پچیس برس حکومت کی۔1510 یعنی ستاون سال کی عمر میں وفات پائی۔اس کی غزلیں اور رباعیات ’کلام الملوک‘ میں محفوظ ہیں۔
یوسف عادل شاہ کی وفات کے بعد اس کا فرزند اسماعیل عادل شاہ تخت نشین ہوا۔وہ بھی فارسی کا شاعر تھا۔اس کا کلام بھی ’کلام الملوک‘ میں موجود ہے۔بعد ازاں ابراہیم عادل شاہ کا عہد شروع ہوا۔اس نے فارسی کے بجائے ہندوی کو دفتری یعنی سرکاری زبان قرار دیا۔فن موسیقی اور شاعری کا شائق تھا۔اس نے ’جگت گرو‘کے نا م شہرت پائی ’نغمہ نورس‘ اس کی اہم تخلیق ہے جگت گرو نے فارسی اور سنسکرت شعرا کی نہ صرف کفالت کی بلکہ ان کی باقاعدہ سرپرستی بھی کی۔نغمہ نورس میں اُس دور کی طرز معاشرت،تہذیب اور علمی ماحول،متصوفانہ روش کے ذکر ساتھ ہاتھی گھوڑوں،عورتوں کے زیوارات اور ان کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے۔1558میں اس نے وفات پائی،اس کے بعد علی عادل شاہ کا عہد شروع ہوتا ہے۔
علی عادل شاہ بھی خوش طبع شاعر تھالیکن اس کا عہد عادل شاہی سلطنت کے زوال کا دور ثابت ہوا۔اورنگ زیب عالمگیر نے عادل شاہی عہد میں بیجاپور پر حملہ کیا اور سب سے پہلے بیدر پر فتح حاصل کی۔ عادل شاہی عہد کے حکمرانوں نے دکنی زبان و ادب،موسیقی،شاعری،آرٹ کلچر اور فن تعمیر میں گہری دلچسپی لی۔اس طرح تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب کو فروغ حاص ہوا۔اس دور کے شعراکی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ نصیر الدین ہاشمی نے اپنی کتاب ’دکن میں اردو‘ میں عادل شاہی عہد کے انتیس شعراکا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے۔ان شعرامیں عادل شاہی سلطنت کے چند حکمرانوں کے نام بھی شامل ہیں۔اس دور کے اہم شعرا میں صنعتی رستمی،شوقی،مقیمی،نصرتی،قدرتی ہاشمی، ظہوری،حسینی،برہان الدین جانم،ابراہیم عادل شاہی ثانی،علی عادل شاہ اور معظم کے نام شامل ہیں۔
برہان الدین جانم،شمس العشاق کے بیٹے تھے۔ان کی بیشتر تخلیقات دکنی زبان میں تصوف اور اخلاقیات کے موضوع پر ہیں۔مثلاً ’سکھ سہیلا،منفعت الایمان‘ اور ’وصیت الہادی‘ کا ذکر ملتا ہے۔ابراہیم عادل شاہ اس عہد کا چھٹابادشاہ تھا۔وہ دکنی شعروسخن کا شائق اور خوش طبع شاعر تھا۔ابراہیم تخلص کرتا تھا۔اس نے مثنوی، غزل اور صنف قصیدہ میں طبع آزمائی کی، اس کی اہم تصنیف ’نورس‘ دستایب ہے۔اس کتاب میں جو گیت شامل ہیں،وہ راگ اور گائیکی طرز پر گائے جا سکتے ہیں۔
ابراہیم سب سندری دیکھا یوں لچھن ہے کہاں
جات چاند سلطان نالو ملکے کہاں
اس دور کا ایک اور شاعر حسن شوقی تھا،شوقی تخلص اور حسن نام تھا۔شوقی ؔ کو دکن کے تین درباروں سے عادل شاہی،قطب شاہی اور نظام شاہی سے وابستگی کا شرف حاصل رہا لیکن اس کا بیشتر وقت بیجاپور میں گزرا،اس لیے شوقیؔ کا شمار بیجا پور کے شعرامیں کیا جاتاہے۔اس کی چند غزلیں اور دو مثنویاں ’فتح نامہ نظام شاہ‘اور ’میز بانی نامہ‘ دستیاب ہیں۔
بہت دیس تھے شہ کی گھر کاج
شہر گشت کی رات سو آج ہے
مقیمیؔ تخلص اور محمد مقیم نام تھا،ایران نژاد تھا۔بیجا پور کو وطن ثانی تسلیم کیا۔فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کی۔مقیمیؔ کی غزلیں اور قصائد تو نہیں ملیں البتہ ایک مثنوی ’چندر بدن و میہار‘ دستیاب ہے جو لائق اعتنا نہیں ہے۔اس کی ایک مثنوی ’سومسہار‘ بھی ہے۔
خداکوں سزاوار کبرو منی
اوقاداں ہے قدرت کا صاحب دھنی
صنعتی ؔ عادل شاہی عہد کے زوال پذیر دورکا شاعر تھا،ابراہیم خاں نام اور صنعتیؔ تخلص تھا۔ اس کی دو مثنویاں ’قصہئ نظیر‘اور دوسری ’گلدستہ‘ موجود ہیں جو عشقیہ داستان پر قلم بند کی گئی ہیں ایک شعر مثال کے طور پر ؎
ہزار ایک پرساں پنجاو پنج
ہوئے تب ہوا پر جواہر بو گنج
ر ستمیؔ بھی عادل شاہی عہد کا ایک باکمال اور کہنہ مشق شاعر تھا۔وہ گذشتہ کئی پشتوں سے عادل شاہی دربار سے وابستہ رہا۔قصائد اور غزلوں کے علاوہ اس کی مثنویاں بھی اہم ہیں۔رستمیؔ کو دکنی کا قادرالکلام شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کی مثنویوں میں اشعار کی تعدادبیس ہزار بتائی جاتی ہے جو اس کی برسوں کی مشق سخن کا نتیجہ ہے۔
نصرتیؔ بھی اس عہد کا ایک اہم شاعر ہے۔محمد نصرت نام تھا۔بیجاپورکے عہد حکومت میں نصرتیؔ کے نام سے مشہور ہوا۔’گلشن عشق‘ اور ’علی نامہ‘ نصرتیؔ کی مشہور مثنویاں ہیں۔
فصاحت میں گر فارسی خوش کلام
دھرے فخر ہندی بچن پہ مدام
