خصوصی انٹرویو
جناب گوپی چند نارنگ صاحب
از۔ حنا خراسانی رضوی

آداب عرض ہے!
ورثہ کے”گوشہ انٹرویو“ میں آج ہم جس ہمہ صفت شخصیت سے خصوصی گفتگو کریں گے خلائق میں وہ جناب گوپی چند نارنگ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔آپ عصرِ حاضر کے بلند پایہ نقاد، محقق، ادیب، دانشور اورماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ تھیوری کے ماہر ہونے کا شرف بھی رکھتے ہیں۔ ملکی و غیر ملکی درسگاہوں میں اُردو کی درس و تدریس آپ کے فرائض میں شامل رہی ہے۔ تصنیفات و تالیفات کے میدان میں بھی آپ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں اور آپ نے اُردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں تنقید و تحقیق اور شعریات کے میدان میں ستّر سے زائد کتابیں دنیا ئے ادب کی نذر کیں ہیں۔زبان و ادب کے لئے کی گئی آپ کی بیش بہا خدمات کے صلے میں ہندوستان میں آپ کوپدما بھوشن اور پدم شری ایوارڈدیئے گئے جبکہ پاکستان میں آپ کو صدارتی ایوارڈ ستارہئ امتیاز پیش کیا گیا۔علاوہ ازیں آپ ہندوستان کے ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے اور بخوبی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ایمریٹس پروفیسر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قارئین!گو کہ ایک ملاقات میں گوپی چند نارنگ صاحب کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں تاہم اس مختصر وقت میں، میں سمندر کو قطرے میں جذب کرنے کی کوشش کروں گی، امید ہے کہ قبولیت ملے گی۔
آداب! کیسے مزاج ہیں آپ کے گوپی چند نارنگ صاحب؟
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ آداب، خدا کا شکر ہے، کرم ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ خدا ہمیشہ خیریت رکھے۔ سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا۔ نارنگ صاحب آج کی گفتگو میں ہم آپ کی زبانی ہی آپ کو جاننے کے خواشمند ہیں،تو کچھ اپنی عمر کے ابتدائی دورکے بارے میں فرمائیے؟
گوپی چند نارنگ۔۔پیشتر اس کے کہ میں اپنے بارے میں کچھ عرض کروں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جوآج کل کے حالات ہیں، آپ سویڈن سے بول رہی ہیں، میں دلّی سے عرض کررہا ہوں اور رئیس وارثی صاحب میرے عزیز گرامی کا پرچہ ”ورثہ“ نیویارک سے نکلتا ہے۔دیکھئے دنیا کتنی بدل گئی ہے۔ اس کرونا وائرس سے پچھلے دو برسوں میں انسان کی زندگی میں جو انقلاب آیا ہے اس پر تو پورے کے پورے دفتر لکھے جائیں گے اور مجھے تو فراق کا یہ شعر حنا صاحبہ،میں آپ کو کہہ سکتا ہوں حنا صاحبہ؟
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی جی بالکل۔ میرے لئے تو یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آپ مجھے میرے نام سے پکار رہے ہیں۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔جیتی رہیئے، فراق کا شعر ہے
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
رات تو ویسے ہی رات ہوتی ہے اب تو دن بھی لاک ڈاؤن میں گزرتا ہے۔ کیسے کیسے لوگ اور کیسی کیسی شعر و ادب کی مایہ ناز ہستیاں ایک کے بعد ایک،جس طرح سے دنیا سے اٹھ گئیں کیا کہوں! بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں اس وقت اپنی زندگی کے ۱۹ سال پورے کرچکا ہوں اور ۲۹ سال میں قدم رکھ چکا ہوں۔ مجھے پہلے جانا چاہیئے تھا۔جن کو میرے بعد اٹھنا چاہیئے تھاافسوس یہ ہے کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے چلے گئے۔
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
کتنے ہمارے ساتھ کے تھے یار مرگئے
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی، اس وبا کے ہاتھوں جانے والوں کا دکھ بہت بڑا ہے۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ نوازش، میری پیدائش تحصیل دُکی،ضلع لورالائی، بلوچستان میں ہوئی اور اس کے سال ڈیڑھ سال بعد میرے والد صاحب کا تبادلہ موسیٰ خیل میں ہوگیا جو کہ لورالائی میں ہی واقع ہے۔ میرے خاندان کا آبائی وطن مغربی پنجاب میں لیّہ، ضلع مظفر گڑھ ہے۔ میں پشین میں بھی رہا ہوں۔ کوئٹے سے آخری اسٹیشن والد صاحب کا پشین تھا،کوئی تیس میل ہے۔ یہ وہی ریلوے لائن ہے جو کوئٹہ سے چمن تک چلی گئی ہے۔ چمن وہ علاقہ جو انگوروں کے لئے آج بھی مشہور ہے اور بیچ میں دیکھئے کہ کیسے کیسے اسٹیشن آتے ہیں اور ان کے نام دیکھئے،گلستان، بوستان اور اس طرح سارا سلسلہ خراسان اور افغانستان کی پہاڑیوں تک چلا گیا ہے۔ یہ سارا علاقہ خشک پہاڑوں کا ہے اور جہاں جہاں کوئی چشمہ نکل آیا ہے یا کاریز مل گئی ہے تو چمن اُگ آئے ہیں۔ انگوروں کی بیلیں لٹک رہی ہیں، انار،سیب، شفتالو، آلوچے، آڑو، آلو بخارے اور کیسے کیسے پھل اور کیسی کیسی سرسبزی بہرحال یہ سارا علاقہ اور یوں دیکھئے تو پورے پاکستان کا علاقہ اور یہ سارا ہمارا برصغیرکس قدر خوبصورت ہے اور آپ کے یہاں یہ ساری پہاڑیوں کا سلسلہ جو شروع ہوتا ہے،کوہ سلیمان ہے، خیبر ہے اور اوپر گلگت، اُدھر لداخ پھر نیچے اوپر کشمیر کی وادی، ڈل، اور وہاں سے ہمالیہ سے ادھر سلک روٹ سے اترتے ہوئے کیسا حسن ہے اس طرف بھی اور اُس طرف بھی۔ یہ جو قصے ہیں سوہنی ماہیوال، سسی پنوں کے اور ہیر رانجھا کے، یہ جھوٹے تو نہیں۔ یہ اس سرزمین کی مٹی کی خوشبو سے اور مہک سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ سارا کا سارا سلسلہ یعنیٰ فطری حسن بھی، انسانی حسن بھی، مردانہ شکوہ اور جمال و جلال بھی، سب کچھ اللہ نے ایسا نوازا ہے ہم لوگوں کو، خوبصورت لوگ، اچھے لوگ، نیک لوگ اور دوستیاں، محبتیں، لوگوں میں تو اب بھی محبتیں قائم ہیں لیکن سیاست دانوں نے کیا سے کیا کردیا ہے۔ کیا کہوں! بس اشاروں میں باتیں کی جاسکتی ہیں۔ مجھے پروین شاکر کا ایک شعر یاد آتا ہے۔کس درد سے کہا ہے اس جوانمرگ شاعرہ نے
اے میری گل زمین تجھے چاہ تھی ایک کتاب کی
اہلِ کتاب نے مگر کیا تیرا حال کردیا
آپ کو معلوم ہے کہ اسلام میں ’کتاب‘ کی کیا حیثیت ہے،کیسا تقدس اس سے وابستہ ہے اور کتاب سے مراد کیا ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کو اہلِ کتاب کہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی سعادت اور بلندی کی بات ہے۔ درد دیکھئے دوسرے مصرعے کا۔ کیا بتاؤں۔
