از: ڈاکٹر منظور احمد دکنی
شعبۂ اردو و فارسی،گلبرگہ یونیورسٹی،گلبرگہ
Email: drmnzrd@gmail.com
رسالہ یا جریدہ،وہ صحیفہ یا Printing Material کامجموعہ ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم کی علمی و ادبی کاوشوں، جذبات و احساسات اور تجربات وخیالات کی عکاسی ملتی ہے۔ مضامین،تخلیقات ا ورمقالات قاری تک پہنچتے ہیں اوردعوت فکر بھی دیتے ہیں۔ رسائل و جرائد ہماری، حیات کی تاریخ ہوتے ہیں اور ماضی کی داستان بھی مستقبل کالائحہ عمل بھی ……۔
اُردو کے رسائل و جرائد کی تاریخ، رول اور خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو خاصی مایوسی ہوتی ہے۔ مگر بہت حد تک اطمینان بھی ہوتا ہے کہ نامساعد حالات میں بھی اردو کے رسائل و جرائد نے اپناکردار بحسن وخوبی نبھا تے ہوئے علم و ادب کی آبیاری کی ہے۔ اردو کا ایک عام ادیب، ایک دہا تا نصف صدی، ادب سے جڑا رہتا ہے۔اس کے باوجود سینکڑوں ادیبوں کی کتابیں منظرعام پر نہیں آتیں۔ اس طرح کی صورت حال میں رسائل و جرائد ان ادیبوں کی نگارشات کی ترسیل و ابلاغ میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ آج بھی سینکڑوں قلم کاروں کی نگارشات ان رسائل و جرائد میں محفوظ ہیں تاہم ان کی کتابیں ہنوز اشاعت کی منتظرہیں۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ کئی ایک قلم کاروں کی کتابوں کی اشاعت ان رسائل و جرائد کی مرہون منت ہیں۔ اس اعتبار سے بھی اردو کے رسائل و جرائد کی اہمیت، افادیت اور خدمات کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔
اردو زبان میں صحافت اورادبی و علمی رسائل کا آغاز انیسویں صدی میں شروع ہوتا ہے۔ 1845 میں سینکڑوں قلمی، ادبی گل دستے شائع ہوئے جن کی اہمیت اورافادیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ان گل دستوں نے مذہبی،علمی و ادبی نگارشات کی عکاسی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اس اثناء میں ملک کے گوشے گوشے سے، رسائل و جرائد شائع ہوتے رہے۔حیدرآباد میں 1855سے 1899تک 19رسائل وجرائد اور 14گل دستے شائع ہوئے۔ ڈاکٹر مظفر شہ میری نے اپنے مضمون ”دکن میں اردو صحافت کادستور عمل“ میں لکھا ہے کہ 1900سے 1944تک حیدرآباد دکن سے 135رسائل وجرائد اور اخبارات اور چھ(6) گل دستے شائع ہوئے۔انہوں نے ان رسالوں کے نام بھی تحریر کئے ہیں۔ان رسائل اور اخبارات میں رسالہ تاج(1914)،رسالہ اردو (1921)، مجلہ عثمانیہ ( 1927)، مجلہ مکتبہ (1928)، تاریخ (1929)، رسالہ سب رس ( 1932)، نیادور(1944)ا، رسالہ نیا زمانہ( 1947) وغیرہ شامل ہیں۔
آزادی کے بعد 1950سے 1975کے عرصہ کو ہم اردو رسائل و جرائد کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں۔ اس عرصہ میں حیدرآباد سے چار قابل ذکر رسالے شائع ہوئے۔جن میں صبا،’پیکر‘،’شعروحکمت‘ اور ’شگوفہ‘ قابلِ ذکر ہیں۔اس کے بعد کے ادوار میں بھی مختلف رسالے اور جریدے شائع ہوتے رہے۔اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر”مجلہ رضویہ“ کو شامل کیا جاسکتا ہے جو سالنامہ کی شکل میں پچھلی ربع صدی سے علم و ادب اور صوفیانہ افکار و نظریات کے فروغ و اشاعت میں سرگرم کردار ادا کررہا ہے۔