شاہ مبارک دکنی کا مشہور شاعر تھا۔اس کی ایک مشہور مثنوی ’شریعت نامہ‘ انڈیا آفس لائبریری لندن کے کتب خانے میں ایک مخطوطے کی شکل میں موجود ہے۔
ہاشمیؔ کا پورا نام سید میراں اور ہاشمیؔ تخلص تھا۔اسے ریختہ کا موجد تسلیم کیا جاتاہے۔ہاشمیؔ کی تصانیف سے اس کی مثنویاں اور دیوان بھی دستیاب ہوا ہے۔
جاتاسوں اے مسافررہنے کی بھی خبر ہے
آیا اتاکدھر سوں جاتا سو ہو کدھر ہے
محمد امین ایاغیؔ نے اپنی مثنویوں میں علی عادل شاہ کے نظام سلطنت،عدل و انصاف اور اعلیٰ علمی و شعری اقدار کا تذکرہ کیا ہے۔’نجات نامہ‘ ایاغیؔ کی مشہور مثنوی ہے۔عادل شاہی دور کا آخری حکمران سکندر عادل شاہ کے عہد کا ایک شاعر معظم کی تین مثنویاں قابل ذکر ہیں۔مثلاً ’شجرۃ الاتقیا،گنج مخفی‘ اور ’گلزار جنت‘ وغیرہ۔
الٰہی تو قادر ہے صاحب غنی
تو رازق مطلق ہے سمرت دہنی
ترا نام قادر سزاوار ہے
تیرے نام کا سب کو ادھار ہے
غزل کا یہ شعر اس دور کی اس طرح نمائندگی کرتا ہے ؎
قادر کی بات سن کر کہتا ہے کیوں معظمؔ
یا شہد یا شکر جوں قندیا نبات
دکن کے شعرا کے یہاں دیگر اصناف کے علاوہ بیشتر مثنویاں ملتی ہیں جو اخلاقی،مذہبی اور متصوفانہ موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔یہ تخلیقی فن پارے دکنی شعرو ادب کا بہترین سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔
دکن میں اردو شاعری کا ابتدائی دور(بہمنی سلطنت کے حوالے سے):
اردو زبان و ادب کی ترویج و تشکیل اور اس کے بتدریج ارتقا کی لسانی تاریخ ایک طویل عرصہ کو محیط ہے۔محمد بن قاسم،محمود غزنوی،علاالدین خلجی،محمد بن تغلق،بہمنی سلطنت،قطب شاہی عادل شاہی،آصف شاہی اور عہد مغلیہ تک اردو زبان و ادب کی تاریخ شمال سے جنوب تک بشمول گجرات اور دہلی تک کئی صدیوں پر بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔اس زبان کے ابتدائی نقوش دکنی سے ماخوذہیں۔علاالدین خلجی نے (1297) ملک کافور کی مددسے 1310 میں دکن اور گجرات پر مکمل طور پر قبضہ کرلیا تو اس طرح دکن والوں کا شمال سے باضابطہ پہلا رابطہ قائم ہوا جو زبان و تہذیب کا حسین امتزاج تصور کیا گیا۔ علاالدین خلجی نے اپنے مفتوحہ علاقوں کو مستحکم بنانے اور سلطنت کا مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے اسے سو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر علاقہ پر ایک ترک افسر کو تعنات کردیا گیا۔یہ امیران صلّاہ کہلاتے تھے۔یہ سبھی شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی زبان مقامی بولیوں کے میل سے رابطہ کی شکل اختیار کر گئی۔یہ نظام محمد بن تغلق کے عہد تک قائم رہا محمد بن تغلق نے اپنے عہد حکومت میں پایہئ تخت دہلی سے دولت آباد منتقل کرنے کا حکم جاری کیا۔
بعد ازاں پھر دیوگری سے دہلی واپس جانے کا فرمان جاری کردیا،نتیجہ کے طور پر سلطنت کمزور پڑ گئی اور امیران صلّاہ نے محمد بن تغلق کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔خلجیوں کا زوال پذیر ہونے پر بہمنی سلطنت کا قیام عمل میں آیا اور علاالدین حسن بہمنی شاہ نے دکن کے خود مختار حاکم ہونے کا اعلان کردیا۔تقریباً دوسو سال تک بہمنی سلطنت کے اٹھارہ حکمرانوں نے حکومت کی۔ بعد ازاں کچھ عرصہ بعد بہمنی سلطنت بھی کمزور پڑنے لگی اور سلطنت کے کچھ صوبہ داروں نے اپنی خود مختار حکومتیں قائم کرلیں۔ان میں گول کنڈہ،بیجاپور، احمد نگر،برار اور بیدر کا ذکر شامل ہے۔
بہمنی سلطنت کے سبھی حکمران اہل علم،ادب دوست اور علم و فن کے شائق تھے۔شعر و ادب اور فنون لطیفہ سے گہری وابستگی رکتے تھے۔اپنے عہد کے شعرااور علمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اس دور کے جن اہم شعراکے نام قابل ذکر ہیں،ان میں سید محمد حسینی،خواجہ بندہ نوازگیسو دراز (معراج العاشقین) بندہ نواز کے بیٹے محمد اکبر حسینی (معروف شاعر) نظامی،مشتاق، شاہ میراں جی شمس العاشق اور آذری کے نام سامنے آتے ہیں۔
بہمنی سلطنت سے لے کر قطب شاہی،عادل شاہی،آصف جامی اور عہد مغلیہ کے آخری تاجدار تک سبھی سلاطین علم پرور،ادب دوست اور صاحب قلم تھے۔نہ صرف یہ کہ اپنے عہد کے شاعروں،فنکاروں اور ادیبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے،اُن کی کفالت کرتے،انہیں وظائف سے نوازتے اور خطابات دیتے تھے۔مثلاً یوسف عادل شاہ ’شاہ میراں جی شمس العاشقین کا بڑا احترام کرتا تھا۔اسی کے عہد میں میراں جی نے رحلت فرمائی۔