دُکی میں پرائمری اسکول تھا تو پرائمری میں نے وہاں کی اور پھر لیّہ آگیاجو میرا آبائی وطن تھا۔ وہاں سے میں نے مڈل کیا اور وہیں گورنمنٹ ہائی اسکول سے میں نے ۶۴۹۱ء میں میٹرک کولیشن کیا اور اوّل آیا۔ اب بھی کسی نہ کسی آنر بورڈ پر مجھ ناچیز کا نام ہوگا۔ اس کے بعد میں کوئٹہ والد صاحب کے پاس چلا آیا۔ کوئٹہ میں جب سیکریٹیریٹ میں ملازمت کررہا تھا تب دونوں ملکوں کو آزادی دی گئی۔ جو زیادتی برطانیہ نے،انگریزوں نے برصغیر کے ساتھ کی کہ ریڈ کلف نے یک طرفہ چھ،آٹھ مہینے پہلے بٹوارے کا اعلان کردیا مگراس نے خود ان علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا تھا۔نہ کسی ضلع کا نہ کسی گاؤں کا نہ کسی شہر کا۔ نتیجہ کیا ہوا کہ آدھی آبادی اِدھر آدھی آبادی اُدھر۔ اس نے جو خون کی لکیر کھینچی تو بس سمجھئے اتنا بڑا ہولوکاسٹ کہ اس کا ذکر شروع ہوجائے تو وہ داستان رات بھر جاری رہے گی۔ ٰ تقریباً بیس لاکھ لوگ، اتنا بڑا ہولوکاسٹ تو دوسری جنگِ عظیم میں بھی نہیں ہوا تھا۔ بہرحال خدا کا کرم ہواکہ ریڈکراس کے ایک جہاز میں مجھے سیٹ مل گئی۔ میں جس وقت کوئٹہ سے اڑا تو قطعاً کچھ معلوم نہیں تھااور جب میں نے لیّہ کو چھوڑا تو بھی قطعاً اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں اپنے وطن کو مڑ کر بھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ اس کے بعد کی جو زندگی ہے وہ
دلّی کی ہے۔ ہاں! آپ جاننا چاہیں گی کہ اُردو سے ایک بلوچستانی کا کیا تعلق ہے؟
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی بصدِ شوق۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔میری مادری زبان سرائیکی ہے۔بڑی میٹھی، نرم اور رسیلی زبان ہے۔ میرے ددھیال کی زبان بھی سرائیکی ہے اور میرے ننھیال کی زبان بھی سرائیکی ہے۔ میرا جو ننھیال تھا ان کا تو بزازے کا بڑا بزنس تھا لیّہ کے مرکزی بازار میں اور ہمارے ماموں ہاتھی دانت کے آرٹ پیس، سہاگ کا چوڑا اور اُس طرح کی چیزیں بناتے تھے۔ لیّہ اس زمانے میں تھوڑا بہت دیہاتی طور پر انڈسٹریل شہر تھا۔ کھیس، دریاں، کھڈیاں،ہاتھ کے بنے ہوئے کپڑے اور ہاتھی دانت کی چیزوں کے لئے مشہور تھا۔ وہاں ہاتھی دانت جنوبی ہندوستان سے بُندیل کھنڈ اور بندھیا چل کی نیچے کی پہاڑیوں سے ہندوستان کے جنگلات سے آتا تھا۔ اس سے بڑی خوبصورت رنگارنگ چوڑیاں اور دلہنوں کے پہننے کا سہاگ کا چوڑا بنایا جاتا تھا اور مورتیاں اور بت تراشے جاتے تھے، خوبصورت تصاویریں اور فریم بنائے جاتے تھے۔ اس وقت ہاتھی دانت کی چیزوں کے لئے لیّہ بے حد مشہور تھا اوروہاں دستکار تو سب مسلمان تھے لیکن بزنس ہندؤں کا تھا،بنیے ہندو تھے۔
اب دیکھئے!اُردو سے میرا تعلق۔ویسے تو میں لسانیات کا طالبعلم ہوں اور اُردو زبان کے بہت سے رازوں کی گہرائی میں اتر نے کی کوشش کرسکتا ہوں۔ اُردو میرے لئے ایک رازوں سے بھرا بستہ ہے۔ میرے والد صاحب کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ فارسی بھی جانتے تھے،پشتو بھی جانتے تھے، بلوچی بھی جانتے تھے اور قلات کی زبان بھی جانتے تھے۔دُکی میں یا موسیٰ خیل میں والد صاحب پٹھانوں اور بلوچوں سے مقامی زبان میں ہی بات کرتے تھے۔ زبانوں سے محبت میں نے والد صاحب سے ہی سیکھی۔ ہم بچے بھی پشتو جانتے تھے، بلوچی تھوڑی تھوڑی بولتے تھے لیکن زیادہ تر اُردو ہی میں بات چیت ہوتی تھی کیونکہ علاقائی زبان کوئی بھی ہو، سرائیکی ہو یا پشتو یا بلوچی ہو لیکن عام شہر کی زبان اور تعلیم کی زبان اُردو تھی۔ اُردو کے سارے اخبار زمیندار، ملاپ، پرتاب، بندے ماترم یہ سب کے سب میں نے اسکول کی سینٹرل ہال کی میزوں پر دیکھے اور تو اور ادبِ لطیف، ہمایوں، عالمگیر اور ادبی دنیا مولوی صلاح الدین کا یہ سب بچوں کے پڑھنے کے لئے وہاں میز پر پھیلا کر رکھے جاتے تھے۔ میں آٹھویں یا نویں میں تھا تومولوی مرید حسین لیکھی کو اندازہ ہوگیا تھا میرے ادبی ذوق کا۔ وہ بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے میری اورکتابیں لا لا کر دیتے تھے۔ اُردو کے قصے کہانیاں اور داستانیں یعنی داستان امیر حمزہ یا رتن ناتھ سرشار کا فسانہ آزادیا پریم چند یا کرشن چندر کو سب پڑھتے تھے۔ اس زمانے میں ترقی پسندی کی جب لہر آئی تھی تو کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی اور سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی،یہ لوگ بہت مشہور تھے اور نئے نئے رسالوں میں ان کی چیزیں چھپتی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی ایڈٹ کرتے تھے اور دوسرے بھی تھے سجاد ظہیر، فیض احمد فیض۔ اُس زمانے میں ادبی دنیا بہت مشہور تھا۔ بہرحال جب میں دلّی میں آکر آباد ہوا تو والد صاحب نے پاکستان سروس کو opt کیا تھا کہ میں یہیں رہوں گا۔وہ وہاں افسرِ خزانہ تھے۔ ان کے دوستوں نے بھی کہا تھا کہ ”لالا! تم کہاں جائے گا تم ہمارے ساتھ رہے گا۔“مگر بعد میں جب حالات خراب ہوئے تو خاندان کے لوگ جیسے جیسے، جس جس کو موقع ملا وہ ہجرت کرگیا۔ میری ماں تو چھ بچوں کے ساتھ ایک ٹرک میں بیٹھ کے سفر کرکے کس طرح جان بچا کے آئیں وہ ایک الگ داستان ہے۔ البتہ میرے والد صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد ۶۵۹۱ء میں دلّی آئے۔ اُس وقت میں ملازمت کررہا تھا۔ چونکہ میں آزاد تھا اپنے انتخاب میں تو میں نے یہاں دلّی میں آکر انٹر کیا، ادیب کامل کیا اور پھر ادیب فاضل کیا۔ فارسی بھی پڑھی اور بی اے کیا۔ بی اے کرنے کے بعد میں سیدھا دلّی کالج میں آگیا جو اس زمانے میں اُردو کے لئے بہت مشہور تھا۔

یہ کالج تھا اجمیری گیٹ پر پرانا دلّی کالج جس میں غالب کو بھی پڑھانے کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب انگریزوں نے کالجوں کو ری آرگنائز کیا تھا تب۔اب سنئے! غالب جب ملنے گئے سیکریٹری سے تو کوٹھی کے گیٹ پر جاکر رکے رہے اور اندر پیغام کہلوا بھیجا کہ مرزا غالب کی سواری آئی ہے۔ غالب چار کہاروں کو ساتھ لیکر پالکی میں بیٹھ کر چلتے تھے۔ پیغام بھجوایا مگر صاحب بہادر باہر نہیں آئے اور کہلوا بھیجا کہ آپ ملازمت کے لئے آئے ہیں اس لئے وہ سارا پروٹوکول نہیں ہوگا جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیئے لہذاآپ کو اندر تشریف لانا پڑے گا۔جواب میں غالب نے کہا کہ ”میں نے تو اس لئے ارادہ کیا تھا یہاں معلّم ہونے کا کہ اس سے میرے اعزاز میں کچھ اضافہ ہوگا لیکن جو اعزاز اور حیثیت اس وقت میری ہے وہ بھی جاتی رہے گی تو اس ملازمت کو دور سے میرا سلام۔‘‘ اور یہ کہکر الٹے پیروں واپس چلے گئے۔
بھئی غالب تو غالب تھے۔ اچھا اس ملازمت کے لئے پہلے مومن نے بھی انکار کیا تھا پھرصہبائی کو پیشکش کی گئی اور انہوں نے قبول کرلی۔ بعد میں صہبائی فارسی پڑھاتے رہے۔ یہ سلسلہ غدر کے زمانے تک چلتا رہا۔ تو میں نے بی اے کے بعدسیدھا دلّی کالج کا رخ کیا لیکن افسوس کہ اُس وقت بہت سے لوگ وہاں سے جاچکے تھے۔مولوی عبد الحق جو کسی زمانے میں وہاں پڑھایا کرتے تھے، پاکستان جاچکے تھے اور آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے انجمنِ ترقی اُردو کا دفتر کراچی میں قائم کیا تھا۔ عبادت بریلوی بھی لاہور جاچکے تھے۔صرف خواجہ احمد فاروقی وہاں موجود تھے، تو میں ان کے پاس گیا۔ یہ پڑھے لکھے لوگ تھے اور یہ تمام ایک طرح سے میرے Mentor تھے اور لاشعوری طور پر ان لوگوں سے میرے دل میں کوئی جوت جلتی تھی۔
