محمد سراج عظیم دہلی
ادب اطفال کے سلسلے میں راقم الحروف نے اردو ادب کے بڑے ادیبوں کی اکثر جو بھی تحریریں پڑھیں، ان میں مجھے ایک جملہ اکثر و بیشتر قدرِمشترک کی طرح برابر پڑھنے کو ملا کہ بچوں کا ادب تحریر کرنا بڑا مشکل تخلیقی کام ہے۔ اس میں بچّے کی ذہنی سطح پر اُتر کر لکھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کے اور متعدد جملے بھی پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے جملے پڑھ کر میں ایک ذہنی کشمکش کا شکار ہوا اور اپنے طور پر اس امر کا تجزیہ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہوگیا کہ آخر اسکی وجوہات کیا ہیں؟
میری اپنی ناقص رائے میں پہلی وجہ یہ ہے کہ بچّوں کے ادیب کا طبیعتاً معصوم ہونا ضروری ہے۔ دوسرے،بچّوں کی فطرت کا نفسیاتی مشاہدہ عمیق ہونا چاہیے۔ تیسرے،لوگوں کا یہ نظریہ بالکل درست ہے کہ اردو ادب میں ادبِ اطفال کے ادیبوں کو وہ مقام اور شناخت حاصل نہیں ہوتی جو ادبِ عالیہ کے ادبا اور شعرا کو میسّر ہوتی ہے۔ غالباً اس کی اصل وجہ ہمارے سماج کی جغرافیائی اور ثقافتی نقطہ نظر سے سوچ اور نظریات کا وہ چلن ہے، جس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ادب اطفال سے وہ مقام اور وقار حاصل نہیں ہوتا ہے جو main stream ادب سے یا ادب عالیہ سے ملتا ہے۔ اس کا ایک خاص پہلو اقتصادی رجحان بھی ہے۔ اسی لیے اردو کے بڑے ادیب بچّوں کے ادب کی بچکانہ تحریروں کو مشق سخن بنانے سے اجتناب برتتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے ممالک، خاص طور سے یورپ میں بچّوں کے ادب اور ادیبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کو بھی وہی مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے جو ادب عالیہ کے دوسرے ادیبوں و شاعروں کو ملتا ہے۔
زیر مطالعہ کتاب باتونی لڑکی کے خالق رئیس صدیقی میرے متذکرہ بالا بیان کی نفی کرتے ہوئے ایک روشن مثال ہیں۔ پچھلی چار دہائیوں سے وہ اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت ہیں۔ شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، مضمون نگار، انٹرویور، صحافی، اناؤنسر، نیوز ریدر، ڈرامہ وائس آرٹسٹ، اسٹیج، ریڈیو،ٹی وی اور ٹیلی فلم ایکٹر، ڈائریکٹر اور پروڈیو سر ہوتے ہوئے بھی، ایک کامیاب بچوں کے ادیب بھی ہیں۔ در حقیقت وہ ادب اطفال کے معصوم مسافر ہیں۔انھوں نے ادب اطفال سنا، دیکھا، پڑھا اور جیا ہے اور اب بھی جی رہے ہیں یعنی انکا یہ سفر جاری ہے۔
اسّی کی دہائی سے ریڈیو، ٹی وی کے مختلف پروگرام پیش کرتے کرتے یوپی ایس سی کا امتحان پاس کیا اور باقائدہ آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن سے منسلک ہوگئے، جہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نہ صرف جلا ملی بلکہ ان ہی صلاحیتوں کی بنا پر ریڈیوو ٹی وی پر کامیاب پروگرام پروڈیوس کیے، جن میں ان کا کاریڈیو پر بچّوں کے ادیبوں سے انٹرویو کا پروگرام قابلِ ذکر ہے جو بعد میں ”جان پہچان“ کے عنوان سے دلی اردو اکادمی کی مالی مدد سے کتابی شکل میں شائع ہوکر مقبول ہوئے۔ گویا کہ یہاں بھی ان کی بچّوں کے ادب سے دلچسپی عیاں تھی۔
