نظم ایک ادبی صنف
نظم کی مختلف اقسام
نظم ایک ادبی صنف ہے جو اشعار یا مصرعوں کی ترتیب ہوتی ہے، جس میں خیالات، جذبات یا موضوعات کو خاص انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ نظم میں لفظوں کے انتخاب، ترتیب، بحر، قافیہ اور وزن کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ اکثر ایک مخصوص بحر یا قافیہ بندی کے ساتھ لکھی جاتی ہے اور اس کا مقصد کسی خاص موضوع یا احساس کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ نظم میں شاعر کے ذاتی خیالات اور احساسات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ایک خوبصورت یا اثر انگیز انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ نظم کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جیسے غزل، قصیدہ، رباعی، اور آزاد نظم وغیرہ۔
نظم کی مختلف اقسام میں سے کچھ اہم اقسام درج ذیل ہیں:
غزل: غزل ایک اہم اور مقبول قسم کی نظم ہے، جس میں ہر شعر کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور یہ عموماً محبت، جدائی، درد، اور دیگر جذبات کو بیان کرتی ہے۔ غزل میں قافیہ اور وزن کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
قصیدہ: قصیدہ ایک طویل نظم ہوتی ہے جو کسی شخص، مقام یا کسی خاص موضوع کی تعریف یا مدح میں لکھی جاتی ہے۔ قصیدہ میں اشعار کا سلسلہ ایک خاص موضوع پر مرکوز ہوتا ہے اور اس میں مدح و ستائش کا پہلو غالب ہوتا ہے۔
رباعی: رباعی ایک چھوٹی نظم ہوتی ہے جس میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔ اس میں بھی قافیہ اور وزن کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے، اور یہ عموماً فلسفیانہ یا عشقیہ موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔
آزاد نظم: آزاد نظم میں کسی خاص وزن یا قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔ اس میں شاعر کو مکمل آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور جذبات کو کسی بھی انداز میں پیش کرے۔ آزاد نظم میں تخلیقی اظہار کی آزادی ہوتی ہے۔
نظم میں اظہار کی شدت اور شاعری کے مختلف رنگ شامل ہوتے ہیں، جو اس کو پڑھنے والوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ نظم کا مقصد صرف الفاظ کا خوبصورت استعمال نہیں، بلکہ ایک خاص پیغام یا احساس کو دلوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔
نظم ایک ادبی صنف ہے جو اشعار یا مصرعوں کی ترتیب ہوتی ہے، جس میں خیالات، جذبات یا موضوعات کو خاص انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ نظم میں لفظوں کے انتخاب، ترتیب، بحر، قافیہ اور وزن کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ اکثر ایک مخصوص بحر یا قافیہ بندی کے ساتھ لکھی جاتی ہے اور اس کا مقصد کسی خاص موضوع یا احساس کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ نظم میں شاعر کے ذاتی خیالات اور احساسات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ایک خوبصورت یا اثر انگیز انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ نظم کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جیسے غزل، قصیدہ، رباعی، اور آزاد نظم وغیرہ۔
اور اصناف شاعری یعنی (نظم) میں جتنے بھی ہیں حمد، نظم، غزل، مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، رباعی، مخمس، مسدس، مثمن، قطعہ، نعت، یہ سب صرف گیت، دوہوں، اور سانٹوکوچھوڑ کر سب عربی فارسی سے مستعار ہیں
نظم کی مختلف اقسام میں سے کچھ اہم اقسام درج ذیل ہیں
غزل: غزل ایک اہم اور مقبول قسم کی نظم ہے، جس میں ہر شعر کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور یہ عموماً محبت، جدائی، درد، اور دیگر جذبات کو بیان کرتی ہے۔ غزل میں قافیہ اور وزن کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
قصیدہ: قصیدہ ایک طویل نظم ہوتی ہے جو کسی شخص، مقام یا کسی خاص موضوع کی تعریف یا مدح میں لکھی جاتی ہے۔ قصیدہ میں اشعار کا سلسلہ ایک خاص موضوع پر مرکوز ہوتا ہے اور اس میں مدح و ستائش کا پہلو غالب ہوتا ہے۔