دلّی کالج میں، میں نے ایم اے میں داخلہ لے لیا اور حنا صاحبہ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ میں واحد اُردو کا طالب علم تھا وہاں، کوئی اور طالب علم نہیں تھا۔ سارے خاندان کے لوگ، میرے ملنے والے سب کہتے تھے کہ یہ شخص، گوپی چند نارنگ دیوانہ ہے کہ اس زمانے میں جب کہ اُردو کا بوریا بستر یہاں سے لادا جاچکا ہے تب یہ اُردو میں داخلہ لیکر ایم اے کررہا ہے۔ حالانکہ فرسٹ کلاس فرسٹ میرا کیریئر تھا۔ میں سائنس میں جاسکتا تھا، میں میتھ میٹکس میں جاسکتا تھا، انجینئیرنگ میں جاسکتا تھا، میڈیسن میں بائیولوجی میں فزکس میں،کسی میں بھی لیکن نہیں!کوئی اندرونی کشش تھی کہ اُردو مجھے اپنی محبت میں اپنے عشق میں باندھے ہوئے تھی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ اُردو کے چاہنے والوں کی خوش نصیبی ہے کہ آپ جیسی ہستی انہیں میسر آئی اور یقیناً اُردو زبان بھی نازاں رہے گی اُردوکے لئے کی گئی آپ کی بیش بہا خدمات پر۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ بس کیا عرض کروں! میں تو اپنے کو ایک ناچیز اوراُردو کا ادنیٰ طالبعلم سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اُردو ایک ایسی عجیب و غریب زبان ہے جیسے قوس و قزح میں،دھنک میں سات رنگ ہوتے ہیں۔ اُردو بڑی رنگا رنگ زبان ہے۔ ہندوستان میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں، ہندوستان سے میری مراد برصغیر پاک و ہند ہے۔ آپ کے یہاں پاکستان میں چار بڑی زبانیں ہیں، پنجاب میں پنجابی، سندھ میں سندھی، بلوچستان میں بلوچی اور پختونخواہ میں پشتو۔ یہ چاروں زبانیں اور ہندوستان کی مختلف زبانیں، بنگالی ہے، مراٹھی ہے، گجراتی ہے،تامل ہے، تیلگو ہے، ملیالم ہے،کنڑ ہے،کشمیری ہے اور پنجابی، ان میں سے ہر ایک زبان کسی نہ کسی علاقے میں بولی جاتی ہے۔ سندھی سندھ میں بولی جاتی ہے، پشتو سرحد میں بولی جاتی ہے، پنجابی پنجاب میں بولی جاتی ہے مشرقی اور مغربی پنجاب میں اور ہریانی ہریانے میں بولی جاتی ہے، راجستھانی راجستھان میں بولی جاتی ہے۔ بنگالی بڑی زبان ہے مگر بنگال تک محدود ہے۔دلّی میں تو بنگالی کوئی نہیں بولتا۔ دلّی کی زبان اور دلّی کے آس پاس کی زبان اس علاقے گنگ و جمن کی مشترکہ تہذیب کی زبان ہے اُردو جو سب جگہ بولی جاتی ہے۔آپ اسے اُردو کہیے ہندوستانی کہیے یا اس کی جو قدیم شکلیں تھیں ریختہ یا ہندوی جو امیر خسرو نے کہا۔سب سے پہلا نام ہندوی ہی ہے۔ امیر خسرو مشہور شاعر کہ قوالی کی ایجاد بھی انہوں نے کی تھی اور موسیقی میں بھی بڑی دسترس تھی۔ ان کا مشہور ریختہ ہے۔
ز حال مسکین مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
یہ آدھا فارسی میں اور آدھا ہندوی میں ہے۔ امیر خسرو کہتے تھے ”میری مادری زبان ہندوی ہے۔ مجھ سے ہندوی میں بات کرو تاکہ میں میٹھی میٹھی باتیں کرسکوں۔ میرے پاس مصر کی مصری نہیں ہے۔“ مصری آپ کو پتہ ہے مٹھاس کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد ہے کہ میں عربی میں بات نہیں کرسکتا میں ہندوی میں بات کرسکتا ہوں۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ امیر خسرو تو فارسی کے بھی جید شاعر تھے۔ اب دیکھئے اس ریختہ کا دوسرا مصرع:
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں۔۔۔ یہ فارسی میں ہے کہ میں ہجر کی تاب نہیں رکھتا میری جان۔
نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں۔۔۔ یہ ہندوی ہے۔
ایک اور دیکھئے!
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمر کوتاہ
یہ پورا مصرع فارسی میں ہے اور اب دوسرا مصرع دیکھئے صاحب کہ کیا خوبصورت ہندوی ہے۔
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
اس وقت فارسی اور ہندوی تھی، پراکرت تھی، برج بھاشا تھی،بھوج پوری تھی، کھڑی بولی تھی۔ کھڑی بولی کہ افسوس ہے کہ پوری تاریخ Reconstruct نہیں کی جاسکتی کہ ڈاکیومینٹیشن ہی نہیں ہے۔ تو ریختہ سب سے کم عمر زبان ہے بنگالی کے مقابلے میں تامل تیلگو کے مقابلے میں۔ ریختہ کاایک اور پرانا نام دکھنی ہے۔ اس پر تو میں رات بھر بھی بولنا چاہوں تو دکھنی کے اُردو کی بنیاد ہونے کا نکتہ پوری طرح بیان نہ کرسکوں گا۔ کس قدر ترقی کی ہے اُردو نے، اتنی جڑیں گاڑی ہیں اس سرزمین میں اُردونے۔ ولی دکھنی کہتے ہیں

سجن تم مکھ ستی کھولو نقاب آہستہ آہستہ
جوں گلِ سوں نکستا ہے گلاب آہستہ آہستہ
حنا خراسانی رضوی۔۔نارنگ صاحب اُردو کے حوالے سے امیر خسرو اور قوالی کی بات ہوئی تو دھیان لامحالہ تصوف کی طرف گیا تودیکھا یہ گیا کہ اس خطہ برصغیرمیں اُردو کے ساتھ ساتھ تصوف کو بھی پنپنے کا اتنا بھرپور موقع ملا کہ وہ نہ صرف اس خطے کی پہچان بن گیابلکہ اُردو شاعری میں بھی اس کا جمال خوب نظر آتا ہے، اس بارے میں آپ کچھ وضاحت کیجئے؟
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ یہ جو اسلامی تصوف میں وحدت الوجود، جس کے لئے منصور کو شہادت نصیب ہوئی تھی۔ چار پایہ کرکے اسے مارا گیا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا جو ذاتِ باری ہے وہ ہر چیز میں سمائی ہوئی ہے۔ پوری کائنات میں سمائی ہوئی ہے۔ وہ میرے اندر بھی سمائی ہوئی ہے اور دیکھئے یہی چیز ویدوں کی ویدانت ہے اور اپنشدوں کی بنیادی فلاسفی بھی یہی ہے کہ آتما اور پرماتما ایک ہیں۔ سراج اورنگ آبادی کی ایک غزل ہے جس میں وہ کہتے ہیں
خبرِ تحیرِ عشق سُن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
تو دیکھئے! کیسے گھل مل گئیں دونوں فکر کی روحیں۔ اصل چیز تو وحدت تھی۔ اسلام میں بھی بنیادی جو عقیدہ ہے وہ توحید ہے اور وہی توحید کہ”وحدہ لا شریک“ ایک ہے۔ اب آپ اس کوبرھم کہیں یا آپ اس کو ایشور کہیں یا اس کو بھگوان کہیں یا کچھ اور۔ شعر سنئے حنا صاحبہ! لفظوں پر نہ جائیے،لفظوں کے پیچھے جو سچائی ہے اس کو سمجھئے۔ دلّی کے ایک نوجوان شاعر کا شعر ہے
الفاظ کا مطلب میری تحریر سے مت پوچھ
الفاظ تو مفہوم چھپانے کے لئے ہیں
اگر آپ کو مفہوم سمجھنا ہے یعنیٰ یہ اُردو غزل کی بنیادی خوبی بھی ہے۔غزل کی معنیٰ آفرینی، معنیٰ در معنیٰ، معنی کی زرخیزی، پس معنیٰ اور چھپے ہوئے معنیٰ اور بنیادی بات وہ ساری چیزیں ہیں جس چیز کو پردہ بناتی ہے غزل۔ غزل بنیادی طور پر استعارے کی زبان ہے۔
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق میں جو دھری تھی تیوں ہی دھری رہی
یہ جو تصوف، وحدت الوجود یا بھگتی یا ویدانت، یہ سب دراصل لفظوں کے کھیل ہیں۔ لفظوں کے اس جھمیلے کو ہٹا کر دیکھیں تو صوفی ہوں یا بھگت، ایک ہی بات کہتے ہیں۔شمالی ہندوستان میں دلّی میں سب سے بڑے صوفی شاعر،خواجہ میر دردتھے، باقاعدہ پیر و مرشد تھے اور ان کے مریدوں کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ ان کا مشہور سامنے کا شعر میری زبان پر آرہا ہے۔
جگ میں آکر اِدھر اُدھردیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