اپنی منصبی ذمہ داریوں کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود، رئیس صدیقی اپنے تخلیقی Passion کے خدو خال تراشتے رہے اور الیکٹرانک میڈیا سے برسر پیکار ہونے کی وجہ سے انھوں نے اپنی ایک منفرد شناخت بنائی اور اردو ادب کے صف اوّل کے ان ادبا و شعرا، جیسے، عمیق حنفی، رفعت سروش، زبیر رضوی،موج رامپوری وغیرہ کے شانہ بہ شانہ مقام حاصل کرلیا۔لیکن رئیس صدیقی کے اندر کا معصوم و بے چین بچّہ کچھ ایسا کرنے کی خواہش میں نت نئی کہانیاں لکھنے کے لیے ضد کرتا اور مچلتا رہا اور یکے بعد دیگرے ان کی چار بچّوں کی کہانیوں کی کتابیں معرض وجود میں آگئیں: شیروں کی رانی، ننھا بہادر، شیرازی کہانیاں اور باتونی لڑکی۔دیگر کتابیں بھی بچوں سے ہی متعلق ہیں۔ جیسے چالیس مضامین کا مجموعہ جو میں نے جانا، اچھا خط کیسے لکھیں؟َ
عصرِ حاضر میں بچّوں کے ادب میں بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ ماضی کے مقابلے دورِ حاضر میں خاصی تعداد میں کتابیں بھی شائع ہورہی ہیں مگر کیا لکھا جا رہا ہے، اس میں دلچسپی اور کشش کا عنصر بھی شامل ہے کہ نہیں، اس سے اذہان ُمبرا ہیں۔ کوئی سو کتابوں کا مصنف ہوگیا تو کوئی پچاس اور خود ساختہ تعریفوں کی بلندی پر کھڑا ہوکر آج کل کے رائج ایوارڈ اور انعامات میں سرگرداں اہل اختیار کے در کی کنڈیاں کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بہرکیف،رئیس صدیقی نے اپنے فن کو بہتر سے بہتر شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی، بجز اس کے کہ انعامات و ایوارڈ کی لائن میں لگتے۔ جہاں خلوص،نیت اور جذبہء ا حسن کارفرما ہوتو شاہکار جنم لیتا ہے۔ اگر نیت میں لالچ کا فتور ہوتا ہے تو ایسی شکل جنم لیتی ہے جو ہرگزرتے لمحہ کے ساتھ معدوم ہوجاتی ہے۔ رئیس صدیقی کی کہانیوں میں دلچسپی، مقصد اور تحریری کشش ایک Latent heat کی طرح تہہ نشین رہتی ہے۔
”باتونی لڑکی“ رئیس صدیقی کی بچّوں کے لیے کہانیوں کی کتاب ہے۔ اس کتاب کو ترتیب وار اس طرح مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ شروع اور آخر میں ادب ِاردو کے معتبر مشاہیر کے رئیس صدیقی اوران کے فن پر تعریفی و توصیفی رشحات قلم، دوسرا حصّہ چودہ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ایک ڈرامہ تیسرے حصّہ میں۔دنیائے اسلام و ادب کی دو معتبر و مشہور شخصیات عبدالرحیم خانِ خاناں اور مولانا جلال الدین رومی کی حیا ت اور انکے چند قصے شامل ہیں۔
رئیس صدیقی کی باتونی لڑکی واقعتا ً بہت بولتی ہے لیکن ضرورت کے تحت خاموشی اور صبر کا بھی مظاہرہ کرتی ہے اور آخر میں سب کی خوشی اور محبت کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ ایک آئیڈیل کے طور پر ابھرتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس جملے میں رئیس صدیقی کے طرز تحریر، اسلوب و بیان، خارجی و داخلی کیفیت کو میں نے ان کی ہی کہانی ”باتونی لڑکی“ کو استعارہ کی شکل میں لیا ہے۔
رئیس صدیقی کی کوئی بھی کہانی کا آغاز بارش کی ہلکی بہتی پھوار کی طرح ہوتا ہے، پھر تیز ہواؤں، گرج دار بارش اور آخر میں بارش کے تھمنے کے بعد، دل و جاں پر فضاء کا لطیف و مسحور کن اثر سرائیت کرجاتا ہے۔ شاید میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ رئیس صدیقی کا یہ انداز منفرد ہے۔ وہ پلاٹ کو کہاں سے اٹھاتے ہیں، کن کن مراحل سے گزارتے ہیں اور ایسی Soft Heading قائم کرتے ہیں کہ معصوم قاری کے ذہن پر ایک ایسا اثر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس کے سحرآگیں ماحول سے نکل نہیں پاتا اوراپنے آپ کو اسی میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ در اصل ر ئیس صدیقی کی یہ ر تحریریں رئیسانہ وراثت ہے۔
