طفیل احمد مصباحی

( سابق مدیر ماہنامہ اشرفیہ ، مبارک پور ، اعظم گڑھ ، یوپی )

مرزا اسد اللہ خاں غالب کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ۔ غالب کے غلبۂ شعر و سخن اور علوئے فکر و فن کا ایک جہاں قائل ہے ۔ وہ کون سی شعری عظمت ہے جو اس اس بادہ خوار شاعر کو حاصل نہیں اور وہ کون سا فکری امتیاز ہے جو اس دانائے سخن کو میسر نہیں ۔ شاعر ، ادیب ، مفکر ، فلسفی ، باکمال غزل گو ، قصیدہ و مثنوی نگار اور نعت و منقبت کے ایک عظیم المرتبت شاعر کی حیثیت سے ان کا رتبہ کافی بلند ہے ۔ وہ اردو و فارسی کے ایسے مایۂ ناز شاعر تھے ، جن کو شعرائے متقدمین کی یادگار اور متاخرین کا پیشوا کہا جاتا ہے ۔ غالب نہایت ذہین ، طباع ، بلند فکر اور جینئس تھے ۔ ان کی بلند قامت شاعری نے اردو زبان کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ اردو اور فارسی زبان و ادب پر انہیں غیر معمولی دسترس حاصل تھی ۔ انہوں نے اردو و فارسی شاعری کی مختلف اصناف غزل ، قصیدہ ، مثنوی ، نعت و منقبت ، قطعات اور رباعی میں طبع آزمائی کی ہے ۔ لیکن غزل و قصیدہ ان کا خاص میدان تھا ۔ 27 / دسمبر 1797 ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام میرزا عبد اللہ بیگ ہے ۔ ابھی پانچ سال کے تھے کہ سایۂ پدری سے محروم ہو گئے ۔ چچا نصراللہ بیگ نے کفالت کی ۔ غالب کی تربیت اور ابتدائی عربی و فارسی تعلیم آگرہ ہی میں ہوئی ۔ تیرہ سال کی عمر میں میرزا الہیٰ بخش معروف خاں کی بیٹی ” امراؤ بیگم ” سے شادی ہوئی اور شادی کے بعد غالب آگرہ سے دہلی منتقل ہو گئے اور آخری دم تک وہیں مقیم رہے ۔ غالب اردو سے کہیں زیادہ فارسی شاعری میں مہارت رکھتے تھے ۔ دیوانِ غالب ( اردو ) میں جتنے اشعار ہیں ، ان کے فارسی کلیات میں ان سے کئی گنا زیادہ اشعار ہیں ۔ غالب کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کا زورِ تخیل ، دقیق فلسفیانہ فکر و اسلوب ، بلند پروازی اور ان کی معنیٰ آفرینی ہے ۔ دورانِ شعر گوئی ایسے ایسے نادر خیالات اور فکر انگیز تشبیہات ڈھونڈ کر لاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔ غالب کے تہہ دار فکر و فن پر روشنی ڈالتے ہوئے نواب مصطفیٰ خان شیفتہ ” گلشنِ بے خار ” میں لکھتے ہیں :

دار الخلافہ شاہجہاں آباد اس ( غالب ) سے نسبت پا کر اصفہان و شیراز کو شرماتا ہے ۔ غالب ، معنیٰ آفرینی کے باغ کا اونچی اڑان بھرنے والا ہے طوطی ہے ۔ اسلوبِ بیان کے چمن کا خوش گلو بلبل ہے ۔ اس کے خیال کی بلندی کے سامنے بلند ترین آسمان پست زمین کے مترادف ہے ۔ یہ اپنے غور و تفکر دریا میں معمولی سا بھی غوطہ لگاتا ہے تو اس سے قارون کا خزانہ لے آتا ہے ۔ اس کی فکر کا شاہین ہمیشہ عنقا کے شکار کے لیے زحمتِ پرواز کرتا ہے اور اس کی طبع کا اسپِ تازی میدانِ فلک عبور کرنے کو ہی زقند لگاتا ہے ۔ اگر آج عمدہ مال ( شعر و سخن کا سرمایہ ) کسی کو درکار ہے تو اس کی دکان کے علاوہ کہیں نہ پا سکے گا ………………. ان تمام باتوں کے پیش نظر ایسا نکتہ شناس شاعر کم ہی وجود میں آتا ہے ۔

( گلشنِ بے خار اردو ، ص : 261 ، ناشر : قومی کونسل اردو ، نئی دہلی )

غالب اردو و فارسی کے جتنے عظیم اور قادر الکلام شاعر تھے ، اتنے ہی بڑے ادیب و نثر نگار بھی تھے ۔ فارسی و اردو نظم و نثر میں ان کی مندرجہ ذیل کتابیں یادگار ہیں : ( 1 ) پنج آہنگ ( 2 ) مہرِ نیمروز ( 3 ) دستنبو ( 4 ) قاطعِ برہان ( 5 ) درفش کاویانی ۔ قاطعِ برہان کا جدید ایڈیشن اضافے کے ساتھ ۔ ( یہ ساری کتابیں فارسی نثر میں ہیں ) ( 5 ) کلیاتِ نظم فارسی ( 6 ) سبد چین – غالب کی مختلف مثنویوں کا مجموعہ ( 7 ) دعائے صباح ۔ عربی زبان میں حضرت مولیٰ علی مشکل رضی اللہ عنہ سے منسوب دعاؤں کا منظوم فارسی ترجمہ ( 8 ) متفرقاتِ غالب ۔ خطوط ، نظم اور دو مثنوی کا فارسی مجموعہ ۔ ( 9 ) دیوانِ غالب اردو ۔ ( 10 ) عودِ ہندی – مجموعۂ خطوط ( 11 ) اردوئے معلیٰ ( 12 ) مکاتیبِ غالب ( 13 ) نادراتِ غالب ( 14 ) نکاتِ غالب و رقعاتِ غالب ( 15 ) قادر نامہ ۔