بہمنی سلطنت کی زبان کی ہندوی تھی۔دکنی کا وہ مخصوص دور جسے ہم بہمنی دور کے نام سے موسوم کرتے ہیں،اس دور کے شعراکے یہاں تین موضوعات بطور خاص نظر آتے ہیں۔کسی مشہور واقعہ کودلچسپ انداز میں منظوم میں پیش کردینا، قصہ کا انجام طربیہ ہو۔کسی مشہور مذہبی تاریخی واقعہ کو داستانی دلچسپی کے ساتھ نظم کردینا۔تیسرا موضوع تصوف اور اخلاقی اقدار سے متعلق تصور کیا جاتا ہے۔اس دور کے شعرا اور اہل کمال نے اپنی زبان کو ’ہندوی‘ کہا ہے لیکن جب شمال کے لسانی اثرات سے اس کا رنگ روپ اور شکل قدرے مختلف ہوگئی تو ’ہندوی‘ کے بجائے دکنی کہی جانے لگی۔
شمس اللہ قادری اردوئے قدیم کی نئی شکل دکنی قرار دیتے ہیں۔’بھوگ بل‘ کا مصنف اور مشہور شاعر قریشی بیدری نے 1614 میں پہلی بار اس زبان کو دکنی کہہ کر پکارا۔بعد ازاں اس کی دو شاخیں سامنے آئیں۔ دکن میں دکنی اور گجرات میں گجری‘گجراتی اور گجری دو الگ زبانیں ہیں گجری زبان ہندوی اور دکنی کی ایک شکل ہے۔تاریخ منظوم،سلاطین مہمنیہ کا مصنف لکھتا ہے۔
”دکن کا علاقہ جب مغلیہ سلطنت میں ضم ہوگیا اور سلطنے شمالی ہند کے زیر نگیں آگئی تو اس کی جگہ شمالی ہند کی اردو نے مختلف علاقوں اور عہد میں دکن کے معنی مختلف رہے۔عالمگیر کے عہد میں گولکنڈہ،حیدر آباداور بیجا پور بھی مغلوں کے زیر نگیں آگئے اورنگ آباد،برار اور خاندیس کو ضم کرکے (ان چھ صوبوں کو) دکن کا نام دیا۔“
ایک خیال یہ بھی ہے کہ دکن اور دکنی کا صحیح تصور انیسویں صدی میں پیدا ہوا۔مغلیہ سلطنت میں شامل ہونے کے بعد دکنی کا زوال ہوگیا اور یہ علاقائی زبان تک محدود ہوکر رہ گئی اور اس کی جگہ شمالی ہند کی اردو نے لے لی۔دکنی پر سب سے زیادہ اور گہرااثر مراٹھی زبان کا رہا ہے۔ بہمنی دور میں شاہی دفتروں کی زبان ہندوی تھی۔بہمنی سلطنت کے تاخت و تاراج ہونے کے بعد یہ سلطنت پانچ حصوں میں منقسم ہوگئی۔قطب شاہی اور عادل شاہی سلطنتیں زیادہ مستحکم اور دیرپا ثابت ہوئیں۔
قطب شاہی عہد:
سلطان محمد قلی قطب شاہ نے 1518 میں قطب شاہی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور گولکنڈہ کو اپنا پایہئ تخت قراردیا اور 1518 سے 1672 تک قطب شاہی سلطنت کے ساتھ بادشاہوں نے حکومت کی،آٹھواں حکمران ابوالحسن تاناشاہ (1687) تھا۔دوسوسال قطب شاہی دور حکومت میں تقریباً بیس شعراو ادیب گذرے،بیشتر شعرا کا کلام مثنویوں کی شکل میں ملتا ہے۔اس دور کے اہم شعرا میں غواصیؔ،وجہیؔ،ابن نشاطیؔ،فائزؔ،افضل،عاجزؔ،کبیرؔ،سالکؔ اور کیشو ؔ وغیرہ کے نام سامنے آتے ہیں۔
قطب شاہی عہد کے سبھی حکمران نہ صرف یہ کہ خود شاعر،ادیب،فن کار، موسیقاراور شائقین علم و فن ہوتے تھے بلکہ اپنے عہد کے شعرا،قلمکاروں،فن کاروں اور اہل علم و دانش کی بھی سرپرستی اور کفالت کرتے تھے۔
محمد قلی قطب شاہ کو اردو کا پہلا باضابطہ صاحب دیوان شاعر تسلیم کیا۔اس کا کلام اردو شاعری میں معتبر اور کئی اعتبار سے اہم تصور کیاگیا۔قطب شاہی عہد میں شاعری کو بطور خاص فروغ حاصل ہوا۔اس دور کے بادشاہوں کو علم و فن اور موسیقی سے فطری لگاؤ تھا۔محرم کی تقریبات کو عوام و خواص کی وابستگی کا ذریعہ بنایا۔عبداللہ قطب شاہ نے فارسی کے ساتھ اردو شعرا اور فن کاروں کی بھی سرپرستی کی۔اس دور کے اہم شعرا میں غواصیؔ،ابن نشاطیؔ اور وجہیؔ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔قطب شاہی عہد کی تہذیبی اور ادبی زندگی کی جھلک خصوصاً شاعری کے حوالے سے احمد گجراتی،غواصیؔ،ابن نشاطیؔ اور وجہیؔ کی مثنویوں میں نظر آتی ہے۔ان شعرا نے اپنی شعری تخلیقات میں دکنی رسومات،شاہی تقریبات اور مخلوط تہذیبوں کی دکنی لفظی اور ہندوی طرز فکر کے حوالے سے خوبصورت انداز میں تصویر کشی کی ہے۔’پھول بن‘ میں ابن نشاطیؔ نے اس شہر کی خصوصیات اور فطری مناظرکا نقشہ کھینچا ہے۔تاریخ قطب شاہی میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
عدلیہ کی طرف بطورخاص توجہ دی جاتی تھی۔نظم و نسق میں بڑی باضابطگی تھی۔گولکنڈہ ہیروں کے لیے مشہور تھا۔غواصیؔ نے سیف الملوک اور بدیع الجمال میں تمام جزئیات کے ساتھ مرقع کشی کی ہے۔قطب شاہی ثقافت اور رسومات کی آخری جھلک ’مخزن عشق‘ میں نظر آتی ہے۔