اس جریدہ کی اشاعت میں شاہ رضا اکیڈمی اور ان کے سرپرست اعلیٰ حضرت سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی کی کاوشیں قابلِ مبارک باد ہیں۔ جنہوں نے اپنے اجداد کی صوفیانہ افکار و نظریات کی ترسیل و ابلاغ کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ مادہ پرستانہ ماحول میں صوفیانہ افکار کی نشر و اشاعت اور تعلیم و تربیت ہوسکے۔اس تناظر میں حضرت سید شاہ اسرا حسین کی شخصیت شریعت،طریقت،حقیقت اور معرفت کے حسین امتزاج کی عمدہ مثال قرار دی جاسکتی ہے جنہوں نے اپنے علم و عمل سے عوام و خواص کو متاثر کیا۔ خانوادہ عالیہ رضویہ کی علمی و صوفیانہ خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا فصیح الدین نظامی لکھتے ہیں:
”مشائخَ حیدرآباد کی انفرادی،ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ خانقاہی سطح پر بھی کاروانِ ادب جاری ہے جس کی لائق تقلید مثال خانقاہِ عالیہ رضویہ ہے جہاں تین سو سال سے ذکر ا اذکار، رشد و ہدایت کا دیا روشن ہے اور مذہب کے ساتھ ادب کی خدمت بھی جاری ہے۔“
تین صدیوں کی اس مقدس روایت کوقائم و دائم رکھتے ہوئے،اس خانقاہ کے موجوہ سجادہ نشین نے عرس تقریبات کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی مذاکرہ کا بھی اہتمام کیا۔جس میں مختلف علمی،ادبی اور صوفیانہ اہلِ علم و دانش شخصیات کو اس مذاکرہ میں اپنے مقالات پیش کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔یہ سلسلہ پچھلی ربع صدی سے جاری ہے۔مذاکرہ میں پیش کردہ مقالات اور نعت و منقبت کو کتابی شکل میں پیش کیا جاتارہا ہے۔اس سلسلہ میں پہلی کاوش 22/ جنوری 1990 کی گئی۔ایک مختصر جریدہ منظرِ عام پر لایا گیا۔ابتدائی چند سالوں میں یہ جریدہ ”تصرفات بعد وصال“، ”جاء الحق و زھق الباطل“، ”مجموعہ تجلیات“،’]آئینہ تصوف“،”پیام تصوف“،،”اسلام سائنس اور تصوف“،”اور افکارِ تصوف“ وغیرہ ناموں سے شائع ہوتا رہا۔لیکن جولائی 2005 سے یہ جریدہ ”مجلہ رضویہ“ کے نام سے شائع ہورہا ہے۔
مجلہ رضویہ کی اشاعت میں حضرت سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی کی شخصیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔وہ نہ صرف شاہ رضا اکیڈ می کی پرستی فرماتے ہیں بلکہ اس مجلہ کے نگرانکار اور مدیرِ اعلیٰ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ ایک قلم کار کی حیثیت سے نعت و منقبت کے ذریعے ادب و شعر کی خدمات بھی کرتے آرہے ہیں۔ان کی نعوت و مناقب کے مطالعہ سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی شاعری نہ صرف عشقِ رسول اور عشقِ اولیاء کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ ان کے یہاں شاعری کے فنی تقاضے بھی تکمیل پاتے ہیں۔حضرت اسرار حسین قبلہ کی ہمہ جہت اور ہشت پہلوشخصیت پر مولانا فصیح الدین نظامی رقم طراز ہیں:
”ان تمام علمی و ادبی سرگرمیوں کی روحِ رواں خانقاہِ عالیہ رضویہ کی وہ قابلِ احترام ہستی ہیں جو چلے تو جلوس، بیٹھ جائے تو جلسہ، زبان کھولے تو درسگاہ، آنکھ بند کرے تو خانقاہ،پیرِ تحمل،تصویرِ تجمل،ینویرِ تعقل،تمثیلِ توکل،عاشقِ حبیبِ کبریا، محبِ صحابہ،شیدائے اہلِ بیت و من کنت مولا، وارفتہ اولیا ء اللہ،گل گلزارِ رضویہ،حامی شریعت،واقفِ طریقت،سالکِ حقیقت،حضرت سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی چشتی قادری نظامی شطاری ادام اللہ فیضہ النورانی زیب سجادہ ہیں،جو دکن کے علمی،ادبی، مذہبی،ملی حلقوں میں ایک ممتاز زشخصیت کے مالک اور سراج المشائخ سے مشہور ہیں،آپ کے ہزار ہا مریدین ہندو پاک کے علاوہ امریکہ،کینڈا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارت میں موجود ہیں۔کئی غیر مسلموں نے بھی آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔تاحال خدمتِ خلق کا سلسلہ شب و روز جاری ہے۔“
’مجلہ رضویہ‘ کے ابتدائی ادارتی عملے میں خواجہ اکرام الدین رضوی،سید بشیر احمد حسینی،کے نام اہمیت رکھتے ہیں۔بعد ازاں اس کارواں میں محمد فصیح الدین نظامی شامل ہوئے تو اس مجلہ کی تزین کاری اوردیدہ زیبی میں اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ اس مجلہ کی معنوی و صوری حیثیت بھی اعتبار پانے لگی۔مولانا فصیح الدین نظامی کی علمی و صحافتی خدمات کے بارے میں دنیا واقف ہے کہ وہ جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ نظامیہ ان کے محبوب موضوعات رہے ہیں۔ان کی بے مثال علمی و ادبی خدمات کے پیشِ نظر عبدالمجید افسر نے ان پر تحقیقی کام کرتے ہوئے سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد سے ایم۔فل کی ڈگری حاصل کی۔مولانافصیح الدین کی علمی و ادبی وابستگی کے سلسلہ میں عبدالمجید افسر نے بڑے پتہ کی بات کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
”رشید احمد صدیقی اردو ادب کے معرو ف قلم کار ہیں، علی گڑھ یونیورسٹی سے وابستگی کا یہ عالم ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں اپنی مادرِ علمیہ علی گڑھ کا ذکر کر ہی دیتے ہیں۔ گو یا علی گڑھ اور اس کی سر گرمیاں اُن کے رگ و پے میں سرا یت کر گئی ہیں غالباً اسی وجہ سے یہ بات بلکہ زبان زدِ خاص و عام ہے کہ علی گڑھ کو رشید احمد صدیقی سے اور رشید احمد صدیقی کو علی گڑھ سے الگ نہیں کیاجا سکتا۔ٹھیک یہی صورت ِ حال مولانا نظامی پربھی صا دق آتی ہے۔ مولانا نظامی کی ان تمام تصنیفا ت و تالیفات میں جامعہ نظامیہ اوربانی جامعہ نظامیہ کا تذکرہ اس وابستگی اور پیوستگی کے ساتھ کر تے ہیں کہ ان کا جسم جامعہ نظامیہ کے ساتھ اور روح بانی جامعہ نظامیہ کے ساتھ نظر آ تی ہے۔ لہٰذا مولانا نظامی کو جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ نظامیہ کا عاشقِ با مراد کہنے میں کوئی تا ئمل نہیں ہو نا چاہیئے۔“