رباعی: رباعی ایک چھوٹی نظم ہوتی ہے جس میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔ اس میں بھی قافیہ اور وزن کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے، اور یہ عموماً فلسفیانہ یا عشقیہ موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔
آزاد نظم: آزاد نظم میں کسی خاص وزن یا قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔ اس میں شاعر کو مکمل آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور جذبات کو کسی بھی انداز میں پیش کرے۔ آزاد نظم میں تخلیقی اظہار کی آزادی ہوتی ہے۔
نظم میں اظہار کی شدت اور شاعری کے مختلف رنگ شامل ہوتے ہیں، جو اس کو پڑھنے والوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ نظم کا مقصد صرف الفاظ کا خوبصورت استعمال نہیں، بلکہ ایک خاص پیغام یا احساس کو دلوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔
نظم کا فن شاعری کی ایک اعلیٰ شکل ہے، جس میں شاعر کے خیالات، جذبات اور تجربات کو نہ صرف لفظوں کے ذریعے، بلکہ ان کی ترتیب، آواز، اور rhythm کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ نظم کی تخلیق میں شاعر کے ذاتی تجربات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی ہوتی ہے، اور اس میں اس کے تخلیقی دماغ کی جھلک ملتی ہے۔
نظم کی اثر انگیزی اور گہرائی میں اضافہ کرنے کے لیے کچھ اہم تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں:
تصویری زبان (Imagery): نظم میں اشعار کے ذریعے خیالات اور مناظر کی تخلیق کی جاتی ہے تاکہ پڑھنے والا ان تصاویر کو ذہن میں تصور کر سکے۔ اس میں رنگوں، آوازوں، خوشبوؤں، ذائقوں اور محسوسات کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قاری یا سامع اپنے ذہن میں ایک مکمل منظر یا احساس کا عکس بنا سکے۔
استعارہ اور تشبیہات: استعارہ (Metaphor) اور تشبیہات (Simile) نظم میں معنی کی گہرائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تکنیک شاعر کو کسی چیز یا خیال کو زیادہ مؤثر اور مخصوص انداز میں پیش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
تکرار (Repetition): تکرار نظم میں مخصوص الفاظ یا جملوں کا بار بار استعمال ایک خاص اثر پیدا کرتا ہے۔ یہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے جو شاعر کہنا چاہتا ہے اور اس کی شدت یا اہمیت کو بڑھاتا ہے۔
موسیقی اور بحر: نظم کی لحن اور بحر کی اہمیت ہے۔ شاعری میں وزن، قافیہ اور لحن کا استعمال اس کی موسیقی کو بڑھاتا ہے، جو قاری یا سامع کو ایک خوشگوار اور اثر انگیز تجربہ فراہم کرتا ہے۔
علامت (Symbolism): نظم میں علامتوں کا استعمال بھی عام ہوتا ہے، جہاں ایک لفظ یا جملہ کسی بڑی یا گہری حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ علامتیں یا تو قدرتی اشیاء، خیالات یا جذبات کی صورت میں ہو سکتی ہیں جو نظم کے پیغام کو مزید گہرا اور پیچیدہ بناتی ہیں۔
مفہوم اور پیغام: نظم کا مقصد نہ صرف جمالیاتی اور تخلیقی اظہار ہوتا ہے، بلکہ اس کا پیغام بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ایک اچھی نظم اپنے قاری کو ایک خاص پیغام دینے کی کوشش کرتی ہے، جو زندگی کے مختلف پہلوؤں جیسے محبت، غم، درد، خوشی، یا انسانی تجربات سے متعلق ہو سکتا ہے۔
ان تمام صنف میں سب سے مشہور صنف غزل ہے، جسے ہر خاص و عام نے قبول کیا اور سراہا ہے مگر اردو شاعری کی سب سے وسیع قسم اردو نظم ہے۔ اردو نظم میں بہت زیادہ تجربے کیے گئے ہیں اور یہی اس کی وسعت کی دلیل ہے۔ نظیر اکبر آبادی، الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی اور اقبال، جوش ملیح آبادی، مولانا انعاؔم تھانوی، ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، ن م راشد، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی، جون ایلیا نظم کے بڑے شاعروں میں سے ہیں۔ اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران میں انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی، جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔
نثری نظم کے حوالے سے میراجی، ن م راشد سے ہوتے ہوئے احمد ہمیش سے ہوتے ہوئے جواز جعفری تک سلسلہ آتا ہے؛ لیکن ایک اور بات …! اس سارے سلسلے میں ڈاکٹر وحید احمد آج بھی نمایاں ہیں۔