غالب کا شمار عالمی سطح پر اردو کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا ہے ۔ غالب کو شہرت و مقبولیت ان کے اردو ” دیوان ” کی بدولت ملی ۔ حالاں کہ یہ خود اپنی اردو شاعری کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے اور اسے پارٹ ٹائم جاب سمجھتے تھے ۔ غالب نے اس حقیقت کا بارہا اظہار کیا ہے کہ شعر و سخن کا اصل جوہر دیکھنا ہو تو میری فارسی نظم اور فارسی کلام کا مطالعہ کرو ۔ غالب کے فارسی دیوان و کلیات واقعی اس لائق ہیں کہ ان کو فارسی کے قادر الکلام شعرا کے دواوین و کلیات کے مقابل رکھا جا سکے ۔ چچا غالب کہتے ہیں :

فارسی بیں تا بہ بینی نقشہائے رنگ رنگ

بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگ من است

( میری شاعری کے رنگ برنگ نقش و نگار دیکھنا چاہو تو میرے فارسی کلام کی طرف نظر کرو اور میری بے رنگ اردو شاعری کی طرف دھیان نہ دو )

غالب کی حیات اور ان کی اردو شاعری کے مختلف گوشوں پر اب تک ہزاروں مضامین اور سینکڑوں کتب و رسائل تحریر کیے جا چکے ہیں ، لیکن ان کی فارسی شاعری و فارسی نعت گوئی کو وہ اہمیت نہیں دی گئی ، جس کی وہ مستحق تھی ۔ غالب اردو کے علاوہ فارسی کے ایک عظیم المرتبت اور مسلم الثبوت شاعر تھے ۔ عربی و فارسی ادبیات پر ان کی گہری نظر تھے ۔ اپنی فارسی دانی و فارسی شاعری پر ناز کرتے تھے ۔ الطاف حسین حالی کے بقول : ” مرزا ( غالب ) نے عربی میں صرف و نحو کے سوا اور کچھ استاد سے نہیں پڑھا تھا ، مگر چوں کہ علمِ لسان سے ان کو فطری مناسبت تھی ۔ ان کی نظم و نثر اردو و فارسی کے دیکھنے سے کہیں اس بات کا خطرہ تک دل میں نہیں گزرتا کہ یہ شخص عربیت اور فنِ ادب سے ناواقف ہوگا ………… شاعری جس کا ملکہ ان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا تھا ، اس سے قطع نظر کر کے فارسی زبان اور فارسی الفاظ و محاورات کی تحقیق اور اہلِ زبان کے اسالیبِ بیان پر مرزا کو اس قدر عبور تھا کہ خود اہلِ زبان میں بھی مستثنیٰ آدمیوں کو ایران کے مستند شعرا کی زبان پر اس قدر عبور ہوگا ” ۔

( یادگارِ غالب ، ص : 58 ، مطبوعہ : نامی پریس ، کان پور )

غالب نے اردو کی طرح فارسی زبان میں بھی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے ۔ کلیاتِ غالب و دیوانِ غالب میں غزل ، قصیدہ ، مثنوی ، قطعات ، رباعی اور تاریخ گوئی کے شہکار نمونے موجود ہیں ۔ غالب کی فارسی نعت گوئی کے نمونے غزل ، قصیدہ ، مثنوی اور مخمس کے فارم میں دستیاب ہیں ۔ لیکن انہوں نے سب سے زیادہ نعتیں ، مثنوی کے انداز میں کہی ہیں ۔ ” مثنوی ابرِ گہر بار ” کا معتد بہ حصہ ان کی فارسی نعت گوئی کا قابلِ قدر نمونہ ہے ۔ مجموعی اعتبار سے اس مثنوی کو اگر ” گنجینۂ معنی کا طلسم ” کہا جائے تو بجا ہے ۔ غالب کی چھوٹی بڑی مثنویوں کی تعداد چودہ ( 14 ) ہے ۔ ” ابرِ گہر بار ” سب سے طویل مثنوی ہے ، جس کے اشعار کی کُل تعداد باختلافِ روایت ایک ہزار یا اس سے بھی زائد ہے ۔ مثنوی ابرِ گہر بار کا چوتھائی حصہ نعت پر مشتمل ہے ۔ حمد و مناجات اور منقبتِ مولیٰ علی کو چھوڑ کر نعتیہ مضامین پر مشتمل اشعار کی تعداد تین سو سینتیس ( 337 ) ہے ۔ 57 / اشعار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و محاسن اور 280 / اشعار میں واقعۂ معراج کے تفصیلی احوال قلم بند کیے گئے ہیں ۔ نعت گوئی کے حوالے سے اگر غالب کچھ نہ بھی لکھتے تو یہی مثنوی ، نعت گو شاعر کی حیثیت سے ان کے تعارف کے لیے کافی ہوتی ۔ ” مثنوی ابرِ گہر بار ” کی ابتدا حمد سے ہوتی ہے ۔ حمدیہ اشعار کی تعداد ایک سو سے زائد ہے ۔

سپاسے کزو نامہ نامی شود

سخن در گذارش گرامی شود

( اس حمد سے مثنوی کا آغاز کرتا ہوں جس سے تحریر کی آبرو بڑھ جاتی ہے اور سخن کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے )

حمد و مناجات کے بعد نعت گوئی کا زرّیں سلسلہ شروع ہوتا ہے اور غالب اپنے مخصوص لب و لہجے میں اپنے نبی کی مدحت سرائی کا یوں آغاز کرتا ہے :

بنامِ ایزد اے کلکِ قدسی صریر

بہر جنبش از غیب نیرو پذیر

دل آویز تر جنبشے ساز کن

بجنبش رقم سنجے آغاز کن

اے وہ قلم جس کی سرسراہٹ فرشتے کے نزول جیسی ہے ، اللہ کے نام سے شروع کر ۔ تیری ہر جنبش کو غیب سے قوت ملتی ہے ۔ اے قلم ! اپنی آویز حرکت دکھا اور اس سے نعت گوئی کی ابتدا کر ۔

درودے بہ عنوانِ دفتر نویس

بہ دیباچہ نعتِ پیمبر نویس

محمد کز آئینۂ روئے دوست

جز اینش ندانست دانا کہ او ست

زہے روشن آئینۂ ایزدے

کہ دروے نگنجیدہ زنگِ خودے

ز رازِ نہاں پردۂ بر زدہ

ز ذاتِ خدا معجزے سرزدہ

تمنائے دیرینۂ کردگار

بوے ایزد از خویش امید وار

( مثنوی ابرِ گہر بار ، ص : 14 ، ناشر : اکمل المطابع ، دہلی )

ترجمہ : اے قلم ! دفتر یعنی مثنوی کے سرنامے پر درود شریف لکھ اور نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کا آغاز کر ۔ حضور علیہ السلام کی ذات جلوۂ پرور دگار ہے ۔ عقل مندوں کو اللہ اور اس کے آخری نبی میں معبود و عبد کے علاوہ کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ اللہ عز و جل کے اس روشن آئینے کا کیا کہنا ، جس میں خودی ( یعنی الگ سے اپنے وجود ) کا زنگ تک نہیں لگا ۔ حضور کی ذات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے ۔ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مشیتِ الہیٰ کی ایک خوب صورت مثال ہیں ۔ خدا کی رضا ان کی رضا میں شامل ہے ۔

اس کے علاوہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی جسم ، آپ کی رفتار و گفتار ، صدورِ معجزات ، کشادہ قلبی ، نرمی مزاجی ، زبانِ مبارک کی تاثیر ، صدورِ معجزات اور دنیا و آخرت میں بندگانِ خدا پر آپ شفقت و رافت کا تذکرہ غالب نے دریائے عشق و الفت میں ڈوب کر کیا ہے ۔ یہ اشعار دیکھیں اور غالب کی نعتیہ شاعری کا رنگ و آہنگ ملاحظہ کریں :

تن از نور آلودہ سرچشمۂ

و لے ہمچوں مہتاب در در چشمۂ

بہر جام از و تشنۂ جرعہ خواہ

بہر گام از و معجزے سر براہ

کلامش بہ دل در فرود آمدن

زدم جستہ پیشی بزود آمدن

خرامش بہ سنگ از قدم نقش بند

بہ رنگے کہ نادیدہ پایش گزند

بہ دستش کشادِ قلم نا رسا

بہ کلکش سوادِ رقم نا رسا

دل امید جائے جائے زیاں دیدگاں

نظر قبلہ گاہِ جہاں دیدگاں

بہ رفتا صحرا گلستاں کنے

بہ گفتار کافر مسلماں کنے

بہ دنیا ز دیں روشنائی دہے

بہ عقبیٰ ز آتش رہائی دہے

( مثنوی ابرِ گہر بار ، ص : 14 )

( 1 ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ اقدس نور سے ڈھکا ہوا ایک سرچشمہ ہے ، جیسے چاند کا عکس کسی چشمے میں محدود ہو ۔

( 2 ) پیاسا انسان ان کے قطرۂ جام کا محتاج ہے ۔ ان کی ذات سے ہر گھڑی معجزے کا ظہور ہوتا ہے ۔

( 3 ) آپ کا کلام بڑی آسانی دل میں اتر جاتا ہے ۔ گویا نیچے اترنے میں وہ سانس پر سبقت لے جاتا ہے ۔

( 4 ) جب آپ قدم رکھتے ہیں تو پتھروں پر اس کے نشان ابھر آتے ہیں اور آپ کے قدم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔

( 5 ) آپ کے مبارک ہاتھوں میں قلم پہنچ جانے کے بعد اپنی جولانی بھول جاتا ہے اور ان کے قلم تک تحریر کی سیاہی پہنچ نہیں پاتی ۔

( 6 ) ان کا دل زیاں کاروں یعنی نقصان اٹھانے والوں کی امید گاہ ہے اور ان کی نظر جہاں دیدہ لوگوں کا قبلہ ہے ۔

( 7 ) آپ کے قدموں کی برکت سے صحرا میں پھول کھِل جاتے ہیں اور آپ کی میٹھی گفتگو سے کافر مسلمان ہو جاتا ہے ۔

( 8 ) آپ دنیا میں دین کی روشنی پھیلاتے ہیں اور آخرت میں گنہگاروں کو جہنم سے بچاتے ہیں ۔

نعت گوئی کے لیے جس حسنِ عقیدت اور ادب و احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے ، غالب نے حتی المقدور اس کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اندازِ بیان منفرد اور طرزِ ادا محتاط ہے ۔ ہر شعر عشق و عقیدت کے جذبوں سے سرشار ہے ۔ نعت گوئی کے دوران اگر چہ وہ اپنے رہوارِ تخیل کو تیز گام کرتے ہیں ، بایں ہمہ اپنے قدم کو دائرۂ شریعت سے باہر نہیں جانے دیتے ۔