اورنگ زیب عالمگیر کے گولکنڈہ فتح کرنے کے بعد شعری اقدار کمزور اور ادبی محفلیں سرد پڑنے لگیں اور شعرا و فن کاروں کی قدروقیمت اور تعظیم میں فرق واضح ہوتا گیا۔ابن نشاطیؔ نے پھول بن میں احمد گجراتی نے مثنوی ’یوسف زلیخا‘میں عہد گذشتہ کی تہذیبی اقدار اور زوال آمارہ تمدن کی تصویریں نظرآتی ہیں۔قطب شاہی عہد میں دکنی زبان کے شعرااور ادیبوں کو وہی اعزاز عطاکیاگیا جیساکہ فارسی شعرا کو مغل دربار میں حاصل تھا۔وجہیؔ احمد گجراتی اور غواصیؔ قطب شاہی سلطنت کے ممتاز شعرا تھے۔ عبداللہ قطب شاہ خود بھی دکنی زبان کا بہترین شاعر تھا۔
قطب شاہی عہد کا آخری بادشاہ جو تاریخ میں ابوالحسن تاناشاہ کے نام سے مشہور ہے دکنی میں طبع آزمائی کرتا تھا۔اس کی دکنی نظموں کے متعدد نمونے ملتے ہیں۔دکنی شاعری کی مقبولیت اور اس کے بتدریج ارتقا کی ایک وجہ شاہی سرپرستی اور حکمرانوں کی قدر افزائی بھی رہی۔ قطب شاہی عہد ہر لحاظ سے ترقی یافتہ اور آسودہ حال تھا۔ عادل شاہی سلطنت سے ان کے اچھے مراسم تھے۔دکنی شعراکا کلام نظم یا پھر مثنویوں کی شکل میں دستیا ب ہے۔ان شعراکی تخلیقات نہ صرف یہ کہ زبان و ادب کے فروغ کا باعث رہیں بلکہ ان کے ذریعہ، تہذیب و تمدن اور تاریخ و معیشت اور مقامی لفظیات بھی محفوظ ہیں۔دکنی شعرا کے کلام کے نمونے مثال کے طور دیکھئے ؎
تو اوّل تو آخر تو قادراہے
تو مالک تو باطن تو ظاہرا ہے
تو محصی تو میلائی تو واحدی سچا
توں تو اب توں ر ب تو ماجدی سچا
(مثنوی وجہیؔ)
جوانی کے دریا کوں آیا ادھان
محمد قطب شاہ ا ب جو ا ن
رتن خاص دریائے لولاک کا
جھلک لامکاں نور افلاک کا
محمد نبی سید المرسلیں
سیدا روشن اوس تے ہے دنیاو دیں
(غواصیؔ ’طوطی نامہ‘)
میرا تھاباپ سوداگر ختن کا
نہ تھا پروااسے کچ مال و دھن کا
بڑا تھا بھوت سب سوداگرون میں
اتھامشہور سالم بندراں میں
(ابن نشاطیؔ)
اَے سروگلدان تو ذرا ٹک چمن میں آ
جیوں گل شگفتہ ہوکر میری انجمن میں آ
کیا لگ رہے گاجیوں لب تصویر بے سخن
اَے شوق خود پسند توٹک بھی سخن میں آ
(بحوالہ: بحیر محیط،خلیل اللہ شطاری)
دکنی شعرا کے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد،ان کے طرز بیان،اسلوب،افکار و خیالات اور زبان کے معیار کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔دکنی شعرانے مثنوی کے علاوہ غزل اور صنف قصیدے میں بھی طبع آزمائی کی اور تصوف کے موضوع کوبطور خاص جگہ دی۔ان کے کلام میں رزم و بزم،حزن و نشاط،شان و شوکت اور لسانی طمطراق کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں جو اردو کی شعری تاریخ میں اضافے کے متحمل قرار دیے گئے۔
اِیہام گوئی:
کلام یا شعر میں ایک ایسا لفظ استعمال لایاجائے جو ذو معنی ہو۔اس لفظ کے پہلے معنی قریب اور دوسرے معنی بعید کے یعنی دور کے لیے گئے ہوں۔قاری یا سامع کا ذہن معنی قریب کی طرف جائے لیکن شاعر کی مراد معنی بعید سے ہو۔اس کی مثال میر دردؔ کے اس شعر سے دی جا سکتی ہے ؎
بستے ہیں تیرے سایہ میں سب شیخ و برہمن
آباد تجھی سے تو ہے گھر دیر حرم کا
یہاں ’سایہ‘ کے پہلے یعنی قریبی معنی چھاؤں (Shade) اور مجازی معنی سرپرستی یعنی Guardianship کے ہیں لیکن میردردؔ اس شعر میں سایہ کے مجازی معنی سرپرستی کے لیے ہیں۔
عبدالسلام ندوی نے ’شعرالہند‘ کے حصہ دوم میں قدما(شعرا) کے دور اوّل کی امتیازی خصوصیت ابہام گوئی یعنی رعایت لفظی قراردیا ہے۔ایہام عربی زبان کا لفظ ہے۔اس صنعت میں مبہم طریقہ اظہار کو اپنایا جاتاہے۔ایہام کی ایک قسم ایہام تناسب بھی ہے۔صنعت ایہام اور ایہام تناسب کے فرق کو بحرالفصاحت میں اس طرح واضح کیا گیا ہے۔
”صنعت ایہام اور ایہام تناسب میں واضح اور بنیادی فرق یہ ہے کہ ایہام میں دونوں معنی،یعنی قریب اور بعید کا ارادہ جائز ہوتاہے لیکن ایہام تناسب میں دوسرے معنی منظور وملحوظ نہیں ہوتے۔“
ذیل میں دیے گئے اس شعر سے ایہام تناسب کی مثال دی گئی ہے ؎
مجلس کو اشک نظم سے رشک چمن کروں
مداحی حسین بوجہ حسن کروں
’حسن‘ کے معنی خوب کے ہیں لیکن ’حسین‘ سے اس کی کوئی مناسبت نہیں البتہ ’حسین‘ کے ساتھ ’حسن‘ کی مناسبت ہوسکتی ہے۔
اِیہام کا ایک پہلو ایہام تضاد بھی ہے۔کلام میں دو معنی ایسے جمع کیے جائیں جن میں باہم تضاد نہ ہو لیکن ان کے حقیقی معنی کے اعتبار سے تضاد پایاجائے،یعنی ایک معنی حقیقی اور دوسرے مجازی کے ساتھ جمع کیے کیے جائیں۔مجازی معنی کو حقیقی معنی کے ساتھ تضاد ہو۔مثلاً یہ شعر ؎
اَے اشک ڈوب مر تیری تاثیر دیکھ کر
الٹی ہنسی اڑی مری چشم پرآب کی
یہاں ’ہنسی‘کے معنی حقیقی ہیں جو چشم پرآب سے تضاد کا تعلق رکھتے ہیں لیکن یہاں یہ معنی مراد نہیں بلکہ ینسی کے مجازی،یعنی مضحکہ اڑانے کے لیے ہیں۔