موجودہ دور میں بھی نثری نظم کے بہت سے شاعر موجود ہیں۔جن میں ایک نام منصف ہاشمی کا بھی ہے۔ اس کی اس حوالے سے پہلی کتاب کا نام “مٹھی میں ستارے لیے” اور دوسری کتاب “عشق” کے نام سے منظر عام پر آئیں. منصف ہاشمی پر ایک ایم فل کا مقالہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی طرف سے لکھا جاچکا ہے اور تیسری کتاب “ایلاف وفا” کے نام سے جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔
نظم شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جو کسی ایک عنوان کے تحت کسی ایک موضوع پر لکھی جاتی ہے۔ نظم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بحر اور قافیہ سے پابند بھی ہوتی ہے اور ان قیود سے آزاد بھی۔ اس میں مضامین کی وسعت ہوتی ہے۔ نظم زندگی کے کسی بھی موضوع پر کہی جا سکتی ہے-
ارتقاء
اردو نظم کی ابتدائی مثالیں قلی قطب شاہ کے دیوان میں ہی مل جاتی ہیں۔ بلکہ اردو ادب کا سب سے پہلا شہ پارہ مثنوی کدم راو پدم راو دراصل اردو نظم کی ہی قسم ہے۔ اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اردو نظم کی تاریخ بہت پرانی ہے بلکہ ادب کی ابتدا ہے۔ بعد میں نظیر اکبر آبادی (1735–1830) نے اردو نظم کو مقام عروج عطا کیا۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر بیشتر نظمیں لکھی ہیں۔ نظیر میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر تھے جنھوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لیے مشہور ہیں-ان کی آدمی نامہ، بنجارا نامہ، راکھی، روٹیاں مشہور نظموں میں سے ہیں۔ ان کی اکثر نظمیں مشہور ہیں۔
محمد حسین آزاد (1830–1910) اور حالی نے اردو نظم میں مغربیت کا تعارف کروایا اور یوں اردو نظم میں جدت پسندی کی ابتدا ہوئی جس سے موضوعات میں وسعت پیدا ہوئی۔ اب ملکی حالات، اجتماعی خیالات و احساسات پر نظمیں لکھی جانے لگیں۔ پھر اسماعیل میرٹھی(1844–1917)، شبلی نعمانی(1857–1914)، اکبر الہ آبادی (1846–1921) اور چکبست(1882–1926) کا دورآتا ہے جنھوں نے اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مگر اردو نظم کی ہیئت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ ان میں حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی نے آسان زبان میں بچوں کے لیے نظمیں لکھی ہیں۔ اردو نظم کی ہیئت میں تبدیلی کی پہلی کوشش عبد الحلیم شرر (1860–1926) نے کی۔ انھوں نے نظم معرا کو رائج کرنے کی کوشش کی۔ اسی کو آگے بڑھانے کا ذمہ نظم طباطبائی (1854–1933)نے لیا جنھوں نے اس کی ہیئت میں مزید تبدیلی کی۔ چونکہ اس دور میں مغربی ادب کے تراجم ہونے لگے تھے لہذا مغرب کا اثر اردو نظم پر بھی ہوا اور نظم کے اسلوب اور ہیئت میں خاصی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ اقبال (1877–1938) نے اردو نظم میں کافی کچھ لکھا اور نت نئے تجربے کیے۔ ان کے بعد سیماب، حفیظ، ساغر، جمیل مظہری، افسر، جوش، احسان دانش، اختر شیرانی اور ن م راشد نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں۔
ہیئت اور اسلوب کے سلسلے میں جن شعرا نے تجربہ کرنے کی کوشش کی ان میں عظمت اللہ خان کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے ہندی کے سبک الفاظ، بحریں اور علامتیں استعمال کر کے اپنی نظموں میں انفرادیت پیدا کی۔ آگے چل کر میر اجی نے آزاد نظموں کے سلسلے میں عظمت اللہ خان کے طرز سے فائدہ اٹھایا۔ اردو شاعری اور خاص طور پر اردو نظم میں ترقی پسند تحریک نے انقلاب پیدا کر دیا۔ ادب اسلوب، ہیئت، موضوع، سانچہ اور تعداد اشعار میں وسعت دیکھنے کو ملی۔ آزاد نظم کو ایک الگ مقام ملا۔ ن م راشد، تصدق حسین، ضیا جالندھری اور مجید امجد اس دور کے قابل ذکر شاعر ہیں۔
اہم نظمیں
اردو نظم کے شعرا اردو ادب کو کچھ ایسی نظمیں دے گئے ہیں جو رہتی دنیا تک اردو ادب اور خاص طور پر اردو شاعری کو لوگوں کی زبان اور دل میں جگہ بنانے کا موقع عنایت کرتی رہے گی۔ علامہ اقبال کی بچوں کی دعا (لب پہ آتہ ہے دعا بن کے تمنا میری)، حالی کی مسدس مد و زجر اسلام (مسدس حالی، نظیر اکبرآبادی کی آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ، حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام:، اختر شیرانی کی او دیس سے آنے والے بتا، ساحر لدھیانوی کی نظم:تاج محل، جوش ملیح آبادی کی نظم: کسان ن۔م۔ راشد کی نظم حسن کوزہ گر اور جون ایلیا کی “درخت زرد” اور “سزا” اردو نظم کے شاہکار نمونے ہیں۔