مجلہ رضویہ میں علمی و ادبی نگارشات نہایت اہتمام کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں۔اس علمی کاروان میں میر کمال الدین علی خاں، ڈاکٹرسیدحمید الدین شرفی، مولانامحمدجلال الدین کامل، قاضی محمدسید اعظم علی صوفی، مولاناسید صادق محی الدین، مولانا سیدلیاقت حسین رضوی،مولاناضیا الدین نقش بندی،پروفیسرافضل محمد، پروفیسر عبدالحمید اکبر، پروفیسر مصطفی شریف، پروفیسر یوسف حسینی، پروفیسر مجید بیدار، پروفیسر عقیل ہاشمی، اور مولانا فصیح الدین نظامی وغیرہ یہ وہ چند نام ہیں جومجلہ رضویہ کیلئے سرمایہ بہاراں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مجلہ رضویہ کے اس پچیس سالہ دور میں کوئی بیس شمارے، اور مختلف علمی موضوعات پر پانچ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔یہ ایک عام تاثر ہے کہ مجلہ رضویہ نہ صرف صوفیانہ رجحانات کا نمائندہ رسالہ ہے بلکہ یہ ایک مکمل علمی و ادبی جریدہ بھی ہے،جن میں علمی و ادبی مضامیں کے ساتھ ساتھ نعتوں اور منقبتوں کو بھی شامل کیا جاتا رہاہے۔ اس مجلہ کے چودہ شماروں میں پچاس سے زیادہ مقالات شائع ہوئے ہیں۔ان مقالہ نگاروں نے اہم موضوعات پر اپنے افکار و نظریات کو پیش کیا۔بالخصوص،یونیورسٹیوں سے وابستہ افراد نے اپنے مقالات میں،زبان وبیان، طریقۂ پیش کش میں تحقیقی و تنقید ی کے اصولوں کو بروئے کارلائے ہیں۔ یوں تو بیشتر مقالے معیار و اعتبار رکھتے ہی ہیں اور کچھ مقالے جیسے اقبال اور تصوف،تعلیمات تصوف اور مثنوی مولانا روم،حضرت امام غزالی اور تصوف،خا نقاہی نظام کی ضرورت اور اہمیت،اشاعت اسلام دکن کے صوفہ کرام وغیرہ تحقیقی و تنقیدی مقالات ہیں۔یہ مقالے زبان اور طریقہ پیشکش کے لحاظ سے بھی اہلِ علم و دانش کو متاثر کرتے ہیں۔دیگر مقالوں میں تصوف اور خدمت خلق،،اسلام اور سائنس،،تصوف اور اصلاح، باطن،فتنہ قاد یانیت کا سدِ باب وغیرہ بھی اہم مقالات میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔فہرست میں شامل اکثر مقالات معا شرے میں پائے جانے والی بے عملی،جہل،غفلت اور پستی کو دور کرنے اور اپنے اسلاف کے کارناموں سے روشنی حاصل کرنے اور صالح معاشرہ کی تعمیرو تشکیل میں خانقاہی نظام اور صوفیانہ افکار کی تجلیات مترشح ہوتی ہیں۔ان تمام مقالات پر گفتگو کرنے کی بجائے ان کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر ذیل میں صرف چند شماروں کے مقالات کے اشاریے پر اکتفا کیاجارہا ہے جو حروفِ تہجی کے لحاظ سے ترتیب دئے گئے ہیں:
غرض مجلہ رضویہ نے معاصرانہ مجلاتی صحافت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے جریدے کے ذریعے بنیادی سطح پر عوام کے درمیان اپنے عقائد و نظریات کے فروغ و اشاعت، مسلکی افکار کی ترویج،اور صوفی مشرب معاشرے کی تشکیل اور علمی و فکری مزاج قائم کرنے میں اہم رول ادا کررہا ہے اور اہلِ سنت کی علمی و فکری وقار،منہاج ا ور اعتبار کی بازیابی کے لئے نہ صرف کوشاں ہے بلکہ ان خدمات پر بفضلہ تعالیٰ شاداں و فرحاں بھی ہے۔بہر کیف”مجلہ رضویہ“ صوفیانہ افکار واقدار اور اخلاق و کردار کی گویا ایک کائنات تخلیق کررہا ہے جس کے لئے مدیرِ اعلیٰ حضرت سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی قبلہ(مرحوم و مغفور)،مدیرِ مکرم حضرت مولانا محمد فصیح الدین نظامی اور مولانا سید شاہ لیاقت حسین رضوی المدنی اور ان کے دیگر معاونین قابلِ مبارک باد ہیں۔
(٭)