پروفیسر نیر مسعود لکھتے ہیں :

غالب جب خود اپنا بیان کرتے ہیں تو ایک عالمِ بے اختیاری میں تخیل کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور جب ذاتِ رسول و نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کرتے ہیں تو احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے چوکس ( محتاط ) ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا نعتیہ کلام گرمیِ اندیشہ ( گرمیِ خیال ) سے خالی یا معنیٰ آفرینی و نازک خیالی سے محروم ہے ۔ تقابلے مطالعے کے بعد بھی محسوس ہوتا ہے کہ غالب کی فارسی شاعری کی تقریباً تمام اعلیٰ خصوصیتیں ان کے نعتیہ کلام میں بھی موجود ہیں ۔ ان کا یہ شعر نعتیہ شاعری کے عمدہ نمونوں میں رکھا جا سکتا ہے :

چناں بود کہ ببیند بہ خواب کس خود را

از او مشاہدۂ حق بہ عین بیداری

( مجلہ غالب نامہ ، ص : 221 ؛ 222 ، ناشر : غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی )

واقعۂ معراج چوں کہ نعت گوئی کا ایک اہم موضوع ہے ، اس لیے غالب نے زیرِ نظر مثنوی میں اس پر خصوصی طریقے سے روشنی ڈالی ہے ۔ ” غالب کا فارسی معراج نامہ ” کے عنوان سے راقم الحروف ایک مستقل مضمون قارئین کی بارگاہ میں پیش کرے گا ۔ ان شاء اللہ العظیم ۔

نعت کے حوالے سے اس قسم کے سینکڑوں دل آویز اشعار ” مثنوی ابرِ گہر بار ” میں موجود ہیں ۔ صفحات کی قلت تفصیل کی اجازت نہیں دیتی ۔ اس مثنوی کے علاوہ ” مثنوی بیانِ نمو داری شانِ نبوت و ولایت ” میں بھی نعت کے تعلق سے مواد موجود ہے ۔ غالب نے اس مثنوی میں ” حقیقتِ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ” پر بڑی نفیس گفتگو کی ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

صورتِ فکر ایں کہ باری چوں کند

تا ز جیبِ غیب سر بیروں کند

جلوہ کرد از خویش ہم بر خویشتن

داد خلوت را فروغِ انجمن

جلوۂ اول کہ حق بر خویش کرد

مشعل از نورِ محمد پیش کرد

شد عیاں زاں نور در بزمِ ظہور

ہر چہ پنہاں بود از نزدیک و دور

نورِ حق ست احمد و لمعانِ نور

از نبی بر اولیا دارد ظہور

( مثنویاتِ غالب ، ص : 95 ، ناشر : غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی )

یعنی جب اللہ عز و جل نے اپنی ربوبیت کا جلوہ دکھانا چاہا اور غیب کے پردے سے ظہور کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنی ذات پر تجلی کر کے خلوت کو جلوت کی رونق عطا کر دی ۔ جنابِ باری تعالیٰ نے جب اپنے اوپر جلوہ کیا تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نور کی مشعل سامنے رکھ دی ۔ ( یعنی اللہ نے اپنے نور سے حضور کے نور کو پیدا کیا ) اور اس نور کی مشعل سے کائنات روشن ہو گئی ۔ احمد یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نورِ الہیٰ ہیں ۔ آپ کے نور سے اولیائے کرام مستفید و مستنیر ہوتے ہیں ۔

فصاحت و بلاغت ، زورِ تخیل ، بلند آہنگی ، فکر و جذبہ کی باہمی آمیزش ، نظریہ و فلسفہ ، مضمون آفرینی و معنی آفرینی کلامِ غالب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔ غالب کی مشکل پسندی اپنی جگہ ، لیکن مجموعی اعتبار سے ان کے فکر و خیال میں تنوع اور معنوی تہہ داری پائی جاتی ہے ۔ ان کی فارسی نعتیہ شاعری بھی انہیں اوصاف سے متصف ہے ۔ دیوانِ غالب ( فارسی ) کا وہ نعتیہ قصیدہ جس کا مطلع ” آں بلبلم کہ در چمنستاں بہ ساخسار ” ہے ، اس میں غالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و کمالات کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے ۔ آپ کو فخرِ بشر ، امامِ رسل ، قبلۂ امم ، جیسے اوصاف سے یاد کیا ہے اور آپ کے جسمِ اطہر کا سایہ نہ ہونے سبب یہ بتایا ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ پاک نورِ خداوندی کا مظہر ہے ، لہٰذا وہ نور ہوئے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا ۔

فخرِ بشر ، امامِ رسل ، قبلۂ امم

کز شرع او ست قاعدۂ دانس استوار

دانی چہ است کہ اثرِ جلوۂ قدس

بر خاک نقشِ سایہ نہ گردید آشکار

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی ” احمد ” کے حوالے سے غالب نے جو نکتہ بیان کیا ہے ، وہ اپنی جگہ قابلِ قدر اور شاعر کی بلند پرواز فکر کا واضح ثبوت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کا نام ” احمد ” اپنے اندر ایک طلسمی خزانہ رکھتا ہے ۔ اس طلسم کی نقاب کشائی کے لیے قدرت نے ایک قاعدہ مقرر کیا ہے اور وہ اس طرح کہ لفظِ احمد سے حرفِ میم کو ہٹا دیا جائے ، جو ذاتِ نبی کا پردہ دار ہے ۔ تو اب لفظِ احمد ، احد بن جائے گا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے نام ( احمد ) کو اپنے نام ( احد ) پر رکھا ہے ، لیکن عبد و معبود میں فرق و امتیاز کے لیے بیچ میں ” میم ” کا پردہ ڈال دیا ہے اور جب ذاتِ احمدی کی معرفت کی برکت سے میم کا پردہ ہٹ گیا اور ” احد ” ظاہر ہو گیا تو اسمِ جلالت ” اللہ ” کا ” الف ” اپنا جلوہ دکھا رہا ہے ۔ اب حاء و دال کو آپس میں جوڑ دو تو بارہ کا عدد برآمد ہوگا جو کہ ائمہ اہلِ بیت کی تعداد ہے ۔