خدا کے نمود کو آپ بیان نہیں کرسکتے۔ خدا کے وجود کو یا برھم کے وجود کو یا ایشور کے وجود کو لفظوں سے سمجھایا نہیں جاسکتا۔ بنیادی وحدت جو ہے قادر مطلق کی وہ بیان نہیں کی جاسکتی، ہاں محسوس کی جاسکتی ہے۔
”ہے غلط گر گماں میں کچھ ہے“
یہ غزل مہدی حسن نے گائی ہے اور خوب گائی ہے۔ ایک ایک لفظ میں مفہوم کا سمندر پوشیدہ ہے، لفظوں کے پردے کے پیچھے جھانک کر دیکھئے
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہاں میں کچھ ہے

ان دنوں کچھ عجب ہے حال میرا
سوچتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے
اور دھیان کے لفظ سے گوتم بدھ یاد آجاتے ہیں، بدھ مت یاد آجاتا ہے کیونکہ گوتم سے جب پوچھا جاتا ہے وہ آتما پرماتما کے فلسفے کو نہیں مانتے۔ وہ خدا اور انسان کے وجود کے بارے میں بات نہیں کرتے۔وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ کئی چیزوں کی وحدت کو محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن اس وحدت کو جو خدائے مطلق کی ہے یا حقیقت کلی کی ہے اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔
اب بتائیے! اس صوفی ازم نے تصوف نے جس طرح سے اسلام کو ہندوستان میں مقبول کیا، پھیلایا، عوام میں عام کیا تو یہ کام تو شیوخ اور مولویوں سے نہیں ہوسکا جو درگاہوں سے ہوا۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒاور خواجہ اجمیریؒ اور آپ کے یہاں حضرت داتا گنج بخشؒ، لال شہباز قلندرؒ کیسی کیسی شخصیتیں نام لیتے چلے جائیے۔ اورجو کچھ خواجہ میر درد کہہ رہے ہیں
”ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے“
وہی بات بلھے شاہ ؒکہتے ہیں وہی بات بابا فریدؒ کہتے ہیں۔ گرو گرنتھ صاحب ان صوفیوں کے اقوال، دوہوں اور شعروں سے بھرا ہوا ہے اور یہ سلسلہ چلا جاتا ہے کبیر تک۔
میں ایک بنیادی سوال اُردو سے اُردو غزل سے اُردو کے چاہنے والوں سے ہمیشہ پوچھتا ہوں اور اس کا کوئی جواب نہیں ہے اور سارے جواب اسی کے ہیں۔ اسلام عرب کے ریگستان سے ایک صحرائے اعظم سے لق و دق ادھر اسپین تک پھیلتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک صدی،دو صدی کے اندر ایران سے ہوتا ہوا، سیستان سے ہوتا ہوا، خراسان سے ہوتا ہوا،افغانستان سے ہوتا ہوا،ادھر سلک روٹ سے ہوتا ہوا چین تک چلا جاتا ہے اور برصغیر کو پورے کا پورا اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا انڈونیشیا اور اس کے دور دراز سمندر میں تیرتے ہوئے جزیروں تک پہنچتا ہے۔ یہ کرہ ارض کا نصف سے زیادہ ہے۔تواب اسلام کے ساتھ ساتھ اسلامی اثرات بھی گئے ہر جگہ۔ ان میں سے ایک سب سے بڑا عوامی اثر جو تھا وہ وحدت الوجود کا یا تصوف کاتھا۔اور یہ جو صوفیاء تھے وہ بہت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ریاضت میں اپنا سارا وقت صرف کرتے تھے اور خدمت خلق ان کا عقیدہ تھا اور ساری انسانیت کو ایک سمجھتے تھے۔ آپ نے وہ حکایت سنی ہوگی۔ پہلی صوفی شاعرہ رابعہ بصریؒ کی کہ ایک ہاتھ میں پانی اور ایک ہاتھ میں آگ لیکر وہ بازار سے بھاگی جارہی تھیں تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ تو کہنے لگیں کہ پانی اس لئے کہ میں اس سے جہنم کی آگ کو بجھا دینا چاہتی ہوں اور آگ اس لئے کہ اس سے میں ثواب کے لالچ کو جلا دینا چاہتی ہوں۔ بتائیے یہ خدمت خلق کی بات ہے کہ نہیں اور عالم انسانیت کی وحدت کی بات ہے کہ نہیں؟
حنا خراسانی رضوی۔۔جی بالکل!بجا فرمایا آپ نے۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔اور یہی بات غالب نے اپنے ایک شعر میں کہی ہے:
طاعت میں تا رہے نہ مئے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
نیکی کسی ثواب کے لئے نہیں کی جاتی،کسی توقع کے لئے نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک روحانی تقاضا ہے۔ بہرحال یہ اسلامی اثرات تقریباً تیس بتیس ملکوں میں اسلام کے ساتھ گئے مگر بتائیے کہ کہیں غزل نے یا تصوف نے ایسی جڑیں نہیں گاڑیں، تصوف ایسا کسی دوسری سرزمین کی تہوں میں نہیں اترا یا غزل کا پودا کہیں اور نہیں لہلہایا جیسے کہ برصغیر پاک و ہندمیں لہلہایا۔کیوں؟ اس راز کا جواب کیا ہے؟داغ جیسے شاعر جو شوخی و شرارت کے لئے مشہور ہیں اور چھیڑچھاڑ کے لئے، کس بے ساختگی سے ان کی زبان سے ایک عجیب و غریب شعر نکلا ہے۔ غور کیجئے گا ایک ایک لفظ پر
”کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
یعنیٰ کعبے سے بھی میرا رشتہ ہے اور کوئے بتاں، بت خانے سے بھی، یعنی حسن کے پیکروں سے بھی میرا رشتہ ہے۔
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو نہیں خبر میری مٹی کہاں کی ہے
یہ بے حد معنی خیز شعر ہے۔ یہ مٹی جو ہے برصغیرکی دھرتی کی ہے۔ یہاں کا جو Pluralism (اجتماعیت) تھا۔ یہاں کی جو رنگا رنگی صدیوں سے چلی آرہی تھی اس نے اسلام کی ساری خوبیوں کو جذب کرلیا،بھگتی تحریک کے ذریعے اپنا بنا لیا۔دیکھئے!بھگتی تحریک اور تصوف وحدت الوجود، دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں کی تعلیمات متوازی ہیں اور یہ روح ہے اُردو غزل کی جس نے غزل کو چمکا دیا اور ایک مرکزی مقبولِ عام صنف بنا دیا۔ حنا صاحبہ آپ کو یقین نہیں آئے گا، آپ ہندوستان آئیے اورہندی کا کوئی رسالہ اٹھا کے دیکھئے غزل سے بھرا ہوا ہے۔ آج ہندی میں غزل ہے۔ بھئی پنجابی میں تو غزل تھی، اُردو میں تھی، کشمیری میں تھی، سندھی میں تھی، مانتے ہیں بھئی بلوچی میں بھی ہوگی لیکن بنگالی میں غزل، گجراتی میں غزل، مراٹھی میں غزل اور تو اور تیلگو میں، ایک دراوڑی زبان میں غزل۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ سرائیکی زبان میں دراوڑی اثرات بھی تھے۔ دراوڑی لوگ جو وادی سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی تحریر ابھی تک Decipher یعنیٰ پڑھی نہیں جاسکی ہے۔ میں نے اپنے نانا کو حساب کتاب کا جو رجسٹر ہوتا تھا جس کو لپیٹ کر رکھتے تھے، اس میں لنڈے لکھتے دیکھا اور لنڈے رسم الخط ملتا ہے خروشتی سے اور خروشتی رسم الخط ملتا ہے دراوڑی سے، اس کی گولائیاں اور اس کے نقطے ان سے ملتے جلتے ہیں یعنیٰ دیوناگری سے کوئی تعلق نہیں۔ پوری کی پوری آرکیالوجی ہے زبان کی، پوری تہذیب کلچر کی زبان کی تہوں میں پیوست ہوتی ہے۔ اس کو غور سے دیکھئے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی دلچسپ بات ہے سرائیکی کا دراوڑی سے تعلق۔ جناب!اُردو غزل اور غزل گو شعراء کی طرف آتے ہیں، بحیثیتِ نقاد اور محقق کے آپ کا ان موضوعات پر خاصہ دقیق اور بصیرت افروز کام ہے، خاص کر میر و غالب پر؟
گوپی چند نارنگ۔۔دیکھئے! سب سے پہلے جس شخص نے مجھے اُردو کی طرف کھینچا اور جس کی زلفوں کا میں اسیر ہوا وہ تھے میر تقی میر۔ جب خواجہ فاروقی کی کتاب چھپ رہی تھی میر پر تو اس کے پروف مجھے دیئے گئے پڑھنے کے لئے۔ کمپیوٹر تو تھا نہیں اُس وقت،یہ ان پیج تو تھا نہیں،اُردو ہاتھ سے لکھی جاتی تھی اُس زمانے میں کاتب لکھتا تھا پیلے کاغذ پر۔شعر سنئے!