کہانی باتونی لڑکی میں انہوں نے بہت چلبلے انداز میں وعدہ خلافی اور جھوٹ نہ بولنے کی اس طرح نصیحت کردی کہ کسی کو احساس بھی نہ ہوسکا۔ رئیس صدیقی کے یہاں موضوعات کا تنوع اور واقعات کا طلسم ملتا ہے۔ اختصار کے ساتھ اپنی کہانیوں کے تانے بانے کو بُننا اور اپنی بات کو معصوم قاری کے ذہن پر مرتسم کرنے کے فن سے وہ بہت اچّھی طرح واقف ہیں۔
انسانیت کے مسکراتے پھول، ٹھوکر، سزا، ایسی کہانیاں ہیں جن میں رئیس صدیقی نے بچّوں کے ذہن میں اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے اچّھے بُرے اعمال کا نتیجہ اللہ کی طرف سے انعام اور سزا کے طور پر ہمیں ضرور ملتا ہے۔ اسی طرح ضمیر، تلاش اور غریب مہمان میں انہوں نے آج کے دور میں پامال ہوتی اخلاقی قدروں کا بہت احسن طریقے سے غیر محسوس طور پر جو سبق دیا ہے، وہ دل کو چھولینے والا انداز ہے۔ رئیس صدیقی نے کہیں کردار کو تو کہیں واقعات کو اورکہیں انجام کو مرکز بناکر کہانی کی بُنت کی ہے جس کی مثال ”معصوم آرزو، شاہین، اب“ ہیں۔ ٹکٹ ٹکٹ ٹکٹ، شرط، اپریل فول ایسی کہانیاں ہیں جہاں کردار خود اپنی ہی ہوشیاری کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ شرمندگی اورذلالت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ لیکن یہ رئیس صدیقی کا اسلوب ہے کہ الفاظ کی چاشنی اور مختصر بیانیہ میں اثر انگیزی کے ساتھ وہ پندو نصائح کے سبق کو ملفوف کرکے معصوم قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
ریشمی جنگ تاریخ کے پنوں سے معرض وجود میں آئی کہانی ہے۔ یہاں بھی رئیس صدیقی نے اپنی تخلیقی جبلیت کے زیر اثر ایک اہم واقعہ کی مختصر اً ایسی عکّاسی کی کہ کینوس پر غرور و تکبّر کا ایسا منظر ابھرا جس نے تاریخ میں ایک چھوٹی سی بات سے خون کی سیاہی سے داستان مرتب کردی۔ معصوم قاری کے لیے رئیس صدیقی نے تاریخ کے واقعے کو بہت حسین پیرائے میں پیش کرکے اس میں پوشیدہ پیغام کو اجاگر کیا ہے۔ خان خاناں اور رومی کے واقعات اور قصوں کو رئیس صدیقی نے اپنے ہی انداز میں پیش کیا ہے جو قاری کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ ڈرامہ ”وعدہ“ اصل میں ”باتونی لڑکی“ کہانی کا ہی پرتوخیال ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اس کے پلاٹ کے ساتھ چابکدستی سے ٹریٹمنٹ کیا ہے۔ یہ رئیس صدیقی کے قلم کی خوبی ہے۔
رئیس صدیقی ثقیل الفاظ اور مبہم اور طویل جملوں کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے اپنی بچوں کی کہانیوں کو ایسے دلنشیں انداز میں پیش کرتے ہیں کہ وہ ان کے اذہان پر خوش کن تاثّر چھوڑ جاتی ہیں، جو ان کے شعور میں کہیں نہ کہیں پختہ ہوجاتی ہیں اور ان کو اعلیٰ کردار اور ذہنی بالیدگی کی جانب رجوع کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کو چھوٹے بڑے سبھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ اپنے منفرد انداز بیان اور مقناطیسی تحریروں کے ذریعے رئیس صدیقی ادبِ اطفال میں مزیداضافہ کا باعث ہوں گے۔