یہ صنعت وہم و گمان میں ڈالتی ہے اور ذہن میں پیچیدگی پیدا کرتی ہے،یعنی یہ بھی ایک قسم کا ایہام (Ambugdity) یا تہہ داری ہے۔
صنعت ایہام کی دو قسمیں ہیں۔
۱۔ ایہام مجردہ/یا موشجہ
۲۔ ایہام غیر مشجہ /یا غیر مجردہ
معنی قریب میں ایہام موشجہ بولتے ہیں۔شعراکے یہاں ایہام پیدا کرنے کے مختلف طریقے رائج ہیں۔مثلاً دو لفظوں کو جوڑ کر ایک لفظ کے دو معنی کی طرف اشارہ کرکے،محاورے کے ذریعہ،یعنی بدل کر املاکے ذریعہ دوسرے معنی کا شائبہ پیدا کرکے، تلمیح کے استعمال سے دوسرے معنی کی طرف اشارہ کرکے، ایک ہی مصرعہ کے دونوں معنی مراد لے کر بھی۔
اردو کے شعرائے قدیم کے یہاں کہیں کہیں غیرارادی طور پر ایہام کے استعمال کے باوجود شعر میں فصاحت اور حسن پیدا ہوگیا ہے۔ایہام گو شعرا نے صنعت ایہام کی تعریف کے مطابق اس کا استعمال بہت کم کیا ہے۔شمالی ہند اور خصوصاً دہلی میں اردو شاعری کا آغاز اٹھارہویں صدی سے تصو کیا جاتاہے حسن اتفق ہے کہ اردو شاعری کے پہلے ہی دور کو ایہام گوئی کا دور قرار دے دیا گیا صنعت گری اور ایہام گوئی اس دور کے شعراکا امتیاز رہا۔ اس دور کے شعرانے صنعت گری ذریعہ نہ صرف الفاظ کی دروبست کا سلیقہ سکھایابلکہ معنی و مفاہیم کا نیا ادراک عطا کیا یہ شعرااپنی فکر اور تہذیبی رجحانات سے بے گانہ اور تنقیدی شعور سے یکسر عاری نہ تھے۔چنانچہ ایہام گوئی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں میں شاہ حاتم اور مرزا مظہر جان جاناں کے نام سامنے آتے ہیں۔
ایہام گو شعرا کے کلام کا اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو ان سبھی شعراکا معیار بلند نظر آتا ہے لیکن انہیں ایہام گو کہہ کر بدنام زیادہ کیا گیا۔ان شعرا کے کلام سے اس طرح کے اشعارکا انتخاب کیا گیا جن صنعت ایہام یا اس نوع کی کسی دوسری صنعت یا رعایت لفظی سے کام لیا گیا ہو لیکن مرصع کاری اور رعایت لفظی،ایہام،یا لفظی بازی گری کی متعدد مثالیں،اُس دور کے شعرا کے کلام میں اکثر نظر آتی ہیں۔خدائے سخن میر تقی میرؔ اس فن کو امتیاز تصور کرتے ہیں ؎
کیا جانے دل کو کھینچے ہیں کیوں شعر میرؔ کے
کچھ ایسی طرز بھی نہیں ایہام بھی نہیں
جن ایہام گو شعرا نے اس صنعت کو اپنی شاعری میں جگہ دی اور اسے فن سمجھ کر برتا،اُن میں آرزوؔ،آبروؔ،حاتمؔ،ناجیؔ، سجادؔ،مغمونؔ،احسنؔ،یکرنگؔ سعادت علی امروہوی،ثاقبؔ اور حشمتؔ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
تجھ زلف میں لٹکانہ رہے دل تو کیا کرے
بیکار ہے اٹک نہ رہے دل تو کیا کرے
(آرزوؔ)
ریختہ ناجیؔ کا ہے محکم اساس
بات میری بانی ایہام ہے
(ناجیؔ)
جان تجھ پر کچھ اعتماد نہیں
زندگانی کا کیا بھروسہ ہے
(آرزوؔ)
بادہئ غفلت کی مستی یاد آوے گی انہیں
آتش دوزخ میں جب ہوویں گے وہ شامی کباب
امیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ میں زاہد
جو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینہ اسی کا ہے
(آبروؔ)
جب سجیلے خرام کرتے ہیں
ہر طرف قتل عام کرتے ہیں
(فائزؔ)
ان دنوں سب کو ہوئی ہے صاف گوئی کی تلاش
نام کو چرچانہیں حاتم ؔ کہیں ایہام کا
(حاتمؔ)
اس صنم کی زلف میں آرام ہے
بیٹھ جا مت جا مسافر شام ہے
(مرزا مظہر جان جاناں)
چلا کشتی میں آگے سے جو وہ محبوب جاتا ہے
کبھی نکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتاہے
(مغمونؔ)
جدائی سے تری اَے صندلی رنگ
مجھے یہ زندگانی دردِ سر ہے
(یکرنگؔ)
ایہام کی مثال کا یہ مشہور شعر ہے ؎
ارم نستعلیق کا ہے اس بت خوشخط کی زلف
ہم تو کافر ہیں اگر بندے نہ ہوں اس لام کے
(احسنؔ)
ایہام گوئی اٹھارہویں صدی کے شعرا کے یہاں ایک مستقل فن تھا لیکن وقت کے ساتھ اس فن کا رواج کم ہوتا گیا اور بعد کے شعرا نے اس سے اجتناب کیا لیکن چند ایہام گو شعرا کی یہ فن شناخت بن گیا مثلاً آبروؔ، ناجیؔ اور شاہ حاتمؔ کو اس فن میں اوّلیت حاصل رہی۔چند اشعار مثال کے طور پر نقل کیے گئے ہیں ؎
آبروؔ شعر ہے ترا اعجاز
جو ولی کا سخن کرامت ہے
(ابروؔ)
گرچہ ایہام کا ہم کو ہے سلیقہ ناجیؔ
بات اچھی نہ ملے خوب سخن گوئی تو ہو
(ناجیؔ)
ہماری گفتگو سب سے جدا ہے
ہمارے سب سخن ہیں بانکپن کے
(حاتمؔ)
محمد حسین آزادؔ کا خیال ہے کہ سنسکرت میں ایک لفظ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔اس طرح برج اور اس کی شاخ میں ذومعنی الفاظ اور ایہام پر دوہوں کی بنیاد ہوتی ہے،اردو میں شعر کی بنیاد اسی اساس پر رکھی گئی ہے۔