حقا کہ لفظِ احمد و لطفے کہ تحت او ست

گنجے است شائیگاں و طلمسے است استوار

اما پئے کشایشِ ایں معنوی طلسم

فطرت شگرف قاعدۂ کردہ اختیار

باید نخست میم ز احمد فرا گرفت

کاں میم اسمِ ذاتِ نبی را ست پردہ دار

ہر کہ بہ یمنِ معرفتِ ذاتِ احمدی

میم از میانہ رفت و احد گشت آشکار

بے پردہ بنگر از الف اللہ جلوہ گر

و ز حاء و دال بشمرد و دریاب ہشت و چار

( دیوانِ غالب فارسی ، ص : 125 ، ناشر دار السلام ، دہلی )

اسی طرح غالب کا مندرجہ ذیل نعتیہ کلام کافی مشہور ہوا اور اس کا مقطع ( غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتم ) تو آج بھی صنفِ نعت گوئی کی دشواری کے حوالے سے بطورِ سند پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کلام کا ہر ایک شعر بلکہ ہر مصرع فکری و فنی اور معنوی لحاظ سے عمدہ ہے ۔ غالب نے اس کلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شایانِ شان تعریف و توصیف کی ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں حضور کے فضائل و کمالات اور بالخصوص آپ کے اختیار و معجزہ کو اجاگر کیا ہے ۔ مطلع کا دوسرا مصرع ” آرے کلامِ حق بزبانِ محمد است ” در اصل قرآن کی مشہور آیت ” و ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ ” کی ایک خوب صورت ترجمانی ہے ۔ تیسرا شعر ( تیرِ قضا ہر آئنہ در ترکشِ حق است ) ندرتِ فکر اور جدتِ اسلوب کی اچھوتی مثال ہے ۔

حق جلوہ گر ز طرزِ بیانِ محمد ﷺ است​

آرے کلامِ حق بزبانِ محمد ﷺ است​

آئینہ دارِ پرتوِ مہر است ماہتاب​

شانِ حق آشکار زِ شان محمد ﷺ است

تیرِ قضا ہر آئنہ در ترکشِ حق است​

اما کشادِ آں ز کمانِ محمد ﷺ است​

دانی اگر بہ معنیٔ ” لولاک ” وارسی​

خود ہر چہ از حق است از آنِ محمد ﷺ است​

ہر کس قسم بداں چہ عزیز است می خورد​

سوگندِ کردگار بجانِ محمد ﷺ است​

واعظ حدیثِ سایۂ طوبیٰ فروگذار

کہ ایں جا سخن ز سروِ روانِ محمد ﷺ است

بہ نگر دو نیمہ گشتنِ ماہِ تمام را​

کاں نیمہ جنبشے ز بنانِ محمد ﷺ است​

در خود ز نقشِ مہرِ نبوت سخن رود​

آن نیز نامور ز نشانِ محمد ﷺ است​

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتم​

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد ﷺ است

( دیوانِ غالب فارسی ، ص : 35 ، ناشر : مطبع منشی نولکشور ، لکھنؤ )

مندرجہ بالا اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ جلوۂ ذاتِ خداوندی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن بیان سے ظاہر ہوتا ہے اور خدا کا کلام و پیغام آپ کے زبانِ فیض ترجمان سے جاری ہوتا ہے ۔ جس طرح چاند ، سورج کا عکس اور اس کی تابانی کا آئینہ دار ہے ، اسی طرح خدا کی شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے ظاہر ہے ۔ بلاشبہ تیرِ قضا ترکشِ حق میں ہے ۔ لیکن اسے چلانے کے لیے حضور کی کمان درکار ہے ۔ اگر تم حدیثِ ” لولاک ” کا مفہوم سمجھتے ہو تو جان لو کہ جو کچھ اللہ کی طرف سے ہے ، وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے ۔ ہر شخص اپنے عزیز کی قسم کھاتا ہے اور اللہ عز و جل آپ صلی اللہ علیہ کو قسم سے یاد فرماتا ہے ۔ اے واعظ ! سایۂ طوبیٰ کی بات مت کر کہ ابھی سروِ روانِ محمد کا تذکرہ چھڑا ہوا ہے ۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا ، آپ کی انگلی کے اشارے کا کرشمہ ہے ۔ غالب میں نے خواجۂ کونین ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی تعریف و توصیف کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا کہ وہی ذاتِ پاک ، اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا کماحقہ رتبہ شناس ہے ۔

دیوانِ غالب فارسی میں موجود دونوں نعتیہ قصیدے بھی اپنے اندر بڑی وسعت و معنویت رکھتے ہیں ۔ غالب نے قصیدے کے اجزائے ترکیبی اور اس کے پُر شکوہ اسلوب کا لحاظ رکھتے ہوئے نہایت اچھوتے انداز میں نعتیہ اشعار پیش کیے ہیں ، جن کے لفظ لفظ سے عشق و وفا کی خوشبو پھوٹتی ہے ۔ یہ دو شعر دیکھیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مُطاعِ آدم و عالَم ، وکیلِ مطلق اور دستورِ باری کہا گیا ہے اور پوری کائنات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض و کرم اور جود و بخشش کا دریا رواں ہونے کی بات کی گئی ہے ۔