یہ میر جگر سوختہ کسو وقت جواں تھا
انداز سخن اس کا سببِ شور و فغاں تھا
جس راہ سے وہ دل زدہ دلّی میں نکلتا
ساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ روا تھا
جادو کی پڑی پرچہئ ابیات تھا اس کا
منہ تکیے غزل پڑھیے عجب سحر بیان تھا
یا میر کہتے ہیں:
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنئے گا
پڑھتے کسو کو سنئے گا تو دیر تک سر دھنئے گا
میر تو جناب میر ہے، خدائے سخن ہے۔ وہ اپنے بارے میں کہتا ہے:
زلف سا پیچدار ہے ہر شعر
ہے سخن میر کا عجب ڈھنگ کا
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا ایک مقام سے ہے
اور سنیے:
جلوہ ہے مجھی سے لبِ دریائے سخن پر
صد رنگ میری موج ہے میں طبع رواں ہوں
میر اپنے سے باتیں کرتے تھے تو مشہور ہوگیا کہ میر باتوں کے شاعر ہیں۔ تو بھئی اگر وہ باتوں کے شاعر ہیں تو خدائے سخن کیسے ہوئے جو اُن کو کہا گیا۔ اُردو کی پرانی تنقید نے دو خانے بنالیے تھے جو جتنے صحیح ہیں اتنے غلط بھی ہیں۔ محمد حسین آزاد نے میر کے بارے میں لکھا کہ” میر صاحب نے فصاحت کو جتنا بڑھایا بلاغت کو اتنا کم کردیا۔“ لیکن میر کواپنی گہرائی کا احساس تھا،شعریت کا بھی اور اپنی معنیٰ آفرینی کا بھی۔ دیکھئے کیسے کیسے اشارے کرتے ہیں:
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
میر خود کو ’صاحب‘ کہتے ہیں اور ’میاں‘ بھی۔کسی شاعر میں اتنی ہمت ہوگی؟ اس طرح کی آزادیاں میر ہی لے سکتے تھے۔ اور دیکھئے:
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
تو بھئی لکھ دیا محمد حسین آزاد نے ’آب حیات‘ میں کہ ”میر صاحب بہتر نشتروں کے شاعر کہلاتے ہیں اور جو بڑے اچھے شعر ہیں وہ بہت اچھے ہیں اور جو معمولی شعر ہیں وہ بہت معمولی ہیں۔“ ارے بھائی جب بھی کوئی شعر میر کا پڑھتے ہیں تو نشتر کا سا اثر کرتا ہے اور وہ بہتر نشتر کیا ہیں آج تک کسی نے گن کے بتائے نہیں۔ ہر شعر جو میر کا پڑھا جاتا ہے وہ نشتر ہی ہوتا ہے۔ مطلع ہے:

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
شاید اس غزل کو بھی مہدی حسن نے گایا ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی اور یہ بھی خوب گائی ہے۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ایک اور غزل ہے میر کی جو کم سنی جاتی ہے اور کم پڑھی جاتی ہے۔وہ یہ:
شہروں ملکوں میں یہ جو میر کہاتا ہے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں
اس کے راز کو پانا آسان نہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں لفظوں میں اُردو کی موسیقیت جو اس کی غنیت میں ہے۔ نون (ن) تو عربی میں بھی ہے فارسی میں بھی ہے، اُردو میں بھی ہے اور ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی ہے لیکن نون غنہ (ں) اصل ہندوستان کی چیز ہے۔ انڈک خاص سنسکرت کی چیز ہے۔ہمارے یہاں تو اکثر غزلیں یعنی ردیف یا کوئی بھی غزل کا شعر یا غزل کا مصرع یا اُردو کا کوئی بھی جملہ فعل کے بغیر نہیں۔ فعل بھی، امدادی فعل بھی۔ اس کے بغیر حروف کا، کی، کے کے بغیر یا ضمیروں، اس، اُس، اِن، اُن، تم، آپ کے بغیر نہیں۔ شعر دیکھیے:
یہ میر جگر سوختہ کسو وقت جواں تھا
یہ دیکھیے کسو، یعنیٰ کسی، پرانے آگرہ کی زبان ہے۔ کسو وقت جواں تھا۔۔۔ اب اگر یہاں ’تھا‘ نہ ہو تو کیا شعر بن سکتا ہے۔ یا
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
اب چلتے ہو، چلتے ہندی ہے، ہو ہندی ہے، چمن عربی یا فارسی ہے، کو ہندی ہے، چلیے ہندی ہے، کہتے ہندی ہے، ہے ہندی ہے، بہاراں مستعار ہے۔ اور یہ جتنے عربی فارسی کے لفظ ہیں وہ ہندوستان کی مٹی کے اندر جذب ہوگئے اور آج ان میں اور پہلے سے چلی آرہی زبان کے اسٹرکچر میں کوئی مغائرت نہیں ہے۔ دیکھئے! مراٹھی جیسی زبان میں انصاف،وکیل، مقدمہ، مقدمہ لڑنا، جرح کرنا، انصاف کرناوغیرہ ہیں، عدالت کی جتنی terms ہیں وہ سب ہندستانی ہیں۔ یہ سارے کے سارے لفظ جو باہر سے آئے ہیں وہ گھل مل کے ہندی کے ساتھ شیروشکر ہو گئے۔اسی لئے اُردو کو کہا جاتا ہے گنگا جمنی زبان۔ اُردو کی شیرینی، اُردو کی دلاویزی، اُردو کی دلکشی اور اُردو کی کشش کا سب سے بڑا راز ہی اس کے گھل مل جانے کی کیفیت ہے۔ اس میں جو آئی ہوئی زبانیں یعنیٰ عربی فارسی کے اثرات ہیں ان کے اور زمینی اثرات کے۔ مثال کے طور پر:
جی تڑپے ہے جان گھلے ہے حال جگر کا کیا ہوگا
مجنوں مجنوں لوگ کہیں مجنوں کیا ہم سا ہوگا
اس میں زمینی لفظ بھی ہیں اور باہر سے آئے ہوئے بھی۔ تڑپے ہے، اس میں ’ڑ‘ موجود ہے جو زمینی ہے۔ جان گھلے ہے، اس میں جان مستعار ہے، گھلے ہے زمینی ہے۔ حال اور جگر باہر کے، ’کیا ہوگا‘ پورا زمینی ہے، ’ہم سا ہوگا‘ زمینی ہے۔ اب یہ لفظ جو ہیں ’کیا ہم سا ہوگا‘ اس اسٹرکچر کے بغیر کیا شاعری کی جاسکتی ہے؟ تو یہ گنگا جمنی جادو بیانی نہیں تو کیا ہے۔ میں اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے بیسیوں دوسرے نکات ہیں غزل کے، ساری رات گزر جائے گی مگر احاطہ نہیں کرسکوں گا۔ مثال کے طور پر لوگوں کو معلوم نہیں پانینی کی جو پٹیاں ہیں کا،کھا، گاگھا، ٹا ٹھا، دا ڈھا،پوری کی پوری اُردو نے جذب کرلی ہیں۔ پڑھنا، کڑھائی کرنا یا ہاتھی، بھائی اور تو اور ہمزہ کو اس طرح جذب کیا کہ اس کی کایا پلٹ دی۔ ہمزہ vowel ہے عربی میں، اور عربی میں الف دوسری آوازوں کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہاں صرف دو vowels کے ساتھ آنے کا نشان ہے مثلاً بھائی، لکھ سکتے ہیں ہمزہ کے بغیر بھائی؟ یا نائی اور تو اور رامائن، ہندوستان کی مشہور کتاب، ہندؤں کی کتھا رام چندر جی کی یا رامائن کا ایک خاص کردار کیکئی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔رانی کیکئی
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ جی، تو بتائیے! کیا ہمزہ کے بغیر لکھ سکتے ہیں یہ ہندستانی الفاظ؟ نہیں، ہمزہ کے بغیر ہم اُردو میں نہیں لکھ سکتے۔
اب آئیے غالب کو دیکھیے اور غالب کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے یہ تو کہا :
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہواا س کا ہے
معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
لیکن غالب نے غزل کی شعریات کو یعنی اس میں انقلاب کیا وہ بیدل کے اثرات سے کیا، اور جو سب ہندی کے فارسی کے شعراء ہیں عرفی، نظیری، ظہوری سے آئے ہیں مگر سب سے زیادہ بیدل کے اثرات سے جس Negative Dialectics کا غالب نے استعمال کیا ہے۔ میر تو خود کو صاحب بھی کہتے ہیں اور میاں بھی کہتے ہیں اور غالب کو دیکھئے وہ اپنے کو Deconstruct کرتے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح کی پوزیشن لیتے ہیں۔ یہ شعر دیکھئے بہت گہرا ہے:
گلِ نغمہ ہوں نہ پردہ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
یا غالب کہتے ہیں:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
یا پھر یہ:
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
یہ پندرہ سولہ سال کی عمر کے شعر ہیں غالب کے اولین کلام کے۔ جو نسخے ملے ہیں دو، نسخہ بھوپال اور نسخہ امروہہ، ان میں یہ موجودہے، انیس سال کی عمر سے پہلے کا جب اسد تخلص کرتے تھے۔
ایک اور شعر سنیے:
ہوں میں بھی تماشائی نیرنگِ تمنا
مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے

گر خاموشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
اب دیکھئے! غالب کے یہاں کس طرح سے وحدت الوجود اور تصوف کے اثرات ویدانت کے اثرات کے ساتھ گھل مل کر ایک ہوگئے ہیں۔ یہ شعر دوسرے نسخے سے ہے جو نسخہ حمیدیہ کہلاتا ہے،دیوان میں نہیں ہے۔ ۹۶۹۱ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں غالب صدی کے موقع پر جو غالب کا مجسمہ نصب کیا گیا اس پر یہ شعر لکھا ہے۔
جامِ ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
میں کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
یعنی پوری کائنات کا ذرہ ذرہ، اس کا ہر جام سرشارِ تمنا مجھ سے ہے۔ مگر حیران کن ہے کہ میں کس کا دل ہوں۔۔۔ یعنی انسان کا دل کس کا دل ہے۔ یہ تمنا، امنگ کہ”دو عالم سے لگایا ہے مجھے“۔ خدا کائنات کے ذرے ذرے میں کھپا ہوا ہے اور تمنا کا سمندر ہے۔ یہ کائنات اس کا جلوہ ہے، وہ ہر جگہ ہے۔کم و بیش یہی بات ایک دوسرے انداز سے کہتے ہیں:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکان کو اک نقشِ پا پایا
یہ ہے وہ چیز جس کو میں کہتا ہوں Negative Dialectics (جدلیاتی وضع)۔ اور یہ دھارا وہیں سے چلا آتا تھا کہ جہاں آتما ہے نہ پرماتما۔ جس کو آپ اپنے دھیان سے، اپنے ذکر خفی سے اپنے اندر جاکر کامل خاموشی یا جذب سے غور کرکے محسوس کرکے سمجھ سکتے ہیں۔ لفظوں کے کھیل میں نہ آئیے، لفظ تو جال ہیں کہ
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے
ایک اور شعر سنئے، بہت مشہور ہے مگر عجیب و غریب شعر ہے۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھاکچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
Logic دیکھئے غالب کی، Negative Dialectic
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ڈبل Negative Dialectics
ایک اور جگہ کہا ہے:
ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالب
آخر تو کیا ہے اے ’نہیں‘ ہے
انسان جو کوئی وجود اپنا الگ سے انفرادی وجود نہیں رکھتا۔ وہ کیا ہے؟ اس بات کو خواجہ میر درد نے محسوس کیا جیساکہ پہلے اشارہ کیا گیا:
جگ میں آکر ادھر اُدھر دیکھا
توہی آیا نظر جدھر دیکھا
اور غالب جب گھماتے ہیں ظرافت کے لئے اور اپنے مزاح کے لئے اور جو ’سینس آف ہیومر‘ ان میں ہے عجیب و غریب:
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
یعنیٰ وہ خدا کو بھی جواب دہ ٹھہراتے ہیں اور دامن ایسے پکڑتے ہیں خدا کا اور ایسے کھینچتے ہیں کہ یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے تو جو گناہ میں نے اس دنیا میں کیے، شراب پیتا رہا یا بہت سی چیزیں ایسی کیں جو ممنوع تھیں تو اگر ان سب گناہوں کی سزا ملے گی تو جن گناہوں کی حسرت دل میں رہ گئی ان کی داد بھی تو ملنی چاہیے۔ یا
ملنا ترا اگر نہیں آسان تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
اب ذرا کھولئے اس کے معنیٰ، غالب کے بہت سے شعر اس طرح کے ہیں جیسے جِگ ساپزل ہوں۔

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
ارے بھئی کیوں؟ آدمی، وہی چیز ہے جسے انسان کہتے ہیں۔انسان کو آدمی اور آدمی کو انسان کہتے ہیں لیکن غالب نے آدمی اور انسان کے معنیٰ کو شق کردیا اور ان میں ڈائیلیکٹیکل منطقیت سے ایک نئے معنی ڈال دیئے۔یہ ہے غالب کے یہاں معنیٰ آفرینی کا چمتکار، ایک عجوبہ، ایک جادو کی سی تخلیقیت۔ آسان سا شعر سنا رہا ہوں آپ کو۔مطلع ہے:

درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
معنیٰ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ مزید دیکھئے تقریباً تقریباً ایک جیسا جادو سوالیہ!
