حنا خراسانی رضوی
” مسٹر کریم! اُولف سے تمہاری جان پہچان کب سے ہے؟“ خاتون پولیس انسپکٹر ریتانے مجھ سے پوچھا۔
”جی نہیں! میری ان سے کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ میں توآج سے پہلے ان کا نام تک نہیں جانتا تھا۔“
”اوہ! توپھر تم کو کیسے پتہ چلا کہ وہ اپنے اپارٹمنٹ میں زخمی حالت میں پڑا ہوا ہے جبکہ اس کے پڑوس میں رہنے والوں کو بھی اس بات کا پتہ نہیں چلا۔“ انسپکٹر ریتا مشکوک لہجے میں بولی۔
میں نے گردن گھما کے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھا جو مجھے اجنبی نظروں سے گھور کر دیکھ رہے تھے۔میں ان کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا۔
” میں نے جو کہا وہ سچ ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں سڑک کے اس پار بلڈنگ نمبر ۵ میں رہتا ہوں اور ہر روز صبح جاگنگ کرتے ہوئے اس طرف آتا ہوں تو تھوڑی دیر اس چھوٹے سے تالاب کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں جس کے بالکل سامنے اُولف کا اپارٹمنٹ ہے۔“
” ایک منٹ رکو! تم اُولف سے کبھی ملے نہیں اور نہ ہی آج سے پہلے اس کا نام جانتے تھے مگر تمہیں یہ پتہ ہے کہ اس کا اپارٹمنٹ کون سا ہے؟“ انسپکٹر ریتا میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
اس کی بات سن کر ساتھ کھڑا ایک سپاہی تیزی سے میرے داہنی طرف آکریوں چوکناہوکر کھڑا ہوگیا گویا میں اپنی جگہ سے ہلا بھی تو وہ مجھ پر ٹوٹ پڑے گا۔ میں نے ہاتھ سے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا اوربرہمی سے بولا۔” انسپکٹر! تم مجھے اپنی بات مکمل تو کرنے دو۔ آدھی بات سن کے ہی تم مجھ پر چڑھ دوڑی ہو۔تمہارا یہ رویہ ٹھیک نہیں لگا مجھے۔“
میری ناراضگی محسوس کرکے وہ فوراً سنبھل کر بولی۔ ” نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔دراصل ہم پولیس والوں کو ہر بات کی پکڑ کرنے کی عادت سی پڑ جاتی ہے۔خیر آگے بتاؤ! تم کیا کہہ رہے تھے؟“
” میں کہہ رہا تھا کہ پچھلے دو مہینوں سے میں صبح سات بجے جاگنگ کرنے کے بعد یہاں اس تالاب کے کنارے آکر کچھ دیر بیٹھتا ہوں تو میری نظر سیدھی سامنے والی بالکونی پر جاتی ہے جہاں روزآنہ ایک آدمی ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے آتے جاتے لوگوں کو خاموشی سے کھڑا دیکھتا رہتا تھا۔ شاید یہ اس کا معمول تھا جسے میں بھی آٹھ ہفتوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ چار دن پہلے، جمعے کی بات ہے کہ وہ روز کی طرح بالکونی میں کھڑا تھا لیکن اس دن اس کی توجہ لوگوں پر نہیں تھی بلکہ وہ کسی سوچ میں گم تھااور بار بار سر کو جھٹک رہا تھا۔ اس کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے ایک موٹا سا اونی سوئیٹر پہنا ہوا تھا جبکہ موسم اتنا گرم بھی نہیں تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور بے ترتیب سے تھے اور شیو بھی بنی ہوئی نہیں لگ رہی تھی۔ خلاف معمول اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ بھی نہیں تھا۔میں نے سوچا کہ شایداس کی طبیعت خراب ہے۔ لیکن جب اگلے چار دن تک وہ مجھے دکھائی نہیں دیا تو مجھے تشویش ہونے لگی اور خیال آیا کہ اس کے بارے میں معلوم کروں۔یہ سوچ کر اس کی عمارت کی طرف بڑھا لیکن صدر دروازے پر کوڈ ہونے کی وجہ سے میں اندرداخل نہیں ہوسکا۔ تب میں نے اسی عمارت کی نچلی منزل میں رہنے والے اینڈریسن صاحب کی کھڑکی بجا کر ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فو راً اوپر جاکر اُولف کے گھر کی گھنٹی بجائی مگر جب کئی مرتبہ گھنٹی بجانے اور دروازہ پیٹنے کے بعد بھی کسی نے نہیں کھولا تو انہوں نے بلڈنگ انتظامیہ کو فون کیا۔ انہوں نے آکر جب دروازہ کھولا تو اُولف زخمی حالت میں فرش پر پڑا تھا۔ اس کا سر پھٹا ہوا تھا اورخون تیزی سے بہہ رہا تھا۔“
تفصیل بتا کر میں خاموش ہوا ہی تھا کہ مجھے اینڈریسن اپنی طرف آتے دکھائی دیئے۔ان کے قریب آنے پر میں انسپکٹر ریتا سے بولا۔” اگر تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں تو اینڈریسن سے پوچھ سکتی ہو۔ وہ اس واقعے کے گواہ ہیں۔“
