جدید لب و لہجے کا شاعر:ڈاکٹر محسن جلگانوی
ڈاکٹر شیخ عمران
اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہئ اردو
وسنت راؤ نا ئیک گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، ناگپور۔مہاراشٹر(انڈیا)
لہجے کی انفرادیت شاعر کی پہچان کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ہر شاعر اپنے لہجے کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔اپنی شاعری اپنی پہچان خود کراتی ہے۔شاعری تو سبھی کرتے ہیں لیکن اچھا شاعر اسے کہا جاتا ہے جو اپنے لب و لہجے سے سبھی کو متاثر کرے۔شہر حیدرآباد علم و ادب کا گہوارہ تسلیم کیا جاتا ہے اردو کے نامور شعرا و ا دبا اسی شہر زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔اردو کے ایسے شعرا و ادبا جنہیں ملک گیر سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر محسن جلگانوی کا ہے۔اردو شاعری کو جدید لب و لہجہ سے آشنا کرانے والوں میں ڈاکٹر محسن جلگانوی کا نام سر فہرست ہے۔اعلیٰ درجے کے صحافی،غیر معمولی شاعر،نامور ادیب،مبصر،محقیق اور مترجم کے طور پر آپ کی شناخت ہے۔اصل نام غلام غوث خان ہے۔ادب کی دنیا میں آپ محسن جلگانوی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔آپ کی پیدائش جس گھرانے میں ہوئی وہ گھرانہ بڑا مذہبی گھرانہ تھا۔آبا و اجداد کا تعلق برہان پور جلگاؤں مہارشٹر سے رہا ہے۔آپ کے والد مولانا عبدالواحد نقشبندی نے محسن جلگانوی کی تربیت میں کوئی کمی نہیں کی،ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا فرزند اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے خاندان کا نام روشن کرے۔شعر و ادب کا ذوق و شوق بھی انہیں اپنے والد ہی سے ملا تھا۔ آپ کے والد کو حضرت ارمان نقشبندی سے خلافت ملی تھی۔محسن جلگانوی کے دادا عبدالمجید خان محکمہ پولیس میں ملازم تھے جو بہت رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔سخت اْصولوں کے پابند اور راسخ العقیدہ مسلمان تھے ان کی کل پانچ اولادیں تھیں جن میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔محسن جلگانوی کے نانا مصطفی آباد سے تعلق رکھتے تھے جو پیشہ کے اعتبار سے کسان تھے۔پروفیسر محمد انور الدین محسن جلگانوی کے متعلق لکھتے ہیں:
”محسن جلگانوی کی ادبی و شعری شخصیت سر زمین حیدرآباد ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں نہایت نمایاں
حیثیت رکھتی ہے۔وہ اپنے مخصوص اسلوب اور طرز اظہار کے با وصف جدید شعر و ادب کی بساط پر
صف اوّل کے شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان کے کلام کی خصوصیات میں نادر تشبیہات،
استعارات،جدید علامتیں اور شعری صنعتوں کا استعمال انہیں اپنے عصر کے شاعروں میں انفرادی
مقام عطا کرتا ہے۔“(اردو ہائیکو میں پیکر تراشی۔ڈاکٹر محسن جلگانوی،ص ۷)
محسن جلگانوی شہر حیدرآباد کی پہچان ہیں اگر ایسا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔آپ ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔آپ کے سراپے سے ایک خاص قسم کا وقار اور برد باری جھلکتی ہے۔ایک ہمدرد،مخلص،ملنسار،خوددار انسان کی تمام خوبیاں آپ میں موجود ہیں۔شرافت،دردمندی اور نرمی آپ کے مزاج کا حصّہ ہیں۔یہ خصوصیات نہ صرف ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سے ظاہر ہوتی ہیں بلکہ عملََاان کے طرز سلوک اور ان کے رویّے سے آشکار ہوتی ہیں۔خود دکھ جھیلنا اور دوسروں کو دکھ نہ دینا یہ ایسی خوبی ہے جو شاد و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔آپ کی ذات اس خوبی سے متصف ہے۔آپ دھیمے لہجہ میں گفتگو کرنے کے عادی ہیں۔گوکہ شاعرانہ لہجہ جدت پسند ہے لیکن گفتگو میں وہی روایتی حیدرآبادی انداز ہے جس سے متانت اور سنجیدگی ٹپکتی ہے۔
نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہندوستان میں بھی آپ کی مقبولیت ہے۔ڈاکٹر محسن جلگانوی عصر حاضر کے ایک نمائندہ شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔سن ۰۶ ۹۱ میں محسن جلگانوی نے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔آپ کی اب تک بہت سی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔جن میں الفاف،تھوڑا سا آسماں زمیں پر،آنکھ سچ بولتی ہے،”شاخ صندل“،”جنس درون جاں“،”سبز سمندر،جدید شاعری کی اہم آوازیں“،”تجزیاتی مطالعے اور مصاحبے“،”اردو ہائیکو میں پیکر تراشی“ وغیرہ قابل ذکر ہیں جنہیں اردو داں طبقے میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ہندوستان کی مختلف اردو اکیڈمیوں کے اعزازات سے آپ کو نوازا گیا۔ڈاکٹر عقیل ہاشمی محسن جلگانوی کو صف اوّل کا نمائندہ ادیب،شاعر و دانشور تسلیم کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں:
”میں جدید شعرا ء میں محسن جلگانوی کو صف اوّل کا نمائندہ ادیب،فنکار،شاعر اور دانشور سمجھتا ہوں،
جہاں وہ تخلیقی سطح پر متمکن ہیں وہیں ان کے یہاں ایک تنقیدی نظریہ بھی ہے۔جو بہت کم ہمارے
شاعروں کو نصیب ہوتا ہے۔“
(محسن جلگانوی شخصیت اور شاعری۔شاہجہاں بیگم،ص۔۵۰۲)
شاعری تو سبھی کرتے ہیں لیکن ایسی شاعری جو دل کو چھو جائے اور اس کا احساس مستقل برقرار رہے وہ شاعری ڈاکٹر محسن جلگانوی کے یہاں بڑی آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔آپ کی شاعری قلم کی نہیں بلکہ دل کی لکھی گئی شاعری ہے۔یہ قلب و جاں کو معطر اور ذہن کو منور کرنے والی شاعری ہے۔سخت گرمی میں ٹھنڈا پہچانے والی شاعری ہے۔ڈاکٹرصاحب کی شاعری کی ایک منفرد پہچان یہ بھی ہے کہ حیدرآباد کے شاعروں کی بھیڑ میں آپ نے اپنی شاعری کی الگ پہچان قائم کی ہے۔ان کی اس کامیابی میں ان کے شعری لہجہ،اسلوب،انداز بیان،لفظیات اور جدیدیت و قربت کا بڑا دخل ہے۔
موجودہ عہد میں ڈاکٹر محسن جلگانوی کی شاعری کا جدید لب و لہجہ ان کے اسلوب کی پہچان ہے۔آپ نے شعری اظہار کے لیے وسیع تر میدان کی تلاش شروع کی۔نئی لفظیات اور نیا لہجہ اختیار کرکے نئے شعراء میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔در اصل آپ کی شاعری پر میرؔ، ناصر کاظمیؔ اور بانی کی شاعری کا گہرا اثر رہا ہے۔اس سلسلے میں آپ کی غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
بساط ناصرؔ و بانیؔ تو خوب ہے محسن
مگر وہ میرؔ کا طرز بیان تھوڑا سا
محسن جلگانوی کی شاعری میں عصری حیثیت،فرقہ وارانہ فسادات،بے وطنی کاکرب کے علاوہ کہیں کہیں جمالیاتی موضوعات بھی ملتے ہیں۔محسن جلگانوی نے اردو شاعری کو نئے زاویئے سے پیش کیا ہے:
شعر اس کے لیے میں کہتا ہوں ہے تصور میں ایک ماہ جبیں
اس کی پائل کی یہ صدا جیسے اک ترنم ہے آبشاروں کا
سیاسی موضوعات پر بھی آپ نے اپنے قلم کا استعمال کیا ہے۔سیاسی موضوعات پر آپ کے یہاں گہرا طنز دیکھنے کو ملتا ہے۔لیکن اپنے شعر کو وہ اشتعال انگیزی کے لیے استعمال نہیں کرتے:
بارش میں گھرجلاتے ہیں آندھی کے نام سے
کرتے ہیں لوگ قتل بڑے اہتمام سے
ہجرت بھی آپ کی شاعری کا ایک نمایاں وصف رہا ہے۔ جسے انہوں نے بڑے موثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
کسی کی فکر رہی ہم کو اور نہ اپنی خبر
راہ حیات میں ایسے مقام آتے ہیں
کیا مکاں پاتے کہ فٹ پات بھی ہم کو نہ ملا
ہم مہاجر تھے زمیں چھوڑ کر آنے والے
محسن جلگانوی کی شاعری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اپنے دلی جذبات و احساسات کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔جس سے شاعری میں مزید نکھار پیدا ہوگیا ہے۔اسلوب اور طرز بیان اس قدر سادہ اور پرکار ہوتا ہے کہ شعر سیدھا قاری کے دل تک پہنچتا ہے اور اپنا اثر چھوڑتا ہے اور یہ اثر وقتی نہیں ہوتا بلکہ قاری اس کے سحر میں کھو سا جاتا ہے۔مصحف اقبال توصیفی نے ڈاکٹر محسن جلگانوی کی شاعری کو بہت قریب سے دیکھا وہ لکھتے ہیں:
”محسن جلگانوی کی غزل میں جہاں عام انسانی جذبات جیسے تنہائی،محرومی،دل شکستگی،کرب وغیرہ
(جو ہمیشہ غزل کا خام مواد ہیں) کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔وہیں ایسی واردات،تجربات اور احساسات
کی فراوانی بھی ہے جو اس دور سے مخصوص ہے۔آج کے عہد کی بے یقین مشینی زندگی کا کرب،ٹوٹتے
ہوئے رشتے،گرتے ہوئے پیڑ،لوگوں کی بھیڑ میں تنہائی کا احساس،فرقہ وارانہ فسادات،روزی روٹی
سے جڑی ہوئی ہجرت ان سب کی عکاسی ہمیں ان کی شاعری میں ملتی ہے۔محسن کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنی
بات کو نہایت لطیف اور موثر انداز میں کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔“(علی ظہیر:شخص اور شاعر،ص ۷)
اپنی شاعری کے متعلق محسن جلگانوی خود کہتے ہیں کہ یہ شاعری جو کچھ بھی ہے میری اپنی ہے میں نے اسے غلط ہاتھوں میں جانے سے محفوظ کرلیا ہے کہ یہ بات میرے لیے باعث طمانیت ہے۔محسن جلگانوی نے اپنی شاعری کا استعمال نام و نمود کی غرض سے کبھی نہیں کیا بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے ایک پیغام دیا ہے۔وہ شاعری کو محض تفریح کا وسیلہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ اپنی شاعری سے کام لینا چاہتے ہیں۔آپ کی شاعری قارئین کے دل و دماغ کو معتر کرنے کا کام کرتی ہے۔ محسن جلگانوی نے کئی قومی اور بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا۔محسن صاحب کے کلام کو جو عزت و شہرت ملی وہ بہت کم کسی شاعر کو ملتی ہے۔ محسن جلگانوی کا مشاعروں میں شرکت کرنے کا بھی اپنا خاص وصف ہے جس کے متعلق قدیر انصاری نے کیا خوب کہا:
”وہ مشاعروں میں پیشہ ور شعرا کی طرح شرکت سے گریز کرتے ہیں،اگر کوئی شعر و سخن کے با ذوق افراد
یا حلقہ کی طرف سے ان کے مزاج کے شایان شان مدعو کرتا ہے تو ضرور شریک مشاعرہ ہوتے ہیں،
ورنہ کبھی اپنی طرف سے پیروی نہیں کرتے۔“
(محسن جلگانوی شخصیت اور شاعری۔شاہجہاں بیگم،ص۔۵۱۱۔۶۱۱)
محسن جلگانوی کی شاعری میں عہد حاضر کے مسائل سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ساتھ ہی شاعری میں جذبات و احساسات کی شدت اور تجربات و مشاہدات کا عکس واضح طورپر دکھائی دیتا ہے۔اظہار خیال کا انداز دیگر شعرا سے منفرد نظر آتا ہے۔آپ کی شاعری میں خیالات مرتعش نہیں ہوتے بلکہ بڑے بڑے موضو عات کو وہ سلاست و سادگی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ آپ کی شاعری میں صرف جدید شاعری کے عناصر نظر آتے ہیں بلکہ کہیں کہیں روایتی انداز بھی جھلکتا ہے۔
ڈاکٹر محسن جلگانوی کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ منضبط فکر،بسیط مشاہدے،عمیق فکر و شعور اور بے پناہ قوت گویائی رکھنے والے،الفاظ کو سلیقے سے برتنے والے ایک با شعور اور عظیم شاعر ہیں۔آپ کی شاعری،آپ کی نظمیں،غزلیں آپ کو بلندمقام عطا کرتی ہیں۔محسن جلگانوی کی شاعری اردو ادب کا ایک بہترین سرمایہ ہے جس پر اہل اردو جتنا ناز کر یں کم ہے۔آپ کی شاعری ایک پیکر صدر رنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہرحال ڈاکٹر محسن جلگانوی اردو شاعری کی دنیا میں ایک ممتاز مرتبہ رکھتے ہیں۔اردو شاعری کے ذخیرہ میں آپ نے اپنی شاعری کے ذریعہ جو اضافہ کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔
لفظ پیکر نہ ہنر چاہتی ہے
شاعری خون جگر چا ہتی ہے
حوالہ جات:
۱۔اردو ہائیکو میں پیکر تراشی۔ڈاکٹر محسن جلگانوی،ص ۷
۱۔محسن جلگانوی شخصیت اور شاعری۔شاہجہاں بیگم،ص ۵۱۱،۶۱۱،۔۵۰۲
۲۔شاخ صندل۔ ڈاکٹر محسن جلگانوی۔ص ۴ ، ۳۵
۳۔علی ظہیر:شخص اور شاعر،ص ۷
(غیر مطبوعہ)
————————