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا
’گنجینہ معنیٰ کا طلسم‘ کتنا صحیح کہا ہے۔ (اس کو سمجھئے!) جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے۔ یعنی ہر ہر لفظ جو غالب کے اشعار میں اور ان کی غزلوں میں آتا ہے اس کو نہ صرف ’گنجینہ معنی‘، یعنی معنی کا خزانہ ہی نہیں معنی کے خزانے کا جادو سمجھئے۔ بتائیے غالب بے مثل جادو بیان شاعر ہیں کہ نہیں؟
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی بالکل۔
گوپی چند نارانگ۔۔غالب کا ذکر ختم کرنے سے پہلے صرف اشارۃً سادگی سے شروع ہونے والی ان کی غزل دیکھئے:
دل نادان تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الہیٰ یہ ماجرا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
اب دیکھئے کس طرح سے وہ موضوع کو بدلتے ہیں کہ پوری عاشقانہ غزل میٹا فزیکل ہوجاتی ہے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکنِ زلف عنبریں کیوں ہے
نگہئ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے
سبحان اللہ، کیا لفظوں کے جوڑ ہیں،کیا موسیقیت ہے، کیا معنویت ہے۔ اب آگے بڑھیئے! فیض کو دیکھئے کہ فیض جیسا شاعر جو ترقی پسند ہے جو مارکسیت ہے اس سے ہم کسی وحدت الوجود کی توقع نہیں کرسکتے لیکن اشتراکیت، ترقی پسندی اور آئیڈیالوجیکل پوئٹری میں تصوف کے اثرات کس طرح گھل مل جاتے ہیں۔ اس بات پر میں غور کرتا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں فیض کے دو عشق، ایک فزیکل، عشق انسانی، جسمانی اور دوسرا آئیڈیالوجی کا عشق مگر میں کہتا ہوں فیض کے تین عشق، ورنہ وہ کیوں کہتے:
ہمیں سے سنت منصور و قیس زندہ ہے
بھئی جسمانی عشق میں یا فزیکل عشق میں سنتِ منصور کہاں سے آگئی۔سنتِ منصور تو تصوف ہے بلکہ وحدت الوجود کا نقطہئ آغاز۔ صاف صاف وحدت الوجود ہے۔ بیچ میں ۸۳۹۱ء تک علامہ اقبال کا زمانہ ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ میر و غالب کے بعد کوئی عظیم شاعر اُردو میں پیدا ہوسکتا ہے!علامہ اقبال تو نظم کے شاعر ہیں، مثنوی کے شاعر ہیں مثنوی اسرارِ خودی، مثنوی ساقی نامہ اور جاوید نامہ مگر دیکھئے غزل کا مزاج انہوں نے کس طرح سے بدل دیا اور کتنا بڑا ہنرمند ہے وہ شخص، خود بھی ایک جگہ کہا ہے:
جادو ہے تیرے دست ہنرمند میں کوئی
ہوجاتی ہے بیدار خوابیدہ گلِ کوزہ
یہ کوزہ کی جو کچی مٹی ہے کمہار کے چاک پر کمہار پاؤں چلا رہا ہے، چاک گھوم رہا ہے، گھوم رہا ہے۔ وہ گیلی مٹی کو ہاتھ لگاتا جاتا ہے اور ظروف کی شکلیں بنتی جاتی ہیں۔ اس طرح کے تغزل کی توقع اور اتنی طاقتور روایت سے سرشار اور جتنی یعنیٰ عاشقانہ شاعری کی پوری روایت کو غالب کی میٹافزیکل شاعری کی روایت کو بھی جذب کرکے اقبال کے یہاں جس طرح ایک اگلا قدم ملتا ہے۔
یارب یہ جہاں گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنرمند
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلّی نہ صفاہاں نہ سمرقند
اقبال وہ شاعر جو اپنے آپ کو ’کافرِ ہندی‘ کہتا ہے اور دیکھئے ہمیشہ انہوں نے اسلام کا جو طبقہ مذہب کی مُناپلی کرتا ہے اور مذہب کا کاروبار کرتا ہے اور ایک طرح سے مذہب کو کموڈٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے، اپنی نظم یا غزل کے ذریعے اقبال نے اس پر جو چوٹ کی ہے اور یہ پیغام بیداری دیا ہے کہ اسلام کا پیغام جو ہے وہ توحید ہے، صفائے قلب ہے اور خدمتِ خلق ہے۔ ان کے یہاں بھی اپنے بارے میں وہی ڈی کنسٹرکٹشن ہے، جو غالب کے یہاں ہے۔
چپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہئ گستاخ کا منہ بند
بتائیے! یہ قافیہ جو ہے بند،سمر قند، ہنر مند، کس طرح علامہ اقبال جس بھی لفظ کو ہاتھ لگادیتے ہیں اس کو تغزل سے لبریز کر دیتے ہیں۔
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
آگے ڈی کنسٹرکشن دیکھئے اپنے بارے میں:
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
۸۳۹۱ء کے بعد فیض کا زمانہ ہے اور فیض کہتے ہیں ”میں نے لفظ کو استعارہ بنانا غالب سے سیکھا۔“ ان کی نظموں میں بھی جو رَس اور حلاوت ہے وہ تغزل سے آتی ہے اور یہ بات جن شاعروں کے یہاں رہ گئی، ان کا کلام تو زندہ رہا باقی کتنا بڑا قافلہ ہے سینکڑوں، ہزاروں شعراء کا سب کے سب فراموشی کے طاق پہ دیوان کے دیوان، کلیات کے کلیات دھرے رہ جاتے ہیں۔ غالب کا شعر دیکھئے:
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اب غالب تو Marxist نہیں تھے لیکن اس شعر میں پوری آئیڈیالوجی آجاتی ہے اور اسی سے متاثر ہوکر فیض نے وہ مشہور قطعہ لکھا:
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون میں ڈبو لیں ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
ایک اور دیکھئے مثال کے طور پر۔۔ اگرچہ بات تو لمبی ہوگئی ہے مگر جب اُردو کا ذکر ہوگا اور غزل کا ذکر ہوگا تو حنا صاحبہ بات تو لمبی ہوہی جائے گی۔ سب کچھ چھوڑتے ہوئے آپ کو بتاتا جاؤں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔جی جی، میں ہمہ تن گوش ہوں آپ جاری رکھیئے۔
گوپی چند نارنگ۔۔سنئے!
تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
تم آئے ہو، تم کا لفظ Pronoun، استعارے کے طور پر ’تم‘ انقلاب ہے، یہ ’جمہوریت‘ ہے ’آزادی‘ ہے اور زمانہ ہے ڈکٹیٹر شپ کا، مارشل لاء کا، اور جیل میں ہیں فیض، سجاد ظہیر اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ۔

تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے
شب ِ انتظار کیا ہے؟ یہ شعر دیکھئے جو غزل کی جان ہے کہ:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
ہم تو کوئی سازش کرنے گئے ہی نہیں تھے۔ ہم تو ایسے ہی دھر لیے گئے اور جیل میں ڈال دیئے گئے۔ ہم نے کوئی جرم کیا ہی نہیں۔ ہم تو صرف ایک اچھی شام دوستوں کے ساتھ گزارنے کے لئے گئے تھے مگر ناصح کو ناگوار گزر گئی یہ بات۔
اور حنا صاحبہ! ہر جگہ آزادی کے بعد بجھی بجھی فضا تھی، سب دھواں دھواں دکھ کی اور یاس کی، غم کی، اکھڑنے کی اپنے گاؤں، اپنی دھرتی کو چھوڑنے کی، اپنے گھروں کو چھوڑنے کی۔ فیض کا زمانہ ہے اب پوری اُردو شاعری ایک کروٹ لیتی ہے۔ علامہ اقبال کے بعد فیض کے یہاں کروٹ لیتی ہے اور فیض کی جب آنکھیں بند ہورہی ہیں تقریباً تقریباً تو ناصر کاظمی اور یہ جو دوسری نوجوان پیڑھی ہے، وہ سامنے آتی ہے۔ ان میں ناصر کاظمی ہیں، شکیب جلالی ہیں منیر نیازی ہیں، جون ایلیا ہیں۔ ہمارے یہاں ہندوستان میں شہریار ہیں جن کی امراؤ جان ادا کی غزلیں یا یہ دیکھیے:
زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے
ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے
غزل کا لہجہ اور غزل کا مزاج اقبال کے بعد، فیض کے بعد ترقی پسندوں کے بعد جدید شاعروں کے یہاں بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ بہت زیادہ تفصیل میں نہیں جاسکتا۔ وقت نہیں ہے۔ شہریار کی ایک اور غزل دیکھئے! انہوں نے مجھے یہ غزل لکھ کے دی تھی جب میری کتاب آرہی تھی” جدیدیت کے بعد“ اس کے سرنامے پر یہ غزل لگی ہوئی ہے۔ میں تھیوری پر مسلسل لکھ کر ادب کی تخلیقی آزادی کی دعوت دے رہا تھا:
ایک ہی دھن ہے کہ اس رات کو ڈھلتا دیکھوں