شعرمیں ایہام کا التزام غیر فطری تصنع اور تکلف سے پر نظر آتا ہے۔ایہام گوئی کی مثال ایک ایسے خوبصورت اور دلنشیں،مصنوعی پھول سے دی جا سکتی ہے جس میں نہ خوشبو ہے اور نہ رنگت میں دلکشی۔جن شعرا نے اس طرز کو اپنایا،ان میں شاہ حاتمؔ،شاہ مبارکؔ،آبروؔ، یکرنگؔ،شاکر ناجیؔ اور مغمومؔ کے لیے جاسکتے ہیں۔یہ غیر فطری عمل تھا جس کے اثرات دیرپا ثابت نہ ہوئے۔حاتمؔ نے اس طرز کو ترک کردیا،سوداؔ نے نے بھی دو ایک غزلیں کہیں۔اس غیر فطری طرز سخن کی اصلاح کی طرف سب سے پہلے حاتمؔ نے پہل کی۔
عہد میرؔؔؔؔ و سوداؔؔ
میرؔ اور ان کے نمائندہ معاصرین
(سوداؔ،خواجہ میر دردؔ اور مرزا مظہر جان جاناں)
مت سہل ہمیں جانوپھرتا ہے فلک برسوں
تب جاکے پردے سے انساں نکلتے ہیں
میرؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔انھوں نے چھ دیوان پر مشتمل کلیات میر اپنی یاد گار چھوڑی۔علاوہ ازیں فارسی زبان میں شعرائے اردو کا تذکرہ ’نکات الشعرا‘ اور خود نوشت سوانح عمری،ذکر میرؔ ایک رسالہ ’فیض میرؔ‘ فارسی نثر پر ان کی اہم تصانیف ہیں۔فارسی غزلیات کا ایک مکمل دیوان بھی دستیاب ہے۔غزل کے علاوہ قصیدہ،مثنوی،مرثیہ اور صنف رباعی میں بھی طبع آزمائی کی لیکن میرؔ کے بہتر نشتر یعنی بہتر اشعار بہت مشہور ہوئے۔
اردو غزل کے اساتذہ نے انہیں خدائے سخن تسلیم کیا اور ان سے عقیدت کا اظہار اپنے اشعار میں کیا۔غالبؔ،میرؔ کی استادانہ عظمت اور فن کارانہ صلاحیت کا اعتراف اس طرح کرتے ہیں ؎
ریختے کے تمہیں ہی اُستاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
٭
میرؔ کے شعر کی کیا بات کہوں غالبؔ
جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
غالبؔ اپنایہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
ابراہیم ذوقؔ میرؔکے کلام فن کو اس طرح سراہتے ہیں ؎
مذکوہ اشعار سے۔
میرؔ آگرہ میں پیدا ہوئے،داد فوج میں ملازم تھے۔والد علی متقی صوفی منش انسان تھے اور میر کو عشق کرنے کی تلقین کرتے تھے۔والد کے انتقال کے بعد روزگار کی تلاش میں آگرہ سے دہلی آگئے اور صحصام الدولہ کے دربار سے ان کا روزینہ مقرر ہوگیا،کچھ دنوں بعد صحصام الدولہ کا انتقال ہوگیا اور وہ آگرہ واپس چلے گئے لیکن آگرہ میں روزی روٹی کا انتظام نہ ہوسکا اور دوبارہ دہلی کا رخ کیا اور خان آرزو کے یہاں قیام کیا۔آرزو سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا اور اپنی فارسی دانی کو صیقل کیا لیکن خان آرزو نے کچھ عرصہ بعد میرؔ سے آنکھیں پھیرلیں،میرؔ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔کچھ عرصہ بعد دیوانگی دور ہوئی تو روزگار تلاش کیا۔رعایت خاں اور پھر امیر جاوید خاں کے ملازم ہوگئے۔میر سعادت امروہوی کے مشورے سے شعر کہنے لگے تھے۔خان آرزو کی توجہ سے ان کی فن شعر گوئی اور بھی صیقل ہوگئی اور وہ محد تقی سے میرؔ ہوگئے۔اپنی خود نوشت ’ذکرمیرؔ‘میں انھوں نے اپنے والد کے حالات مفصل بیان نہیں کیے البتہ صرف اتنا تحریر کیا ہے کہ لوگ ان کے والد کو علی متقی کہہ کر پکارتے تھے۔سراج الدین علی خاں جو میرؔ کے ماموتھے،انھوں نے فارسی میں ’چراغ ہدایت‘ کے نام سے ایک جامع لغت بھی تیار کی تھی۔
یہ وہی زمانہ تھاجب ہندوستان پر نادرشاہ نے حملہ کیا اور وہ آٹھ مغل بادشاہون کے جمع کیے ہوئے خزانے لوٹ کر لے گیا۔
میرؔ نے نوے سال کی عمر پائی۔مغلیہ سلطنت کے زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا میر ؔ اور سوداؔ کے عہد میں فارسی حکمرانوں کی زبان تھی اور اس زبان کا دائرہ خواص تک محدود تھا۔عوام کی زبان گلی کوچوں میں استعمال ہوتی تھی۔عوامی زبان کا اظہار نظیرؔاکبرآبادی کے کلام میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔میرؔ کے زمانے میں ریختہ گوئی اور عوامی زبان میں شعر کہنے کا رواج ہوا۔بعد ازاں اردو شعرا رعایت لفظی اور ایہام گوئی کو اپنی نی امتیاز تصورکرتے تھے لیکن میرؔ نے ایہام گوئی سے ہٹ کر اپنا ایک مخصوص طرزاختیار کیا جسے وہ انداز کہتے تھے۔وہ ایہام گوئی کو اشعار میں کم تر تصور کرتے تھے۔
دہلی کے اجڑ پر میرؔ لکھنو چلے گئے اور آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے اور عمر کے آخری اکتیس برس لکھنومیں گذارے،وہیں 1810 میں وفات پائی۔میرؔ کی قبر ریلوے لائن کے قریب مسمار کردی گئی۔
