پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی
پی ایچ ڈی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
ڈی لٹ (رجسٹرڈ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ
اکیڈمک سکریٹری، شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
اے ایم یو پراجیکٹ کو آرڈ نیٹر نیشنل ریسورس سینٹر، سویم،یو جی سیSWAYAM) (،منسٹری آف ایجوکیشن،
حکومت ہند، نئی دہلی۔

پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی نے اپنے تدریسی سفر کا آغاز جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبہ اردو کے استاد کی حیثیت سے کیا۔وہ یونین پبلک سروس کمیشن (شاہ جہان روڈ نئی دہلی) کے ذریعے منتخب ہوئے اور پرنسپل کی حیثیت سے فرائض انجام دئیے۔سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز حکومت ہندسولن ہماچل پردیش میں بحیثیت پروفیسر اور ڈپٹی دائریکٹر کی کی حیثیت سے کام کیا۔
پروفیسر ضیاالرحمن صدیقی نے سرسید پوسٹ گریجویٹ کالج اورنگ آباد کے پرنسپل اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے بحیثیت انچارج پرنسپل نارتھ ایسٹرن ریجنل لینگویج سینٹر گوہاٹی،ویسٹرن ریجنل لینگویج سینٹر بھوبھنیشور،این آر ایل سی پٹیالہ اور لینگویج سینٹر(امریکن سینٹر)پونے میں بھی اپنی خدمات انجام دیں ہیں۔
پروفیسر صدیقی نے کئی معتبر سنٹرل یونیورسٹیز جیسے دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ،اگنو دہلی،یو جی سی فیلو دہلی یونیورسٹی، پوسٹ ڈاکٹرل فیلو آئی سی ایچ آر نئی دہلی میں بہ حیثیت فیکلٹی ممبرکام کیا۔علاوہ ازیں راج بھون شملہ ہماچل کے گورنر کے مترجم کی حیثیت سے بھی خدمات پیش کیں۔پروفیسر صدیقی کو سینٹر آف پروفیشنل ڈیولپمنٹ برائے ان سروس اردو ٹیچر (اردو اکادمی)اے ایم یو علی گڑھ کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی منتخب کیا گیا۔آج کل موصوف شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر کے منصب پر فائز ہیں اور ہندوستان کی مختلف تدریسی کمیٹیوں میں بھی شامل ہیں۔موصوف گزشتہ تین دہائیوں سے تدریس اور تحقیق میں مصروف ہیں۔انہوں نے تحقیق، تنقید، ترجمہ، لسانیات کے طریقہ کار اور تدریس وغیرہ پر بیس کتابیں لکھی ہیں۔ان کی بیش تر کتابیں ساہتہ اکادمی نئی دہلی، نیشنل بک ٹرسٹ نئی دہلی، ایں سی پی یو نئی دہلی،مکتبہ جامعہ نئی دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہوچکی ہیں۔ ایک سو پچاس تحقیقی مقالے لکھے ہیں جو ہندوستان اور بیرون ملک کے مختلف مقتدر جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔
پروفیسر صدیقی کی کتاب ” تحریک آزادی اور اردو نثر“ پر جموں یونیورسٹی نے ایم فل کی ڈگری کے کیے تفویض کی ہے۔انہوں نے متعدد انگریزی کتابوں کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ ملک کی کئی ممتاز جامعات اور این سی ای آرٹی نئی دہلی میں نصاب کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔انہوں نے انگریزی میں بھی ایک کتاب ”FREEDOM MOVEMENT AND URDU PROSE”کے نام سے لکھی ہے۔ ہندی زبان میں بھی ان کے کئی مضامین شائع ہوئے ہیں۔رسکن باونڈ کی مختصر کہانیوں کی ان کی اردو میں ترجمہ شدہ کتاب“دون کا سبزہ”ساہتیہ اکادمی نئی دہلی نے شائع کی۔ ان کی کتابوں کا مکمل سیٹ ریختہ اور اے ایم یو کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