” نہیں ابھی اس کی ضرورت نہیں۔ تم جاسکتے ہو لیکن ضرورت پڑی تو ہم پوچھ گچھ کے لیے تمہیں طلب کرسکتے ہیں۔اپنا فون نمبر اور ای میل مجھے اس نمبر پر بھیج دو۔“ انسپکٹر ریتا اپنے فون پر ایک نمبر دکھاتے ہوئے بولی۔
میں نے مطلوبہ معلومات اس کے نمبر پر بھیج کر اس سے اُولف کی موجودہ حالت کے بارے میں پوچھا تو وہ بولی۔” ویسے تو وہ اب خطرے سے باہر ہے لیکن ابھی مکمل طور پر ہوش نہیں آیا ہے۔ سر کی چوٹ کافی گہری ہے اور خون زیادہ بہہ جانے سے کمزوری بہت ہے۔ڈاکٹر کے مطابق تھوڑی دیر اور ہوتی اسے ہسپتال لانے میں تو جان بچانا ناممکن ہوتا۔“
”اس کے لیے یہ نوجوان، کریم شکریئے کا مستحق ہے جس نے اُولف کی خبر گیری کرکے اس کی زندگی بچائی ورنہ چوٹ تو واقعی بہت گہری تھی۔ سرتو تقریبا کھل چکا تھا۔“ اینڈریسن شفقت سے میرا شانہ تھپتھپا کر بولا۔
”تم نے ٹھیک کہا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی گہری چوٹ کسی چیز سے ٹکرا کے گرنے سے آنا ممکن نہیں“۔ انسپکٹر ریتا مجھے بغور دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ ”بہرحال دیکھتے ہیں کہ اُولف ہوش میں آنے کے بعد کیا بیان دیتا ہے۔“
اس سے پہلے کہ مجھے اس کی بات پر غصہ آتا میں ان سے رخصت لے کر گھر کی جانب چل پڑا۔تیسرے دن انسپکٹر ریتا کا میرے پاس فون آیا اور اس نے بتایا کہ اُولف کو ہوش آگیا ہے اور اس نے اپنا بیان بھی دے دیا ہے کہ وہ گھر میں اکیلا اور بیمار تھا۔ اس کی بیوی آنیکا اپنے والدین سے ملنے اسپین گئی ہوئی تھی۔وہ پانی پینے کے لیے اٹھا تھا کہ تیز بخار کی وجہ سے اس کا سر چکرایا اور وہ لوہے کے بھاری مجسمے سے ٹکراکے گر گیا۔ اس کے بعد اس کو کچھ یاد نہیں۔ اسے جب میرے بارے میں بتایا گیا کہ کس طرح میں نے ناآشنائی کے باوجود اس کی فکر کی اور مددکی تو وہ مجھ سے ملنے کا شدید خواہشمند ہے۔انسپکٹر ریتا نے مجھ سے کہا کہ اگر میں چاہوں تو اس سے ہسپتال جاکر ملاقاتی اوقات میں مل سکتا ہوں۔
میں اگلے دن شام چار بجے پھولوں کی دکان سے خوبصورت سا گلدستہ لیکر ہسپتال پہنچا اور کاونٹر سے اُولف کے کمرے کا نمبر معلوم کر کے اس طرف بڑھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اوربستر پر مشینوں اور پٹیوں میں جکڑا ہوا اُولف میرے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ قریب ہی رکھے یک نشستی صوفے پر ایک پینتیس چھتیس سال کی خوش شکل عورت بیٹھی ہوئی فیشن میگزین کی ورق گردانی کررہی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر گلدستہ پیش کر کے جونہی اپنا نام بتایا تو وہ تیزی سے اٹھی اور قریب آکر بولی۔” اچھا! تو تم ہو کریم۔ اُولف بے صبری سے تمہارا منتظر ہے۔ میں نے اُولف کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا اور اشارے سے مجھے قریب بلایا۔قریب آنے پر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہلکے سے دبایا اور دھیمی آواز میں شکریہ کہا۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسوجھلملا رہے تھے۔میں نے بھی دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام کر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اتنے میں آنیکا میری طرف دیکھ کر اُولف سے کہنے لگی۔”میرا خیال ہے اب مسٹر کریم کو جانا چاہیئے کیونکہ تمہیں ابھی آرام کی شدید ضرورت ہے۔ ہم بعد میں انہیں گھر پر بلائیں گے اور ڈھنگ سے ان کا شکریہ ادا کریں گے۔“
میں نے بھی موقع کی مناسبت سے اجازت چاہی اورملنے کا وعدہ کرکے کمرے سے باہر آگیا۔دو چار قدم ہی چلا تھا کہ پیچھے سے آنیکا کی آواز سنائی دی۔” مسٹر کریم! ایک منٹ رکو! مجھے کچھ کہنا ہے۔“
میں نے رک کر اس کی طرف دیکھا اور سوچا کہ شاید اپنے طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے کہ آخرِ کار میں نے اس کے شوہر کی جان بچائی ہے۔ وہ میرے قریب آئی اورمجھے سر سے پیر تک دیکھنے کے بعد نفرت زدہ لہجے میں بولی۔” تم ایشیائی لوگ اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتے۔ ہر ایک کے معاملات میں ٹانگ اڑانا ضروری ہے کیا۔“
اس کی بات سن کر میرے دماغ میں انسپکٹر ریتا کا جملہ گونجنے لگا۔” اتنی گہری چوٹ کسی چیز سے ٹکرا کے گرنے سے آنا ممکن نہیں۔“