مطاعِ آدم و عالم محمدِ عربی

وکیلِ مطلق و دستورِ حضرتِ باری

افاضۂ کرمش در حقائقِ آفاق

بسانِ روح در اعضائے جانور ساری

( دیوان غالب فارسی ، ناشر : دار السلام ، دہلی )

پروفیسر نیر مسعود کے بقول : ” غالب کے نعتیہ کلام میں تین قصیدے ، ایک غزل اور ” مثنوی ابرِ بَہار ” کا ایک حصہ قابلِ ذکر ہے …….. اصل نعتیہ شعروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کو کس قسم کی معرفتِ رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حاصل تھی اور آپ کی ذاتِ مقدسہ کے کون پہلو غالب کو زیادہ متوجہ کرتے تھے ……… غالب کہتے ہیں کہ آپ سے رابطے کی بدولت جبرئیل کو عزت حاصل ہوئی ۔ آپ ایسے عدو کش ہیں کہ آپ کا رقعہ چاک کرنے کی جراحت خسرو پرویز تک پہنچ گئی ۔ آپ کا فیضِ کرم تمام جان داروں میں روح کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے ۔ آپ کی بدولت خدا کی وحدانیت مشاہدۂ عام میں آ گئی اور آپ کے حدوث سے قِدم کا بازار گرم ہوا ۔ آپ عالمِ بیداری میں حق کا مشاہدہ اس طرح کرتے ہیں جیسے کوئی خواب میں اپنے آپ کو دیکھے ……… کفِ موسیٰ آپ کی آستاں روبی کی اجرت اور دمِ عیسیٰ آپ کی ہوا داری کا صلہ ہے ۔ جنت آپ کے اسیرِ دام کی ہوا خواہ اور حور آپ کے مریضِ عشق کی تیما دار ہے ۔ آپ کی صورت اور سیرت کا بیان ، سخن اور طبیعت کو بالیدہ کرتا ہے ۔ آپ ہی کی خاطر اللہ خانۂ کعبہ کا کار فرما اور خلیل اللہ اس کے معمار ہوئے ” ۔

( مجلّہ غالب نامہ ، شمارہ : جولائی 1994 ء ، ص : 213 – 214 ، ناشر : غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی )

دیوانِ غالب ( فارسی ) میں ائمۂ اہلِ بیت رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں کئی منقبتیں موجود ہیں ۔ حضرتِ مولیٰ علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت کا آغاز غالب نے نعتیہ اشعار سے کیا ہے ، جو زبان و بیان کے حسن اور تخیل کی بلند پروازی کا دلکش نمونہ ہیں ۔ شہنشاہِ کونین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت سرائی کرتے ہوئے غالب کہتے ہیں :

چوں من ز سخن یافتم ایں مرتبہ خواہم

کز عرش فزوں تر نگرم پایۂ آں را

ایں پایہ در آنست سخن را کہ ستایم

ممدوحِ خداوندِ زمیں را و زماں را

آں کز اثرِ گرم روی در شبِ معراج

در بالِ ملک سوخت نشاط طَیَراں را

شاہے کہ پئے سجدۂ خاکِ کفِ پایش

ارزش نہ بوَد جز سرِ صاحب نظراں را

از بہرِ ثنا گستریِ تست و گرنہ

اندازۂ گفتار نہ بودے حیَواں را

از بہرِ نثارِ قدمِ تست و گر نہ

ایزد بکفِ خاک ندادے دل و جاں را

( دیوانِ غالب فارسی ، ص : 129 / 130 ، ناشر : دار السلام ، دہلی )

یعنی شاعری کی بدولت میں نے بلند مقام حاصل کیا ہے تو اب میں چاہتا ہوں کہ اللہ رب العزت ( جو زمین و زماں کا خالق و مالک ہے ) کے ممدوح جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کر کے اپنے پایۂ سخن کو عرش کی بلندی تک پہنچا دوں ۔ معراج کی شب آپ کی گرمیِ رفتار نے فرشتوں کے پروں سے پرواز کی قوت سلب کر لی ۔ آپ کی خاکِ پا کے سجدے کے لائق صرف اہلِ نظر کے سر ہیں ۔ انسان و حیوان کو قوتِ گویائی اس لیے ملی ہے کہ وہ حضور کی مدح و ثنا کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے کفِ خاک کو اس لیے جان و دل سے نوازا ہے کہ وہ اس کے حبیب کے قدموں پر نثار ہو ۔

فارسی شاعری میں جان محمد قدسی کی نعتیہ غزل ” مرحبا سیدِ مکی مدنی العربی ” کو بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کی تضمین بڑے بڑے شعرا اور قد آور اساتذہ نے لکھی ، جس کا مجموعہ ” حدیثِ قدسی ” کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ مرزا غالب نے بھی اس نعتیہ غزل کی تضمین کی ہے ، جو فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی ، جدت و ندرت اور حسنِ عقیدت کا ایک دل آویز مرقع ہے ۔ غالب کی یہ نعتیہ تضمین شرعی اور فنی نقطۂ نظر سے ایک کامیاب تضمین ہے ، جس میں تضمین نگاری کے اصول و شرائط بدرجۂ اتم موجود ہیں ۔ مطلع یہ ہے :