میرؔ کو خدائے سخن کا رتبہ حاصل ہے۔میرؔ کی شاعری آپ بیتی ہوتے ہوئے بھی جگ بیتی نظر آتی ہے۔میرؔ کبھی خود سے، کبھی ماحول سے اور کبھی حالات سے مخاطب ہوتے ہیں۔میرؔ نے اپنے درد و غم،رنج و الم اور ذاتی زندگی کے حالات و کوائف کو عوام کی زبان میں اپنی شاعری اور خصوصاً غزل کے ذریعے پیش کیا۔ان کے یہاں لہجہ میں ملائمت،استعارات، تشبیہیں اور خود کلامی کا احساس ہوتا ہے۔’مزہ‘ لفظ کو میرؔ نے بار بار دہرایا ہے۔لفظی رعایت،تشبیہوں کی ندرت لہجہ میں پاکیزگی میرؔ کا امتیاز ہے۔میرؔ کے کلام اور فن کا بھرپور اظہار ان کے اس شعر سے ہوتاہے ؎
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم بادوباراں ہے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
میرؔ کی بحروں میں RITHM ہے۔وہ لفظوں کی نشست سے آشنا ہے اور لفظوں کا مصور ہے ؎
گیا تھا اس کی گلی میں سو پھر نہ پلٹا میرؔ
میں میرؔ میرؔ اس کو بہت پکار رہا
میرؔ قوت مشاہدہ سے شعر میں غیر معمولی فضاپیدا کرلیتے ہیں۔
ہے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کا کارگرشیشہ گری کا
میرؔ کے فن کمال نے اردو شاعروں کے افق کو بلندی عطا کی۔
مرگیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس
مرزا مظہرجان جاناں:
اورنگ زیب کی وفات کے بعد معظم یعنی شاہ عالم بہادر شاہ کے لقب سے تخت نشیں ہوا پانچ برس کے بعد وفات ہوگئی پھر جنگ و قتال کے بعد بہادر شاہ کے بڑے بیٹے کو کامیابی حاصل ہوئی اور معز الدین جہاندار کے لقب سے تخت نشیں ہوا۔ایک ادنیٰ درجہ کی عورت لال کنور اس کی زندگی میں داخل ہوگئی،اسے امتیاز محل کا خطاب دیا اور دو کروڑ روپے سالانہ خرچ اور لال کنور کے نام کا سکہ جاری ہوا۔جہاندار شاہ کے بھتیجے فرخ سیر نے حکومت کی بد نظمی کے مد نظر مسادات بارہہ کی مدد سے حملہ کیا اور فتح یاب ہوا اور جہاندار شاہ کو قتل کردیا گیا لیکن حکمرانی مسادات بارہہ کی رہی وہ بھی عیش پرست اور عمدہ لباس اور گھوڑوں کا شوقین تھا۔اس زمانے میں قحط پڑا،داروغہ اصطبل نے غلہ کی گرانی کی شکایت کی۔اس نے حکم دیا کہ فی گھوڑاایک اشرفی یومیہ خرچ کرو،اس کے گھوڑے دانہ کھاتے رہے اور عوام فاقہ کرتے رہے۔لوگوں نے اسے بادشاہ دانہ کش کا لقب دیا۔
مرہٹوں اور سکھوں کے حملوں نے دلّی کو تباہ و برباد کردیا۔محمد شاہ سلطنت کا وارث تھا محمد شاہ کے بعد احمد شاہ تخت نشیں ہوا،وہ بھی عیش و طرب میں مبتلاتھااور اپنے شاہی اختیارات جاوید خاں،ایک جاہل شخص کو دے دیے۔جاوید خاں نے محمد شاہ کے لیے عورتوں سے حرم بھردیا لیکن آخری دنوں میں حکومت کے معاملات میں دلچسپی لینے لگا۔
مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں کے حملوں،اِدھر انگریزوں کی آمد،اُدھر نادر شاہ کے جاں نشین احمد شاہ ابدالی نے بائیس برس میں نوں بار حملے کیے اور بہت سامان و متاع ہندوستان سے لے گیا۔
شاہ عالم ثانی آخری بادشاہ تھے جن کا تعلق مرزا مظہر کے دور زندگی سے رہا اگرچہ شہر میں خطبہ بھی اسی کے نام سے پڑھاجاتا تھا اور سکّے پر شعر بھی اسی کے نام سے کندہ تھے۔
سلطنت کے حالات بد سے بد تر ہوتے گئے،مرہٹوں،جاٹوں،روہلوں شاہ عالم ثانی کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔شاہ عالم کا وزیر عمادالملک اس کا دشمن تھا۔
مرزا مظہر جان جاناں کے دور میں سماجی زبوں حالی کو رانہئ تقلید،شرک اور بدعت کی وجہ سے ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ اسے سماجی پرآشوب دور میں شاہ ولی اللہ نے اصلاحی تحریک کا آغاز کیا ان کی اصلاحی تحریکوں یعنی ان کوششوں میں علمائے فرنگی محلی کا بھی اہم رول رہا۔بعض مشائخ صوفیہ نے بھی حصہ لیا۔شاہ صاحب کی اصلاحی کی کوششوں میں مرزامظہر جان جاناں نے بھی حصہ لیا اور مفید مشوروں سے انہیں وقتاً فوقتاً،مستفیض کرتے رہے۔
تقریباً تیس برس تک مشائخ نقشبندیہ و مجددیہ سے کسب فیض کرنے کے بعد مرزا صاحب خود صاحب کمال ہوگئے تھے۔ان کے مریدوں کا طویل سلسلہ تھا۔عین شباب کے زمانے میں دنیا سے کنارہ کش ہوگئے۔میرتقی میرؔ مرزا صاحب کے ہم عصر تھے۔انہیں نیاز بھی حاصل تھا۔نکات الشعراکو تحریر کرتے وقت مرزا صاحب کو اشعار کہنے سننے سے دلچسپی باقی نہیں رہ گئی تھی اور ان کا اکثر وقت یاد الٰہی میں گزرتا تھا۔
مرزا صاحب کے شعر پڑھے کا انداز بہت دلکش تھا۔مرزا صاحب نے تقریباً بیاسی برس کی عمر پائی،ان کی شادی کی تفصیلات نہیں ملتیں،غالباً انھوں نے ساٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر میں شادی کی ہوگی،ان کی بیوی نہایت بد مزاج اور کج خلق واقع ہوئی تھیں۔