پروفیسر ضیاالرحمن صدیقی نے پنتالیس تدریسی پروگرامز جیسے ٹیچرس ٹریننگ پروگرامز اورینٹیشن اور ریفریشر کورس، نیشنل انٹی گریشن کیمپس، لینگویج اینوائرنمنٹٹورز، نیشنل کانفرنسیز اور کا انعقاد ملک کے مختلف حصوں میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجر۔وزارت تعلیم حکومت ہند کے تحت منعقد کر چکے ہیں۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کانفرنسز اور ورکشاپ وغیرہ میں شرکت کی ہے اور تحقیق مقالے بھی پیش کیے ہیں۔ وہ ہندوستان اور بیرون ملک اعزازی ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر، جوائنٹ ایڈیٹر،ایڈیٹوریل بورڈ اور ایڈوائزری بورڈ اور کمیٹیوں کے ممبر بھی ہیں فکر و نظر، دانش اے ایم یو، ورثہ نیویارک،اعتراف اورنگ آباد ،توثیق،جدید فکر و فن شملہ،تکمیل نئی دہلی کی ذمہ داری قبول کی۔
پروفیسر صدیقی کئی بورڈ آف اسٹیڈیز کے ممبر بھی ہیں۔انہوں نے کئی توسیعی خطبے اور کلیدی خطبے دے چکے ہیں۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی سمینار اور کانفرنسیز کی بھی صدارت کی ہے۔ ان کا سوشل میڈیا سوئم پورٹل اے ایم یو کے لیے تعاون قابل ذکر ہے۔انہوں نے شعبہ اردو میں ریکارڈنگ روم قائم کیا۔انہوں نے اردو ٹیچرس کے لیے باون ویڈیو ریکارڈنگز تیار کیں۔علاوہ ازیں دو آن لائن ریفریشر کورس بھی کروائے ہیں۔
پروفیسرضیاالرحمن صدیقی نے انفرادی طور پر یو جی اور پی جی کے طلبہ بطور خاص نابینا افراد کی نصابی ضرورتوں کے لیے کوووڈ۹۱ کے دوران پچاسی نصابی آڈیو ریکارڈنگ تیار کیں جو مولانا آزاد لائبریری اے ایم یو کے بریل سیکشن میں دستیاب ہیں۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے وائس چانسلر نے بھی کورس کے مواد کے بطور منظوری دی ہے اور آئی ایم سی، یونی ورسٹی ویب سائٹ اور یوٹیوب اور انسٹاگرام وغیرہ اپ لوڈ کی گئی ہیں۔انہوں نے یہ ریکارڈنگ کسی بھی مالی فائدے کے بغیر یونیورسٹی طلبہ کے لیے دستیاب کروائی ہیں۔ان کا نام خواجہ معین الدین چشتی اردو یونیورسٹی لکھنو کے وائس چانسلر کے پینل میں گورنر اترپردیش نے شامل کیا۔۔یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص نامور عالم، ممتاز محقق، نقاد اور تخلیق کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا تعلیمی اور تدریسی منتظم بھی ہو۔
علاوہ ازیں انہیں تاجکستان یونیورسٹی میں اے ایم یو کے وائس چانسلر نے وزٹینگ پروفیسر کے لیے نامزد کیا تھا۔لیکن اپنی بعض نجی مصروفیات کی وجہ ا سے قبول نہیں کیا۔اردو میں ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے بارہ ریسرچ اسکالرس رجسٹرڈ ہیں۔معدودے چند کو پی ایچ ڈی ڈگری ایوارڈہو چکی ہے۔تین کتابیں ان کے شخصیت اورخدمات پر شائع ہوچکی ہیں۔ان کی ایک ایم تصنیف ڈاکٹر ارشد اقبال نے تصینف کی ہے اس میں پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی کی تقریبا دو درجن کتابوں پرتجزیے پیش کیے ہیں۔تدریس کے علاوہ تحقیق وتنقیدکے موضوع پر موصوف کی کتابیں اورعلمی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کتابوں کی فہرست ذیل میں دی گئی ہیں۔
پروفیسر ضیا ء الرحمن صدیقی کی تصانیف و تالیفات

۔اردو ادب کی تاریخ
۔تحریک آزادی اور اردو نثر
۔ اسالیب فکر
۔ معروضات
۔ شہیدان جنگ آزادی
۔ جوش کی تیر نظمیں
۔ تحریک آزادی اور اردو صحافت
۔ اقبال سہیل کافن
۔ فاصلاتی نظام تعلیم
۔ آسان اردو گرامر
۔ جدیدار دوریڈر
۔ اردو ہندی ڈکشنری
۔ بنگالی کہانیاں (ترجمہ)
۔ دون کا سبزہ (رسکن بونڈ کی انگریزی کہانیوں کا اردو تر جمہ)
۔ ہیونگ سانگ کا سفر ہندوستان (ترجمہ)
۔ جنم دن (ترجمہ)
۔ شہباز امروہوی: فن اور شخصیت
۔ Freedom Movement and Urdu Prose(Under Print)
۔ ارمغان تحقیق
۔ دہلی کے ارد و ادارے

جہانگیر حسن
مطالعات عالیہ شعبہء اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