کیستم تا بخروش آوردم بے ادبی

قدسیاں پیشِ تو در موقفِ طلبی

رفتہ از خویش بدیں زمزمۂ زیر لبی

” مرحبا سیدِ مکی مدنی العربی

دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی ”

غالب نے مطلع میں عجز و انکسار کا لہجہ اختیار کیا ہے ، جو صنفِ نعت گوئی کا لازمی عنصر ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں فرشتے دستِ طلب پھیلائے کھڑے ہیں ۔ اس مقدس بارگاہ میں جوش و خروش کا مظاہرہ کرنا بے ادبی ہے ۔ یہاں نہایت خاموشی کے ساتھ زیر لب نغمہ سنجی ہی بہتر ہے ۔

اے کہ روئے تو دہد روشنی ایمانم

کافرم کافر ، اگر مہرِ منیرش خوانم

صورتِ خویش کشید است مصور دائم

” من بیدل بجمالِ تو عجب حیرانم

اللہ اللہ ! چہ جمالست بدیں بو العجبی ”

غالب کے خامۂ اعجاز رقم نے اس جگہ غایت درجہ عقیدت کا اظہار کیا ہے اور اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ زیبا میرے ایمان کو روشنی فراہم کرتا ہے ۔ مہر یعنی سورج آپ کے رخِ پُر نور کا عکس اور پرتو ہے ، لہٰذا آپ کو ” مہرِ منیر ” کہوں تو میں کافر ہوں ۔

اے گلِ تازہ کہ زیبِ چمنی آدم را

باعثِ رابطۂ جان و تنی آدم را

کردہ دریوزۂ فیض غنی آدم را

” نسبتِ نیست بذاتِ تو بنی آدم را

برتر از عالم و آدم تو چہ عالی نسبی ”

حسبِ سابق غالب کے یہ تینوں تضمینی مصرعے عشق و عقیدت کے ترجمان ہیں ۔ ” گلِ تازہ ” اور ” زیبِ چمنِ آدم ” کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و کمال کا غالب نے بڑے والہانہ انداز میں خطبہ پڑھا ہے ۔ نیز حضور کو آدم علیہ السلام کے جسم و روح کے درمیان رابطے کا سبب گردانا ہے اور آپ کے ابرِ بارانِ فیض سے حضرت آدم کے فیضیاب ہونے کا مبنی بر حقیقت تذکرہ کیا ہے ۔

ذیل کے اشعار میں غالب نے نہایت سوز و گداز کے ساتھ اپنے دردِ جگر اور رنج و الم کا حال بیان کر کے مسیحائے کائنات علیہ افضل الصلوات سے زخمِ جگر کا مرہم طلب کیا ہے ۔

دل ز غم مردہ و غم بردہ ز ما صبر و ثبات

غمگساری کن و بنمائے بما راہِ نجات

داد سوزِ جگر ما کہ دہد نیل و فرات

” ما ہمہ تشنہ لبائیم و تو آبِ حیات

رحم فرما کہ ز حد می گذرد تشنہ لبی ”

غالبِ غم زدہ را نیست دریں غمزگی

جز بامیدِ ولائے تو تمنائے بہی

از تب و تابِ دلِ سوختہ غافل نہ شوی

” سیدی انت حبیبی و طبیبِ قلبی

آمادہ سوئے تو قدسی پئے درماں طلبی ”

( سبد باغ دو در ، مرتبہ : امتیاز علی عرشی ، ص : 40 / 42 ، ناشر : انجمن ترقی اردو ، کراچی )

امکانِ نظیر و امتناعِ نظیر ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال و نظیر ممکن ہے یا محال ) کے مسئلے میں علمائے اہلِ سنت اور وہابیوں میں زبردست اختلاف ہے ۔ اہل سنت و جماعت کا درست عقیدہ یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر محال بالذات ہے ۔ غالب کے زمانے میں مجاہدِ جنگِ آزادی ، امام المنطق حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی و مولوی اسماعیل دہلوی اور ان کے ہمنواؤں کے درمیان اس مسئلہ کو لے کر زبردست علمی اختلاف ہوا اور بالآخر علامہ خیر آبادی غالب رہے ۔ مولوی الطاف حسین حالی نے ” یادگارِ غالب ” میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی ، مرزا غالب کے قریبی دوست اور مخلص احباب میں سے تھے ، انہوں نے غالب سے کہا کہ اس مسئلے کو آپ منظوم صورت میں پیش کریں ۔ چنانچہ غالب نے اس حوالے سے چند اشعار بشکلِ مثنوی موزوں کیے اور دو ٹوک الفاظ میں ” امکانِ نظیر ” کو محال اور ” امتناعِ نظیر ” کو جائز و درست مانا ۔ غالب کی فارسی نعت گوئی کا یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلق سے جن افکار و خیالات کا اظہار کیا ہے ، ان سے اہلِ سنت و جماعت کے موقف کی تائید ہوتی ہے ۔ اگر چہ ان کا طبعی میلان شیعیت کی طرف تھا ، لیکن اپنی محدود دینی معلومات کی حد تک انہوں نے جو کچھ کہا ، وہ اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات کے مطابق ہے ۔

ہر کجا ہنگامۂ عالم بود

رحمت للعالمینی ہم بعد

منشأِ ایجادِ ہر عالم یکے ست

گر دو صد عالم بود خاتم یکے ست

ہر کرا با سایہ نہ پسندد خدا

ہمچو اوئی نقش کے بندد خدا

ہم گہر مہرِ منیرش چوں بود

سایہ چوں نہ بود نظیرش چوں بود

منفرد اندر کمالِ ذاتی است

لا جرم مثلش محالِ ذاتی است

( کلیاتِ غالب فارسی ، ص : 304 ، مطبوعہ : مجلسِ ترقی ادب ؛ لاہور )