ذیل میں منیر نیازی کی نظم میں اور میرا خدا:
لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کام
بھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرام
ایک طرف آواز کا سورج ایک طرف اک گونگی شام
ایک طرف جسموں کی خوشبو ایک طرف اس کا انجام
بن گیا قاتل میرے لیے تو اپنی ہی نظروں کا دام
سب سے بڑا ہے نام خدا کا اس کے بعد ہے میرا نام
اقسام
ہیئت کی بنیاد پر اردو نظم کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں:
پابند نظم
طویل نظم
معرا نظم
آزاد نظم
نثری نظم
پابند نظم
پابند نظم غزل کی طرح بحر و قافیہ کی پابند ہوتی ہے۔ ابتدائی دور میں زیادہ تر پابند نظمیں ہی لکھی جاتی تھیں۔ چکبست، اقبال، نظیر اور جوش نے پابند نظمیں کہی ہیں۔
اقبال: مکڑی اور مکھی، پرندہ اور جگنو، مکڑا اور مکھی، ماں کا خواب،لا الہ الا اللہ،
الطاف حسین حالی: مٹی کا دیا، مناجات بیوہ
نظیر اکبر آبادی: آدمی نامہ، روٹیاں
طویل نظم
قصیدہ،مرثیہ یا مثنوی طویل نظم کی مثالیں ہیں، مثنوی، قصیدے اور مرثیہ کی بہ نسبت طویل ہوتی ہے اور بیک وقت ایک ہی مثنوی میں کئی ساری کہانیاں بیان کی جاتی ہیں مگر چونکہ مرکزی کہانی ایک ہوتی ہے اس لیے مثنوی مختصر کہانیوں کا مجموعہ نہ ہو کر ایک طویل نظم ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ طویل نظم صرف مثنوی، مرثیہ یا قصیدہ ہی ہے۔ اردو نظم میں فکری نظموں نے بھی جگہ بنائی ہے۔ علامہ اقبال، حالی، جوش، علی سردار جعفری، ساحر لدھیانوی نے بہت معیاری طویل نظمیں لکھی ہیں۔ اقبال کی شکوہ جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری کافی مشہور ہوئیں۔
اقبال: شکوہ، جواب شکوہ، ابلیس کی مجلس شوری، ساقی نامہ
حالی:برکھا رت، حب وطن، نشاط امید
علی سردار جعفری: نئی دنیا کو سلام، میرے خواب، بمبئی،
ساحر لدھیانوی: اے شریف انسانو، پرچھائیاں،
دیگر طویل نظم کے شاعروں میں حرمت الاکرام، ن م راشد، اختر الایمان، وزیر آغا، جعفر طاہر، رفیق خاور، عبد العزیز خالد، عمیق حنفی، قاضی سلیم قابل ذکر ہیں۔
معرا نظم
معرا نظم کسی مخصوص بحر میں کہی جاتی ہے مگر اس میں قافیہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کو انگریزی میں (blank verse) کہتے ہیں۔ اس نظم کا ایک عنوان بھی ہوتا ہے۔ اردو میں نظم معرا کی روایت انگریزی شاعری سے منتقل ہوئی، شروع میں اسے “غیر مقفی نظم” کہا جاتا تھا لیکن بعد میں عبد الحلیم شرر نے مولوی عبد الحق کے مشورے سے “نظم معرا” کی اصطلاح استعمال کی جو اب مقبول ہے۔ [6] معرا نظم کے اہم شعرا میں تصدق حسین، میراجی، ن م راشد، فیض احمد فیض، اختر الایمان، یوسف ظفر، مجید امجد، ضیا جالندھری قابل ذکر ہیں۔
آزاد نظم
آزاد نظم کو انگریزی میں (free verse) کہتے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ فرانس غیر مساوی مصرعوں پر لکھی گئی ایک نظم تھی۔ حالانکہ اردو میں آزاد نظم میں بھی عروض کی پاپندی کی جاتی ہے مگر اس کو قافیہ و ردیف سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ میراجی، ن م راشد، فیض احمد فیض، سردار جعفری اور اختر الایمان آزاد نظم کے قابل ذکر شاعر ہیں۔
نثری نظم
یہ صنف مکمل آزاد صنف ہے اور اس میں وزن، ردیف اور قافیے کی پابندی نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن شعریت کا عنصر ضرور موجود ہوتا اسی لیے اسے نظم کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ ہر نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا جسے چھوٹی بڑی لائنوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نظم آج کل بہت مقبول ہو رہی ہے۔ سجاد ظہر، زبیر رضوی، کمار پاشی، عتیق اللہ صادق اس صنف کے چند اہم شاعر ہیں۔
دیگر اقسام
اردو نظم کی اشعار کی تعداد و ترتیب کے اعتبار سے بھی قسمیں کی جاتی ہیں۔
ترکیب بند
ترجیع بند
مستزاد
مسمط
مثلث
مربع
مخمس
مسدس
مثمن
متسع
معشر
نظم کی یہ تمام خصوصیات اور تکنیکیں اسے نہ صرف ایک ادبی صنف بناتی ہیں بلکہ اس کے ذریعے شاعر ایک منفرد، گہرا، اور دل کو چھو لینے والا پیغام دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