اپنی ان آنکھوں سے سورج کو نکلتا دیکھوں
پروپیگنڈے اور انتشار پسند جو شاعری آگئی تھی۔ اس کا زوال ضروری ہے:
چاہے تاریکی مخالف ہو ہوا دشمن ہو
مشعلِ درد کو ہر حال میں جلتا دیکھوں
یعنی ضروری ہے کہ ہم پھر اس Genuine (حقیقی) شاعری کا استقبال کریں۔
اس کے بعد شکیب جلالی جوانمرگ شاعر پاکستان کا، کیا کہتا ہے:
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
میری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
یا منیر نیازی کا شعر کہ:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
غزل کا شعر دونوں مصرعوں میں جب تک ٹینشن نہ ہو اور یہ جو تکنیک ہے نیگیٹو ڈائلیکٹس کی، یہ غالب کے بعد عام ہوئی۔ اس انقلاب کا سہرا غالب کے سر جاتا ہے اور جاتے جاتے دیکھئے شجاع خاور، ایک اورجوانمرگ شاعر دلّی کا۔ دلّی کی ٹکسالی زبان میں دیکھئے:
کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
ہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیا
یا افتخار عارف پاکستان کے مشہور شاعر جو لندن میں رہے اور وہیں سے شاعری شروع کی اور راسخ ان کا کلام اسی وقت سے ہوا جب یہ اُردو مرکز چلا رہے تھے لندن میں اور دہلی کے سفر کو آئے:
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانہ ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پراناہے
یا ندا فاضلی کا:
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یونہی سہی
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
ندا فاضلی کا یہ انداز بھی دیکھئے:
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
سب ے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
اسی طرح سے ہمارے یہاں جاوید اختر ہیں گلزار ہیں۔ جاوید اختر آج کے حالات پر کہتے ہیں:
نہ کوئی عشق ہے باقی نہ کوئی پرچم ہے
لوگ دیوانے بھلا کس کے سبب ہوجائیں

ڈھلکی شانوں سے ہر یقین کی قبا
زندگی لے رہی ہے انگڑائی
یعنی کوئی جھنڈا وغیرہ نہیں کوئی اشتراکیت نہیں کوئی رائٹ لیفٹ کا نعرہ نہیں۔ آج کے دور میں کوئی میٹانیریٹیو Metanarrativeنہیں ہے۔مارکسیزم بھی شکست ہوچکا،سوشلزم بھی چیلنج کی زد میں ہے۔ سوال ہی سوال ہیں۔ سچائیTruth اب چیلنج ہے اور Untruth ہر طرف ہے۔ حل کہاں ہے؟
اور گلزار، وہ تو وہ ہیں جو غیرِ زبان کو بھی زبان بنادیتے ہیں۔ کجرا رے کجرا رے یا چھیّاں چھیّاں۔ میں نے گلزار سے کہا کہ”آدمی پکا شاعر نہیں بنتا جب تک غزل نہیں کہتا۔“ وہ بہت اچھی نظم کہتے ہیں، بہت اچھی۔ انہوں نے اپنی فلمی شاعری کو ہمیشہ الگ رکھا اور اپنی ادبی شاعری کو الگ رکھا۔ دو شعر سناتا ہوں۔

خالی کرگھے میں عمر بُنتا رہا
اب گرہ کے لئے بھی تاگہ نہیں

لاکھوں حوالے تھے میری پہچان کے مگر
آئینہ مجھ کو دیکھ کر بالکل مکر گیا
اور اسی طرح سے بے حد زرخیز ہے غزل کی دھرتی۔ ہر طرف اُردو شاعری کا چرچا ہے۔ ایک بار پاکستان میں،میں کچھ عرض کررہا تھا اور اس کے بعد کچھ سوال جواب ہوئے تو ایک دوست نے فرمایاکہ دیکھئے پاکستان کا کتنا بڑا احسان ہے اُردو پر کہ یہاں کی قومی زبان ہے۔ میں نے کہا ”سبحان اللہ“ اگر ایسی قومی زبان ہے تو گوپی چند نارنگ تو ۰۳۹۱ء میں پیدا ہوا اور ۷۴۹۱ء میں چلا گیا تو میرے تحت الشعور میں اور میرے وجود میں اُردو کا یہ رَس اور اُردو کی دل آویزی کس طرح پیوست ہوگئی۔ پورا کا پورا پاکستان، پورے برِصغیر کاوہ خطہ جو اب پاکستان ہے سارا کا سارا Bilingual (دو زبانی) تھا۔ سارے ایونیو ریکارڈز اُردو میں ہیں، سب اخبار اُردو میں نکلتے تھے ہاں گھر میں گل بات پنجابی میں ہوتی تھی، ٹھیک ہے۔ علامہ اقبال اپنے نوکر سے حقہ پنجابی میں مانگتے تھے مگر شاعری اُردو میں کرتے تھے یا فارسی میں۔ اور اگر اپنے گھر کی بات کروں تو میرے والد صاحب جب خط و کتابت کرتے تھے کسی سے یا وہ پوسٹ کارڈ میرے نام لکھتے تھے تو ہمیشہ اُردو میں لکھتے تھے۔ پنجابی میں کوئی نہیں لکھتا البتہ یہ کہا جاتا تھاکہ پُرلطف گالی دینی ہو تو وہ پنجابی میں دی جاسکتی ہے وہ اُردو میں نہیں ہوسکتی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔خوب ہے! نارنگ صاحب آپ نے ذکر کیا کہ سرائیکی آپ کی مادری زبان ہے تو کیا گھر میں سرائیکی باقاعدگی سے بولی جاتی تھی؟
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ یاد ہے کہ بچپن میں گھر میں سرائیکی بولتا تھا مگر آہستہ آہستہ وہ پیچھے رہ گئی کیونکہ مکتب کی، تعلیم کی، بول چال کی، نشست و برخاست کی زبان تو اُردو تھی۔ میں تو آج بھی اپنی شریکِ حیات سے اُردو میں بات کرتا ہوں۔ میرے گھر میں اُردو بولی جاتی ہے۔ میرے دونوں بیٹے اپنے شوق سے اُردو پڑھے ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں حنا صاحبہ کہ جب جمیل الدین عالی کا جشن ہورہا تھا دبئی میں تو اسٹیج پر لوگ سنبھل نہیں رہے تھے،ہزاروں کا مجمع تھا،بارہ بج رہے تھے اور بعض شعراء پہنچے نہیں تھے،تاخیر ہورہی تھی،لوگ بیقرار بھی ہورہے تھے۔ تو عالی صاحب نے میرے چھوٹے بیٹے ترون کو گانے کوکہا۔ اس کو امراؤ جان ادا کی کچھ غزلیں یاد تھیں، کچھ فیض یاد تھا کچھ جمیل الدین عالی کے دوہے یاد تھے۔ میں نے کہا ہارمونیم منگوا کردیجئے۔ اسٹیج کے پردے کے پیچھے کچھ ساز پڑے تھے۔ ترون نے شہریار کی غزل ”یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے“ سے شروع کیا تو مجمع سنبھلا۔یہ غزل اس نے بی بی سی پر بھی سنائی تھی۔گلزار کا ایک شعر سن لیجئے اور اسی پر گفتگو ختم کرتے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ جی ارشاد۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا
خواہ وہ آپ کا سفر ہو یا میرا سفر ہو یا رئیس وارثی کا سفر ہو، ہر انسان کا سفر چاہے کتنی بھیڑ میں بھی ہو،ہوتا تنہائی میں ہے۔ اور ہم اپنے خیالات کی وجہ سے اور اپنی محبتوں کی وجہ سے زندہ ہیں اور شاعری اور اُردو زبان اس کی جوت جلاتی ہے۔رئیس وارثی کے پرچے ’ورثہ‘ کے لئے میری نیک تمنائیں ہیں ہمیشہ۔
حنا خراسانی رضوی۔۔ نوازش۔ بلاشبہ آپ قیمتی سرمایہ ہیں اُردو کے چاہنے والوں کے لئے خواہ وہ ہندوستان میں ہو ں یا پاکستان میں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔ آپ کی محبت ہے،میں کس لائق ہوں۔ اُردو میری محبت ہے اور میرا وجود اسی سے ہے۔ یہ نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں۔ سب کچھ اسی نے مجھے دیا۔ میں اسے کچھ نہیں دے سکا۔ کوئی زبان سے سچی محبت کرے تو زبان ہزار گنا اس محبت کو بڑھا کرکے لوٹاتی ہے۔ اُردو نے مجھے کیا کچھ دیا ہے۔ کیا بیش بہا دولت دی ہے حنا صاحبہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ آپ کا بہت شکریہ۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ شکریہ تو آپ کا ہے نارنگ صاحب، آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا اور اُردو کے حوالے سے کتنے ہی در وا کیے۔خدا صحت و سلامتی کے ساتھ اُردوکے چاہنے والوں کے سروں پرآپ کا سایہ تادیر قائم رکھے۔ بہت نوازش۔
گوپی چند نارنگ صاحب۔۔۔جیتی رہیئے، خوش رہیئے، خدا آپ کو خوش رکھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔آداب۔

——————————————————————-