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ جہاں کہیں ہنگامۂ عالم برپا ہے ، وہاں حضور کی رحمت للعالمینی شامل ہے ۔ ہر ایک عالم کا منشأ ایجاد ایک ہے ۔ اگر دو ہزار عالم بھی ہوتے تو اس کا خاتم ( خاتم النبیین ) ایک ہوتے ۔ جب خدا کو یہ گورا نہ ہوا کہ اس کے نبی کے جسم کا سایہ ہو تو وہ اپنے نبی کا مثل و نظیر پیدا کرنا ، کیسے گوارا کرے گا ۔ جب مصطفیٰ کا سایہ ہی نہیں تو اس کی نظیر کب ہو سکتی ہے ؟ ( یہی امتناعِ نظیر ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمالِ ذاتی میں منفرد و یگانہ ہے اور ان کا مثل و نظیر محال ہے ۔

نبوت و رسالت کے حوالے سے اسلامی عقائد کا اظہار بھی نعت کا ایک اہم موضوع ہے ۔ غالب کی فارسی نعت گوئی میں اس حوالے سے کثیر مواد موجود ہیں ۔ ” کلیاتِ غالب فارسی ” کے یہ اشعار دیکھیں ، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرتِ مولیٰ علی ، خواجہ غریب نواز و دیگر اولیائے کرام سے مدد طلب کرنے کو غالب نے جائز لکھا ہے اور اس بات کی صراحت کی ہے کہ انبیائے کرام و اولیائے عظام سے مدد مانگنا ، گویا خدا سے مدد مانگنا ہے ۔ یا رسول اللہ اور یا علی کہنے سے دل و جان کو راحت ملتی ہے اور مشکلیں دور ہوتی ہیں ۔ وہ لوگ بے وقوف اور کم علم ہیں جو ” حرفِ ندا ” کے سلسلے میں بحث کرتے ہیں اور اس کے ذریعے استعانت کو ناجائز کہتے ہیں ۔

از نبی و از ولی خواہی مدد

تا نہ پنداری کہ ناجائز بود

ہر کہ او را نورِ حق نیرو فزا ست

ہر کہ از وے خواستی ہم از خدا ست

یا رسول جاں فزاید گفتنش

یا علی مشکل کشاید گفتنش

چوں اعانت خواہی از یزدان پاک

یا معین الدین اگر گوئی چہ باک

ابلہاں را زاں کہ دانش نارسا ست

گفتگوہا بر سرِ ” حرفِ ندا ” ست

( کلیاتِ غالب فارسی ، ص : 295 ، مطبوعہ : مجلسِ ترقی ادب ، لاہور )

غالب نے اپنی نعتیہ شاعری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات سے متعلق نوع بنوع نکتے بیان کیے ہیں اور آپ سے منسوب اشیا کا ذکرِ جمیل بڑے والہانہ انداز اور دلنشیں پیرائے میں کیا ہے اور اس سلسلے میں میلادِ مصطفیٰ ، موئے مبارک ، پتھروں پر پائے اقدس کے نشان اور آپ کی مبارک ردا و قمیص کا ذکر جس انداز میں کیا ہے ، وہ دیکھنے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ عشق و عقیدت کے جلوؤں سے آراستہ یہ اشعار دیکھیں :

ور سخن در مولدِ پیغمبر ست

بزم گاہِ دلکش و جاں پرور ست

نکہتِ موئے مبارک جاں فزا ست

با رگِ جانش ہمی پیوندہا است

بر تنِ نیکو تر از جاں رستہ است

لا جرم از آبِ حیواں رستہ است

دلنشینِ ما بود زاں روئے مو

وہ کہ گرداند کسے زاں روئے مو

ہر کرا دل ہست و ایماں نیز ہم

چوں نہ زد او عشق با نقشِ قدم

نقش پائے کایں چنیں افتادہ است

اہلِ دل را دل نشیں افتادہ است

( مثنویاتِ غالب ، ص : 99 ، مطبوعہ : غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی )

ترجمہ : جہاں تک محفلِ میلاد کی بات ہے تو یہ ایک دلکش اور روح پرور بزم ہے ۔ موئے مبارک کی خوشبو روح کو سکون اور جان کو قرار بخشتی ہے ۔ موئے مبارک کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رگِ جاں سے بڑا گہرا رشتہ ہے ۔ موئے مبارک ایسے مقدس جسم پر اُگے ہیں جو روح سے زیادہ لطیف ہے اور جس کی تخلیق آبِ حیات سے ہوئی ہے ۔ موئے مبارک کو ہم سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔ افسوس ہے اس شخص پر جو اس سے روگردانی کرتا ہے ۔ جس کے سینے میں دل اور دل میں ایمان کی دولت ہو ، وہ آپ کے نقشِ پا ( نقشِ قدم ) سے بھلا کیوں نہ عشق کرے گا ۔ پتھر کے سینے پر ابھرے ہوئے آپ کے نقشِ قدم کو اہلِ دل اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں ۔

خلاصۂ کلام یہ کہ غالب کی فارسی نعت گوئی قابلِ قدر ہے اور فکری و فنی لحاظ سے اس میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں ، جو ان کی دیگر اصناف میں پائی جاتی ہیں ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غالب کا تعارف شاعرِ نعت کی حیثیت سے بھی کیا جائے ۔ اخلاق و کردار کے لحاظ سے غالب کی پوزیشن جو بھی ہو ، لیکن عشق و عقیدت سے آراستہ ان کی نعت و منقبت گوئی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