مرزا مظہر ایک بلند پایہ و اعلیٰ مرتبہ صوفی اور تغز گو شاعر تھے۔ وہ ایک دقیقہ رس سخن سنج و نکتہ شناس استاد بھی تھے۔ان کے تلامذہ کی فہرست اگرچہ طویل نہیں ہے بایں ہمہ ان میں صاحب کمال فن اور نغز گو شعرا کی تعداد موجود ہے۔
مصحفیؔ،مرزا صاحب کے معاصرین میں سے تھے۔انہیں امراو نوابین اور عوام الناس بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔مرزا صاحب نے کبھی کسی امیر کا تحفہ قبول نہیں کیا،ان کی طبیعت میں بڑا توکل و استغنا تھا۔وہ تا عمر کرائے کے مکان میں رہے لیکن انہیں غریبوں سے بڑی قربت تھی۔مرزاعلی لطف نے لکھاہے کہ وہ نظم و نثر اور ریختہ میں خوش بیان تھے۔ مرزا صاحب کی تصنیف میں۔
(۱) دیوان مظہر (فارسی دیوان)
(۲) خطبہ جواہر(فارسی شعرا کے کلام کا انتخاب)
(۳) رقعات کرامت سعادت (خطوط کا مجموعہ)
(۴) کلمات طیبات (مرزا کے فارسی مکاتیب)
(۵) مکاتیب مرزا(147خطوط)
(۶) اردو اشعار (مختلف تذکروں اور دیباچوں سے اشعار یکجا کیے ہیں)
مرزا صاحب کی شاعری عشقیہ مضامین کی بنیاد اخلاقی اور حکیمانہ دانشوری پر ہے۔اس کی اساس و قلبی واردات اور کیفیات عشو پر ہے۔مرزا صاحب کافارسی کلام نسبتاً اردو کلام سے زیادہ ہے۔فارسی میں انھوں نے مختصر مثنویاں بھی کہی ہی۔مرزا صاحب نے بیس ہزار فارسی اشعار کہے تھے۔لیکن صرف ایک ہزار اشعار کا انتخاب کیا۔
مرزاصاحب کا دور اردو شاعری کے اصلاح کا دور کہلاتاہے۔اس زمانے میں صنعت ایہام کا رواج بہت زیادہ تھا۔شاعری لفظوں کا کھیل بن گئی تھی۔مرزاصاحب صنعت ایہام کو ترک کیا اور اصاح کا خیال اور سادگی بیان کا تصور پیدا ہوا۔مرزاصاحب نے سادگی،سلاست پر توتوجہ کی اور ثقیل و بوجھل الفاظ سے زبان کو پاک کرنے کی کوشش کی۔مرزا صاحب کے ترک ایہام کے بعد کہے گئے اشعار ہیں۔مرزا صاحب کے کلام میں داخلیت،واردات و کیفیات عشق کے اظہارکی فراوانی، وہ حسن کی ادا کے رمزشناس تھے۔چند اشعار مثال کے طور پر ؎
یہ دل کب عشق کے قابل رہاہے
کہاں اس کو دماغ و د ل رہاہے
٭
اگر ملیے تو خفت ہے وگردوری قیامت ہے
غرض نازک دماغوں کو محبت سخت آفت ہے
ان کے یہاں سوزو گداز،متصوفانہ تڑپ ہے لیکن مرثیہ کا رنگ اختیار نہیں کیا اور غزل کی حشرسامانیاں نظرآتی ہیں۔
اتنی فرصت دے کہ رخصت ہولیں اَے صیاد ہم
مدتوں اس باغ کے سایہ میں تھے آباد ہم
٭
کبھی اس دل نے آزادی نہ جانی
یہ بلبل تھا قفس کا آشیانی
مرزا صاحب صوفی منش انسان تھے۔تمام عمر رشد وہدایت بایں ہمہ ان کے کلام میں زہد کی خشکی اور صوفیت نہیں ہے بلکہ تغزل کی رنگینی اور رعنائی موجود ہے ؎
لوگ کہتے ہیں مرگیا مظہر
فی الحقیقت میں گھر گیا مظہرؔ
٭
رسوااگر نہ کرنا تھا عالم میں یوں مجھے
ایسی نگاہ ناز سے دیکھاتھا کیوں مجھے
مرزا صاحب کا اسلوب،سادہ شگفتہ اور دلکش ہے۔زبان میں سلاست،روانی اور پر تاثر ہے ؎
آتش کہو شرارہ کہو کوئلہ کہو
مت اس ستارہ سوختہ کو دل کہا کرو
اشااللہ خاں انشانے دریائے لطافت میں اپنی اور مرزا صاحب کی ملاقات کا تذکرہ کیا ہے۔مرزا مظہر جان جاناں مزاجاً درویش صفت واقع ہوئے تھے۔فقیری اور قلندری ان کی طبیعت کا خاصہ تھی۔فقیری کی ترتیب اس طرح ہے کہ(ف) سے فاقہ(ق) سے قناعت (ی) سے یاد الٰہی اور(ر) ریاضت مراد ہے۔مرزا صاحب نے عہد مغلیہ کا زوال دیکھا،شاہ عالم ثانی کے عہد میں ان کی فارسی اور اردو شاعری پروان چڑھی۔
تلامذہ اور مریدین کا حلقہ خاصہ وسیع تھا۔ان میں بیشتر اہل قلم اور صاحب بصیرت تھے بنیادی طور پر فارسی کے شاعر تھے۔اردو کلام بھی متصوفانہ اور رشدوہدایت پر مبنی ہے۔ زبان کی اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔مرزاصاحب کی نثر میں مکاتیب قابل ذکر ہیں۔معاصرین میں انشاؔ
مصحفیؔ،سوداؔاور علماء کے نام اہم ہیں۔
عمرکے آخری حصہ میں شاعری سے بے نیازی محسوس ہوتی ہے۔دنیا و مافیہاسے بے نیازی بایں ہمہ مرزامظہر جان جاناں کی زندگی دنیاوی اور دینوی زندگی کے معاملات کا حسین امتزاج تصور کی جاسکتی ہے۔وہ ایک صوفی منش ہونے کے ساتھ عظیم تخلیق کار اور صاحب بصیرت دانشور تھے۔مرزا مظہر کی شاعری کی تفہیم اور احتساب کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
<<
Prof. Zia ul Rehman Siddiqui
Dept. of Urdu (AMU)
Aligarh Muslim University
ALIGARH.
Mobile No. 07018979058